Abd Add
 

پاکستان سے سختی برتنا ہوگی!

امریکی ایوانِ نمائندگان میں انٹیلی جنس کمیٹی کے چیئرمین مائیک راجرز کا انٹرویو

ری پبلکن مائک راجرز امریکی ایوان نمائندگان میں انٹیلی جنس کمیٹی کے چیئرمین ہیں۔ انہوں نے پاکستان پر اسامہ بن لادن کو چھپانے اور اسے مدد فراہم کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے پاک فوج کے کڑے احتساب اور پاکستان حکومت کے معاملات کی شفافیت یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس معاملے میں وہ غیر لچکدار رویہ اپنانے پر زور دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک پاکستان کو امداد کی فراہمی جاری رکھنے کی یہی شرط ہونی چاہیے۔ نیوز ویک کی شہر بانو تاثیر نے ان سے ای میل پر جو انٹرویو کیا اس کے اقتباسات ہم آپ کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔


٭ اسامہ بن لادن کے خلاف ایبٹ آباد میں آپریشن، صحافی سلیم شہزاد کا قتل اور پاکستانی فورسز کی جانب سے خود کش حملہ آوروں کو خفیہ معلومات فراہم کیے جانے کی خبر سے پاک امریکا تعلقات پر کس نوعیت کا اثر مرتب ہوا ہے؟

مائک راجرز: پاک امریکا تعلقات اس وقت بھی اتنے ہی الجھے ہوئے اور مشکلات سے دوچار ہیں جتنے تب تھے کہ جب میں نے مختلف اشوز پر پاکستان کا دورہ کیا تھا۔ پاکستانی فوج اور خفیہ ادارے امریکا مخالف لہر کے دباؤ میں ہیں اور اس اشو پر ان کے اقدامات معاملات کو مزید الجھا رہے ہیں۔ اس وقت پاکستان کو ایک ایسی فوج سے تشبیہ دینا درست ہوگا جس کا کوئی ملک نہیں۔ ہمیں پاکستانیوں سے اسی تناظر میں نمٹنا چاہیے۔ انسداد دہشت گردی اور باہمی دلچسپی کے امور پر ہمیں پاکستان پر دباؤ برقرار رکھنا چاہیے۔

٭ کیا سی آئی اے اور آئی ایس آئی کے تعلقات میں کچھ بہتری آئی ہے؟

مائک راجرز: اگر امریکا یہ فیصلہ کرتا ہے کہ پاکستان کی امداد جاری رکھی جانی چاہیے تو پھر پاکستانی حکومت سے وسیع تر تعاون سے کم کسی بھی چیز پر ہمیں راضی نہیں ہونا چاہیے۔ میں نے ایوان نمائندگان میں اپنی ساتھی اور خارجہ امور کی کمیٹی کی سربراہ الینا لہٹینن کے ساتھ مل کر اس حوالے سے چند شرائط وضع کی ہیں۔ ان شرائط پر عمل سے انسداد دہشت گردی کے اقدامات میں امریکا کو پاکستان کی جانب سے غیر معمولی تعاون یقینی طور پر حاصل ہوگا۔ ایک شرط یہ ہے کہ پاکستان میں اسامہ بن لادن کی موجودگی اور اسے فراہم کی جانے والی مدد کے بارے میں جامع تفتیش میں پاکستانی ادارے تعاون کریں۔ انسداد دہشت گردی کے مشن سے وابستہ امریکیوں کو ویزے کی بروقت فراہمی اور پاکستان میں گھریلو ساختہ بم بنانے سے متعلق تمام سہولتیں ختم کرنا بھی ان شرائط میں شامل ہے۔ وسیع تر تعاون، کم تر مخاصمت اور شفافیت کے حوالے سے پاکستان دوسرے شعبوں میں بھی اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ آئی ایس آئی کو یہ بات سمجھنا ہوگی کہ ’’اچھا دہشت گرد‘‘ نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی! پاکستانی خفیہ اداروں کو دہشت گرد گروپوں کی حمایت سے باز رہنا ہوگا اور اپنی صفوں میں دہشت گردوں سے ہمدردی رکھنے والوں کو شناخت کرکے ان سے گلو خلاصی کرنا ہوگی۔

٭ کیا آپ کو اس بات کا یقین ہے کہ القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری اور طالبان کے امیر ملا عمر مجاہد پاکستان میں ہیں؟

مائک راجرز: ایبٹ آباد آپریشن سے یہ نکتہ تو دنیا پر واضح ہوگیا ہوگا کہ دہشت گردوں کی تلاش اور ان کے خلاف کارروائی کے معاملے میں ہم کس قدر اولوالعزم اور متحمل مزاج ہیں۔ دہشت گردوں کو گرفتار یا ختم کیے جانے تک ہم سکون سے نہیں بیٹھیں گے۔ دہشت گردوں کی تلاش میں امریکا سے تعاون کرنا خود پاکستان کے بھی مفاد میں ہے۔ ایمن الظواہری اور ملا عمر ہزاروں پاکستانیوں کی ہلاکت کے بھی ذمہ دار ہیں۔ دہشت گردی کے خاتمے کی امریکی کوششوں میں ہاتھ بٹانا پاکستان کی اپنی سلامتی کے لیے بھی ناگزیر ہے۔ ان دونوں کو انصاف کے کٹہرے تک لانے کے معاملے میں پاکستان کا موقف اب تک درست رہا ہے۔ تیز تر پاکستانی اقدامات دو طرفہ تعلقات درست کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ طالبان اور ان کے قائدین پاکستان کو پناہ گاہ کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔

٭ بنیادی مسئلہ پاکستان ہے یا افغانستان؟

مائک راجرز: جب تک پاکستان پناہ گاہ کی حیثیت رکھتا ہے، ہم کامیابی حاصل نہیں کرسکتے۔ ہمیں ایسی جامع پاکستانی پالیسی درکار ہے جس میں یہ بات یقینی بنائی گئی ہو کہ افغانستان میں پیش رفت متاثر نہیں ہوگی۔

٭ امریکا نے پہلے اعلان کیا کہ پاکستان کی ۸۰ کروڑ ڈالر کی امداد روکی جارہی ہے۔ پھر یہ اعلان واپس لے لیا گیا۔ کیا یہ ’’گاجر اور چھڑی‘‘ والی حکمت عملی کارگر ثابت ہوسکتی ہے؟

مائک راجرز: امریکی عوام پوچھ رہے ہیں کہ جو ملک انسداد دہشت گردی کے معاملے میں شفاف پالیسی نہیں رکھتا اس پر کوئی بھی رقم کیوں صرف کی جائے، امداد کیوں دی جائے؟ اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ استفسار غلط نہیں۔ پاکستان سے تعلقات گو کہ مشکلات سے دوچار ہیں تاہم ہمیں یہ تعلقات برقرار رکھنا ہیں۔ ہاں، اس امر کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ ان تعلقات میں پاکستان اپنا کردار پوری ایمانداری سے ادا کرے۔ پاک امریکا تعلقات ایک نازک موڑ پر کھڑے ہیں اور پیش رفت کے حوالے سے میں خاصا فکر مند ہوں۔ مجھے امید ہے کہ پاکستانی حکومت درست فیصلے کرے گی۔ پاکستان اگر امریکا کا اتحادی رہنے کا خواہش مند ہے تو ہمیں اس سے سخت اقدامات کا مطالبہ کرتے رہنا پڑے گا۔

٭ کیا آپ پاکستان میں امریکا مخالف جذبات سے فکر مند ہیں؟

مائک راجرز: حکومتی سطح پر تعلقات خاصے پریشان کن ہیں اور ظاہر ہے کہ اس کا اثر عوامی سطح کے تعلقات پر مرتب ہوتا ہے۔ ایسے میں ایک دوسرے کے بارے میں شبہات بڑھ جاتے ہیں۔ دونوں ممالک کے تعلقات کا بہتر سطح پر برقرار رہنا دونوں ممالک ہی کے لیے نہیں، عالمی برادری کے لیے بھی بہت سود مند ہے۔ پاکستان میں امریکا مخالف جذبات بھڑکانے میں کچھ حد تک تو خود قیادت کا بھی ہاتھ ہے۔ وہ اندرونی اور بیرونی کھپت کے لیے ایسا کرتی ہے۔

(بشکریہ: ’’نیوز ویک پاکستان‘‘۔ ۱۲؍ اگست ۲۰۱۱ء)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*