Abd Add
 

امن و امان کی بہتر ہوتی صورتحال

مسلح سپاہیوں کی حفاظت میں میران شاہ کا دورہ ایک خوشگوار تجربہ تھا،یہ تقریباً پچاس فیصد وزیرستان کا مرکزی و انتظامی علاقہ ہے۔یہ قبائلی علاقہ جات ایک عرصے تک اس وقت سے جہادیوں کے زیر اثر رہے جب اوباما اس علاقے کو دنیا کا خوفناک علاقہ کہتے تھے، لیکن کچھ ہی عرصے بعد پاک آرمی نے دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کیا اور یہ علاقہ اپنے کنٹرول میں کر لیا۔ ۲۰۱۴ء سے جاری آپریشن ۲۲ مہینوں کی جدو جہد کے بعد اپنے مقاصد حاصل کرچکا ہے۔اس وقت پاک آرمی کے جنرلوں کا کہنا ہے کہ میران شاہ دہشت گردی کی انتہا سے اب امن کے استحکام کی طرف تیزی سے سفر طے کر رہا ہے ۔مجموعی طور پر پورے پاکستان میں امن و امان کی صورتحا ل اب پہلے سے بہت بہتر ہے۔

قبائلیوں کے خلاف آپریشن میں ۵۰۰ پاکستانی فوجیوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، جبکہ ۳۴۰۰ جنگجو ہلاک ہوئے۔ زیادہ تر جنگجو سرحد کے راستے افغانستان فرار ہوگئے،اس آپریشن میں لاکھوں افراد بے گھر ہوئے ان بے گھر افراد کو دوبارہ آباد کرنے کے لیے کوششیں کی جارہی ہیں۔نئی سڑکیں اور عمارتوں کی تعمیرکے علاوہ دکانیں،بازار اور کھیل کے لیے اسٹیڈیم کی از سر نو تعمیر کا کام بھی جاری ہے۔ بہتے دریا کے ساتھ ساتھ کھیل کا میدان بنایا گیا ہے اور ساتھ ہی ڈزنی تھیم پارک اور مصنوعی جھیلیں بھی بنائی جا رہی ہیں ۔

پاکستانی فوج وزیرستان میں ترقیاتی کام کے لیے پر عزم ہے، چھوٹے چھوٹے گاؤں میں بجلی اور پانی کی ترسیل کا نظام ممکن بنایا جارہاہے۔ جگہ جگہ بچوں کے لیے اسکول قائم کیے جارہے ہیں اور سیاحت کی صنعت کی ترقی کے لیے منصوبہ بندی کی جارہی ہے، لیکن بنجر پہاڑی علاقوں میں جگہ جگہ فوج چھاؤنی یہ بتاتی ہیں کہ یہاں سیکورٹی اب بھی کافی سخت ہے ۔وزیرستان دورے کے بعد ہمیں زیر زمین بنکر میں بریفنگ کے دوران یہ بتایا گیاکہ ہمارے دورے کے دن صرف چند کلومیٹر کی دوری پرفوجی گاڑی پر میزائل حملہ کیاگیا،جس میں دو فوجی ہلاک اور تین زخمی ہوئے۔

فاٹا ریسرچ سینٹر تھنک ٹینک کے مطابق تحریک طالبان پاکستان نے فاٹا اور وزیرستان میں سیکڑوں شہریوں کو قتل کیا۔ ۲۰۱۶ء میں ۸۶، ۲۰۱۷ میں ۱۳۸؍افراد مار دیے گئے۔ شمالی وزیرستان ابھی قدرے پرسکون ہے ۔لیکن اس کے ساتھ کا علاقہ ’’کرم ایجنسی‘‘ میں ۷۶ فیصد دہشت گردی کے واقعا ت ہوئے ہیں۔اس سے یہ بات ظاہر ہے کہ وزیرستان سے نکلنے والے دہشت گرد ابھی قریب ہی علاقے میں موجود ہیں۔

کرم ایجنسی میں حقانی گروپ کاافغانی طالبان سے تعلق جوڑا جاتا ہے ۔ان کے بارے میں امریکا یہ دعویٰ کرتا ہے کہ پاکستانی آرمی حقانی گروپ کو تحفظ فراہم کرتی ہے۔ ۲۰۱۸ء کے پہلے ٹوئٹ میں ٹرمپ نے پاکستان پر یہ الزام لگایا کہ وہ دہشت گردوں کو پناہ دیتا ہے، پھراسی وجہ کو بنیاد بنا کر اس نے پاکستان کی دو ارب کی فوجی امداد روک لی۔ اس واقعے سے کچھ دن پہلے امریکا نے شمالی وزیرستان پر ڈرون حملہ کیا جس میں ایک حقانی کمانڈر اور اس کے دو ساتھیوں کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ۔یہ ڈرون حملہ امریکا نے افغانستان میں ہونے والے کابل ہوٹل حملے کے جواب میں کیا۔امریکا کے دعوے کے مطابق کابل ہوٹل پر حملہ حقانی گروپ نے کیا تھا۔

پاکستان کی فوج اس بات کا کھل کے اظہار کرتی ہے کہ پاکستان، افغانستان اور بھارت میں دہشت گردی کی واردات کرنے والوں میں اچھے برے کی کوئی تفریق نہیں ہے، فاٹا میں دہشت گردی کا خاتمہ کرنے کے لیے پاکستانی فوج نے کامیاب کوششیں کی ہیں ۔۲۰۱۷ء میں پورے پاکستان میں دہشت گردوں کے خلاف خفیہ ایجنسی کی رہنمائی میں ۱۶۴؍ٹاگٹڈآپریشن کیے گئے ہیں۔ یہ آپریشن خصوصی طور پر تحریک طالبان کے صفائے کے لیے کیے گئے۔

جنوبی ایشیا میں دہشت گردی سے متعلق اعداد و شمار جمع کرنے والی ویب گاہ ’’ساؤتھ ایشا ٹیررازم پورٹل‘‘ کے مطابق پاکستان کی فوج نے دہشت گردوں کو کچلنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ۲۰۱۳ء میں ۳۰۰۰ شہری دہشت گرد حملے میں مارے گئے، ۲۰۱۶ء میں یہ تعداد ۵۴۰ ہوگئی اور اس سال یہ تعداد گھٹ کر صرف ۲۴ رہ گئی ہے ۔

حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ہونے والے حملے افغانستان سے کنٹرول کیے جاتے ہیں۔ ۲۰۱۴ء میں نیٹو افواج کے افغانستان سے انخلا کے بعد سے افغان سرزمین دہشت گردوں کے لیے جنت ہے۔ افغان قبائلی علاقہ جات پکتیکا، خوست،ننگرہار اور کنڑدہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں ہیں۔

وزیر اعظم پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر اور ریٹائر جنرل ناصر خان جنجوعہ کاکہنا ہے کہ وہ افغانستان سے پاکستان پر ہونے والے ۱۴۳ حملوں کے ثبوت پیش کرسکتے ہیں۔ جب کہ دوسری طرف عرصہ دراز سے افغانستان اور بھارت، پاکستان پر طالبان کی حمایت اور مدد کا الزام لگا تے آئے ہیں، ان کے مطابق آئی ایس آئی دہشت گردوں کی حمایت کرنے بھارت اور افغانستان میں حملے کروانے میں ملوث ہے ۔ناصر جنجوعہ نے اس الزام کومسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان خود شمالی بلوچستان میں ان عسکریت پسند تنظیموں سے نبرد آزما ہے،آئی ایس آئی کا ٹی ٹی پی اور داعش سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

افغان سرحد سے پاکستان کے سرحدی علاقوں پر ہونے والے حملوں کو روکنے کے لیے پاکستان آرمی نے دوہزار چارسو کلومیٹر کھلی سرحد پر باڑ لگانے کا فیصلہ کیا ہے، فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور کے مطابق پہلے مرحلے میں اسی سال ۱۴۰ میل کے رقبے پر باڑ لگائی جائے گی اور ۵۵۰ملین ڈالر کا یہ پروجیکٹ دو مرحلوں میں پورا کیاجائے گا، اس مرحلے میں دو لمبی کانٹے دار باڑ لگائی جائے گی ہر ۲میٹر پر سینسر اور سی سی ٹی وی کیمرہ نصب کیا جائے گا اور اس باڑ کے ساتھ ساتھ ہر میل پر ایک مضبوط کنکریٹ سے بنی فوجی پوسٹ قائم کی جائے گی، تقریباً ۴۴۳ چوکیاں قائم کرنے کا منصوبہ ہے۔

پاکستان میں اندرونی دہشت گردی کو روکنے کا فائدہ سی پیک کو بھی مل رہا ہے، سی پیک میں پاکستان چین کے ساتھ ایک اہم کردار ادا کررہا ہے۔ جس کے تحت ایشیا میں پرانے تجارتی راستوں پر نئے تجارتی راستے بنائے جارہے ہیں جسے ون بیلٹ ون روڈ کا نام دیاگیا ہے۔

پاکستان کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے لیے چین ۶۲ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہا ہے جس میں شاہراؤں، ریلوے اسٹیشن، پاور اسٹیشن اورگوادر بلوچستان میں سمندری تجارتی راستوں کے منصوبوں پر کام جاری ہے ۔یہ راستے مغربی چین اور بحیرہ عرب کو ملائیں گے۔ یہ منصوبے پاکستان کی جی ڈی پی کو اگلے پانچ سالوں میں ۲۰ فیصد تک اور اس کی معیشت کی رفتار کو ۳ فیصد تک بڑھا دیں گے۔

لیکن چین ان منصوبوں کو اسی وقت جاری رکھ سکے گا جب پاکستان میں امن وامان کی صورتحال بہتر ہو۔ سی پیک منصوبہ پاکستان کے دو ایسے علاقوں کشمیر اور بلوچستان میں روبہ عمل ہے جہاں حالات سازگار نہیں رہتے، پچھلے برس ہی گوادر پورٹ میں دس چینی مزدوروں کو قتل کردیا گیا تھا جس کے بعد چین نے سی پیک کے اہم راستوں پر سی سی ٹی وی کیمرے لگانے کا مطالبہ کیا۔

پاکستانی فوج کی تجارت ومعیشت میں دلچسپی یہ ظاہر کرتی ہے کہ دہشت گردوں کو قابو میں رکھا جائے گا، اعلیٰ حکام اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ یہ تجارتی منصوبہ پاکستان کے ساتھ ساتھ خود ان کے لیے منافع بخش ہے مسٹر ٹرمپ کی پاکستان کے خلاف غصے والی ٹوئیٹ کے بعد بہت ممکن ہے کہ پاکستان دہشت گردی کی جنگ میں اپنے کردار کو مزید بڑھائے۔

(ترجمہ: سمیہ اختر)

“Pakistan’s army is getting serious about defeating domestic terrorism”.(“The Economist”. Mar 1st 2018)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*