Abd Add
 

پاکستان کو جرأت مندانہ فیصلے کرنے ہوں گے!

پاک امریکا تعلقات ایک بار پھر کشیدگی سے دوچار ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کا کردار امریکیوں کے نزدیک متنازع ہے۔ انہوں نے پاکستان پر حقانی گروپ کی بھرپور حمایت اور مدد کا الزام بھی عائد کیا ہے۔ دونوں ممالک ایک نازک موڑ پر کھڑے ہیں۔ پاکستان میں بدامنی اور بدحالی بنیادی مسائل ہیں۔ دوسری طرف امریکا کا کہنا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھرپور کردار ادا نہیں کر رہا۔ پاکستان پر شمالی وزیرستان میں حقانی گروپ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ بھی کیا جارہا ہے۔ واشنگٹن کی اٹلانٹک کونسل کے ساؤتھ ایشیا سینٹر کے ڈائریکٹر شجاع نواز نے اپنے مضمون میں پاک امریکا تعلقات کا جائزہ لیا ہے۔ جو قارئین کے لیے پیش کیا جارہا ہے۔


امریکا اور پاکستان کے پیچیدہ اور الجھے ہوئے تعلقات نے ۲۲ ستمبر ۲۰۱۱ء کو ایک اور خطرناک موڑ اس وقت لیا جب امریکی افواج کے سربراہ ایڈمرل مائیکل مولن نے سینیٹ میں آرمڈ فورسز کمیٹی کے روبرو بیان دیتے ہوئے پاکستان پر شدید نکتہ چینی کی اور پاکستان کو افغانستان میں در اندازی اور حملوں میں براہ راست ملوث قرار دینے میں بس ذرا سی ہی کسر رہ گئی۔ ایڈمرل مولن نے ان شواہد کا حوالہ دیا جن سے ثابت ہوتا ہے کہ افغانستان سے حقانی گروپ کے ذریعے کیے جانے والے حملوں میں پاکستان کا خفیہ ادارہ انٹر سروسز انٹیلی جنس ملوث ہے۔ ان کا کہنا تھا ’’پاکستان کی ایماء پر کام کرنے والی انتہا پسند تنظیمیں افغانستان میں افغان فوجیوں اور عام شہریوں کے علاوہ امریکی اور دیگر غیر ملکی فوجیوں پر بھی حملے کرتی ہیں۔ ہم ثابت کرسکتے ہیں کہ حقانی گروپ، جسے حکومت پاکستان نے پروان چڑھایا ہے، آئی ایس آئی کا ایک اہم اسٹریٹجک بازو ہے۔ ۱۳ اکتوبر کو افغان دارالحکومت کابل میں امریکی سفارت خانے پر حملے میں بھی یہی گروپ ملوث ہے۔‘‘

پاکستان نے اس الزام پر سخت ردعمل ظاہر کیا۔ آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کو ایڈمرل مائیکل مولن کی الزام تراشی پر حیرت ہوئی کیونکہ ایک ہفتہ قبل ہی انہوں نے اسپین میں امریکی افواج کے سربراہ سے ملاقات کی تھی جس میں خوشگوار ماحول میں بات چیت ہوئی تھی۔ جنرل کیانی نے ایڈمرل مولن کے بیان کو حقائق کے منافی اور خاصا غیر سود مند قرار دیا۔ جنرل کیانی کے یہ ریمارکس ایک ایسی شخصیت کے حوالے سے خاصے سخت ہیں جسے وہ کبھی امریکی انتظامیہ میں اپنا بہترین دوست کہتے آئے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اشتراک عمل کی منزل سے گزرنے والے دو ممالک ایک دوسرے پر پھر الزامات عائد کر رہے ہیں۔ پاک امریکا دوستی کے حوالے سے خدشات اور شبہات ایک بار پھر سر اٹھا رہے ہیں۔ اگر پاکستان کے عوام مشتعل اور الجھے ہوئے ہیں تو اس کی ایک ٹھوس وجہ ہے۔

کسی نے اب تک پاکستانی عوام کو یہ نہیں بتایا کہ شر پسندوں اور ملکی و غیر ملکی حمایت یافتہ دہشت گردوں کے خلاف حکمت عملی کس بنیاد پر ترتیب دی گئی ہے۔ ریاست کی طرف سے کون بولتا ہے؟ اور ریاست کی طرف سے عمل کے میدان میں کون اترتا ہے؟ فیصلہ سازی کے حوالے سے دو اہم مراکز تو بالکل نمایاں ہیں۔ سب سے طاقتور آواز تو آرمی چیف کی ہے۔ اس کے بعد آئی ایس آئی کی باری آتی ہے۔ ان دونوں کے بعد سویلین قیادت بولتی ہے جس کی آواز خاصی کمزور ہے اور جو داخلہ، خارجہ اور دفاعی پالیسی پر اثر انداز ہونے میں نمایاں حد تک ناکام رہی ہے۔

امریکا نے پاکستان پر جو الزامات عائد کیے ہیں وہ افغانستان میں جنگ ختم ہونے اور انخلاء کے آثار نمایاں ہونے پر علاقائی اور بیرونی عناصر کے درمیان رسا کشی کی کوکھ سے پیدا ہوئے ہیں۔ سبھی اپنے اثرات کا دائرہ وسیع کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ پاکستان اب تک پشتون معمے میں پھنسا ہوا ہے۔ صوبہ خیبر پختون خواہ کے علاوہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان قبائلی علاقوں میں بھی پشتون گروپ خاصے مستحکم ہیں اور سرحد پار کرکے افغانستان میں حملے کرنے والے ان گروپوں سے پاکستان بہتر تعلقات رکھنا چاہتا ہے۔ اس کوشش میں پاکستان کی قیادت افغانستان کے دیگر نسلی گروپوں سے بہتر تعلقات استوار رکھنے میں ناکام رہی ہے۔ دوسری طرف بھارت نے افغانستان میں مختلف نسلی گروہوں کے ساتھ بہتر تعلقات رکھنے کے ساتھ وہاں بنیادی ڈھانچے میں اچھی خاصی سرمایہ کاری کی ہے اور اس کا سیاسی اثر و رسوخ بھی بڑھا ہے۔ افغانستان کو امداد دینے کے معاملے میں بھی بھارت پیش پیش رہا ہے جس سے پاکستان یہ محسوس کرتا ہے کہ وہ افغانستان کے دیگر نسلی گروہوں اور بھارت کے درمیان پھنس کر رہ گیا ہے۔

پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کو اس مرحلے پر بے باک فیصلے کرنے ہیں۔ نئے مسائل کے لیے کوئی بھی فرسودہ حل کارگر ثابت نہیں ہوگا کیونکہ اس سے فیصلے کرنے کی جرأت کم ہو جاتی ہے۔ پاکستان کے لیے ایک اچھا آپشن یہ ہے کہ مشرقی سرحد پر کشیدگی کم کی جائے یعنی بھارت سے معاملات بناکر رکھے جائیں۔ افغانستان میں تمام پختونوں سے بہتر تعلقات استوار رکھنے کے ساتھ ساتھ ہزارہ، تاجک اور ازبک قیادت کے ساتھ بھی بہتر تعلقات قائم کرنا ایک اور اچھا آپشن ہوسکتا ہے۔

افغانستان میں طالبان یا حقانی گروپ کے عسکریت پسندوں کی حمایت پاکستان کے لیے افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلاء کے بعد کی صورت حال میں نئی مصیبت کھڑی کرسکتی ہے کیونکہ تب پاکستانی طالبان کی پناہ گاہیں تبدیل بھی ہوسکتی ہیں۔ افغان صوبے کنڑ سے قبائلی علاقہ جات کے شمالی حصے میں حملے غیر ملکیوں کے انخلاء کے بعد کی ممکنہ صورت حال کی ایک جھلک کا درجہ رکھتے ہیں۔ ہمیں یہ بات نہیں بھولنا چاہیے کہ اندرونی یا بیرونی عسکریت پسندوں پر پاکستان کا مکمل کنٹرول کبھی نہیں رہا۔ اگر واقعی ایسا ہوتا تو آج اس کے لیے اندرونی اور بیرونی صورت حال وہ نہ ہوتی جو ہے۔

پاک امریکا تعلقات تلخ و شیریں رہے ہیں۔ اب پھر دونوں ممالک کا ایک دوسرے پر انحصار ہے۔ امریکا کو افغانستان میں جنگ کے آخری دنوں میں موثر انخلاء یقینی بنانے کے لیے پاکستان سے فضائی زمینی رابطے درکار ہیں۔ آئندہ سال امریکا میں صدارتی انتخاب ہونے والا ہے۔ صدر براک اوباما پر شدید دباؤ ہے کہ افغانستان میں تعینات امریکی فوجیوں کی جلد از جلد، بہ سلامتی امریکا واپسی یقینی بنائیں۔ اگر اس مرحلے میں پاک امریکا تعلقات کا بگاڑ دور نہ ہوا اور اس کے نتیجے میں افغانستان میں خرابی بڑھ گئی تو اوباما کے لیے دوسری بار منتخب ہونا ناممکن ہو جائے گا۔

پاکستان کی فوج امریکا کی تکنیکی مہارت اور اعلیٰ درجے کے آلات سے خوب مستفید ہوسکتی ہے۔ پاکستان کو معیشت بہتر بنانے کے لیے امریکا ہی نہیں، بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی طرف سے بھرپور مدد کی بھی ضرورت ہے۔ خطے میں پاکستان کے دوست بھی اندرونی حالات اور بالخصوص بڑھتی ہوئی دہشت گردی اور تشدد سے بے حد پریشان ہیں۔ میں نے حال ہی میں بیجنگ میں ایک کانفرنس میں شرکت کی جس میں وسطی ایشیا اور مشرق وسطیٰ میں امریکا اور چین کے درمیان اشتراک عمل کے امکانات پر روشنی ڈالی گئی۔ چینی میزبان خطے میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی کے حوالے سے خاصے فکر مند دکھائی دیے۔ میں سمجھتا ہوں پاکستانی قیادت کو بھی اسی طرح فکر مند ہونا چاہیے۔

پاکستان کی ریاستی مشینری نے کسی زمانے میں جس عسکریت پسندی کو پالا تھا وہ اب بے قابو ہوچکی ہے۔ انتہا پسندی کے ممکنہ نتائج کے حوالے سے خبردار ہونے کے لیے پاکستان کو امریکا یا کسی اور ملک کی خدمات کی چنداں ضرورت نہیں۔ پاکستان کو عسکریت پسندوں سے لاحق خطرات کا خود ہی اندازہ لگاکر ایسی حکمت عملی اختیار کرنا چاہیے جو فوج اور سویلین قیادت نے مل کر تیار کی ہو اور سربراہی سویلین قیادت کو حاصل ہو۔ آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا ن نے ۶ جنوری ۲۰۰۹ء کو جرمن جریدے ڈیر اسپیگل سے انٹرویو میں کہا تھا کہ ’’ہمیں اچھی طرح اندازہ ہے کہ ہمارا اصل دشمن بھارت نہیں، دہشت گردی ہے‘‘۔ شجاع پاشا نے جو حقیقت بیان کی تھی وہ اب بھی بدلی نہیں ہے۔

پاکستان کے وزیراعظم کو قوم سے خطاب کرکے واضح کردینا چاہیے کہ دہشت گردی کے خلاف ایک ایسی حکمت عملی اختیار کی جارہی ہے جس میں کسی بھی اندرونی یا بیرونی گروپ کو حکومت کی حمایت حاصل نہیں۔ یہ جرأت مندانہ رویہ جنرل پرویز مشرف نے اختیار تھا اور بھارت کے لیے دروازے کھولے تھے مگر وہ عوام کی بھرپور حمایت حاصل کرنے اور اپنی پالیسی کو بہتر طور پر بروئے کار لانے میں ناکام رہے۔ پاکستانی قیادت کے پاس اب بھی موقع ہے۔ (سابق امریکی صدر رچرڈ نکسن نے ۱۹۷۲ء میں چین کے دورے پر جانے سے قبل سی آئی اے کو حکم دیا تھا کہ وہ چینی سرزمین پر تمام سرگرمیاں روک دے اور پھر اس حکم کو انہوں نے بڑی خوبصورتی سے چینی قیادت تک ’’لیک‘‘ بھی کرادیا تھا)۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان جرأت مندی کا مظاہرہ کرے گا یا ایک بار پھر حقیقت سے منہ موڑ لے گا؟

(بشکریہ: ’’نیوز ویک پاکستان‘‘۔ ۷؍ اکتوبر ۲۰۱۱ء)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*