!سرحدوں کو بے معنی بنائیے

بھارت او رپاکستان اپنی باہمی تجارت کو آزاد و آسان بنانے کے مرحلے پر پہنچ گئے ہیں۔ یہ اس صدی کی بہترین خبر ہے۔ فی الحال بھارت پاکستانی شہریوں کو ماہانہ دس ہزار ویزے جاری کررہا ہے اور پاکستان ہندوستانی شہریوں کو تقریباً ایک ہزار ویزے ماہانہ جاری کررہا ہے۔ لیکن ویزہ طلب کرنے والوں کو دونوں جانب خفیہ ایجنسیوں کی تفتیش‘ لمبی قطاروں اور تاخیر کی دشواریوں سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ یہ دشواریاں کسی دوڑ کے مقابلے میں کھڑی کی جانے والی رکاوٹوں سے بھی بدتر ہوتی ہیں ۔ کچھ دوسری رکاوٹوں سے بھی سابقہ پیش آتا ہے۔ اکثر مسافروں کو اپنے مذکورہ ہمسایہ ملک پہنچنے پر اپنی آمد‘نقل و حرکت نیز اپنی روانگی کی اطلاعات پیرول پر رہاہونے والے مجرموں کی مانند رپورٹ کرانی پڑتی ہیں۔ وہ اپنی مرضی سے کسی دوسرے مقام پر جا نہیں سکتے ہیں اور نہ ہی وہ کسی مقام کو چھوڑ سکتے ہیں وہ کسی کنٹونمنٹ ایریا میں بھی نہیں جاسکتے ‘اس کے باوجود کے یہ علاقہ اب فوجی چھائونی کے لیے مخصوص بھی نہ ہو اور شہر کا رہائشی علاقہ ہی کیوں نہ بن گیا ہو۔ ایک سفر میں انہیں چند ہی شہروں میں جانے کی اجازت ملتی ہے زیادہ شہروں کے ویزے نہیں ملتے۔ جب وہ دوسرے ملک میں داخل ہوتے ہیں تو پھر وہ اپنے سفر کے منصوبوں کو اپنی مرضی سے تبدیل کرنے کا اختیار نہیں رکھتے ہیں۔ اسی طرح کی کچھ پابندیاں اکثر سفارتکاروں کے سفر پر بھی عائد کی جاتی ہیں جو کہ معاہدے کی شرائط کے علی الرغم ہیں اور مکمل طور پر لایعنی بھی۔ دونوں طرف سے اس ساری منفیت کا جواز قومی سلامتی کے نام پر پیدا کیا جاتا ہے گویا کہ اصل جاسوس اپنے پیشہ وارانہ کام کے لیے لائن میں لگ کر اجازت حاصل کرتے ہوں۔ حقیقت یہ ہے دونوں ممالک کی جانب سے ایک دوسرے کے یہاں عدم استحکام پیدا کرنے کی غرض سے پس پردہ انجام دی جانے والی تخریب کاریوں کا انحصار اگر اس طرح کی پابندیوں پر ہوتا تو یہ شاید ہی کبھی رونما ہوتیں۔ آخری لمحے تک پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ عوام سے عوام کے رابطوں اور ثقافتی دوستی کے حق میں نہیں تھی اس لیے کہ ’’بھارت کی طرف سے خطرہ ‘‘پاکستان کی نظریاتی حکمت عملی کا مرکز ی نکتہ ہے اور یہ نکتہ ملکی سیاست میں فوج کے بنیادی کردار کو باقی رکھنے کا ہے۔جہاں تک بھارت کا تعلق ہے تو اس کی ہٹ دھرم اور مغرور بیورو کریسی ’’فلسفہ انتقام‘‘ پر عمل پیرا ہے یعنی پاکستان کے ساتھ اس وقت تک وہی کرو جو پاکستان بھارت کے ساتھ کرتا ہے۔ درآنحالیکہ یہ واضح طور سے بھارت کے مفاد میں ہے کہ اگر وہ یکطرفہ طور پر آزاد آمدورفت کا دروازہ ہ کھول دیتا ہے تو پاکستانی اپنی آنکھوں سے یہ دیکھ لیں گے کہ بھارت کے ہندو پاکستان کو ہڑپ کر جانے کے ہرگز درپے نہیں ہیں۔ آخر کار حقیقی تبدیلی سامنے ہے۔ موجودہ پابندیوں میں سے بہتوں کو اٹھالیا جائے گا اور لوگ نسبتاً آزادی کے ساتھ سفر کرنے کے قابل ہوسکیں گے۔ قلب کی تبدیلی ہندوستان کے بجائے پاکستان میں ہے۔ اسلام آباد کانفرنس کے دوسرے روز پرویز مشرف نے سچ مچ ایک بہت ہی اہم بیان دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان او رپاکستان کے مابین سیاحت کے فروغ سے دونوں ممالک کی معیشتوں کو فائدہ ہوگا۔ وہ یہ کہہ سکتے تھے عوام سے عواام کے رابطوں کے ذریعہ دشمنی کم ہوگی اور یہ کہ انہیں بھارت کے ساتھ دوستانہ ہمسائیگی کے تعلقات قائم کرنے میں آسانی ہوگی جو کہ ان کے ایجنڈا میں سرفہرست ہے لیکن انہوں نے اسے بیان کرنے سے اس لیے گریز کیا کہ یہ بات بہت سارے پرانے پاکستانیوں کو گراں گزرے گی جن کی رگوں میں ہنوز ہندوستان دشمنی کا زہر گردش کررہا ہے جسے برسوں پہلے قومی سلامتی کے اہداف کے پس پردہ ان کے اندر سرایت کیا گیا تھا۔ بھارت پہلے ہی سے ایک پھلتی پھولتی سیاحتی صنعت کا حامل ہے اور وہ اس کے ذریعے زرمبادلہ کی بہت بڑی رقم کماتا ہے اور ساتھ ہی اس کے ذریعہ ہندوستان کی تصویر دنیا کے سامنے ایک ایسے پرامن‘ جمہوری اور پرکشش ملک کے طور پر ابھرتی ہے جسے ضرور دیکھا جانا چاہیے۔ کوئی بھی غیرملکی خواتین کو نہیں گھورتا ہے بلکہ مقامی خواتین ساریوں‘ شلوار قمیص‘ جینز حتیٰ کہ اسکرٹ میں چل پھر رہی ہوتی ہیں۔ جو کوئی بھی خرچ برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے وہ ملک بھر میں پائے جانے والے خوبصورت سیاحتی مقامات کی سیر سے لطف اندوز ہوتا ہے ۔ شراب نوشی ممنوع نہیں ہے۔مختصر یہ کہ سیاحت کے لوازمات مثلاً مہمان نوازی‘ کشش و جاذبیت ‘ تحمل اور انفرااسٹرکچر وافر مقدار میں اور قابل برداشت خرچ پر دستیاب ہیں۔ دوسری طرف پاکستان میں اس بات کی ضرورت ہے کہ عملی رواداری اور انفرااسٹرکچر میں بہتری لائی جائے۔ لیکن اس بات کو کہنا آسان ہے کرنا مشکل ہے۔ غیرملکی سیاحتی مشیروں کے منفی آرا سے پاکستان کی سیاحت بوجھل ہے۔ غیرملکیوں کو یہاں بندوقوں کی گھن گھرج سنائی دیتی ہے جس سے انہیں اپنی جان کو خطرہ لاحق ہے نیز انہیں یہاں کی گلیوں میں وحشیانہ آنکھوں والے مُلاّدرپئے آزار نظر آتے ہیں۔ بہرحال ہندوستان پاکستان کے مابین سیاحت کے پہول کو کم اہمیت نہیں دینی چاہیے۔ مثلاً دہلی ایسے پرانے لاہوریوں سے بھرا پڑا ہے جو یہاں ۱۹۴۷ء میں اپنا وطن چھوڑ کر آگئے تھے۔ ان میں بہت سے لوگ لاہور جانا چاہیں گے تاکہ وہ اپنی برادری‘ خاندان اوروابستگیوں کی یاد تازہ کریں۔ لاہور سری نگر کی راہداری کے لیے بھی اہم مقام ثابت ہوگا اس لیے کہ کشمیر اور برصغیر کے باقی علاقوں کے مابین جو فطری جغرافیائی تجارتی راہداریاں رہی ہیں ان میں یہ ایک مرکزی مقام کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسی طرح کراچی کے قونصل خانہ میں بھی ویزا کے خواہشمندوں کا ایک ہجوم ہوگا۔ حیدرآباد ‘ اترپردیش اور گجرات وغیرہ میں لوگ اپنے آبائی مقامات کا دورہ کرنا چاہتے ہوں گے۔ دوسری طرف پنجاب کے سکھ زائرین پاکستان پنجاب کی شاہراہوں کے جام ہونے کا سبب ہوں گے ہر سال کے شروع اور آخر میں۔ سیاحت سے بہتر تجارت اور کیا ہوسکتی ہے جو نہ ہماری ثقافت کو چیلنج کرتی ہے نہ ہمارے مذہب کے منافی ہے اور نہ ہی ہمارے احساس پاکیزگی کو مجروح کرتی ہے؟ تجارت پیشہ حضرات کو آزادانہ میل جیل اور تجارت سے کافی فائدہ ہوگا۔ چند ماہ پہلے پاکستان کی حکومت نے اشیاء کی فہرست میں مزید چند آئٹم کا اضافہ کیا ہے جو ہندوستان سے درآمد کیے جاسکتے ہیں۔ یہ ایک بنیادی قدم ہے اپنی داخلی معیشت کو معقولیت پر استوار کرنے کا ابھی کوئی سودوسرے آئٹم ہیں فہرست میں جن پر South Asian Preferential Trade Agreement کے تحت امپورٹ ڈیوٹی دس فیصد تک کم کی جانی ہے۔ یہ خدشہ کہ بھارتی مصنوعات پاکستانی صنعتوں کا بیڑہ غرق کردیں گی ہوا میں تحلیل ہوگیا جب سے چینی مصنوعات نے یہ مشکوک کردار ادا کرنا شروع کردیا ہے مارکیٹ میں وہی باقی رہ جائے گا جو اشیاء کے عمدہ معیار اور قیمت کی کمی کے ساتھ اس دوڑ میں بازی لے جائے گا اور عوام کے فائدے کے نقطۂ نظر سے یہ مقابلہ اچھا ہے۔ اگر سرحدیں تبدیل نہیں ہوسکتی تو انہیں بے معنی بنادینا چاہیے۔ اس سے بہتر کوئی سفارتی بیان ہندوستان اور پاکستان دونوں کی جانب سے اور نہیں ہوسکتا ہے۔

(اداریہ ہفتہ روزہ ’’فرائیڈے ٹائمز‘‘ لاہور۔ شمارہ: ۲۲ تا ۲۸ دسمبر ۲۰۰۶)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*