فلسطین کی سیاسی اور جغرافیائی اہمیت

فلسطین کی طبیعی اہمیت:

الف) جغرافیہ: فلسطین کا رقبہ ۲۷۰۲۴ مربع کلو میٹر ہے۔ یہ سرزمین دنیا کے شمالی حصہ میں جنوب مغربی ایشیا میں واقع ہے۔ اس کے مشرق میں بحرِ روم‘ شمال میں لبنان‘ شمال مشرق میں شام‘ مشرق میں اردن اور جنوب میں مصر واقع ہے۔ اس کا شمار مشرقِ وسطیٰ کے ممالک میں ہوتا ہے۔ فلسطین جنوب کی جانب سے بحر احمر اور مصر کے صحرائے سینا کی حدود میں واقع ہے۔

فلسطین کے شمالی علاقے جو کہ لبنان اور شام کی سرحدوں سے ملتے ہیں‘ کوہستانی ہیں اور جس قدر شمال سے جنوب کی طرف جائیں تو پہاڑی سلسلے کا خاتمہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ فلسطین کے جنوب میں ’’نقب‘‘ نامی وسیع صحرا موجود ہے جو کہ صحراے سینا سے متصل ہے۔ فلسطین کے مشہور پہاڑ کا نام ’’جرجوق‘‘ ہے جس کی بلندی ۱۲۰۸ میٹر ہے۔

فلسطین میں بہنے والی نہریں درج ذیل ہیں۔

نہرِ اردن: یہ شام کے شمالی علاقہ بانیاس سے شروع ہوتی ہے۔ اس نہر کی لمبائی ۳۰۰ کلو میٹر ہے۔

نہر یرموک: اس کی لمبائی ۴۰ کلو میٹر ہے۔

نہر المقطع: اس کی لمبائی ۱۳ کلو میٹر ہے۔

فلسطین میں چند ایک چھوٹے چھوٹے دریا بھی ہیں۔ جیسے جنوب مشرقی فلسطین میں ۱۰۵۰ مربع کلو میٹر پر محیط بحر ’’المیت‘‘، شمال میں ۱۶۵ مربع کلو میٹر وسیع ’’طبریہ‘‘۔

بحرِ روم کے ساحلی علاقوں میں آب و ہوا معتدل ہے جبکہ مشرقی فلسطین کی جانب بتدریج ہوا میں نمی کا تناسب کم ہوتا چلا جاتا ہے۔ فلسطین کا شمالی علاقہ پہاڑی اور برفانی ہے جبکہ جنوبی علاقہ انتہائی گرم ہے۔

آبادی اور بڑے شہر:

اعداد و شمار کے مطابق ۱۹۸۷ء تک فلسطینیوں کی تعداد پوری دنیا میں ۵۱ لاکھ سے زیادہ ہے جو کہ مقبوضہ علاقوں کے علاوہ دنیا کے ۱۳ مختلف ملکوں میں منتشر ہیں۔ فلسطین میں ’’غزہ‘‘، ’’قدس‘‘، ’’السامرہ‘‘ اور ’’حیفا‘‘ نامی چار صوبے میں جبکہ مشہور شہر ’’بیت المقدس‘‘، ’’بیت اللحم‘‘، ’’رام اﷲ‘‘، ’’غزہ‘‘، ’’نابلس‘‘، ’’حیفا‘‘، ’’یافا‘‘ اور طولکرم ہیں۔

فلسطین کی اقتصادی اور جیو پولیٹیکل اہمیت:

فلسطین قدرتی ذخائر سے مالا مال علاقہ نہیں ہے۔ معدنیات میں سے صرف پوٹاشیم‘ مینگنیز‘ سوڈیم اور ’’بحرالمیت‘‘ کا برومین قابل ذکر ہیں۔

پوٹاشیم کے اعتبار سے یہ دنیا کا مالدار ملک ہے۔ سرزمین فلسطین کا ایک تہائی حصہ قابلِ کاشت ہے اور یہاں کی اکثریت کا ذریعہ معاش کھیتی باڑی ہی ہے۔

عالمی اور علاقائی حکمت عملی (Strategy) کے اعتبار سے فلسطین کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ یہ ملک ایشیاء کو افریقہ سے ملانے والا ایک پل ہے اور جزیرہ نمائے عرب کو بحرِ روم سے ملاتا ہے۔ اس علاقہ کی اسی اہمیت کی وجہ سے استعمار نے دو اہم عرب علاقوں کے درمیان جدائی ڈالنے کا منصوبہ بنایا اور اس پر عمل کیا۔

فلسطین کی تاریخ

ارضِ کنعان اور فلسطین:

قدیم زمانے میں یہ سرزمین ارضِ کنعان کے نام سے پہچانی جاتی تھی کیونکہ کنعانیوں نے ۲۵۰۰ سال ق۔م میں جزیرۃ العرب سے ہجرت کر کے اس علاقہ میں سکونت اختیار کی تھی۔ کریتی قبائل (۱) نے ۱۲۰۰ سال ق۔م میں ارضِ کنعان پر حملہ کیا اور غزہ اور یافا کے درمیان ساحلی علاقہ میں قیام کیا۔ کنعانیوں اور کریتی قبائل کے ادغام سے اس پورے علاقہ کے لیے فلسطین کا نام استعمال ہونے لگا۔

فلسطین کی جانب یہودیوں کی ہجرت:

تقریباً ۳۰۰ سال قبل از مسیح بنی اسرائیل حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ مصر سے نکلے اور شام کے راستہ سے ہوتے ہوئے سرزمین قدس کی جانب چل پڑے۔ ادھر حضرت موسیٰ نے اصرار کیا کہ بیت المقدس میں داخل ہو جائیں۔

یٰقَوْمِ ادْخُلُوا الْاَرْضَ المُقَدَّسَۃَ الَّتِیْ کَتَبَ اللّٰہُ لَکُمْ وَلاَ تَرْتَدُّوْا عَلٰی اَدْبَارِکُمْ فَتَنْقَلِبُوا خٰسِرِیْنَo

ترجمہ: ’’اے میری قوم! اس ارضِ مقدس میں داخل ہو جائو جسے اﷲ نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے اور میدان سے الٹے پائوں نہ پلٹ جائو کہ خسارہ والوں میں سے ہو جائو گے‘‘۔ (المائدۃ:۲۱)

لیکن بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ کی نافرمانی کی کیونکہ وہ لوگ ’’عمالقہ‘‘ سے الجھنا اور جنگ کرنا نہیں چاہتے تھے جو کہ اس سرزمین پر رہتے تھے۔ لہٰذا انہوں نے حضرت موسیٰ اور ہارون علیہم السلام سے کہا:

قَالُوْا یَا مُوسٰی اِنَّا لَن نَّدْخُلَہَا اَبَدًا مَّا دَامُوْا فِیْہَا فَاذْہَبْ اَنْتَ وَ رَبُّکَ فَقَاتِلا اِنَّا ہٰہُنَا قَاعِدُوْنَo

ترجمہ: ’’ان لوگوں نے کہا کہ موسیٰ ہم ہرگز وہاں داخل نہ ہوں گے جب تک وہ لوگ وہاں ہیں۔ آپ اپنے پروردگار کے ساتھ جاکر جنگ کیجیے ہم یہاں بیٹھے ہوئے ہیں‘‘۔ (المائدۃ:۲۴)

اسی نافرمانی کی وجہ سے چالیس سال تک ان لوگوں پر اس شہر میں داخلہ حرام کر دیا گیا۔ ارشاد ہوتا ہے:

قَالَ فَاِنَّہَا مُحَرَّمَۃٌ عَلَیْْہِمْ اَرْبَعِیْنَ سَنَۃً یَتِیْہُوْنَ فِی الْاَرْضِ فَلاَ تَاْسَ عَلَی الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَo

ترجمہ: ارشاد ہوا کہ اب ان پر چالیس سال حرام کر دیے گئے کہ یہ زمین میں چکر لگاتے رہیں گے لہٰذا تم اس قوم پر افسوس نہ کرو‘‘۔ (المائدۃ:۲۶)

یکے بعد دیگر حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون نے اس دنیاے فانی سے کوچ کیا اور ان کی قوم ۴۰ سال تک تیہ کے بیابان میں سرگرداں رہی۔ اس دوران پرانی نسل کا خاتمہ ہو گیا اور نئی نسل وجود میں آگئی جس کی سربراہی یوشع بن نون کے ہاتھ میں تھی۔ انہوں نے نئی نسل کو بیت المقدس میں داخل ہونے پر اکسایا۔ مقدس سرزمین میں داخل ہوتے وقت ’’اریحا‘‘ کے مقام پر ’’عمالقہ‘‘ کے ساتھ ان کی جھڑپ ہوئی اور ان کو شکست دینے کے بعد وہ لوگ ’’قدس‘‘ میں داخل ہو گئے۔

یوشع بن نون کی وفات کے بعد حضرت طالوت اور ان کے بعد حضرت دائودؑ نے ۴۰ سال تک ان کی سربراہی کی اور ان کے بعد حضرت سلیمانؑ حاکم ہوئے۔ حضرت سلیمانؑ کے بعد فلسطین دو حصوں میں تقسیم ہو گیا۔

۱۔ جنوب میں یہودا جس کا دارالخلافہ ’’یروشلم‘‘ تھا۔

۲۔ شمال میں اسرائیل جس کا مرکز ’’شکیم‘‘ تھا۔

بنابریں حضرت دائودؑ نہ مملکتِ اسرائیل کے بانی تھے اور نہ ہی انہوں نے سب سے پہلے یروشلم کو دارالخلافہ قرار دیا اور نہ ہی مسجد الاقصیٰ کی تعمیر آپؑ کے ہاتھوں سے ہوئی بلکہ اسلامی روایتوں‘ تاریخی شواہد اور آیاتِ قرآنی سے معلوم ہوتا ہے کہ بیت المقدس حضرت موسیٰؑ کے زمانے سے موجود تھا۔

مسلمانوں کے ہاتھوں فلسطین کی فتح:

رسولِ اکرمؐ کی وفات کے بعد خلیفۂ اول نے شام (جس میں موجودہ شام اور فلسطین شامل تھا) کی جانب لشکر روانہ کیا جو کہ رومیوں کے قبضہ میں تھا۔ اس لشکر کے سپہ سالار اسامہ بن زید تھے جنہوں نے کافی دور تک پیش قدمی کی اور اردن کے نزدیک پہنچ گئے لیکن مدینہ میں مسلمانوں کے درمیان اختلاف پیدا ہونے کی وجہ سے یہ لشکر واپس بلا لیا گیا۔

بالآخر خلیفۂ دوم کی خلافت کے زمانہ میں بیت المقدس کے رہنے والوں اور خلیفۂ دوم کے درمیان ایک معاہدے کے ذریعہ بیت المقدس پر مسلمانوں کا قبضہ ہو گیا۔ حضرت عمر بن خطابؓ نے وہاں کے شہریوں کے مطالبہ پر حکم دیا کہ کسی یہودی کو بیت المقدس میں رہنے کا حق نہیں ہو گا۔ اس کے مقابلے میں وہاں کے عیسائیوں نے جزیہ دینا قبول کیا۔

فلسطین پر مکمل قبضہ کے بعد کئی عرب قبائل وہاں پر سکونت پذیر ہو گئے۔ غیر عرب لوگ بتدریج عرب قبائل میں ضم ہو گئے اور کچھ ہی عرصہ کے بعد یہ خطہ مکمل طور پر ایک عرب علاقہ میں تبدیل ہو گیا۔ امویوں کے زمانہ میں فلسطین‘ دمشق کے تابع ہوا۔ اس زمانہ کے باقی ماندہ تعمیراتی آثار میں سے ایک ’’قبۃ الصخرہ‘‘ ہے جسے عبدالملک بن مروان کے حکم پر ۷۰ھ میں تعمیر کیا گیا۔ عباسی دور میں فلسطین‘ عراقی حکومت کے ماتحت رہا اور بنو عباس اور بنو امیہ کے درمیان ایک جنگ بھی اس علاقہ میں لڑی گئی جس میں عباسیوں کو فتح حاصل ہوئی۔

فاطمیوں کی خلافت کے دوران یہ علاقہ مصر کا حصہ بنا۔ اگرچہ سلجوقی حکومت (۲) کا دائرہ ایشیاے صغیر‘ شام اور فلسطین تک پھیل گیا تھا اور قدس پر ان کا قبضہ بھی رہا لیکن کچھ ہی عرصہ بعد دوبارہ فاطمیوں نے قدس پر اپنا قبضہ بحال کر لیا۔ بعد میں صلیبی لشکر نے قدس پر قبضہ کرنے میں کامیابی حاصل کر لی۔

فلسطین‘ صلیبی جنگوں کے دوران:

۴۷۶ھ (۱۰۹۷ء) میں یورپی پادریوں کے اُکسانے پر تقریباً ڈیڑھ لاکھ عیسائی یورپ کے مختلف شہروں سے جمع ہوئے اور فلسطین کی جانب چل پڑے تاکہ اپنے عقیدہ کے مطابق حضرت عیسیٰؑ کی قبر کو مسلمانوں سے چھین لیں(۲)۔ اس لشکر نے اپنے راستہ میں آنے والی کئی مسلمان شہروں کو تباہ و برباد کر دیا۔ چونکہ سلجوقیوں کے ساتھ جنگ کی وجہ سے فاطمیوں کی طاقت میں کافی حد تک کمی آگئی تھی‘ اس لیے وہ عیسائیوں کا مقابلہ نہ کر سکے جس کے نتیجہ میں ۴۷۸ھ (۱۰۹۹ء) میں بیت المقدس عیسائیوں کے قبضہ میں چلا گیا۔ بالآخر ۶۷۰ھ (۱۲۹۱ء) میں مسلمانوں کی کامیابی کے ساتھ صلیبی جنگیں اپنے اختتام کو پہنچیں۔ صلیبی جنگوں کے خاتمہ کے بعد دسویں صدی ہجری کی ابتدا تک یہ ملک مصری سلطنت کا حصہ تھا۔

فلسطین‘ عثمانی دور میں:

۹۲۳ھ (۱۵۱۷ء) میں جب عثمانی ترکوں نے مصر پر قبضہ کیا تو فلسطین بھی عثمانی سلطنت میں شامل ہو گیا اور تقریباً چار سو سال تک یہ علاقہ عثمانی سلطنت کا ایک غیراہم حصہ شمار ہوتا رہا۔ اٹھارہویں صدی عیسوی کے آخر میں نپولین نے اس علاقہ پر حملہ کیا۔ بتدریج فلسطین پر سے عثمانی کنٹرول کم ہوتا چلا گیا اور عثمانی سلطان کی جانب سے منصوب مصری حاکموں نے (جو خود کو خدیو کہلواتے تھے)‘ فلسطین کا انتظام اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔ اسلام کے ظہور کے بعد کی فلسطین کی تاریخ اس بات کا ثبوت ہے کہ فلسطین ایک اسلامی اور عرب سرزمین رہی ہے اور یہودیوں کے اس دعویٰ کی نفی کرتی ہے کہ یہ سرزمین یہودیوں سے متعلق ہے۔

صیہونزم کی پیدائش:

صیہونزم کا لفظ ’’صیہون‘‘ یا ’’صیون‘‘ سے ماخوذ ہے جس کے معنی خشک پہاڑی ہے۔ یہ قدس شہر کے جنوب مغرب میں واقع ایک پہاڑی کا نام ہے جس میں مختلف قسم کی مذہبی اور تاریخی عمارتیں واقع ہیں۔ یہودیوں کے بعض افسانوں میں بیان کیا گیا ہے کہ یہودی قوم کا نجات دہندہ اس پہاڑی سے ظاہر ہونے کے بعد ان کی عظیم طاقت کو پوری دنیا پر پھیلا دے گا۔

صیہونزم کی پیدائش کی تاریخ:

بعض کتابوں کے مطابق ۱۸۹۷ء میں سوئٹزرلینڈ کے شہر ’’بال‘‘ میں منعقد ہونے والی کانفرنس میں صیہونیت کی ابتدا ہوئی جب کہ باقاعدہ طور پر سیاست کی دنیا میں اس لفظ کی آمد سے بہت پہلے ہی عملی طور پر صیہونیت کی بنیاد رکھ دی گئی تھی اور بال کانفرنس صرف صیہونزم کی سرگرمیوں کا علی الاعلان آغاز شمار ہوتا ہے۔ اگرچہ صیہونزم کے بعض مظاہر انیسویں صدی کے اواخر میں نظر آتے ہیں لیکن ان کی سرگرمیوں کی جڑیں کٹی سو سال پہلے حتیٰ کہ یہودیوں کی تاریخ میں بھی نظر آتی ہیں۔

بے شک گذشتہ دور میں صیہونیت اور صیہونی کی اصطلاح موجودہ دور کی صورت میں نہیں تھی لیکن صیہونیوں کی خصوصیات‘ ان کی صفات اور مقاصد کو دیکھا جائے تو اس کی تاریخی حیثیت آشکار ہو جاتی ہے۔ مثال کے طور پر دسویں صدی عیسوی کے بعض یہودی رہنمائوں کی تحریروں سے معلوم ہوتا ہے کہ ’’ارضِ موعود‘‘ سے ان کا لگائو کس قدر شدید ہے۔ چھٹی صدی ہجری (بارہویں صدی عیسوی) میں ’’قومِ خزران‘‘ (۳) کے درمیان ایک تحریک ’’مسیحِ موعود‘‘ کے نام سے شروع ہوئی جو کہ فلسطین کی تسخیر کے لیے ایک اور صلیبی جنگ شروع کروانے میں ناکام رہی۔

فلسطین کی جانب ہجرت کرنے سے پہلے یہودیوں کے پاس خود کوئی مستقل سرزمین نہیں تھی اور وہ دوسری قوموں کے درمیان منتشر ہو کر پوری دنیا میں زندگی گزار رہے تھے۔ اسی وجہ سے وہ لوگ دوسری قوموں‘ خاص طور پر عیسائیوں کی جانب سے ظلم و ستم کا شکار بنے رہتے تھے کیونکہ ان دونوں گروہوں کی دشمنی بہت قدیم اور دیرینہ تھی۔

یہودیوں کا اظہارِ مظلومیت:

صیہونزم کی تاریخ کے مطالعہ کے دوران جو عجیب بات دیکھنے میں آتی ہے وہ ’’یہود آزاری‘‘ ہے۔ یہودی تاریخ میں ہمیشہ سے ایسے عناصر موجود رہے ہیں جو یہودی ہونے کے باوجود اپنے وطن میں ایسی حرکتیں کرتے رہے ہیں جس سے یہود آزاری کا شور شرابا کیا جا سکے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ صیہونی گروہ اس بات کی ضرورت کو شدت سے محسوس کرتے تھے کہ بے خبر یہودی عوام کو اُکسانے کے لیے یہ مظلوم نمائی بہت ضروری ہے۔ ویل ڈیورانٹ اپنی کتاب ’’تاریخِ تمدن‘‘ میں لکھتا ہے:

’’عیسائی اسپین میں عقیدہ کی بنا پر یہودیوں کو گرفتار اور تشدد کرنے والے عقائد کی تفتیش کے گروپ‘ غالباً خود یہودیوں ہی کے ماتحت تھے‘‘۔

اس پالیسی سے ان کا مقصد یہ تھا کہ یہودی عوام پر دبائو بڑھا کر اور مظلوم بنا کر معاشرہ کو انقلاب کی جانب دھکیلا جائے اور پھر اس فضا سے خود فائدہ اٹھایا جائے۔

اپنی مظلومیت کو ثابت کرنے کے لیے صیہونیوں نے بعض واقعات کا سہارا لیا ہے:

۱۔ اسپین سے یہودیوں کا اخراج: ۱۴۹۲ء میں متعصب کیتھولک بادشاہوں نے بہت سے یہودیوں کو اسپین سے نکال دیا۔ اس سے پہلے وہ لوگ برطانیہ اور فرانس میں خانماں برباد تھے۔

۲۔ پولینڈ میں یہودیوں کا قتل عام: ۱۶۴۸ء میں تین لاکھ یہودی پولینڈ کے قزاقوں کے ہاتھوں قتلِ عام کا شکار ہوئے۔

۳۔ روس میں یہود مخالف تحریک: ۱۸۸۲ء میں زارِ روس‘ الگزینڈر دوم‘ کے یہودی دہشت گردوں کے ہاتھوں قتل کے بعد اس کے بیٹے اور جانشین الگزینڈر سوم نے اپنے باپ کا انتقام لینے کے لیے یہود مخالف تحریک شروع کر دی جس میں یہودیوں کا قتلِ عام کیا گیا اور بڑے سانحے پیش آئے۔ اس ماجرے کے بعد یہودی جوق در جوق امریکا اور فلسطین چلے گئے۔

۴۔ ’’ڈریفوس‘‘ کا واقعہ: یہ فرانسیسی فوج کا ایک افسر تھا جس پر جرمنی کے لیے جاسوسی کے الزام میں گرفتار کر کے مقدمہ چلایا گیا اور پھر سزا کے طور پر اسے ایک جزیرہ میں جلاوطن کر دیا گیا۔ بعد میں اس کی بے گناہی ثابت ہو گئی(۴)۔ یہ واقعہ صیہونی رہنمائوں خصوصاً تھیوڈور ہرٹزل کے لیے بہانہ بن گیا کہ اب ہمیں ’’ملتِ واحد‘‘ تشکیل دینی چاہیے۔

۵۔ جرمنی میں ’’یہود کشی‘‘: موجودہ تاریخ کا ایک اہم واقعہ دوسری جنگِ عظیم کے دوران نازیوں کے ہاتھوں ’’یہود کشی‘‘ کی تحریک ہے۔ اکثر محققین کے نزدیک جرمنی میں قتل ہونے والے یہودیوں کے اعداد و شمار جعلی ہیں اور صیہونیوں نے اس واقعہ کو اپنے حق میں استعمال کرنے کے لیے یہ حرکت کی تھی۔ ہٹلر کے اس اقدام کو صیہونیوں کی حمایت حاصل تھی۔ ’’توطئہ کمیونزم و سرمایہ داری علیہ بشریت‘‘ نامی کتاب کے مصنف کے خیال میں ہٹلر کی حمایت سے صیہونیوں کا مقصد جرمنی سے یہودیوں کو نکالنا اور اسرائیل کی تشکیل کے لیے انہیں فلسطین کی جانب ہجرت کرنے پر تشویق دلانا تھا۔ چنانچہ ہٹلر نے ان کی ہجرت کے لیے تمام وسائل فراہم کیے۔ اس طرح سے صیہونیوں نے ’’مظلوم نمائی‘‘ کی نقاب کے پیچھے اپنا انسانیت مخالف مکروہ چہرہ چھپا لیا‘ انہوں نے شکوہ و شکایت اور یہودیوں کے خون کے انتقام کا نعرہ لگا کر یہ ظاہر کیا کہ چونکہ یہودیوں کے پاس دنیا میں کوئی مرکز نہیں ہے‘ اس لیے اس کا حل تلاش کیا جائے۔ مثال کے طور پر ’’ڈیوڈ بن گوریان‘‘ (جو بعد میں اسرائیل کا وزیراعظم بنا) نے واضح الفاظ میں یہ اعتراف کیا ہے کہ ۱۹۴۸ء میں اس نے اپنے ایجنٹوں کے ذریعہ بغداد کے یہودیوں کی عبادت گاہ (کنیسا) میں دھماکہ کروایا تاکہ یہ ثابت کر سکے کہ عراق میں یہودی مشکلات کا شکار ہیں۔

فلسطین کی اسٹراٹیجکل اہمیت اور استعمار کی لالچ:

سامراجیوں نے انیسویں صدی میں ہی اس سرزمین کی اہمیت کی وجہ سے اس پر کنٹرول کرنے کی سازشیں کرنا شروع کر دی تھیں۔ ’’نپولین بونا پارٹ‘‘ نے مشرقی سلطنت کے قیام اور علاقہ میں برطانیہ کے رسوخ کا مقابلہ کرنے کے لیے فلسطین کے علاقہ میں اپنی ماتحت ایک یہودی حکومت کے قیام اور فلسطین پر حملہ کرنے کے لیے یورپ اور ایشیا کے یہودیوں کو اپنے لشکر میں بھرتی کرنا شروع کیا تھا۔

۱۸۲۷ء میں ایک برطانوی یہودی نے فلسطین میں یہودیوں کی آبادی اور بحرِ روم کے ساحلوں کو خلیج فارس سے ملانے کے لیے یافا سے خلیجِ فارس تک پٹڑی بچھانے کی تجویز پیش کی اور برطانیہ نے ۱۸۳۸ء میں بیت المقدس میں پہلا یورپی قونصل خانہ قائم کیا۔

انیسویں صدی کے دوسرے نصف میں نہرِ سوئز کے کھل جانے‘ برطانیہ کی جانب سے مصر پر قبضہ‘ عثمانی سلطنت کی ٹوٹ پھوٹ اور برطانیہ‘ فرانس‘ جرمنی اور روس کے درمیان استعماری رقابت کی وجہ سے اس خطہ کو خاصی اہمیت حاصل ہو گئی تھی۔ برطانیہ‘ فرانس‘ ہالینڈ‘ بلجیم‘ پرتگال‘ اسپین اور اٹلی نے جرمنی کے روز افزوں اثر و رسوخ کے خطرے کو محسوس کرتے ہوئے ۱۹۰۷ء میں ایک نشست ترتیب دی جس میں وہ اس نتیجہ پر پہنچے کہ اگر جرمنی نے بحرِ روم کے ساحلی علاقوں پر قبضہ کر لیا تو یہ ان ممالک کے لیے بڑا خطرہ ثابت ہو گا اور ان کے نوآبادیاتی علاقہ یکے بعد دیگرے ان کے ہاتھوں سے نکلتے چلے جائیں گے۔ اس کانفرنس میں تجویز پیش کی گئی کہ اس مسلمان علاقہ کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے۔

عالمی صیہونی تنظیم کے اقدامات:

فلسطین پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے صیہونیوں نے برطانیہ کے ساتھ منصوبہ بندی شروع کر دی۔ مسلمانوں کے درمیان اس سرطانی غدود کی پیدائش میں موثر کردار ادا کرنے والے ایک یہودی کا نام ’’تیوڈور ہرٹزل‘‘ ہے۔ وہ ’’بڈاپسٹ‘‘ کا رہنے والا ایک صحافی تھا۔ ’’روجے گارودی‘‘ کے مطابق ہرٹزل خدا اور مذہب دونوں کا منکر تھا۔ حتیٰ کہ وہ ان لوگوں کا بھی شدید مخالف تھا جو یہودیت کو ایک مذہب سمجھتے تھے۔ وہ بقول خود ’’ڈریفوس‘‘ کے واقعہ سے سخت متاثر ہوا اور اس نے ’’یہودی حکومت‘‘ کے نام سے ایک کتاب لکھی اور یہودیوں سے مطالبہ کیا کہ یہودی وطن کے قیام کے لیے کوششیں کریں۔

ہرٹزل کے اُکسانے پر کچھ یہودی سوئٹزرلینڈ کے شہر ’’بال‘‘ میں جمع ہوئے اور انہوں نے ایک کانفرنس میں ’’عالمی صیہونی تنظیم‘‘ کی بنیاد رکھی۔ ہرٹزل اس کانفرنس کے نتائج کے بارے میں لکھتا ہے:

’’اگر ہم چاہیں کہ بال کانفرنس کے نتیجہ کو ایک جملہ میں بیان کیا جائے کہ جسے میں ہرگز فاش نہیں کروں گا تو صرف یہ کہوں گا کہ میں نے بال میں یہودی حکومت کی بنیاد رکھ دی‘‘۔

صیہونیوں کی سرگرم ڈپلومیسی:

صیہونیوں نے مختلف اور متضاد سیاسی افکار رکھنے والی حکومتوں سے مذاکرات شروع کیے اور ان کے ساتھ تعاون کرنے کا وعدہ کر کے مدد کا مطالبہ کیا۔ اس کام میں ’’ہرٹزل‘‘ نے سرگرم کردار ادا کیا اور ایک سال کے دوران سات یورپی حکومتوں سے رابطہ کیا اور ان سے وعدہ کیا کہ اگر وہ ان کے ساتھ تعاون کریں تو صیہونی تنظیم ان کے مفادات کا تحفظ کرے گی۔

ہرٹزل‘ جرمنی اور عثمانی حکومتوں کو فلسطین کی جانب یہودیوں کی نقل مکانی پر راضی نہ کر سکا جس کے جواب میں انہوں نے عثمانی سلطنت کے خلاف بڑے پیمانے پر پروپیگنڈہ مہم شروع کر دی۔

اگرچہ ہرٹزل‘ عثمانی اور جرمن حکمرانوں کی حمایت حاصل نہ کر سکا لیکن اس نے سازشیں اور سامراجی حکومتوں کے ساتھ مذاکرات جاری رکھے۔ چنانچہ وہ برطانیہ پہنچا اور کچھ کامیابیاں بھی حاصل کیں۔

اس کی وجہ یہ تھی کہ ایشیائی نوآبادیوں پر کنٹرول قائم رکھنے کے لیے برطانیہ‘ مشرقِ وسطیٰ کی اہمیت سے پوری طرح آگاہ تھا (اور وہاں یہودی غلبے کو اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے بہتر سمجھتا تھا)۔

ادھر یہودیوں کو ایک وطن کی تلاش تھی اور فلسطین کے علاوہ یوگنڈا‘ قبرص‘ تریپولی (لیبیا) اور ارجنٹائن کی سرزمین بھی ان کی نگاہ میں تھی لیکن فلسطین کی اسٹراٹیجک اہمیت کی وجہ سے برطانوی بادشاہت نے اس حساس علاقہ پر اپنا کنٹرول قائم رکھنے کے لیے یہودی طاقت سے فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کر لیا۔

فلسطین پر قبضہ کے لیے برطانوی اقدامات

برطانوی کابینہ کی منظوری:

برطانیہ نے پہلی جنگِ عظیم کے آغاز کے ساتھ ہی فلسطین کے معاملہ میں اہم کردار ادا کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ ’’ہربرٹ سیموئیل‘‘ (برطانوی حکومت کا یہودی اور صیہونی وزیر) نے ۱۹۱۵ء میں برطانوی کابینہ کے سامنے ایک بل پیش کیا جس میں فلسطین پر برطانوی تسلط پر زور دیا گیا تھا‘ اس کی اساس فلسطین کو یہودی مملکت بنانے پر تھی۔ چنانچہ اس نے اس سرزمین پر یہودیوں کی آبادکاری اور ان کی خودمختاری کا بھی مطالبہ کیا تھا۔

عثمانی خلافت میں تفرقہ اندازی:

جب پہلی جنگِ عظیم میں عثمانی حکومت نے جرمنی کی حمایت کی تو برطانیہ نے امیر مکہ ’’شریف حسین‘‘ کی دل جوئی کی اور عربوں کو اپنی حمایت پر اُکسایا۔ اس منصوبہ کے مطابق اگر عرب‘ عثمانی ترکوں کے خلاف تحریک چلائیں تو برطانیہ کو دنیاے اسلام کی خلافت کو عربوں میں منتقل کرنے اور انہیں عثمانی ترکوں سے نجات دلانے میں ان کی حمایت کرنا تھی۔ برطانیہ کا ہدف یہ تھا کہ علاقہ میں ترک افواج کو کمزور کرتے ہوئے نہرِ سوئز پر سے دبائو کو کم کیا جائے اور عراقی تیل کی دولت کو خطرے سے بچایا جائے۔ اس کے علاوہ اس کا مقصد یہ بھی تھا کہ مسلمانوں کے اتحاد کی روک تھام کرے اور عثمانی حکمران کے جہاد کے فتویٰ کو غیرموثر کر دے۔

امریکی صیہونیوں کو فلسطین میں ملوث کرنا:

برطانوی حکومت کا ایک اور اقدام امریکی صیہونیوں کو فلسطین کے معاملہ میں کھینچنا تھا۔ برطانیہ کی کوشش تھی کہ جرمنی سربراہی میں اتحادیوں کو شکست دینے کے لیے کسی طرح امریکا کو بھی میدانِ جنگ میں لے آئے۔

اس مقصد کے لیے برطانیہ نے امریکی حکومت میں اثر و رسوخ رکھنے والے امریکی صیہونیوں سے فائدہ اٹھایا۔ اس سیاسی لین دین میں برطانیہ نے وعدہ کیا کہ وہ یہودی حکومت کی تشکیل کے لیے صیہونیوں کی اس دیرینہ آرزو کی حمایت کرے گا۔ بالآخر اس وقت کے برطانوی وزیرِ خارجہ ’’لارڈ بالفور‘‘ نے درج ذیل اعلان کیا جس میں صیہونی درخواست پر برطانوی دلچسپی کا اظہار کیا گیا تھا:

’’عزیزم لارڈ روچیلڈ! انتہائی مسرت کے ساتھ برطانوی شہنشاہی حکومت کی جانب سے مکمل صراحت کے ساتھ درجِ ذیل وعدہ آپ تک پہنچاتا ہوں۔ یہ وعدہ یہودی صیہونی جماعت کی اس درخواست کا جواب ہے جو اس وزارت کو ملی ہے اور اس سے موافقت کی گئی ہے۔ برطانوی شہنشاہی حکومت‘ فلسطین میں یہودیوں کے قومی وطن کی تشکیل میں مخصوص نظرِ عنایت رکھتی ہے اور مستقبل میں اس ہدف تک پہنچنے اور اس کے وسائل کی فراہمی میں پوری کوشش کرے گی۔ یہ بھی واضح رہے کہ کوئی ایسا کام نہ کیا جائے جس سے غیریہودی فلسطینیوں کے اجتماعی اور مذہبی حقوق اور تمام ممالک میں یہودیوں کے سیاسی حقوق اور امتیازات کو نقصان پہنچے‘‘۔

’’بالفور اعلان‘‘ کے شائع ہونے کے بعد عربوں خصوصاً امیر مکہ شریف حسین نے سخت ردِعمل کا اظہار کیا لیکن برطانوی حکومت نے اپنی مکارانہ سیاست اور جھوٹے وعدے کے ذریعہ ان کے غیظ و غضب کو ٹھنڈا کر دیا۔ تاہم برطانیہ نے سامراجی حکومتوں اور مغربی سرمایہ داری نظام کے نمائندہ کی حیثیت سے اپنے اقدامات کے ذریعہ عرب دنیا اور عالمِ اسلام کے قلب میں اسرائیلی حکومت کے قیام کے ابتدائی امکانات بھی فراہم کیے۔

(بشکریہ: سالانہ ’’القدس‘‘ کراچی۔ شمارہ: ۲۰۰۶ء)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*