جوہری ہتھیار: پابندی یا مرحلہ وار پیش قدمی

پانچ سال بعد: روایتی ہتھیاروں پر اقوام متحدہ کی پابندی اٹھا دی جائے گی۔

آٹھ سال بعد: ۱۔بیلسٹک میزائیل پروگرام سے اقوام متحدہ کی پابندیاں اٹھا لی جائیں گی (یہ اس سے پہلے بھی اٹھائی جا سکتی ہیں )۔

۲۔یورپی یونین اضافی پابندیاں اٹھا لے گی خا ص طور پر ایرانی فوج سے۔

۳۔ایران کو اعلی درجے کے جوہری ماڈل IR-6 اورIR-8 کی جانچ کی اجازت مل جائے گی۔

۴۔ امریکا کی طرف سے مختلف شعبوں پر لگائی گئی قانونی پابندیاں اٹھائی جا سکیں گی، جن میں بینکاری، انشورنس، توانائی کا شعبہ، جہاز رانی، بندرگاہوں کا شعبہ، سونے اور دیگر قیمتی دھاتیں، سافٹ وئیر اور جوہری پھیلائو سے متعلق شعبہ جات بھی شامل ہیں۔

دس سال بعد: اقوام متحدہ کی وہ قرارداد، جس کے زریعے پابندیاں دوبارہ لگائی جا سکتی ہیں ،وہ ختم ہو جائے گی۔

اعلیٰ درجے کے سنٹری فیوجز کی تنصیب پر عائد پابندی اٹھا لی جائے گی۔

یورینیم کی تیزی سے افزودگی کے لئے کی جانے والی تحقیق پر عائد پابندی ختم کر دی جائے گی۔

پندرہ سال بعد: یورینیم کی افزودگی پر عائد تمام پابندیاں اٹھا لی جائیں گی۔

بھاری پانی کے ری ایکٹر اور پلوٹینیم کو دوبارہ زیر عمل لانے پر عائد پابندی اٹھالی جائے گی۔

ایران کے لیے ایٹم بم بنانے کے ایک سے زیادہ راستے کھل جائیں گے۔

یہ ٹائم لائن مشترکہ عملدرآمد کے منصوبے کے تحت ایٹم بم بنانے کا ایک قانونی راستہ فراہم کرتی ہے۔

(ترجمہ: محمد نوید نون)

(بحوالہ ویب گاہ: “aipac.org”)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*