Abd Add
 

فلسطین: جہاں زندگی کی کوئی ضمانت نہیں!

دس سالہ نوراں عباد کسی بھی عالم طالبہ کی طرح اسکول گئی تھی‘ کیونکہ یہ دن اس کے لیے بہت ہی خاص اور اہم تھا‘ اسے اسکول کا رزلٹ ملنے والا تھا۔ لیکن اسے کیا معلوم کہ بدقسمتی اس کے تعاقب میں ہے۔ وہ جب واپس آئی تو وہ خود اپنے پیروں پر چل کر نہیں بلکہ دوسروں کے کاندھوں پر سوار ہو کر آئی اور اسے رزلٹ کے بجائے موت کا سرٹیفکیٹ مل چکا تھا۔ یہ کہانی فلسطین میں نئی نہیں ہے بلکہ یہ وہاں کا معمول ہے۔ نوراں کی طرح بے شمار افراد بغیر کسی غلطی کے روزانہ اسرائیلی فوج کی گولیوں کا نشانہ بن رہے ہیں۔ ان میں معصوم طلبہ بھی شامل ہیں جو اسکول جاتے ہیں‘ بزرگ افراد ہیں‘ جو سودا سلف لانے بازار جاتے ہیں‘ تاہم کسی کو یہ پتا نہیں ہوتا کہ وہ واپس آسکیں گے یا ان کی لاش واپس آئے گی۔

نوراں ۳۱ جنوری ۲۰۰۵ء کی شام اپنے اسکول کے میدان میں (اجتماعی) دعا پڑھنے کے لیے آرہی تھی کہ اسرائیلی فوجیوں کی گولی اس کے چہرے پر لگی اور اس نے داعی اجل کو لبیک کہہ دیا۔ جب اس کی لاش اسکول سے گھر لائی گئی تو اس کے گھر میں صفِ ماتم بچھ گئی۔

بیٹی کی یاد میں ماں

نوراں کی ماں اس وقت کو یاد کرتی ہیں جب وہ اسکول جانے کے لیے تیار ہو رہی تھی اور صبح کے وقت اسکول میں پڑھی جانے والی دعا دہرا رہی تھی‘ جس کا مفہوم یہ ہے کہ ’’اے خدا تو نے ہی موت اور زندگی بنائی ہے‘ جس کا مزا ہر انسان کو چکھنا ہے‘‘۔ نوراں کی ماں کا خیال ہے کہ شاید وہ خطرے کا احساس تھا جو کہ اس کے ساتھ ہونے والا تھا۔ وہ کہتی ہیں کہ اس کے بعد وہ اسکول چلی گئی۔ وہ خود سے بیگانہ لڑکی تھی اور اپنی فکر کی بجائے وہ ہمیشہ اپنی چھوٹی بہن کی فکر میں رہتی تھی۔ یہاں تک کہ وہ گھر سے نکل گئی اس کے بعد وہ دوبارہ پلٹ کر آئی اور کہنے لگی ’’ماں باہر سردی زیادہ ہے‘ جانے سے پہلے اسے سوئیٹر پہنا لیں تو اچھا ہے‘‘۔ میں اس سے زیادہ کیا کہہ سکتی ہوں کہ وہ ایسے مشکل وقت میں ہوا کا ٹھنڈا جھونکا تھی؟ اس کا نام نور (روشنی) تھا اور وہ حقیقت میں ساری دنیا کو روشن کیے ہوئے تھی۔

پانچویں بچے کی ہلاکت

نوراں پچھلے ۲ برسوں میں پانچویں فلسطینی بچی تھی جو اقوامِ متحدہ کا جھنڈہ لگے ہوئے اسکول میں فلسطینی فوجیوں کی گولی کا نشانہ بنی۔ علاوہ ازیں غزہ شہر میں اس سال ہلاک ہونے والوں میں اس کا شمار ۱۷۲واں ہے‘ جبکہ غزہ میں ستمبر ۲۰۰۰ء میں الاقصیٰ انتفاضہ شروع ہونے کے بعد مرنے والوں میں اس کا نمبر ۶۴۴واں ہے۔ پچھلے سال دو الگ الگ مقامات رفاہ اور خان یونس پر دو بچیاں شہید ہوئی تھیں جبکہ وہ اپنے اسکول کی ڈیسک پر بیٹھی ہوئی تھیں۔ اسی طرح مارچ ۲۰۰۳ء ایک حملے میں ایک لڑکی نابینا ہو گئی تھی۔

موت کا صدمہ

یو این آر ڈبلیو اے کے ترجمان پال میک کین کا کہنا ہے کہ اقوامِ متحدہ کی امن کمیٹی کئی مرتبہ اسرائیلی فوج کے ذریعہ عوامی علاقوں میں گولی چلائے جانے کے خلاف احتجاج کر چکی ہے۔ نوراں کا اسکول سرحد سے ۶۰۰ میٹر دور ہے لیکن جب سے تنازعہ شروع ہوا ہے‘ یہ سرحد کئی بار گولیوں کا نشانہ بن چکا ہے مگر پہلی مرتبہ اتنا شدید سانحہ رونما ہوا ہے۔

نوراں کی خالہ کہتی ہیں کہ ’’ہم دنیا سے پوچھتے ہیں کہ کیا اس نے اپنی کمر سے بم باندھ رکھے تھے؟ کیا وہ کلاشنکوف لیے ہوئے تھی؟ وہ تو سیاست کے ابجد سے بھی واقف نہیں تھی‘ میری بچی تو صرف پیار ہی پیار جانتی تھی‘‘۔

نوراں کی ماں کہتی ہیں کہ ’’اس کی موت کی خبر ملنے سے کچھ دیر پہلے میں کچھ بے چینی محسوس کر رہی تھی۔ میں نے اس کے والد سے اس کی تصویر مانگی جو ہم نے کچھ سال پہلے بنوائی تھی۔ میں اسے دیکھنا چاہتی تھی اور کچھ دیر بعد اس کی چھوٹی بہن نے اچار کی برنی گرا دی‘ جس سے کانچ کا وہ برتن چور چور ہو گیا۔ بالکل اسی طرح جب اس کی لاش گھر آئی تو میرا کلیجہ بھی برنی کے ٹوٹے کانچ کی طرح بکھر گیا‘‘۔

اسرائیل کا انکار

چشم دید گواہوں کا کہنا ہے کہ بچے ہاتھ باندھ کر قومی ترانہ گا رہے تھے کہ گولی باری شروع ہو گئی۔ ایک گولی عائشہ امام الخطیب کے ہاتھ میں لگی‘ دوسری گولی نوراں کے سر میں پیوست ہو گئی‘ وہ فوراً زمین پر گر گئی۔ قریب ہی کھڑے افراد کا کہنا ہے کہ ہم سمجھے کہ وہ بے ہوش ہوئی ہے لیکن ہم نے جب اس کے سر کے نیچے خون بہتا ہوا دیکھا تو ہماری سمجھ میں آیا کہ اسے گولی لگی ہے۔ ایک تیسری گولی ایک لڑکی کے بستہ میں لگی اور بستہ میں رکھی کسی چیز کی وجہ سے اس کی ریڑھ کی ہڈی سے چند انچ کی دوری پر رک گئی‘ شاید وہ خوش قسمت تھی۔ نوراں کے برابر کھڑی ۱۱ سالہ سلوا الخلیفہ رقت آمیز لہجے میں بتاتی ہے کہ ’’ایک گولی اس کی ناک میں لگی اور گردن سے نکل گئی۔ ہم سب ڈر گئے‘ کئی اور گولیاں دیواروں اور اسکول کی عمار میں بھی لگیں‘‘۔

اس واقعہ کے ایک دن بعد اسرائیلی حکمرانوں نے کہا کہ ابتدائی تحقیقات سے پتا چلا ہے کہ یہ فائر فلسطینی پولیس کی طرف سے کیے گئے تھے جو کہ حاجیوں کی واپسی کی خوشی منا رہے تھے نہ کہ اسرائیلی فوجیوں کی طرف سے۔

چیچک کے جیسے داغوں والی دیوار

لیکن چیچک کے جیسے داغوں والی اسکول کی دیوار جو کہ اسرائیل سے ۶۰۰ میٹر دوری پر واقع ہے کچھ اور ہی کہانی سناتی ہے۔

اسکول کے پرنسپل صحاف الغوف کہتے ہیں کہ ’’اس وقت حاجیوں کا کوئی قافلہ نہیں آیا تھا جس کا جشن منایا جاتا۔ ہاں! اسکول سے چند سو کلو میٹر دوری پر اسرائیلیوں کی ایک فوجی چوکی ہے جہاں سے اکثر فائرنگ کی جاتی ہے اور وہ اسکول میں بھی آتی ہیں۔ اگر فائرنگ فلسطینیوں کی جانب سے کیا گیا ہوتا تو گولی نوراں کے منہ پر نہیں لگی ہوتی بلکہ اس کے سر میں گھس گئی ہوتی۔ کیونکہ جب بھی خوشی کی گولی چلائی جاتی ہے تو وہ بندوق کی نال اوپر کر کے چلائی جاتی ہے‘‘۔

فلسطینی محافظوں اور اقوامِ متحدہ کے افسران دونوں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ جس طرح سے گولیاں پھیلی ہوئی ہیں اور گواہوں کے بیانات کی رو سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ گولیاں اسرائیلیوں کی بندوقوں سے نکلی ہیں۔

ایک افسر کا کہنا ہے کہ ’’ہر چیز اس حقیقت کی طرف اشارہ کر رہی ہے کہ یہ فائرنگ اسرائیلیوں کی طرف سے کی گئی تھی۔ وہاں پر کئی گولیوں کے نشانات ہیں اور وہ زیادہ بڑی جگہ میں بکھری ہوئی ہیں۔ جس کی ان کے آنے کی سمت کا پتا چلتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی کچھ چشم دید گواہوں کے بیانات کے مطابق یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ گولیاں اسرائیلی فوجیوں نے چلائی تھیں یا علاقے میں کوئی ٹینک موجود تھا جس سے گولیاں داغی گئیں۔

فلسطینی حکام نے اسرائیلیوں میں لڑکی کے قتل کی شکایت درج کروا دی ہے‘ لیکن ایسا نہیں لگتا کہ نوراں کے گھر والوں کا اس کا جواب مل سکے گا کہ اس کا قتل کیوں کر ہوا۔

(بشکریہ: روزنامہ ’’انقلاب‘‘۔ ممبئی)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*