سیاسی اسلام

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ، جو سیاسی اسلام کو جنم دینے والے دو تین مفکرین میں شمار ہوتے ہیں، اگر آج زندہ ہوتے تو اسلامی دنیا کا سفر کرتے ہوئے انہیں چند معمولی سے خوشگوار اور بہت سے انتہائی ناخوشگوار تجربات کا سامنا ہوتا۔ ان کے انتقال کے بعد آج پاکستان (بالخصوص افغانستان سے ملحق علاقوں میں) اُن کی قائم کردہ جماعتِ اسلامی ایک مٔوثر اور منظم سیاسی قوت ہے۔ بنگلہ دیش میں جماعتِ اسلامی کے رہنماؤں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ایک رہنما عبدالقادر مُلّا کو ۱۹۷۱ء میں بنگلہ دیش کے قیام (یا پاکستان کی شکست و ریخت) کی تحریک کے دوران مبینہ جنگی جرائم کے لیے پھانسی دی جاچکی ہے۔

اخوان المسلمون پر مولانا مودودی کی فکر کے اثرات نمایاں ہیں۔ مصر میں اخوان المسلمون غیر معمولی عروج دیکھنے کے بعد اب بحران سے دوچار ہے۔ اخوان سے تعلق رکھنے والے محمد مرسی کو ملک کا صدر منتخب کیا گیا، مگر ایک سال میں فوج نے ان کی حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ گزشتہ ماہ اخوان المسلمون کو دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا گیا اور اب اس کے حامی ملک کے مختلف حصوں میں سکیورٹی فورسز سے تصادم کی راہ پر ہیں۔ مولانا مودودی کی تحریروں سے سید قطب بے حد متاثر تھے۔ سید قطب کو ۱۹۶۶ء میں پھانسی دے دی گئی تھی۔ سید قطب کے فکر سے القاعدہ کے علاوہ اخوان المسلمون کے بطن سے پیدا ہونے والی ایسی بہت سی تنظیمیں متاثر ہوئیں، جو انتہا پسند نہیں تھیں۔

مغرب میں جنوبی ایشیا کے جو مسلمان آباد ہیں، ان میں سے بہتوں میں مولانا مودودی اور جماعتِ اسلامی کی وراثت بہت مضبوط ہے۔ مشرقی لندن میں سکونت پذیر بنگلہ دیشی باشندوں پر جماعتِ اسلامی کے اثرات بہت نمایاں ہیں۔ اور سچ تو یہ ہے کہ ایسے اثرات تو بنگلہ دیش میں بھی نہیں۔ انگلینڈ کے مڈلینڈز لیسٹر میں قائم تحقیقی ادارے ’’دی اسلامک فاؤنڈیشن‘‘ نے مولانا مودودی کی بہت سی تحریروں کے انگریزی تراجم برطانیہ میں سیاسی شعور کی بلند سطح رکھنے والے مسلمانوں تک پہنچائے ہیں۔ اس تنظیم نے جماعتِ اسلامی سے کسی بھی نوع کے ربط کی سختی سے تردید کی ہے اور اپنے آپ کو بین المذاہب مکالمے کا پارٹنر بتاتی ہے۔

مولانا مودودی نے بیسویں صدی کے دوران مسلمانوں کے سیاسی افکار پر دور رس اثرات مرتب کیے۔ ان کا استدلال تھا کہ اسلام اپنی خالص ترین اور انتہائی توانا شکل میں دورِ جدید کی زندگی، قوانین اور سیاست پر غیر معمولی حد تک اثر انداز ہونے اور اپنے پیرو کاروں کو بھرپور زندگی بسر کرنے میں مدد دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ مگر اب اپنے مداحوں سمیت بہتوں کی نظر میں مولانا مودودی عملی زندگی میں اطلاق کے لیے دیے گئے اصولوں کے خالق سے کہیں زیادہ محض ایک تاریخی شخصیت کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ رائے ’’اسکول آف اورینٹل اینڈ افریقن اسٹڈیز اِن بریٹن‘‘ کے لیکچرر اور مولانا مودودی کی زندگی اور اُن کے فکر پر کم و بیش پندرہ سال تحقیق کرنے والے جرمن اسکالر جان پیٹر ہارٹنگ کی ہے۔ ’’اے سسٹم آف لائف‘‘ میں جان پیٹر ہارٹنگ نے لکھا ہے کہ: ’’یہ مولانا مودودی ہی تھے جنہوں نے چند بنیادی الفاظ کو اسلام سے متعلق بحث میں مسلمانوں کے لیے بے حد مقبول بنادیا۔ جاہلیہ بھی ایک ایسا ہی لفظ ہے۔ یہ لفظ اسلام سے قبل کے دور کو پیش کرنے کے ساتھ ایسی حالت کی بھی نشاندہی کرتا ہے، جب کوئی مسلم معاشرہ اسلامی اصولوں کو ترک کرکے سیکولراِزم کو اپنا چکا ہو۔ مولانا مودودی کی فکر سے متاثر افراد اب ان کی اصطلاحات میں نئے مفاہیم تلاش کر رہے ہیں‘‘۔

مولانا مودودی کے سیاسی افکار پر یقین رکھنے والے کیسی اسلامی فلاحی ریاست قائم کرنا چاہتے ہیں، اِس کے بارے میں عمومی سطح پر کوئی رائے قائم کرنا انتہائی دشوار ہے۔ ان میں اعتدال پسند بھی ہیں، تھوڑے سے جبرکے ساتھ کام کرنے کا ارادہ رکھنے والے بھی ہیں اور ایسوں کی بھی کمی نہیں جو کسی بھی معاملے میں سمجھوتے پر یقین نہیں رکھتے اور اسلام کے اصولوں کو عملی زندگی پر منطبق کرنے کے معاملے میں انتہائی سخت رویہ رکھتے ہیں۔ کارل مارکس کے پیروکاروں کے حوالے سے بھی یہی کچھ کہا جاسکتا ہے۔ ان میں کچھ تو غیر معمولی حد تک اعتدال پسند تھے۔ کچھ نے تھوڑی سی سختی اپنانے پر زور دیا اور دیگر نے دنیا کو طبقات سے پاک معاشرے میں تبدیل کرنے کے معاملے میں طاقت کے بھرپور استعمال کی وکالت کی اور اس معاملے میں کوئی بھی سمجھوتا کرنے سے صاف انکار کیا۔

اب بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا ’’سیاسی اسلام‘‘ کے جن کو دوبارہ بوتل میں بند کیا جاسکتا ہے؟ جہاں کہیں اسلام کے حوالے سے مضبوط اور مستحکم سیاسی افکار پائے جاتے ہیں، وہاں طاقت کا بے محابا استعمال انتہائی منفی نتائج پیدا کرنے کا سبب بنا ہے۔ اس معاملے میں مصر کی مثال بہت نمایاں ہے۔ سید قطب کو پھانسی دینے سے ان کی مقبولیت کم نہیں کی جاسکی، بلکہ سچ تو یہ ہے کہ اسلام کو عملی زندگی میں نافذ کرنے کے حوالے سے اعتدال پسند اور انتہا پسند ہر دو طرح کے رویے رکھنے والوں میں ان کی مقبولیت بڑھ گئی۔ آج ۴۸ سال بعد بھی ان کی علمی اور سیاسی قامت کو گھٹایا نہیں جاسکا۔ امریکی ریاست نیویارک کے علاقے بفیلو میں پُرسُکون طبعی موت کو گلے لگانے والے مولانا مودودیؒ کو آج (سید قطب کے مقابلے میں) کم یاد کیا جاتا ہے۔

اگر بنگلہ دیش میں جماعتِ اسلامی کی پوری قیادت یا مصر میں اخوان المسلمون کی پوری قیادت کو موت کی سزا دے دی جائے تو اِس کے نتائج انتہائی بھیانک نکلیں گے۔

(“Political Islam: A movement in motion”… “The Economist”. Jan. 3, 2014)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*