’’پاک چین اقتصادی راہداری: تعارف، امکانات اور اثرات‘‘

مورخہ ۱۲؍ستمبر ۲۰۱۵ء کو اسلامک ریسرچ اکیڈمی کراچی میں ’’معارف لیکچر سیریز‘‘ کے تحت ’’پاک چین اقتصادی راہداری: تعارف، امکانات اور اثرات‘‘ کے موضوع پر پروفیسر ڈاکٹر مونس احمر کا لیکچر منعقد ہوا۔ پروفیسر ڈاکٹر مونس احمر امورِ خارجہ کے ماہر اور جامعہ کراچی میں بین الاقوامی تعلقات کے پروفیسر ہیں۔ آپ دنیا بھر میں مختلف تحقیقی مراکز سے وابستہ رہنے کے علاوہ بین الاقوامی امورسے متعلق سیمینار اور کانفرنسوں میں شرکت کر چکے ہیں۔ آپ کئی کتابوں کے مصنف بھی ہیں۔ آج کل جامعہ کراچی میں رئیس کلیہ سماجی علوم کی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے پیکنگ یونیورسٹی میں پاکستان ہائی کمیشن کی جانب سے پاک چین اقتصادی راہداری کے موضوع پر منعقدہ سیمینارمیں بھی شرکت کی۔ وہ اسلامک ریسرچ اکیڈمی کی دعوت پر اسی موضوع پر گفتگو کے لیے اکیڈمی تشریف لائے۔

پروفیسر ڈاکٹر مونس احمر نے اپنی گفتگو میں پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کا تعاوف پیش کرتے ہوئے کہا کہ پچھلے پچاس پچپن سال سے پاکستان اور چین کے تعلقات بہت مضبوط ہیں۔ پاکستان نے پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں چین کی اُس وقت مدد کی، جب وہ با لکل تنہا تھا۔ انہوں نے بتایاکہ چین میں وہ جن لوگوں سے ملے، وہ چین کے لیے پاکستان کی قربانیوں کی قدر کرتے ہیں، لیکن نئی نسل کے مقابلے میں یہ جذبہ پرانی نسل کے لوگوں میں زیادہ ہے۔ انہوں نے ۱۹۹۲ء کے بعد اب ۲۰۱۵ء میں چین کا دورہ کیا اور پچیس سال میں انہیں بہت زیادہ تبدیلی اور ترقی نظر آئی۔ انہوں نے کہا کہ آج چین دوسری بڑی عالمی معیشت بن چکا ہے۔ سی پیک کے منصوبے کے تحت چین پاکستان میں ۱۵؍سال کے دوران ۴۶؍ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔ یہ سرمایہ کاری توانائی، انفرا اسٹرکچر، زراعت، تحقیق، ٹیکنالوجی اور تعلیم کے شعبوں میں ہوگی۔

ڈاکٹر مونس احمر کا کہنا تھا کہ سی پیک کا تصور ’’ایک پٹی، ایک سڑک‘‘ کا تصور ہے۔ چینیوں کے مطابق اس کا فارمولا ۱+۴ ہے، جس میں ایک سے مراد پاکستانی عوام کے لیے تحفہ اور باقی چار میں گوادر بندر گاہ، توانائی، انفرا اسٹرکچر اورصنعتی ترقی شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے کو چار پہلوئوں سے دیکھا جاسکتا ہے: تاریخی، معاشی، ثقافتی اور جغرافیائی سیاسی۔ ماؤزے تنگ کے زمانے میں چین میں ’’گریٹ لیپ فارورڈ‘‘ یعنی ایک ہی نسل میں بہت زیادہ ترقی کرنے کا تصور تھا۔ اس منصوبے کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ پاکستان اور چین کا ’’گریٹ لیپ فارورڈ‘‘ ہے۔ اس کے ذریعے پاکستان کے پسماندہ صوبوں میں ترقی اور نقل و حمل کے وسیع ذرائع کی تعمیر ہوگی۔ دوسری جانب چین کو دنیا کی منڈیوں تک پہنچنے کا مختصر راستہ میسر آجائے گا جس سے اس کے تجارتی فاصلوں میں کم از کم ۶۰۰۰ کلو میٹر اور دو ہفتوں تک کی کمی واقع ہوگی۔ اس کے علاوہ اس منصوبے کے تحت بچھائی جانے والی پائپ لائنیں چین تک توانائی کی ترسیل ممکن بنائیں گی۔

انہوں نے اس تاثر کی نفی کی کہ سی پیک کی وجہ سے چین کے پاکستان میں بڑھتے ہوئے اثرات پر امریکا کو بہت زیادہ تشویش ہے۔ ان کا موقف تھا کہ پاکستان میں امریکی اثر بہت گہرا ہے اور پاکستان ’’شنگھائی تعاون تنظیم‘‘ اور ’’برکس‘‘ (Brics) جیسے مغرب مخالف اتحادوں کا حصہ نہیں بنے گا۔ بھارت کو اس منصوبے پر تشویش ہے، مگر آنے والے چند سال یہ واضح کریں گے کہ بھارت کو اس سے کتنا فرق پڑے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ خلیج کی ریاستیں ترقی میں پاکستان سے بہت آگے بڑھ گئیں ہیں اور صرف گوادر بندرگاہ بننے سے انہیں زیادہ مسئلہ نہیں ہوگا۔ سی پیک بننے کے باوجود وسط ایشیائی ریاستوں تک بھی پاکستان اُسی صورت پہنچ سکتا ہے، جب افغانستان میں امن ہو اور یہ ریاستیں خود پاکستان سے تعلقات قائم کرنے میں دلچسپی لیں۔

اس منصوبے کو لاحق خطرات پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر مونس احمر نے کہا کہ چینیوں کو بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں موجود سلامتی سے متعلق خدشات کا علم ہے مگر انہیں زیادہ فکر بدعنوانی اور سُستی کے بارے میں ہے۔ چینی کہتے ہیں کہ اگر پاکستان نے کامیابی سے منصوبے پر کام کیا تو ہم مزید ۴۶؍ارب ڈالر دیں گے۔ لیکن دوسری صورت میں ہم اپنی سرمایہ کاری کہیں اور لے جائیں گے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہمیں عملی سوچ اپنانے کی ضرورت ہے۔ چین اب بدل چکا ہے اور پیکنگ یونیورسٹی میں کانفرنس کے دوران چینیوں نے صاف الفاظ میں کہا کہ کشمیر کے معاملے پر ہم پاکستان کی حمایت نہیں کریں گے اور پاکستان اور بھارت کو یہ معاملہ دو طرفہ بات چیت سے حل کرنا چاہیے۔

ڈاکٹر مونس کا کہنا تھا کہ تبدیلی باہر سے نہیں، اندر سے آتی ہے۔ پاکستان میں شروع سے امداد کی بنیاد پر ترقی کا تصور موجود رہا ہے۔ درحقیقت کسی ملک کی ترقی محض بیرونی سرمایہ کاری کے بَل پر ممکن نہیں ہے۔ جب تک وہاں کے عوام اور حکمران خود ترقی کے لیے کام نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ صرف نائن الیون کے بعد سے ہمیں امریکا سے ۱۳؍ارب ڈالر مل چکے ہیں، مگر اس کا اثر عوام کی زندگیوں پر نہیں پڑا۔

انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ ابھی بہت سی چیزیں غیر واضح ہیں۔مثلاً معاہدے میں لکھا ہے کہ ملنے والی رقم سے آزاد توانائی منصوبے (Independent Power Projects) لگائے جائیں گے جن سے پیدا ہونے والی بجلی پاکستان ’’خریدے‘‘ گا۔ اس کے علاوہ یہ بات بھی لکھی ہے کہ سرمایہ کاری بلامعاوضہ نہیں ہے۔ یہ پیسے ہمیں واپس کرنا ہیں۔ ہوسکتا ہے اس میں واپسی کی میعاد زیادہ ہو، اس میں سود کم ہو مگر ایسا نہیں ہے کہ چین نے ۴۶؍ارب ڈالر بلا شرط دے دیے ہیں۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ سی پیک پر ابھی حتمی رائے قائم کرنا قبل از وقت ہے۔ اس منصوبے کی تکمیل پاکستان میں طرزِ حکومت پر منحصر ہے۔ چینی کہتے ہیں کہ آپ کے پاس محنتی اور ذہین لوگ موجود ہیں مگر نظام درست نہیں۔ ہمیں نظام درست کرنا اور بدعنوانی سے پیچھا چھڑانا ہوگا۔ اگر یہ منصوبہ کامیاب ہو گیا تو خطے میں پاکستان کی حیثیت بہت مضبوط ہو جائے گی۔

لیکچر کے اختتام پرسوال و جواب کا سیشن بھی ہوا جس کے بعد ایگزیکٹو ڈائریکٹر اسلامک ریسرچ اکیڈمی سیّد شاہد ہاشمی نے فاضل مقرر کا شکریہ ادا کیا اور انہیں کتابوں کا تحفہ پیش کیا۔

(رپورٹ: طاہرہ فردوس)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*