Abd Add
 

ہمارا نظامِ حکومت سابقہ نظاموں سے مختلف ہوگا

نئے وزیراعظم شوکت عزیز کا ’’ڈان‘‘ کو پینل انٹرویو

وزیراعظم شوکت عزیز نے اپوزیشن پارٹیوں کو اپنی جانب سے امن کی پیشکش کرتے ہوئے قومی مسائل پر اتفاقِ رائے کے حصول کے لیے بہت ہی سنجیدہ کوشش کیے جانے کا وعدہ کیا ہے۔ واضح رہے کہ ملک کی اپوزیشن جماعتوں نے وزیراعظم کے لیے شوکت عزیز کے انتخاب کا بائیکاٹ کیا تھا۔ ۵ اگست کی شام روزنامہ ’’ڈان‘‘ کے ساتھ اپنے ایک پینل انٹرویو میں وزیراعظم نے اپنے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اپنے حکومتی اہداف کے حصول میں بہت ہی سخت واقع ہوں گے۔ وہ اپنی کابینہ کے تشکیلِ نو کے ساتھ حکومتی پالیسیوں کو نتیجہ خیزی کے اعتبار سے بہتر بنائیں گے۔ لہٰذا وزارتِ عظمیٰ کا ان کا آئندہ ۳ سال سے زائد کا عرصہ طرزِ حکومت کے معاملے میں سابقہ حکومتوں سے ذرا مختلف ہو گا۔ وسیع نکات پر مشتمل اپنی گفتگو میں انہوں نے حکومت کی معاشی کارکردگی پر بھی روشنی ڈالی‘ جس میں بحیثیتِ وزیرِ مالیات ۵ سالوں تک ان کا اہم کردار رہا ہے۔ وزیراعظم نے فرمایا کہ ’’پالیسیاں نقش کالحجر نہیں ہوتی ہیں لہٰذا ان میں بہتری کی گنجائش ہر وقت موجود رہتی ہے۔ چنانچہ ہم اپنی پالیسیوں کو تمام شعبوں میں مزید بہتر بناتے رہیں گے‘ خواہ سوشل سیکرٹر ہو یا اپوزیشن سے تعلقات کا معاملہ ہو‘‘۔ وزیراعظم کا کہنا ہے کہ وہ اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں اور کم از کم وہ اپوزیشن سے تمام اہم مسائل پر صلاح و مشورہ کرنا چاہتے ہیں۔ ’’میں سمجھتا ہوں ہمیں اپنی جس روش میں تبدیلی کی ضرورت ہے وہ نمبر بنانے کی روش ہے اور اختلاف برائے اختلاف کی روش ہے۔ اگر بعض پالیسیاں ملک کے لیے سودمند اور مفید ہیں تو ہم سب کو ان کی حمایت کرنی چاہیے‘ قطع نظر اس سے کہ کوئی سی بھی پارٹی ان پالیسیوں کو سامنے لائی ہو۔ اگر دوسری پارٹیاں اچھی اور مفید تجاویز سامنے لائیں گی تو ہم ان پر بہت سنجیدگی سے غور کریں گے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ طرزِ عمل ہمیں آگے کی طرف لے جائے گا اور سیاسی عمل میں ہماری بلوغت کو ثابت کرے گا‘‘۔ وزیراعظم نے اس امر پر اپنے افسوس کا اظہار کیا کہ ہماری شاید ہی کوئی پالیسی ایسی ہے جس پر سبھوں کا اتفاقِ رائے ہوتا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ میں یہ دعویٰ نہیں کر رہا ہوں کہ میں اپنا یہ مقصد حاصل ہی کر لوں گا لیکن یہ یقین دہانی ضرور کراتا ہوں کہ اس سمت میں ہم سنجیدگی سے پیش رفت کریں گے۔ جناب شوکت عزیز نے کہا کہ پارلیمنٹ کے اندر یا باہر اپوزیشن پارٹیوں سے رابطے کے سلسلے میں وہ اس وقت اپنی کسی باضابطہ منصوبہ بندی سے آگاہ نہیں کر سکتے لیکن انہوں نے پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین‘ مسلم لیگ (ن) اور متحدہ مجلسِ عمل کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ان تینوں حزبِ اختلاف کی جماعتوں سے ان کے ذاتی تعلقات ہیں اور یہ کہ ان تینوں سے ان کی غیررسمی گفتگو ہر وقت جاری رہتی ہے لہٰذا وہ اس گفتگو کے مثبت نتائج کے منتظر ہیں۔ وہ اس سوال پر سرسری طور سے گزر گئے کہ آیا اپوزیشن کے ساتھ مفاہمت کی تلاش میں وہ سابق وزراے اعظم بے نظیر بھٹو اور نواز شریف سے بھی رابطہ کریں گے؟ ان کا جواب تھا:

’’کسی متعین تفصیلات میں جائے بغیر‘ ہم ایسے گوشوں کو تلاش کریں گے جہاں اتفاق ممکن ہے اور اتفاق کا بہرحال امکان ہے۔ جب کبھی آپ تعلقات کی بحالی کی خواہاں ہوتے ہیں تو فطری طور سے آپ کی نگاہ ان گوشوں کی طرف ہوتی ہے جہاں مفاہمت اور اتفاقِ رائے کا امکان بہت زیادہ ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں ہم اپنی توجہ مرکوز کرنا چاہتے ہیں اور آنے والے وقتوں میں آپ اس کا نتیجہ ظاہر ہوتے دیکھیں گے‘‘۔ جناب شوکت عزیز نے فرمایا کہ ’’گفتگو اور بات چیت کا سلسلہ ہر ایک سے جاری ہے‘‘۔ لیکن ساتھ ہی یہ وضاحت بھی فرمائی کہ ان کی مراد پاکستان کے ان سیاستدانوں سے گفتگو ہے جسے وہ بہت عرصے سے جانتے ہیں۔ چنانچہ شوکت عزیز صاحب کے الفاظ میں کہ ’’ہم اپنی گفتگو جاری رکھیں گے اور دیکھیں گے کہ اس کی ترقی و پیش رفت کس انداز میں ہوتی ہے۔ دو سال سے کم کے مختصر عرصے میں تیسرے وزیراعظم کی حیثیت سے اپنی تقرری پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے جناب عزیز نے فرمایا کہ یہ ارتقا پذیر عمل کا حصہ جس کا مقصد پاکستان کو ۲۱ویں صدی میں لے جانا ہے تاکہ ہم ایسی پالیسیاں اور طرزِ حکومت وضع کر سکیں جو ملک کی ترقی کے لیے ہمیں اپنی تمام تر صلاحیتیں نچوڑنے پر آمادہ کرے۔ وزیراعظم موصوف نے فرمایا کہ ان کے خیال میں یہ تبدیلی پاکستان کے لیے نیک شگون ہے اور امید ظاہر کی کہ آئندہ چند سالوں میں ہم قدرے ایک مختلف طرزِ حکومت کا تجربہ کریں گے جس میں کابینہ کے تمام ارکان اور ریاستی وزرا کے پاس اپنی ذمہ داریوں کے حوالے سے ایک واضح ہدف ہو گا۔ شوکت عزیز کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان میں حکومتی عمل کی پیش رفت میں صلاحیت و کارکردگی کو بطور رہنما اصول کے شامل کرنا چاہتے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ فیصل صالح حیات کی طرف سے اہم پورٹ فولیو سے برطرفی پر اظہارِ ناراضی پر وہ قطعاً پریشان نہیں ہیں اس لیے کہ ان کا ماننا ہے کہ اس طرح کا اظہار ایک صحت مند جمہوریت کی علامت ہے جہاں پیٹھ پیچھے سرگوشیاں کرنے کے بجائے لوگ کھلے عام تنقید کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مسلم لیگ (ق)‘ نئی تشکیل شدہ پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ کے اتحاد سے بننے والی مخلوط حکومت اچھی طرح مستحکم اور متحد ہے اگرچہ آپ کو ان ہی کے چند افراد کی طرف اِدھر اُدھر کچھ تنقیدیں بھی سننے کو ملیں گی۔

وزرا کے لیے اہداف:

وزیراعظم نے کہا کہ وزرا کے لیے واضح اہداف متعین کیے جائیں گے اور وزارتوں کے سیکرٹریز کے لیے بھی ایسا ہی کیا جائے گا‘ اُن کی مفوضہ ذمہ داریوں کی پیش رفت کا جائزہ وہ خود اور ان کے سیکرٹریٹ کے افراد لیتے رہیں گے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ’’میں ہر وزیر اور ریاستی وزیر (Minister of State) کی کارکردگی کا خود جائزہ لوں گا اور اہداف کے حصول میں انہیں ہم رفتار بنانے کی کوشش کروں گا‘‘۔ اب جن کے پاس واضح اہداف ہوں گے اور میری نیز اُن کی بھی یہ ذمہ داری ہو گی کہ اس بات پر نظر رکھیں کہ پیش رفت یکساں رفتار اور سمت میں ہو رہی ہے یا نہیں‘ کہیں ایسا تو نہیں کہ یہ لوگ متضاد سمت میں آگے بڑھ رہے ہوں‘‘۔ وزیراعظم نے کہا کہ آئندہ ہفتہ ان حکومتی افسران کو ایک خط روانہ کیا جائے گا‘ جس میں اُن سے ۶ سے ۸ کلیدی ترجیحات متعین کرنے کے لیے کہا جائے گا اور ان کی تکمیل کے لیے ان سے متعینہ اوقات کی بھی نشاندہی کرنے کے لیے کہا جائے گا۔ شوکت عزیز نے کہا کہ اس غیرمعمولی اقدام سے بہت سارے لوگ نروس بھی ہو رہے ہیں۔ وزیراعظم کے خیال میں یہ عمل کارکردگی کے حوالے سے احساسِ جواب دہی کے تصور کو متعارف کرائے گا‘ جس کے تحت منتظمِ اعلیٰ (وزیراعظم) وزرا اور حکام سے گفتگو کے ذریعہ ان کو ان کے اہداف کے حصول میں مدد کر سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ سابقہ حکومتوں کے برعکس ان کی حکومت محض ’’سرگرمی‘‘ کے بجائے نتیجہ خیزی پر بھی توجہ مرکوز کرے گی اس لیے اب تک سرگرمی محض ملاقاتوں اور نتیجہ کی پروا کیے بغیر خالی خولی حامی بھر لینے کی شکل میں جاری رہی ہے۔ لیکن وزیراعظم کے بقول کہ ’’اب نتیجہ کو ہی اصل اہمیت حاصل ہو گی‘‘۔ وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ اگرچہ اس مقصد کا حصول بعض وزارتوں میں معروف ابہامات کی وجہ سے مشکل ہو گا لیکن بعض دوسری وزارتوں میں یہ آسان ہو گا۔ لیکن یہ انتظامی مسائل ہیں جو حل ہو سکتے ہیں۔

وسیع تر کابینہ ہی بہتر ہے:

وزیراعظم نے اپنی وسیع تر کابینہ کا پُرزور دفع کیا جو کہ ۶۰ سے زائد وزرا اور ریاستی وزرا پر مشتمل ہے اور اسے پوری طرح ملکی ضروریات سے ہم آہنگ بتایا۔ جناب شوکت عزیز نے فرمایا کہ ’’آپ نصف تعداد سے بھی کام چلا سکتے ہیں لیکن ایسی صورت میں آپ مشکلات اور رکاوٹوں کو جنم دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ملیشیا جیسا ملک جس کی آبادی صرف ڈھائی کروڑ ہے‘ حکومت میں ۳۲ مکمل وزرا اور اس کے علاوہ بہت سارے ریاستی وزرا (Minister of States) ہیں جبکہ پاکستان کی آبادی تو ۱۵ کروڑ ہے۔ وزیراعظم نے وضاحت کی کہ ’’اگر آپ ایک بڑی اور ناقابلِ تغیر وزارت قائم کریں گے تو وزارتی منصوبوں کے عمل درآمد میں آپ خود اپنے لیے رکاوٹیں کھڑی کر لیں گے اور احساسِ جواب دہی بھی ماند پڑ جائے گی۔ لیکن اگر آپ واضح اور قابلِ شناخت وزارتیں قائم کرتے ہیں‘ جن کے سامنے اپنے اہداف اور فرائض واضح اور متعین ہوں۔۔۔ تو تمام چیزیں اس حکومتی سانچے میں ٹھیک بیٹھیں گی جو میرے پیشِ نظر ہیں اور جو ماضی کے حکومتی سانچے سے مختلف ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ وزرا اگر بہت سارے ذیلی کاموں کی نگرانی پر مامور ہوں گے تو پھر وہ اپنی اصل ذمہ داری پر توجہ مرکوز نہیں کر سکیں گے۔ ریاستی وزرا جونیئر وزرا کے طور پر کام کریں گے اور انہیں بعض مخصوص ذمہ داریاں حوالے کی جائیں گی جن کی انجام دہی سے متعلق رپورٹ وہ وزرا کو پیش کریں گے۔ اس طرح آپ کسی کی تربیت کر رہے ہوں گے یعنی انہیں آپ حکومتی انتظام کی تعلیم بھی دے رہے ہوں گے اور اپنے لیے متبادل اشخاص بھی تیار کر رہے ہوں گے۔

کارکردگی پر اصرار:

وزیراعظم کے بیان کے مطابق کسی ڈویژن کا اصل جواب دہ افسر ہونے کی بنا پر سیکرٹری کا کردار بڑا اہم ہو گا اور اس کے اہداف وزیر اور ریاستی وزیرکے مترادف ہوں گے۔ وہ چھپ نہیں سکتا‘ نہ وہ طریقہ اختیار کر سکتا ہے جسے میں Ping-pong طریقہ کہتا ہوں یعنی ٹیبل ٹینس کی گیند کی مانند فائلوں کو کبھی اِدھر اور کبھی اُدھر بھیجنا۔ جناب عزیز نے کہا کہ ’’میں کارکردگی کے معاملے میں بہت سخت واقع ہوں گا اس لیے کہ اگر ہم کام کر نہ سکے تو پھر ہمیں یہاں (حکومت میں) رہنے کا کوئی حق نہیں ہے‘‘۔ انہوں نے اس رائے سے اختلاف کیا کہ بڑی کابینہ گزشتہ کابینہ کی طرح ناکامیوں پر منتج ہو گی اور پھر کہا کہ ’’کیا ان کے کوئی اہداف تھے؟ کیا انہیں معلوم تھا کہ انہیں کیا کام کر کے دینا ہے؟ کیا وہ کسی منظم پروگرام کے حامل تھے؟ اس کا جواب ہے‘ نہیں! نہیں! نہیں!

بلوچستان:

وزیراعظم نے کہا کہ وہ بلوچستان کے مسئلے پر سیاسی گفت و شنید کا عمل شروع کریں گے اور وہ یہ کام حال ہی میں تشکیل دی گئی سینٹ کمیٹی یا کسی اور کمیٹی کے ذریعہ شروع کریں گے جہاں تمام رہنما اکٹھے ہو سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی بلوچستان کی قوم پرست جماعتوں کو بھی بات چیت میں شامل کیا جانا چاہیے۔ ہمیں چاہیے کہ ان کی تشویش پر توجہ کے لیے ہم سب مل کر کام کریں۔ میرا خیال ہے کہ وہ لوگ بھی ایک مستحکم پاکستان کے خواہاں ہیں۔ وہ لوگ بلوچستان کے عوام کے لیے زیادہ مواقع کے حصول کے متمنی ہیں جو کہ ملک کا سب سے پسماندہ علاقہ ہے۔ اس طرح کی گفت و شنید سے اعتماد کی فضا بحال ہو گی۔ اسی بنا پر میرا خیال ہے کہ ہم ان کے بعض خدشات دور کر سکتے ہیں اور اپنی زیادہ تر توجہ ترقیاتی کاموں پر دے سکتے ہیں‘ خواہ یہ معاملہ گوادر پورٹ کا ہو یا ماننگ اور گیس و تیل کی دریافت کا ہو۔ ہمیں بلوچستان کی لیے بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے اور انشاء اﷲ ہم ضرور کریں گے۔

خارجہ پالیسی:

خارجہ پالیسی کی ترجیحات کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے اپنی سلامتی‘ خود مختاری اور احساسِ برابری کو برقرار رکھتے ہوئے ہمیشہ بھارت سمیت اپنے تمام ہمسایوں سے امن و آشتی کی جستجو کی ہے۔

کشمیر:

وزیراعظم نے اس نکتہ پر زور دیا کہ پاکستان اور بھارت کے مابین اصل مسئلہ جموں کشمیر ہے لہٰذا ہم ایک پائیدار حل کے خواہاں ہیں۔ کشمیری عوام کی آرزوئوں اور خواہشات کا مظہر ہو۔ وزیراعظم سے جب یہ سوال کیا گیا کہ کیا وہ بھارت کے ساتھ حالیہ مذاکراتی عمل کی رفتار سے مطمئن ہیں تو انہوں نے فرمایا کہ ہاں! اب ہمیں آئندہ مرحلے میں اس طرح داخل ہونے کی ضرورت ہے کہ ہم مطلوبہ حل کے لیے اوقات کا بھی تعین کریں۔ دونوں جانب کے علامتی رویے بالخصوص دونوں ممالک کے مابین عوامی رابطے پر اظہارِ اطمینان کرتے ہوئے وزیراعظم نے زور دیا کہ جموں و کشمیر کے مسئلے پر دونوں ممالک کے درمیان بہت ہی مستحکم گفتگو کی ضرورت ہے تاکہ یہ مرکزی مسئلہ (Core Issue) حل کی جانب بڑھ سکے۔ جہاں تک دوسرے مسائل جو کہ ثانوی نوعیت کے ہیں‘ کا معاملہ ہے تو یہ آپ سے آپ حل ہو جائیں گے۔

افغانستان:

وزیراعظم کا کہنا ہے کہ اسلام آباد اور کابل کے مابین تعلقات بہتر ہو رہے ہیں۔ افغانستان کے ساتھ ایک بلین ڈالر کی تجارتی شرکت کا ذکر کرتے ہوئے جناب شوکت عزیز نے نشاندہی کی کہ اس وقت پاکستان افغانستان کا سب سے بڑا تجارتی ساجھے دار ہے۔ وزیراعظم نے بہرحال اس امر کا اعتراف کیا کہ سیاسی سطح پر کچھ مسائل پائے جاتے ہیں۔ سیاسی محاذ پر ہم افغانستان کے ساتھ بہت اہم مسائل طے کرنے میں مصروف ہیں‘ جن میں ایک مسئلہ تو ان کی تشویش ہے کہ ان کی داخلی سلامتی کو ان لوگوں سے خطرہ ہے جو افغانستان سے متصل پاکستانی سرحدوں میں رہائش پذیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی سرزمین میں ایسے لوگوں کی نقل و حمل کو ختم کرنے کے لیے پوری طرح فعال ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے قائدین کے مابین اعتماد و مفاہمت کے تعلقات کے خواہاں ہیں اور دونوں ملکوں کے مابین ایک بہتر سطح کے اعتماد کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔ وزیراعظم کا خیال ہے کہ ایک مضبوط‘ مستحکم اور معاشی طور سے فعال افغانستان ہی اس کے اپنے عوام کے مفاد میں ہے اور پاکستان کے بھی۔ ایسا افغانستان بہتر تعلقات کے فروغ میں معاون ہو گا جہاں مہاجر مسئلے کی شدت میں کمی ہو گی اور پاکستان کو معاشی فوائد بھی خوب حاصل ہوں گے۔

چین:

وزیراعظم نے چین کو پاکستان کا ایک کلیدی اسٹراٹیجک حلیف بتایا اور کہا کہ چین کے ساتھ دو طرفہ تعلقات تمام شعبوں میں فروغ پارہے ہیں‘ جن میں معاشی‘ ثقافتی‘ معاشرتی و دفاعی شعبے شامل ہیں۔ ہماری نظر میں چین دنیا میں ایک اہم معاشی قوت ہے اور نمایاں طور پر پاکستان کا ایک بہت اہم دوست ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم چین کے ساتھ ایک بہت ہی اسٹراٹیجک دوستی کے متمنی ہیں۔

ایران:

وزیراعظم نے کہا کہ ایران کے ساتھ بہتر معاشی تعلقات کا قیام ان کی حکومت کی ترجیحات میں سے ہے‘ اس لیے کہ یہ ایک بہت ہی اہم ملک ہے۔ وزیراعظم نے اعتراف کیا کہ دوستانہ تعلقات‘ قریب ترین ہمسائیگی اور مضبوط سیاسی تعلقات کے باوجود ایران کے ساتھ معاشی تعلقات تقریباً معدوم ہیں۔ ہم نے باہم ایک دوسرے پر ویسی توجہ مرکوز نہیں کی جیسا کہ کی جانی چاہیے تھی۔ ہمیں ایک بڑی جست کی ضرورت ہے اور میں ذاتی طور پر تعلقات کو فروغ دینے کے لیے پُرعزم ہوں۔

مشرقِ وسطیٰ‘ سعودی عربیہ‘ متحدہ عرب امارات‘ خلیج تعاون کونسل‘ کویت‘ قطر‘ بحرین اور اومان کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ہمارے ان ممالک سے مستحکم تعلقات ہیں اور ہم اسے مزید مستحکم بنانے کی اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔ خلیج تعاون کونسل میں شامل ممالک کا خصوصی حوالہ دیتے ہوئے وزیراعظم نے ان ممالک کو پاکستان کا حقیقی دوست بتایا اور کہا کہ ہم ان ممالک کو اپنے دوست اور حلیف ممالک کی حیثیت سے دیکھتے ہیں۔

بڑی طاقتیں:

بڑی طاقتوں مثلاً یورپی یونین‘ امریکا اور جاپان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ’’میں سمجھتا ہوں کہ کسی بھی ملک کے ساتھ ہمارے تعلقات کا محور قومی مفاد اور دوطرفہ مفاد ہے اور اسی بنیاد پر دوسرے ممالک کے ساتھ ہمارے تعلقات فروغ پائیں گے‘‘۔ ڈپلومیسی کی تعریف کرتے ہوئے جناب شوکت عزیز نے فرمایا کہ اس کا مقصد تمام اہم مسائل پر مشترک زمینہ ہموار کرنا ہے۔ علاوہ ازیں ڈپلومیسی ان مسائل کو بھی حل کرنے میں مدد دیتی ہے جہاں مشترکہ زمینہ موجود نہیں ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اگرچہ پاکستان کے بڑی طاقتوں کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں تاہم وہ انہیں وسیع البنیاد بنانے کے خواہاں ہیں تاکہ یہ محض تجارتی لین دین تک ہی محدود نہ رہیں۔ پاکستان ان ممالک کے ساتھ مسلم دنیا کے ایک بڑے ملک کی حیثیت سے اپنے تعلقات رکھنا چاہتا ہے جو وسط ایشیا‘ مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے بیچ میں ہے لہٰذا یہ علاقے میں لنگر گاہ (Anchor) کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ بہت سارے ممالک ایک مضبوط اور مستحکم پاکستان کو علاقائی اور عالمی امن ہر دو کے حصول میں معاون خیال کرتے ہیں۔

جوہری پروگرام:

ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کا جوہری پروگرام امن کی ضمانت ہے اور ہم اسے جاری رکھیں گے اور ترقی دیں گے تاکہ خطے میں امن کو یقینی بنایا جاسکے۔ ملک کے جوہری پروگرام کو ترقی دینے کے اپنے عزم پر زور دیتے ہوئے وزیراعظم نے واضح کیا کہ پاکستان کا جوہری پروگرام خالص پُرامن مقاصد کے لیے ہے اور اسے ملکی ضروریات کے مطابق ڈیزائن کیا گیا ہے۔ آپ نے زور دے کر کہا کہ ہم ہر طرح کے جوہری پھیلائو کے مخالف ہیں۔

معاشی مسائل:

اقتصادیات سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیراعظم نے فرمایا کہ حکومت معیشت کے اہم اور سنجیدہ مسائل سے نمٹنے کے لیے اپنی حکمتِ عملی کو آخری شکل دے رہی ہے جن میں پانی کی روز افزوں کمی اور تمام صوبوں کے مابین نیشنل فنانس کمیشن ایوارڈ کے مسئلے پر اتفاقِ رائے کا معاملہ شامل ہے۔ ہم نے کئی گروپ تشکیل دیے ہیں جو پانی کی کمی اور NFC ایوارڈ کے مسئلے پر کام کر رہے ہیں۔ میری حکومت اس وقت ملک کو درپیش کئی مسائل و چیلنجز سے نمٹنے کے لیے کئی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔ آئندہ ماہ NFC کی تشکیلِ نو کی جائے گی اور اس کے تمام شراکت داروں کو جمع کر کے اس مسئلے کا ایسا حل تلاش کیا جائے گا جو سب کے لیے قابلِ قبول ہو۔ اس سلسلے میں پہلے بھی کوششیں ہوئی ہیں لیکن بدقسمتی سے صوبوں کے درمیان اختلافات کے پیشِ نظر نئے ایوارڈ کو آخری شکل نہیں دی جاسکی۔

وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ NFC سے متعلق تمام مسائل آئندہ بجٹ پیش ہونے سے پہلے حل کر لیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم دوبارہ اپنی کوششیں شروع کریں گے اور مجھے امید ہے کہ اس مسئلے پر ایک متفقہ فارمولے تک پہنچنے کا جو ہدف ہے اسے ہم حاصل کر لیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اسی طرح پانی کی قلت کا مسئلہ میمن و عباسی کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں حل کیا جائے گا۔

اِرسا (Indus River System Authority) صوبوں کے درمیان پانی کی منصفانہ تقسیم کی کوشش کر رہی ہے لیکن پانی کے نئے ذخیرہ گاہوں کی تعمیر کے بغیر پانی کی کمی کا مسئلہ دور کرنا مشکل ہے۔ بہرحال وزیراعظم نے کالا باغ ڈیم اور بھاشا ڈیم کی تعمیر کے حوالے سے کوئی متعین وعدہ نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہمیں ابھی اس بارے میں فیصلہ کرنا ہے اور پانی کی مقدار میں اضافے کے لیے ایک طویل المیعاد حکمتِ عملی طے کی جارہی ہے جس میں سے Reservoirs کی تعمیر شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے معاشی خودمختاری حاصل کرتے ہوئے بحرانی صورتحال سے نجات پالی ہے۔ پاکستان پچھلے دنوں خطرناک صورتحال سے دوچار تھا جبکہ معیشت کی خراب صورتحال کی وجہ سے ان کے خزانے خالی تھے۔ لیکن آج ہمیں کوئی آنکھ نہیں دکھا سکتا‘ اس لیے کہ ہم اس خطرناک صورتحال سے دوچار نہیں ہیں۔ ہم نے پہلے مرحلے میں معاشی خودمختاری حاصل کی ہے اور آئندہ مرحلے میں غربت اور بے روزگاری جیسے سنگین مسائل پر زیادہ توجہ دی جائے گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ اب بھی معاشی دبائو ہے لیکن ان کے خیال میں یہ سنگین نہیں ہے اور حکومت اپنی پالیسیوں پر استقامت دکھائے تووہ اس دبائو کو جھیل جائے گی۔ وزیراعظم نے اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا ۱۱/۹ کے واقعات سے پاکستانی معیشت بری طرح متاثر ہوئی۔ برآمدات میں زبردست کمی واقع ہوئی اور عام اقتصادی فضا بھی اچھی نہیں رہی۔ ایک سوال کے جواب میں جناب عزیز نے وعدہ کیا کہ وہ غربت پر ضرب کاری لگائیں گے اور پیشہ ورانہ تربیت پر توجہ دیتے ہوئے مزید روزگار کے مواقع پیدا کریں گے۔ اس مشق سے پورے پاکستان میں بڑی تعداد میں لوگوں کو روزگار فراہم ہو گا۔ ریلیف پیکیج سے متعلق سوال کیے جانے پر شوکت عزیز نے کہا کہ اس طرح کی کوئی تجویز فی الحال پیشِ نظر نہیں ہے کیونکہ حکومت نے پہلے ہی سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پینشن کی رقم میں اضافہ کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت صحت اور تعلیم کے شعبے میں ایک مستحکم نظام کو پروان چڑھاتے ہوئے بہتری لانے کی کوشش کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ان کے دورِ وزارتِ عظمیٰ میں معاشی مسائل کو بہت زیادہ اہمیت دی جائے گی۔ ہمیں اپنے عوام کا معیارِ زندگی بلند کرنے کی ضرورت ہے اور یہ پیداواریت میں زیادہ سے زیادہ اضافے کے ذریعہ ہی ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ ۴۔۲۰۰۳ء میں GDP میں %۶ کا اضافہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت عوام کو انصاف‘ امن و سلامتی اور نئے روزگار فراہم کرے گی۔ جب ان سے ان کے نئے اقتصادی مشیروں کے بارے میں سوال کیا گیا تو وزیراعظم نے کہا کہ ڈاکٹر سلمان شاہ کو وفاقی وزیر کی حیثیت حاصل ہو گی اور مالیات کے ریاستی وزیر عمر ایوب ان کی ماتحتی میں کام کریں گے۔

(بشکریہ: روزنامہ ’’ڈان‘‘۔ ۷ ستمبر ۲۰۰۴ء)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.