پاکستانی جوہری پروگرام کی جاسوسی

Former U.S. naval intelligence clerk Jonathan Pollard speaks during an interview, May 15, 1998. — Photo by AP

امریکا میں حال ہی میں ریلیز کی جانے والی چند دستاویزات سے انکشاف ہوا ہے کہ امریکا میں اسرائیلی جاسوس جوناتھن پولارڈ کے ذمے سب سے اہم کام پاکستانی جوہری ہتھیاروں کی تفصیلات جمع کرنا تھا۔ جوناتھن پولارڈ نے ۱۹۸۴ء اور ۱۹۸۵ء میں اسرائیلی حکام کو ایسی متعدد دستاویزات دیں جن میں پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کی تفصیلات درج تھیں۔ پولارڈ امریکی شہری ہے، جس نے نیول انٹیلی جنس یونٹ میں خدمات انجام دینے کے زمانے میں اسرائیل کے لیے جاسوسی کی۔ جوناتھن پولارڈ کو ۱۹۸۷ء میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تاہم وہ اب ۲۱ نومبر ۲۰۱۵ء کو رہائی پاسکتا ہے۔

سی آئی اے نے حال ہی میں ایک کلاسیفائیڈ دستاویز جاری کی ہے۔ ’’دی جوناتھن جے پولارڈ ایسپائنیج کیس: اے ڈیمیج اسیسمنٹ‘‘ کے نام سے یہ دستاویز ۳۰؍اکتوبر ۱۹۸۷ء کو تیار کی گئی تھی۔ یہ دستاویز جارج واشنگٹن یونیورسٹی کے نیشنل سکیورٹی آرکائیو پروجیکٹ کی استدعا پر جاری کی گئی۔ اس میں جوناتھن پولارڈ کی سرگرمیوں کا بھرپور تجزیہ کیا گیا ہے۔ نیشنل سکیورٹی آرکائیو پروجیکٹ کا بنیادی کام امریکی حکومتی مشینری میں رازداری کا رجحان کم سے کم کرنا ہے۔

ٹرائل کورٹ میں جوناتھن پولارڈ کے خلاف شہادت دیتے ہوئے سابق امریکی وزیر دفاع کیسپر وائنبرگر نے کہا تھا کہ پولارڈ نے اسرائیل کو جو فائلیں دی ہیں ان سے چھوٹا موٹا کمرا بھر سکتا ہے۔ سی آئی اے کی دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ پولارڈ نے پاکستان اور عرب ممالک کے جوہری ہتھیاروں، عرب دنیا کے غیر روایتی ہتھیاروں، سوویت ایئر کرافٹس، سوویت فضائی دفاع، فضا سے فضا میں مار کرنے والے سوویت میزائلوں، فضا سے زمین پر مار کرنے والے میزائلوں، جنگ کے حوالے سے عرب دنیا کی تیاریوں، تعیناتیوں اور جنگ کے لیے ہمہ وقت تیار رہنے جیسے معاملات پر توجہ مرکوز کی۔

’’دی امپلی کیشنز آف کومپرومائزز۔ واٹ اسرائیل گینڈ پولارڈز ایسپائنیج‘‘ کے زیر عنوان ایک سیکشن میں سی آئی کی دستاویز بتاتی ہے کہ جوناتھن پولارڈ نے تیونس میں تنظیم آزادیٔ فلسطین کے ہیڈ کوارٹر، لیبیا کے فضائی دفاع اور اسلام آباد کے نزدیک پلوٹونیم ری پروسیسنگ پلانٹ سے متعلق انتہائی اہم دستاویزات اسرائیل کو دیں۔ پولارڈ کی دی ہوئی معلومات ہی کی روشنی میں اسرائیل نے اکتوبر ۱۹۸۵ء میں تیونس میں پی ایل او کے ہیڈ کوارٹر پر حملہ کیا۔

سی آئی اے کی دستاویز میں پاکستان کی جوہری تنصیبات کا ذکر دس مقامات پر ملتا ہے، تاہم نیشنل سکیورٹی آرکائیو نے اپنی ویب سائٹ سے تفصیلات حذف کردی ہیں۔

سی آئی اے نے ایک مقام پر لکھا ہے کہ اسرائیلی قیادت سیاسی اور معاشی امور میں جاسوسی کے لیے زیادہ پرجوش نہیں تھی۔ اس کا زیادہ زور عسکری معاملات اور ٹیکنیکل امور کی جاسوسی پر تھا۔ پولارڈ کے ایک اسرائیلی ہینڈلر یاگور کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو ’’مراکش سے پاکستان اور لبنان سے یمن تک‘‘ معلومات درکار تھیں۔ سی آئی اے کی اس دستاویز میں چند صفحات افغانستان کی جنگ اور اس میں پاکستان کے کردار سے متعلق بھی ہیں۔ دستاویز میں اس امر کی صراحت نہیں کی گئی کہ پاکستان کے جوہری اثاثوں اور ہتھیاروں کے بارے میں امریکی حکام کس حد تک جانتے تھے۔

ریکارڈ سے معلوم ہوتا ہے کہ امریکیوں کو پاکستان کے جوہری پروگرام کے بارے میں ۱۹۸۰ء کی دہائی کے اوائل ہی میں بہت کچھ معلوم ہوگیا تھا اور وہ یہ بھی جانتے تھے کہ پاکستان کا جوہری پروگرام خاصے آگے کے مرحلے میں ہے مگر افغانستان میں سوویت لشکر کشی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے مرکزی کردار نے امریکیوں کو فوری طور پر کوئی بھی کارروائی کرنے سے روک دیا تھا۔

جولائی ۱۹۸۲ء میں ریگن انتظامیہ نے سی آئی اے کے سابق ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل ورنن کو اس امر کے دستاویزی ثبوت کے ساتھ جنرل ضیاء الحق سے ملاقات کے لیے بھیجا۔ جنرل ضیاء نے تسلیم کیا کہ پاکستان کے جوہری پروگرام کے بارے میں سی آئی اے کی معلومات درست ہوسکتی ہیں مگر ساتھ ہی ساتھ انہوں نے جوہری ہتھیار نہ بنانے اور کسی بھی طرح کا جوہری حملہ نہ کرنے کا وعدہ بھی دُہرایا۔

۱۹۸۶ء میں آرمز کنٹرول اینڈ ڈِز آرمامنٹ ایجنسی کے ڈائریکٹر کینتھ ایڈلمین نے بھی خبردار کیا کہ پاکستان کا جوہری پروگرام اب ترقی کرتے کرتے ممنوعہ حدود میں داخل ہو رہا ہے مگر امریکی حکومت نے ایک دوست ملک کے جوہری پروگرام کو اس وقت تک جاری رہنے دیا جب تک عوام کی سطح پر کوئی تنازع پیدا نہ ہوجائے۔ ایک دستاویز میں تو یہاں تک لکھا ہے کہ ریگن انتظامیہ کے بیشتر اعلیٰ ترین افسران نہیں چاہتے تھے کہ پاکستان انہیں (امریکیوں کو) اپنا رازدار بنائے کیونکہ بہت سے حقائق جاننے کی صورت میں کانگریس کی کمیٹیوں کے سامنے گواہی دینا انتہائی دشوار ہو جاتا اور بہت کچھ جاننے کی صورت میں یہ کہنا انتہائی مشکل ہوتا کہ پاکستان کے بارے میں انہیں کچھ معلوم نہیں۔

اگر پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے کوئی ایسی ویسی بات امریکی حکام کے منہ سے نکلتی تو افغانستان میں سوویت افواج کے خلاف امریکا کی طرف سے امداد کا جاری رکھا جانا انتہائی دشوار ہوجاتا۔ ریکارڈ سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ آج کی طرح اس زمانے میں بھی پاک امریکا تعلقات اعتماد کے فقدان کا شکار تھے۔ فریقین ایک دوسرے پر مکمل بھروسا کرنے کے لیے تیار نہ تھے۔

۱۹۸۱ء کے موسم گرما میں امریکی محکمہ خارجہ کے انٹیلی جنس ونگ نے اندازہ لگالیا کہ پاکستان اب باضابطہ جوہری ہتھیار تیار کرنے کی اہلیت پیدا کرچکا ہے، گوکہ کہوٹہ پلانٹ ۱۹۸۳ء تک مطلوبہ مقدار میں افزودہ یورینیم فراہم کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکا تھا۔

دسمبر ۱۹۸۲ء میں اس وقت کے امریکی صدر رونالڈ ریگن کو ان کے وزیر خارجہ جارج شلز نے خبردار کیا کہ جنرل ضیاء الحق جوہری ہتھیار نہ بنانے کے اپنے وعدے کو فراموش کرچکے ہیں۔

۱۹۸۷ء میں امریکی محکمہ خارجہ نے وائٹ ہاؤس کو اطلاع دی کہ پاکستان اب جوہری ہتھیار بنانے کی منزل کے بہت قریب پہنچ چکا ہے۔ اور یہ کہ جنرل ضیاء الحق کے لیے امریکی ہم منصب کے لیے پریشانی کے لمحات پیدا نہ کرنے کے وعدے کو بھول جانے کے سوا آگے جانا بہت مشکل ہوگا۔

(“How Israel collected information about Pakistani nukes”… daily “Dawn”. Dec.18, 2012)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*