Abd Add
 

اوباما کے دوبارہ انتخاب میں حائل ۱۰؍ رکاوٹیں

اگر آپ کے ذہن میں اس حوالے سے کوئی شک پایا جاتا ہے کہ اوباما دوبارہ صدر منتخب نہیں ہوسکیں گے تو لیجیے، ۱۰ وجوہ بیان کی جاتی ہیں۔ ان وجوہ کو پڑھ کر آپ کو اندازہ ہوگا کہ براک اوباما کے لیے دوبارہ امریکی صدر منتخب ہونا کس قدر دشوار ہوگا۔

پہلی رکاوٹ : براک اوباما امریکیوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے معاملے میں خاصے نا اہل ثابت ہوئے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک میں بیروزگاری کا تناسب صرف ۸ فیصد ہے جبکہ در حقیقت بے روزگاری کا تناسب کہیں زیادہ ہے۔ اوباما انتظامیہ ملازمت کے نئے مواقع پیدا کرنے میں ناکام رہی ہے۔

دوسری رکاوٹ : سپریم کورٹ افورڈیبل کیئر ایکٹ پر دستخط کی تیاری میں مصروف ہے۔ براک اوباما نے صحت کی بنیادی سہولتوں سے متعلق جو بل تیار کیا ہے وہ کئی کاروباری اداروں کے لیے ناقابل قبول ہوگا۔ بات کچھ یوں ہے کہ اوباما نے اس حقیقت کو نظر انداز کردیا کہ صحتِ عامہ کے لیے کوئی بھی اقدام کرتے وقت متعلق اداروں کی سکت بھی دیکھی جاتی ہے۔ اوباما نے اپنا بیسک ہیلتھ کیئر بل تیار کرتے وقت ڈھنگ سے مشاورت بھی نہیں کی اور کانگریس میں تمام فریقوں کو اعتماد میں لینے کی زحمت بھی گوارا نہیں کی۔ بل کو تمام اسٹیک ہولڈرز کی رضامندی ہی سے کارگر بنایا جاسکتا تھا۔ اب سپریم کورٹ کی رولنگ خواہ کچھ ہو، ہیلتھ کیئر بل کے کارگر ہونے پر صرف شبہ کیا جاسکتا ہے۔

تیسری رکاوٹ : ہائی کورٹ ایریزونا کے امیگریشن لا پر بھی اپنا فیصلہ سنانے والی ہے۔ اس قانون کے تحت کوئی بھی امریکی کسی بھی غیر ملکی یا تارک وطن کی قانونی حیثیت چیک کرسکے گا۔ ملک بھر میں اس قانون کی حمایت میں آواز اٹھ کھڑی ہوئی ہے۔ براک اوباما نے اس حوالے سے ریاست کے خلاف مقدمہ دائر کیا ہے جو وہ یقینی طور پر ہار ہی جائیں گے۔

چوتھی رکاوٹ : امریکی معیشت کا بہت برا حال ہے۔ بحالی کے آثار نہیں اور اس حوالے سے ریکارڈ بھی اچھا نہیں ہے۔ ایسے میں اوباما انتظامیہ کی مقبولیت میں فوری اضافے کی توقع رکھنا کسی بھی اعتبار سے بار آور ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ ٹیکسوں میں اضافے کی تیاری ہے۔ اگر ایسا ہوا تو معاشی بحالی کے خواب کو شرمندۂ تعبیر کرنا مزید دشوار ہو جائے گا۔

پانچویں رکاوٹ : اوباما انتظامیہ نے معیشت کی بحالی کے لیے پیکیج جاری کرنے کا طریقہ اپنایا ہے۔ عام امریکی اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ کسی سرکاری اقدام کے بجائے اسے معاشی آزادی دی جائے تاکہ وہ اپنی مرضی کے مطابق کام کرسکے۔ ایک عام امریکی کو یہ احساس دلایا جارہا ہے کہ حکومت کی جانب سے کسی نہ کسی پیکیج کے بغیر اس کے لیے کامیاب ہونے کی کوئی راہ نہیں بچی۔

چھٹی رکاوٹ : اگر اوباما دوبارہ صدر منتخب ہونا چاہتے ہیں تو انہیں لازمی طور پر نوجوانوں کی توجہ حاصل کرنا ہوگی۔ چار برسوں کے دوران انہوں نے اپنے بیشتر وعدے نہیں نبھائے ہیں جس کے باعث نوجوان طبقے میں ان کی مقبولیت گھٹی ہے۔ نوجوانوں کی ووٹر کی حیثیت سے رجسٹریشن بھی اب تک کسی دلچسپی سے خالی معاملہ رہا ہے۔ معیشت کی زبوں حالی، بیروزگاری کی بلند شرح اور نوجوانوں کی عدم دلچسپی اوباما کے راستے کی بڑی رکاوٹیں بن سکتے ہیں۔

ساتویں رکاوٹ : ری پبلکن پارٹی ایک بار پھر مقبولیت کے گراف میں بلندی پر ہے۔ ملک کے رجعت پسند عناصر اوباما کے ایجنڈے کو ناکام بنانے کے لیے گرینڈ اولڈ پارٹی کی پشت پناہی کرنے میں پیش پیش ہیں۔ اوباما کے لیے لبرل صدر کی حیثیت سے اپنی بات منوانا خاصا دشوار بھی ثابت ہوسکتا ہے۔

آٹھویں رکاوٹ : توانائی سے متعلق اوباما انتظامیہ کی پالیسی غیر حقیقت پسندانہ رہی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اس حوالے سے اس کی درست سمت میں رہنمائی نہیں کی گئی۔ اوباما نے اسٹون ایکس ایل پائپ لائن کو منسوخ کیا اور اب تک امریکا کے توانائی کے وسائل کو بھرپور ارتقا سے دور ہی رکھا ہے۔ ماحول کا تحفظ یقینی بنانے کے ادارے کے ذریعے اوباما نے کوئلے کی صنعت کو بھی ٹھکانے لگانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔ اوباما نے جب سے منصب سنبھالا ہے، گیس کے نرخ مسلسل بڑھتے گئے ہیں۔

نویں رکاوٹ : خارجہ پالیسی کے میدان میں بھی اوباما نے غلطیاں کی ہیں۔ اسرائیل اور روس کو ناراض کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی گئی۔ ایران اور شمالی کوریا کے جوہری عزائم کے سامنے بند باندھنے میں اب تک ناکامی ہی ہوئی ہے۔ بعض معاملات میں اوباما نے معافی مانگ کر فیصلہ سازی کا عمل بین الاقوامی اداروں کے حوالے کردیا ہے۔ امریکا کو دنیا بھر میں غیر معمولی سمجھا جاتا تھا مگر اب اسے کاغذی شیر سمجھا جارہا ہے۔

دسویں رکاوٹ : اوباما انتظامیہ اسکینڈلوں میں گھری رہی ہے۔ لاس ویگاس میں ہتھیاروں کا معاملہ ہو یا کولمبیا میں جسم فروش عورتوں کے ساتھ اوباما کے محافظوں کا ٹاکرہ، امریکی ایوان صدر چار برسوں کے دوران مختلف اسکینڈلوں میں گھرا رہا ہے۔ ٹیکس ادا کرنے والے امریکیوں کی آمدنی کو سولنڈرا جیسی گرین انرجی کمپنیوں پر لٹانا بھی اوباما کی پوزیشن کمزور کرنے کا باعث بنا ہے۔ جو انتظامیہ مختلف اسکینڈلز کی زد میں رہی ہو اسے دوبارہ منتخب کرنے کا خطرہ شاید شہری مول لینا پسند نہ کریں۔

(بشکریہ: ’’ہیومن ایونٹس‘‘۔ ۱۹؍ مئی ۲۰۱۲ء)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.