Abd Add
 

تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی اصل وجوہات

اوپیک کے سیکرٹری جنرل عدنان شہاب الدین کا ’’نیوز ویک‘‘ کو انٹرویو

قطرینہ طوفان سے امریکی آئل انڈسٹری کو ہونے والے نقصان کے سبب خام تیل کی قیمت گذشتہ ہفتے فی بیرل ۷۰ ڈالر سے بھی زیادہ ہو گئی۔ یہ اضافہ گذشتہ سال کے مقابلے میں ۳۰ فیصد زیادہ ہے۔ دنیا میں تیل کے ذخائر کے مقدار پر سوالیہ نشان کے ساتھ ہی یہ قیاس کیا جارہا ہے کہ ایک لمبے عرصے تک تیل کی قیمت ہنوز بڑھتی رہے گی۔ یہ بہت زیادہ حیرت کی بات ہے کہ دنیا اس وقت اوپیک کی پوزیشن کا بغور اندازہ لگانا چاہتی ہے۔ یہ تنظیم تیل برآمد کرنے والے گیارہ ممالک پر مشتمل ہے اور اس کے رکن ممالک کا تیل کی کل پیداوار کے ۴۰ فیصد پر کنٹرول ہے۔ اس ماہ کے آخر میں اوپیک کی ایک میٹنگ ہونی ہے۔ پیداوار میں اضافے کا فیصلہ قیمتوں کو ڈرامائی طور پر متاثر کر سکتا ہے۔ تنظیم کے قائم مقام جنرل سیکرٹری عدنان شہاب الدین کا کہنا ہے کہ وہ مارکیٹ میں اطمینان اور استحکام کی کیفیت پیدا کرنے کے لیے پُرعزم ہیں۔ گذشتہ ہفتے ’’نیوز ویک‘‘ کے نمائندے William Underhill نے ان سے فون پر گفتگو کی تھی‘ جس کا متن درج ذیل ہے:

ولیم انڈرہل: آپ نے کہا ہے کہ تیل کی قیمت میں حالیہ اضافہ مارکیٹ کی مبادیات نہیں ہے تو پھر اس کا سبب کیا ہے؟

شہاب الدین: یہ بہت ہی واضح ہے کہ آئندہ سپلائی میں رکاوٹ‘ جغرافیائی و سیاسی تنائو و کشیدگی اور قدرتی آفات کے خوف کے پیشِ نظر ہوا ہے۔ بدقسمتی سے قدرتی آفات کا خوف سچ بھی ثابت ہو گیا لیکن میرے خیال میں مارکیٹ کی اساسیات کافی مضبوط ہیں جو اس صورتحال سے بخوبی نمٹ سکتی ہیں۔ کم از کم گذشتہ دو سال سے خام تیل کی سپلائی‘ مانگ سے زیادہ ہے۔ البتہ صاف تیل کی پیداوار ریفائنریز کی حد کے مطابق ہے جس کی وجہ سے تیل کی قیمت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس انڈسٹری کو اس سلسلے میں کچھ کرنا چاہیے۔ اگر آپ ریفائن کرنے کی استعداد نہیں بڑھاتے ہیں تو تیل کی پیداوار بڑھانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔

ولیم: کیا ترقی پذیر دنیا میں تیل کی بڑھتی ہوئی مانگ اور پھر تیل کی سپلائی میں کمی کی پیش گوئی تیل کی قیمت میں اضافے کا لازمی سبب نہیں ہیں؟

شہاب: ابھی ۱۰‘ ۱۵ اور ۲۰ سالوں تک سپلائی کا کوئی مسئلہ نہیں ہے‘ اس لیے کہ وسائل بھی وافر مقدار میں ہیں اور سرمایہ کاری بھی موجود ہے۔ ہمیں ترقی پذیر دنیا کی بڑھتی ہوئی مانگ سے کوئی پریشانی نہیں ہے۔ اگر اِس مانگ میں ہر سال ۵ فیصد کا بھی اضافہ ہوتا ہے تو بھی اسے پورا کرنا ہمارے لیے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ یقینا ۴۰ یا ۵۰ سالوںبعد یہ مسئلہ ہو سکتا ہے۔ لیکن ہمارے لیے اس کا متبادل حل تلاشنے کا کافی وقت موجود ہے۔

ولیم: کیا اوپیک کو اب بھی یہ امید ہے کہ وہ پیداوار میں اضافہ کے ذریعہ قیمتوں کو کنٹرول کر لے گی؟

شہاب: فرض کیجیے کہ اگر ہم گذشتہ ۲‘ ۳ سالوں میں اضافی مقدار نہیں رکھتے تو قیمتیں اور بھی زیادہ ہوتیں جتنی کہ آج ہیں۔ ۲۰۰۴ء کی مخصوص صورتحال (عالمی ترقی اور بڑھتی ہوئی مانگ) کی وجہ سے کچھ تنگی تو ضرور ہوئی لیکن اب ہم یہ کوشش کر رہے ہیں کہ اپنی اضافی صلاحیت کو ازسرِ نو بحال کریں تاکہ قیمت میں استحکام کو برقرار رکھا جاسکے۔ اوپیک کی یہ پالیسی رہی ہے کہ جتنی پیداوار بڑھائی جاسکتی ہے وہ بڑھائی جائے۔ اس وقت ہم ریکارڈ سطح تک پیداوار کر رہے ہیں۔ بنیادی طور سے ہم دو گونہ ایپروچ پر عمل پیرا ہیں۔ ایک جانب ہم آسانی کے لیے اپنی اضافی صلاحیت تعمیر کر رہے ہیں تو دوسری طرف ہم اپنی پیداواری منصوبے کو تیز رفتار بنا رہے ہیں تاکہ مستقبل میں بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کر سکیں۔

ولیم: گذشتہ ۳ عالمی کساد بازاری تیل کی قیمت میں غیرمعمولی اضافے کا سبب بنیں۔ کیا آج بھی ہم ٹھیک ایسے ہی خطرے سے دوچار ہیں؟

شہاب: مندی کے عموماً کئی محرکات ہوتے ہیں۔ ان میں ایک تیل کی اونچی قیمت بھی ہو سکتی ہے۔ کوئی یہ پوچھ سکتا ہے کہ تیل کی گذشتہ اونچی قیمتوں کے کیا اسباب تھے؟ کیا یہ کسی بات کا پیش خیمہ تھیں یا نتیجہ تھیں؟ ۲۰۰۴ء اور ۲۰۰۵ء کے اوائل میں تیل کی قیمتوں میں کچھ Adjustment ہونا تھی تاکہ اس صنعت میں مزید سرمایہ کاری کی ضرورت نمایاں ہو۔ لیکن عالمی معیشت نے اپنے آپ کو بہت لچکدار ثابت کیا اور بہت صحتمند رفتار کے ساتھ آگے بڑھتی رہی۔ OECD اور ترقی پذیر ممالک کی ترقی پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑا۔ یقینا اس کی ایک حد ہے۔ جب قیمتیں عالمی معیشت کو مجروح کرنا شروع کرتی ہیں تو یہ کسی کے لیے قابلِ گوارہ نہیں ہوتیں۔ صارف ممالک اور وہ ممالک جن کا انحصار تیل کی برآمدات پر ہے‘ دونوں ہی نقصان اٹھاتے ہیں۔ لہٰذا یہ دانشمندی ہے کہ تدریجی اور منظم انداز میں اقدامات کیے جائیں۔

ولیم: آپ کتنی سنجیدگی سے قطرینہ طوفان سے ہونے والے نقصانات کی شرح کا اندازہ لگاتے ہیں؟

شہاب: صورتحال کا بہت باریک بینی سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ کسی Panic میں مبتلا ہونے کی ضرورت ہے۔ گلف آف میکسیکو میں خام تیل کی پیداوار بند ہوئی اور یہ واضح ہے کہ چند دنوں کی صورتحال کا ہمیں اندازہ نہیں ہے۔ ممکن ہے آئندہ ہفتے یا آئندہ چند ہفتوں میں یہ پیداوار بحال ہو جائے۔ Refinery Capacity کی بحالی میں مزید وقت لگ سکتا ہے۔ ممکن ہے زیادہ تر حصہ محض احتیاطی تدابیر کے طور پر بند کیا گیا ہو۔ بہرحال یہ اس پر منحصر ہے کہ کس تیزی سے انفراانسٹرکچر بحال ہوتا ہے۔

ولیم: اوپیک اس حوالے سے کیا مدد کر سکتی ہے؟

شہاب: ہم امریکی حکومت کے ساتھ براہِ راست اور بالواسطہ ہر دو طریقے سے رابطے میں ہیں۔ اوپیک کے صدر نے امریکی وزیرِ توانائی کو پیغامِ افسوس بھی ارسال کیا ہے اور ہم ان کی طرف سے کسی بھی فرمائش کے منتظر ہیں‘ جس کی تکمیل ہمارے لیے ممکن ہو۔ ہم اپنی جانب سے مخصوص ریفائنریوں کو خام تیل سپلائی کرنے کی کوشش کریں گے اگر ہم کر سکے۔

(بشکریہ: امریکی ہفت روزہ ’’نیوز ویک‘‘۔ شمارہ۔ ۱۲ ستمبر ۲۰۰۵ء)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*