Abd Add
 

عُمان کی خارجہ پالیسی

Sultan Qaboos, a mediator amid meddlers

’’خصوصیہ‘‘ کی اصطلاح اکثر خلیج کے مطلق العنان حکمرانوں کی جانب سے اپنے دفاع میں استعمال کی جاتی ہے۔ وہ اسے ثقافت کی منفرد خصوصیت کے طور پر اور سیاسی و سماجی اصلاحات کے مطالبوں کو رد کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ’’استثنیٰ‘‘ کے امریکا میں مفہوم کی طرح ’’خصوصیہ‘‘ مشرقِ وسطیٰ میں کہاوت کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ لیکن عُمان میں اکثر لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ ملک کی آزاد خارجہ پالیسی کی وضاحت کرتا ہے۔

جزیرہ نما عرب کے جنوب مشرقی حصے، میں واقع عُمان ایسے ممالک کے گرد گِھرا ہوا ہے جو فرقہ وارانہ سرد جنگ اور ایک دوسرے کے معاملات میں دخل اندازی جیسے مسائل سے دوچار ہیں۔ لیکن مختصر سی سلطنت رکھنے والا عُمان عدم مداخلت کی پالیسی پر کارفرما ہے اور بدلے میں اپنی خودمختاری کا احترام چاہتا ہے۔

خلیج تعاون کونسل سے، جس کا عُمان رکن بھی ہے، اس کے تعلقات کو دیکھتے ہیں۔ عُمان نے چھ ممالک کے سیاسی اور معاشی اتحاد کے لیے کی جانے والی کوششوں کی مخالفت کی، جس میں اسے ڈر ہے کہ سعودی عرب حاوی رہے گا۔ اس نے اتحادی فوجی مہمات کو بھی خیرباد کہہ دیا ہے، حالانکہ عُمان نے ہی ایک متحدہ فوج کا نظریہ پیش کیا تھا۔ یمن نے ۲۰۱۱ء میں بحرین میں مظاہرین کو کچلنے میں جی سی سی کے فوجی دستوں میں شمولیت اختیار نہیں کی تھی اور نہ ہی فضائی کارروائیوں میں حصہ لیا۔

عُمان اپنے ہمسایوں کو مکمل طور پر نظرانداز نہیں کرسکتا، جبکہ اکثر کے پاس تیل کے وسیع ذخائر موجود ہیں۔ عُمان کی آمدنی کا ۸۰ فیصد انحصار خام تیل پر ہے، اسی لیے اس نے سعودی عرب کو تیل کی قیمتیں کم رکھنے پر تنقید کا نشانہ بنایا اور اوپیک ارکان کو پیداوار یک طرفہ طور پر کم کرنے پر زور دیا۔ واضح رہے کہ عُمان اوپیک کا رکن نہیں ہے۔ ۲۰۱۱ء کے مظاہروں کے جواب میں عُمان کا جھکاؤ روزگار کے زیادہ مواقع پیدا کرنے اور اچھی تنخواہوں کے لیے جی سی سی کی امداد کی جانب ہے۔

ابھی حال ہی میں عُمان نے ایران کے ساتھ اپنے تعلقات کو نئی زندگی بخشی ہے۔ سلطان قابوس نے ستّر کی دہائی کے نصف میں عُمان کے صوبے ظفار میں کمیونسٹ نواز باغیوں کو فوجی طاقت کے ذریعے ختم کرنے میں مدد کی تھی۔ اب عُمان گیس کے ذخائر ختم ہونے کی صورت میں ایرانی گیس پر انحصار کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، اس سلسلے میں ایک پائپ لائن منصوبہ بھی زیرِ غور ہے جو عُمان کو گیس فراہم کرے گا۔

عُمان مبینہ طور پر ایران کو ممنوعہ اسمگلنگ کا ذریعہ بھی ہے، لیکن یہ غیرقانونی تجارت ختم ہوکر منافع بخش تجارت میں تبدیل ہوسکتی ہے اگر ایران اور مغرب میں جوہری سمجھوتہ طے پاجائے۔ امریکا ایران جوہری معاہدے پر مذاکرات سلطان قابوس کی کامیاب کوشش کا نتیجہ ہیں، ان مذاکرات کی ابتدا ۲۰۱۱ء میں ایران کی قید سے امریکی سیاحوں کو رہائی ملنے کے بعد ہوئی۔ یہ معاہدہ بھی سلطان قابوس کی خاموش کوششوں کا نتیجہ تھا۔

اومانی اپنے ملک کے ثالثی کے کردار پر فخر محسوس کرتے ہیں۔ سلطان قابوس نے مصر کی اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے کی حمایت کی تھی جس پر عرب ممالک نے اعتراض اٹھایا تھا۔ اب عُمان یمن میں امن کی حمایت کر رہا ہے، جس کے ساتھ وہ طویل اور گہری نگرانی والی مشترکہ سرحد رکھتا ہے۔

ابھی تک عُمان کی سالمیت کو سب سے بڑا خطرہ اندرونی طور پر ہے۔ گزشتہ سال جولائی سے آٹھ ماہ تک سلطان قابوس جرمنی میں نامعلوم بیماری کے باعث زیرِ علاج رہے، جو اومانیوں کو ان کے بغیر جینے کے بارے میں سوچنے پر آمادہ کرتا ہے۔ یہ اومانیوں کے لیے آسان نہیں۔ وہ ۴۵ سال سے ایسے حاکم ہیں جن کا کوئی وارث نہیں اور انہوں نے ہر اہم عہدہ اپنے پاس رکھا ہوا ہے۔ عُمان کے اگلے حاکم کو اپنی حیثیت منوانے میں شاید مشقت اٹھانی پڑے، جبکہ تیزی سے بڑھتی ہوئی نوجوان آبادی کی جانب سے اصلاحات کے مطالبے کا سامنا کرنا پڑے۔ شاید بیرونِ ملک استحکام نئے سلطان کے لیے کم سے کم تشویش کا باعث ہو۔

“Oman’s foreign policy: A country apart”. (“The Economist”. June 5, 2015)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.