Abd Add
 

فلسطینیوں میں مصالحت: کیا واقعی ایسا ہوسکتا ہے؟

جو لوگ فلسطینی دھڑوں کا اتحاد چاہتے ہیں اور خواہش رکھتے ہیں کہ گزری ہوئی باتوں کو بھول کر مستقبل پر نظر رکھی جائے، ان کے دل خوشی سے جھوم رہے ہیں۔ ۲؍اپریل کو حماس کے سیاسی ونگ کے سربراہ خالد مشعل نے دوسری بار تنظیم کا سربراہ ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ وہ حماس (جو غزہ کی پٹی پر حکمران ہے) اور مغربی کنارے پر متصرف الفتح گروپ کے درمیان امن معاہدے کے لیے کوشاں رہے ہیں۔ جب خالد مشعل کے دوبارہ انتخاب کے حوالے سے پولنگ ہو رہی تھی تب اسرائیل کی سخت نگرانی میں دریائے اردن کے مغربی کنارے کے شہروں کا نظم و نسق چلانے والی فلسطینی اتھارٹی کے ٹیکنوکریٹ وزیر اعظم سلام فیاض کے پیٹ میں مروڑ اٹھا اور انہیں ہسپتال جانا پڑا۔

جو مغربی قوتیں سلام فیاض کی حمایت کرتی ہیں، ان کی طرف سے انتباہ ہے کہ اگر انہوں نے حماس اور دیگر فلسطینی دھڑوں کے ساتھ مل کر متحدہ حکومت بنانے کی کوشش کی تو امداد روک دی جائے۔ اور امداد کے بغیر فلسطینی اتھارٹی کے لیے اپنا وجود برقرار رکھنا انتہائی دشوار ہو جائے گا۔ دوسری طرف حماس اس حوالے سے مخمصے میں مبتلا رہی ہے کہ اگر فلسطینی دھڑوں نے مل کر حکومت بنائی تو سلام فیاض کے لیے وزیر اعظم کے منصب پر رہنا انتہائی دشوار، بلکہ ناممکن ہو جائے گا۔ اسی صورت اس حکومت کی راہ میں حائل دیوار گر سکتی ہے جس میں حماس بھی نمایاں طور پر شامل ہو۔

خالد مشعل کے دوبارہ انتخاب نے فلسطینی دھڑوں میں اتحاد اور اشتراکِ عمل کی بنیادیں فراہم کی ہیں اور اب لوگ خاصے پرامید دکھائی دے رہے ہیں۔ خالد مشعل نے کئی سال ان عناصر سے مقابلہ کیا ہے جو چاہتے ہیں کہ دریائے اردن کے مغربی کنارے کے شہروں پر متصرف فلسطینی اتھارٹی (الفتح گروپ) کی کمزور اور عمر رسیدہ قیادت سے بات نہ کی جائے اور تمام فلسطینی علاقوں پر جابرانہ انداز سے حکومت کی جائے۔ خالد مشعل نے مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں حماس کی ساٹھ رکنی مشاورتی کونسل میں حماس کے وزیر اعظم اسمٰعیل ہانیہ کو شکست دے کر حماس کی سربراہی برقرار رکھی۔ ترکی، قطر اور مصر نے فلسطینی دھڑوں کے اتحاد سے متعلق خالد مشعل کی سفارتی کوششوں کو سراہا ہے اور وہ اس بات کی قدر کرتے ہیں کہ خالد مشعل نے حماس کو ایران اور شام کے اثرات سے نکال کر سُنّی اسٹرانگ ہولڈ کی طرف لانے کی کوشش کی ہے۔ مصر میں اخوان المسلمون کے سربراہ محمد بدیعی نے خطبۂ استقبالیہ دیا جس میں انہوں نے واضح طور پر خالد مشعل کی حمایت کی اور انہیں سراہا۔

مغربی طاقتوں کو یقین ہے کہ خالد مشعل اب غزہ جاکر اپنے سخت گیر حریفوں کو رام یا زیر کرنے میں کامیاب ہوں گے۔ یہ بات بھولنی نہیں چاہیے کہ مسکراہٹوں کی پشت پر شدید نوع کے اختلافات ہیں۔ خالد مشعل کا تعلق غرب اردن سے ہے۔ انہوں نے معاہدے کے تحت قبول کیا ہے کہ غزہ میں اسمٰعیل ہانیہ ان کے نائب رہیں گے۔ خالد مشعل غرب اردن نہیں جاسکتے۔

خالد مشعل کے خیالات میں تبدیلی آتی رہی ہے۔ پہلے وہ کہتے تھے کہ ۱۹۶۷ء کی سرحدوں کے تحت فلسطینی ریاست قابل قبول ہوگی مگر بعد میں جب وہ ایک طویل مدت کے بعد غزہ پہنچے تو عوام سے خطاب میں کہا کہ فلسطینیوں کو پورے اسرائیل کی سرزمین دوبارہ حاصل کرنی چاہیے۔ حریفوں کو جواب دیتے دیتے خالد مشعل بھی سخت زبان استعمال کرنے لگے ہیں۔ مگر غزہ کی پٹی اور غزہ شہر میں عوام چاہتے ہیں کہ خالد مشعل کسی بھی معاملے میں سخت گیری کا مظاہرہ نہ کریں۔ ایک شخص کا تبصرہ یہ تھا کہ خالد مشعل کو آمر بننے کے بجائے سب کی رضامندی سے معاملات طے کرنے چاہئیں۔

غرب اردن میں فلسطینیوں کی مفاہمت اور مصالحت سلام فیاض کے رخصت ہونے سے بڑھ کر بھی کچھ چاہے گی۔ فتح کے سربراہ اور فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کو خدشہ ہے کہ اگر فلسطینی دھڑوں کے ایک ہونے کا مرحلہ آیا تو ان کا منصب بھی خطرے میں پڑ جائے گا۔ انہوں نے قطری حکام سے بات چیت کی ہے۔ قطر بظاہر اس بات کا خواہش مند ہے کہ عرب لیگ میں، شام کی اپوزیشن کی طرح، حماس کو بھی سیٹ دے دی جائے۔ محمود عباس کو یہ خوف بھی لاحق ہے کہ فلسطینی دھڑوں کے متحد ہونے کی صورت میں وہ امریکی حمایت سے بھی محروم ہو جائیں گی۔ امریکی وزیر خارجہ جان کیری فلسطینی ریاست کے قیام کا جائزہ لینے کے لیے خطے کا دورہ کرنے والے ہیں۔

(“Palestinian Reconciliation: Could it Really Happen?”… “The Economist”. April 4th, 2013)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.