ایک طاقتور ایران خطے کے مفاد میں ہے!

واشنگٹن پوسٹ کو ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کا انٹرویو

گذشتہ ہفتے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ۶۱ ویں اجلاس میں شرکت کی غرض سے ایرانی صدر احمد نژاد نے امریکا کا دورہ کیا۔ اس موقع پر واشنگٹن پوسٹ نے ان سے نیویارک میں ایک انٹرویو کیا جو اس کے ۲۴ ستمبر کے شمارے میں شائع ہوا ذیل میں اس کا اقتباس دیا جارہا ہے۔


س: کیا آپ کے خیال میں امریکا سے تعلقات معمول پر لانا ایران کے بہترین مفاد میں نہیں ہوگا؟

ج: ہم ہر کسی سے مذاکرات اور گفت و شنید میں دلچسپی رکھتے ہیں ہمارے خیال میں دھمکیوں اور تصادم کے بجائے مذاکرات کا راستہ بہت بہتر ہے۔ہم اس وقت بہت سارے ممالک سے گفتگو کررہے ہیں اور میں نے پہلے بھی کہا کہ امریکا گفتگو سے مستثنیٰ نہیں ہے لیکن امریکی انتظامیہ بلکہ امریکی انتظامیہ کا ایک حصہ گفتگو کے لیے صحیح ماحول پیدا نہیں ہونے دے رہا ہے اور تعمیری مذاکرات کے امکانات کو ختم کرنے پر تلا رہتا ہے۔

س: آپ آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں کو واپس کیوں نہیں آنے دیتے جبکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے گزشتہ موسم گرما میں اس کا مطالبہ بھی کیا تھا؟

ج: سلامتی کونسل کی اس میں مداخلت دراصل غیر قانونی ہے۔ ہم آئی اے ای اے کے فریم ورک کے تحت کام کررہے ہیں اور کیمرے ہمارے تنصیبات کی جگہ پر نصب ہیں۔ کیا آپ برائے مہربانی مجھے ایک بھی رپورٹ آئی اے ای اے کی امریکا کی جوہری تنصیبات کے حوالے سے بتاسکتے ہیں؟

س: آج کے حزب اللہ لبنان سے متعلق آپ کا تجزیہ کیاہے ۔ جنگ کا کیا نتیجہ رہا؟

ج: ہر ایک نے یہی کہا کہ لبنان کے خلاف اسرائیلی حکومت کا حملہ پہلے سے تیار کردہ منصوبہ کے تحت تھا۔ اب سوال یہ ہے کہ وہ جہاز جس نے لبنان کو مسطح کردیا اور وہ لیزر بم جو لبنان پر برسائے گئے وہ آئے کہاں سے ؟کس نے صہونیوں کو یہ اسلحے فراہم فراہم کیے؟ ابتداء میں کون جنگ بندی میں حائل ہوا میرا خیال ہے امریکی انتظامیہ کے ایک حصے کو اپنی مشرق وسطیٰ کی پالیسی پر نظرثانی کرنی چاہیے۔ اُنہیں اِس خیال میں مبتلا نہیں رہنا چاہیے کہ وہ مشرق وسطیٰ کے مسائل کو جنگ کے ذریعہ حل کرلیں گے۔

س: گزشتہ ہفتے آپ کی عراقی وزیراعظم کے ساتھ ملاقات میں عراق میں استحکام کے حوالے سے کوئی حل سامنے آیا؟

ج: صدام ایک بدترین شخص تھا اس میں کوئی شک نہیں اگرچہ آٹھ سالہ ایران عراق جنگ کے دوران اُس کی حمایت امریکا کے سیاست دان کررہے تھے پھر بھی اس کے جانے سے ہمیں خوشی ہوئی۔ یہ ایک ایسا موقع تھا امریکا کے لیے کہ وہ خطے کے عوام کے ساتھ اپنے تعلقات بہتر کرتا۔ لیکن اُس نے یہ موقع ضائع کردیا۔ امریکیوں نے عراق پر قبضہ کرنے کا فیصلہ تیل اور اپنے مفادات کے حصول کے لیے کیا۔ عراقی قوم کی جڑیں مضبوط ہیں یہ ایک قدیم اور مہذب تمدن کی حامل ہے۔ یہ زیر تسلط رہنا قبول نہیں کرسکتی ہے۔ اس بات کو قبول نہیں کرسکتی کہ اس کے حکام کو روزانہ امریکی حکام حکم دیں کہ اسے کیا کرنا ہے۔ گزشتہ سالوں میں لاکھوں عراقی عوام قتل کیے گئے۔ صورتحال اس سے بھی بدتر ہے جتنی کہ صدام کے دور میں تھی۔ عراق میں ہر کوئی ناخوش ہے۔ عراق میں اب ایک حکومت ہے جو عوامی ووٹ کے نتیجے میں برسراقتدر آئی ہے۔ اس ملک کا اپنا ایک آئین بھی ہے اور پارلیمنٹ بھی۔ اب اُنہیں ملک کا انتظام چلانے دیں۔ ہماری پالیسی عراقی حکومت کی حمایت کرنا ہے تاکہ اس ملک میں امن و استحکام قائم ہو۔

س: ایسا معلوم ہوتا ہے کہ شیعہ اکثریت عراق میں ایک مضبوط قوت کے ساتھ ابھری ہے کیا یہ ایران کے نقطہ نظر سے ایک خوش آئند بات ہے؟

ج: ہم پوری عراقی قوم کے دوست ہیں۔ ہمار قوم عراق قوم کا ہی توسیع شدہ خاندان ہے۔ ہم امریکی سیاستدانوں کی مانند نہیں ہیں جولوگوں میں پھوٹ ڈالتے اور انہیں باہم توڑتے ہیں۔

س: وزیراعظم نور المالکی نے کہا ہے کہ ان کی سب سے اہم ذمہ داری ملیشیا کو قابو میں کرناہے کیا آپ ملیشیاقابو میں کرنے میں مالکی کی مدد کریں گے؟

ج: جناب مالکی ہمارے دوست ہیں۔ ہم دونوں ممالک بہت قریب ہیں۔ جو ملک عراق میں بدامنی کی وجہ سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے وہ ہمارا ملک ہے۔ خطے میں ہر کوئی یہ کہتا ہے کہ اب ایران ایک طاقتور ترین ملک ہے یعنی یہ کہ امریکی جارحیت کا یہ نتیجہ نکلا ہے کہ ایران اتنا طاقتور ہوگیاہے جتنا کہ اس پہلے کبھی نہیں تھا۔

س: کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ایران کا ایک طاقتور ملک ہونا ایک مسئلہ ہے؟ کیا آپ اس کا یہ نتیجہ نکال رہے ہیں کہ امریکا وہاں ایران کو مضبوط کرنے کے لیے گیا؟ نہیں؟ لیکن کیا آپ نہیں سوچتے ہیں کہ حتمی نتیجہ اس کایہی ہے؟

ج: ایران ایک طاقتور ملک ہے۔ ایک طاقتور ایران خطے کے لیے فائدہ مند ہے اس لیے کہ ایران ایک ایسا ملک ہے جو گہری ثقافت کا حامل ہے اوریہ ہمیشہ ایک پرامن ملک رہا ہے۔ اگر امریکیوں نے شاہ کو مسلط نہ کیا ہوتا ایران اس سے کہیں زیادہ طاقتور ملک ہوتا۔

س: آپ نے ہالوکاسٹ کے متعلق بیانات دیے جس میں یہ کہا ہے کہ ممکن ہے اس میں مبالغہ آرائی سے کام لیاگیا ہو۔ کیا یہ آپ کا خیال ہے؟

ج: تعداد کی یہاں اہمیت نہیں ہے۔ ایک بہت ہی بنیادی سوال ہے۔جب ہم تحقیق کاروں کو آزادی سے تحقیق کرنے کی اجازت دیتے ہیں تو تحقیق کاروں کو یہ حق کیوں نہیں حاصل ہے کہ وہ اس کی بھی تاریخ کی تحقیق کریں ۔ ہم پیش نظر رکھیں کہ چھ کروڑ لوگ دوسر جنگ عظیم کے نتیجے میں ہلاک ہوگئے۔ لہٰذا ہم ہر ایک چیز کو اس کے سیاق و سباق میں رکھ کر اس کی مزید تحقیق کی اجازت دیں۔ ہمیں معلوم ہے کہ یہ ایک تاریخی واقعہ ہے جو رونما ہوا ہے۔ لیکن ایسا کیوں ہے کہ جو لوگ اس کے متعلق سوال اٹھاتے ہیں حتی کہ ادنیٰ ترین مفہوم میں بھی انہیں تعذیب کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور اُن پر حملہ کیا جاتا ہے۔

س: کیا یورینیم کی افزدوگی معطل کرنے سے متعلق کوئی قدم اُٹھانے کا آپ کا ارادہ ہے؟

ج: ہمارا خیال ہے کہ امریکی سیاستدانوں کو اپنا رویہ تبدیل کرنا چاہیے۔ اگروہ یہ سمجھتے ہیں کہ ایران کو دھمکیاں دے کر وہ نتیجہ حاصل کرلیں گے تو یہ غلط ہے۔ میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ ایران سے تعلقات کس نے منقطع کیے؟ یہ امریکی حکومت تھی۔ کس نے صدام کے ساتھ مل کر ہم پر جنگ مسلط کی؟ لہٰذا وہ کون ہے جس کو مثبت اشارہ دینا ہے؟ ہم یا امریکی حکومت؟

س: آپ اپنے لیے امریکا سے کیا چاہتے ہیں اور اس کے بدلے آپ امریکا کے لیے کیا کریں گے؟

ج: میں نے ایک بہت ہی تفصیلی اور سوچا سمجھا خط صدر بش کو بھیجا۔ میں سچ مچ اس میں مخلص ہوں جب میں یہ کہتا ہوں کہ مجھے امید تھی کہ صدر بش اپنا طرز عمل اور رویہ بدلیں گے اس سے ہم خوش نہیں ہوتے ہیں جب دنیا کے چاروں طرف بش کے خلاف لوگوں کے جذبات میں روزانہ اضافہ ہوتا ہے۔ اس کو الٹا پھیرا جاسکتا ہے۔ یہ بعض امریکی سیاستدانوں کا رویہ اور سوچ ہے جو چیزوں کو برباد کررہی ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ وہ ایران کو وہاں واپس لے جائیں جہاں وہ انقلاب سے پہلے تھا یعنی شاہ کے دور میں جبکہ واقعی یہ امریکا کاایک کٹھ پتلی ملک تھا۔ وہ دور اب تاریخ بن چکا ہے۔ اب وہ دور کبھی واپس نہیں آئے گا۔ ایرانی قوم اب ایک آزاد اور خود مختار قوم ہے‘ ایک منتخب حکومت‘ پارلیمنٹ اور آئین کے ساتھ۔

(بشکریہ: ’’واشنگٹن پوسٹ‘‘)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*