’’ امریکی سامراجی! گھر جاؤ! ‘‘

اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں وینزویلا کے صدر ہیوگو شاویز کی تقریر کا متن

سب سے پہلے‘ تمام احترامات کے ساتھ‘ امریکا اور دنیا بھر کے ممتاز ترین دانشوروں میں سے ایک‘ نوم چومسکی کی کتاب کا مطالعہ کرنے کی بھرپور سفارش کروں گا۔ ان کی تازہ ترین کتاب ’’بالا دستی یا بقا۔۔۔ عالمی تسلط کے لیے امریکا کی ہوس‘‘ (Hegemony or Survival: America’s Quest for Global Dominance) (یعنی امریکا سلطنت کا منصوبہ)۔ یہ ایک عمدہ کام ہے جس کے مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ بیسویں صدی کے دوران دنیا میں کیا ہوا‘ اب کیا ہو رہا ہے اور کرۂ ارض کو سب سے بڑا خطرہ کس چیز سے لاحق ہے۔ شمالی امریکا کے سامراج کی بالادستی کے عزائم نسلِ انسانی کی بقا کے لیے خطرہ بن گئے ہیں۔

ہم اس خطرے سے مسلسل خبردار کر رہے ہیں اور امریکی عوام اور دنیا سے کہہ رہے ہیں کہ وہ اس خطرے کو‘ جو ان کے اوپر تلوار کی طرح لٹک رہا ہے‘ روکیں۔ میں نے سوچا تھا کہ اس کتاب کے کچھ اقتباسات پڑھ کر سناؤں گا لیکن وقت کی قلت کے پیشِ نظر میں صرف اس کے مطالعے کی سفارش پر اکتفا کروں گا۔ اس کی زبان آسان ہے۔ یہ بہت ہی اچھی کتاب ہے۔ محترمہ! مجھے یقین ہے کہ آپ اس کتاب (کی خوبیوں) سے واقف ہوں گی۔ (تالیاں) یہ کتاب انگریزی‘ روسی‘ عربی اور جرمن زبانوں میں دستیاب ہے۔

میرا خیال ہے کہ سب سے پہلے اس کتاب کا مطالعہ ہمارے امریکی بھائیوں اور بہنوں کو کرنا چاہیے کیونکہ خطرے کی جڑ انہی کے گھر میں ہے۔ شیطان۔۔۔ جی ہاں خود شیطان ان کے گھر میں بیٹھا ہے اور وہی شیطان کل یہاں بھی آیا تھا۔ (تالیاں) کل شیطان یہاں آیا تھا‘ بالکل یہاں اور وہ میز جس کے سامنے میں کھڑا ہوں اس سے آج بھی گندھک کی بدبو آرہی ہے۔ خواتین و حضرات! کل اس روسٹرم پر امریکا کا صدر آیا تھا‘ جسے میں شیطان کہہ رہا ہوں اور وہ اس طرح بات کر رہا تھا جیسے وہ دنیا کا مالک ہو۔ جی ہاں! دنیا کے مالک کی طرح (بول رہا تھا)۔ میرا خیال ہے کہ ہمیں امریکی صدر کی گذشتہ روز کی تقریر کے تجزیے کے لیے کسی ماہرِ نفسیات کو بلانا چاہیے۔ سامراجیت بتانے کے لیے آئے جن کا مقصد تسلط‘ استحصال اور دنیا بھر کے عوام کی لوٹ کھسوٹ پر مبنی موجودہ نظام کو برقرار رکھنا ہے۔

الفرڈ ہچکاک کی کوئی فلم اس موضوع پر بن سکتی ہے۔ میں اس فلم کا نام ’’شیطانی نسخے‘‘ تجویز کروں گا۔

نوم چومسکی واضح اور تفصیل سے کہتے ہیں کہ امریکی سلطنت اپنی بالادستی کے نظام کی مضبوطی کے لیے ہر ممکن حربے آزما رہی ہے لیکن ہم انہیں ایسا نہیں کرنے دیں گے۔ ہم عالمی آمریت کو مضبوط نہیں ہونے دیں گے۔

وہ کہتے ہیں کہ وہ ایک جمہوری ماڈل نافذ کرنا چاہتے ہیں لیکن ان کا جمہوری ماڈل اشرافیہ کی جعلی جمہوریت پر مبنی ہے اور میں کہوں گا کہ یہ ایسی جمہوریت ہے جو مہلک ہتھیاروں‘ بموں اور فائرنگ کے زور پر نافذ کی جارہی ہے۔

یہ کتنی عجیب جمہوریت ہے‘ ارسطو یا وہ تمام دانشور جنہوں نے اس کی بنیادوں کا تعین کیا‘ اس جمہوریت کو نہیں پہچان پائیں گے۔ یہ کیسی جمہوریت ہے جسے تم میرینز اور بموں کے ذریعہ مسلط کرتے ہو؟

امریکی صدر نے گذشتہ روز اسی کمرے اور اسی جگہ پر کھڑے ہو کر ہم سے کہا ’’آپ کہیں بھی دیکھیں آپ کو انتہا پسند یہ کہتے نظر آئیں گے کہ آپ تشدد‘ دہشت گردی اور شہادت کے ذریعے غربت سے نجات حاصل کر سکتے اور اپنا کھویا ہوا وقار بحال کر سکتے ہیں‘‘۔ وہ جس طرف بھی دیکھتے ہیں انہیں انتہا پسند ہی نظر آتے ہیں اور میرے بھائی! وہ آپ کا رنگ دیکھ کر کہنا شروع کر دیتے ہیں کہ دیکھو وہ انتہا پسند ہے۔ بولیویا کے محترم صدر ایووماریلیز بھی انہیں انتہا پسند نظر آتے ہیں۔

سامراجیوں کو ہر جگہ انتہا پسند نظر آتے ہیں۔ ایسی بات نہیں ہے کہ ہم سب انتہا پسند ہوں۔ اصل بات یہ ہے کہ دنیا بیدار ہو رہی ہے۔ ہر طرف بیداری کی لہر ہے اور لوگ اٹھ رہے ہیں۔

پیارے عالمی ڈکٹیٹر صاحب! میرا احساس ہے کہ آپ اپنی زندگی کے باقی ماندہ دن بھیانک خواب دیکھتے ہوئے گزاریں گے‘ اس لیے کہ ہم سب کھڑے ہو رہے ہیں‘ وہ تمام لوگ جو امریکی سامراج کے خلاف اٹھ رہے ہیں‘ وہ مساوات اور اقوام کی خود مختاری کا نعرہ لگا رہے ہیں۔

جی ہاں! آپ ہمیں انتہا پسند کہہ سکتے ہیں لیکن ہم ایک شہنشاہیت اور تسلط کے ایک ماڈل کے خلاف کھڑے ہو رہے ہیں۔

پھر (امریکی) صدر نے۔۔۔ جی ہاں! انہوں نے خود کہا ’’میں براہِ راست مشرقِ وسطیٰ کے لوگوں سے یہ کہنے آیا ہوں کہ میرا ملک امن چاہتا ہے‘‘۔

انہوں نے سچ کہا‘ اگر ہم برانکس کی شاہراہوں پر چلیں‘ اگر ہم نیو یارک‘ واشنگٹن‘ سان ڈیاگو‘ کسی بھی شہر مثلاً سان انٹونیو اور سان فرانسسکو میں چلتے پھرتے ہوئے کسی بھی امریکی شہری سے پوچھیں کہ یہ ملک کیا چاہتا ہے؟ کیا وہ امن کا خواہاں ہے؟ تو وہ کہیں گے کہ ہاں۔

لیکن حکومت امن نہیں چاہتی۔ امریکی حکومت امن نہیں چاہتی‘ وہ اپنے استحصالی نظام‘ لوگوں کو لوٹنے اور ان پر مسلط ہونے کا نظام جنگ کے ذریعے چاہتی ہے۔

وہ امن چاہتی ہے‘ لیکن عراق میں کیا ہو رہا ہے؟ لبنان میں کیا ہوا؟ فلسطین میں کیا ہوا؟ وہاں کیا کچھ ہو رہا ہے؟ گذشتہ سو برسوں میں لاطینی امریکا اور دنیا میں کیا ہوتا رہا؟ اور اب وینزویلا کو دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ وینزویلا اور ایران کو نت نئی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔

انہوں نے لبنان کے عوام سے بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ آپ میں سے بہت سے لوگوں نے دیکھا کہ کس طرح آپ کے گھر اور آبادیاں کراس فائرنگ کی زد میں آئیں۔ آپ کس قدر سنکی ہو گئے؟ شرم کے مارے جھوٹ بولنے کی بھی کوئی حد ہونی چاہیے!!

یہ سامراجی‘ فاشسٹ‘ قاتل‘ قتلِ عام کرنے والی سلطنت (امریکا) اور اسرائیل ہی تھا جس نے فلسطینی اور لبنانی عوام کو گولیوں کا نشانہ بنایا۔ وہاں یہ ظلم ہوا اور اب ہم یہ سن رہے ہیں کہ ’’ہمیں تکلیف ہے کیونکہ ہم نے گھروں کو تباہ ہوتے دیکھا‘‘۔

امریکی صدر لوگوں سے‘ دنیا کی اقوام سے بات کرنے آئے وہ یہ سب کچھ کہنے کے لیے آئے۔ میں اپنے ہمراہ کچھ دستاویز لایا تھا‘ آج صبح میں کچھ بیانات پڑھ رہا تھا اور میں نے دیکھا کہ انہوں نے افغانستان‘ لبنان اور ایران کے عوام کو مخاطب کر کے کچھ کہا۔ انہوں نے ان اقوام سے براہِ راست بات کی۔ آپ حیران ہوں گے کہ امریکا کے صدر نے دنیا کی جن اقوام کے ساتھ بات کی‘ اگر انہیں اس فورم سے بولنے کی اجازت مل جائے تو وہ ان سے کیا کہیں گے؟ انہیں کیا کہنا چاہیے؟ مجھے کچھ اندازہ ہے کہ جنوب کے مظلوم لوگ کیا کہیں گے۔ وہ کہیں گے ’’امریکی سامراجی! گھر جاؤ‘‘ اگر ان لوگوں کو مائیکرو فون دے دیا جائے اور انہیں بیک آواز بولنے کی اجازت دی جائے تو وہ امریکی سامراجیوں سے یہی کہیں گے۔

محترمہ صدر! یہی وجہ ہے کہ میرے رفقائے کار اور دوست گذشتہ برس بھی اس چھوٹے سے ہال میں آئے تھے اور ہم گذشتہ آٹھ برسوں سے یہاں آرہے ہیں اور ہم نے یہاں آکر جو کچھ کہا اب اس کی تصدیق ہو چکی ہے‘ مکمل اور کامل طور پر تصدیق ہو چکی ہے۔

میرا خیال ہے کہ اس ہال میں موجود کوئی بھی اس نظام کا دفاع نہیں کرے گا۔ آئیں اس بات کو تسلیم کر لیں‘ آئیں ایمانداری کا مظاہرہ کریں۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد اقوامِ متحدہ کا جو نظام قائم کیا گیا تھا‘ وہ زمین بوس ہو چکا ہے‘ یہ کسی کام کا نہیں۔

ہاں‘ اس نظام کی بدولت ہم ہر سال یہاں جمع ضرور ہو جاتے ہیں‘ ایک دوسرے کو دیکھ لیتے ہیں‘ تقریریں کرتے ہیں اور لمبی لمبی دستاویزات تیار کرتے ہیں۔ اس دوران ہم اچھی اچھی تقریریں بھی سنتے ہیں جیسے گذشتہ روز یہاں ایووزیالولا کے صدر نے تقریر کی۔ یہ واقعی اچھی تقریر تھی۔ اس کے علاوہ بھی کئی تقاریر ہوئیں۔ ہم نے سری لنکا کے صدر اور چلی کے صدر سے بہت کچھ سنا۔

لیکن ہم اور یہ اسمبلی فقط اظہارِ خیال تک محدود ہو گئی ہے۔ ہمارے پاس کوئی اختیار نہیں۔ ہمارے پاس دنیا کی خوفناک صورتحال پر اثرانداز ہونے کا کوئی اختیار نہیں‘ اسی لیے وینزویلا آج ۲۰ ستمبر کو ایک بار پھر تجویز پیش کرتا ہے کہ اقوامِ متحدہ کی تنظیمِ نو کی جائے۔

محترمہ صدر! گذشتہ برس ہم نے وہ چار تجاویز پیش کیں جنہیں ہم انتہائی اہم سمجھتے تھے۔ ہمیں یہ ذمہ داری سنبھالنی چاہیے‘ ہمارے سربراہانِ مملکت‘ ہمارے سفیروں اور ہمارے نمائندگان کو اس پر بحث و تمحیص کرنی چاہیے۔

پہلی چیز اس کی توسیع ہے اور لولا نے کل یہیں پر اس کے بارے میں بات کی تھی۔ سلامتی کونسل میں توسیع ہونی چاہیے اور یہ توسیع اس کے مستقل اور غیرمستقل دونوں ارکان میں کی جانی چاہیے۔ یہ پہلا قدم ہو گا۔ دوسری چیز عالمی تضادات سے موثر اور شفاف طریقے سے نمٹنا ہے۔

تیسرا نکتہ فوری طور پر دبا دینے سے متعلق ہے۔ ہر شخص اس کے بارے میں بات کر رہا ہے۔ یہ غیرجمہوری طریقِ کار ہے جسے ویٹو کا نام دیا جاتا ہے‘ یہ ویٹو سلامتی کونسل کے فیصلوں کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے۔

مجھے ایک تازہ ترین مثال دینے دیجیے۔ امریکی ویٹو نے اسرائیل کو لبنان تباہ کرنے کی کھلی چھٹی دے دی۔ ہم سب کے سامنے‘ جب ہم کھڑے دیکھ رہے تھے‘ سلامتی کونسل میں ایک قرارداد کو منظور نہ ہونے دیا گیا۔

چوتھا نکتہ یہ ہے کہ ہمیں مضبوط بننا ہو گا۔ جیسا کہ ہم ہمیشہ کہتے رہے ہیں اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے اختیارات اور ان کا رول مضبوط ہونا چاہیے۔

سیکرٹری جنرل (کوفی عنان) نے کل عملاً اپنی الوداعی تقریر کی اور انہوں نے تسلیم کیا کہ گذشتہ دس برسوں کے دوران معاملات پیچیدہ تر ہوئے۔ بھوک‘ غربت‘ تشدد اور حقوقِ انسانی کی خلاف ورزیوں کی صورتحال ابتر ہوئی۔ یہ سب کچھ اقوامِ متحدہ کے نظام کی ناکامی اور امریکی بالادستی کے عزائم کا نتیجہ ہے۔ مادام صدر! وینزویلا نے چند برس قبل عالمی ادارے کی حیثیت کو قبول کرتے ہوئے یہ جنگ اقوامِ متحدہ کے اندر لڑنے کا فیصلہ کیا اور ہم نے اس کا رُکن ہونے کے ناطے اس تک اپنی آواز اور سوچ پہچانا شروع کی۔ ہماری آواز ایک آزاد آواز ہے جو عزت و وقار کے ساتھ آزادی کی تلاش اور بین الاقوا می نظام کی ازسرِ نو تشکیل کی نمائندگی کرتی اور کرۂ ارض پر روا رکھی جانے والی بالادست قوتوں کی جارحیت اور ظلم و جبر کی مذمت کرتی چلی آرہی ہے۔ وینزویلا نے اپنے آپ کو اس شکل میں پیش کیا۔ بولیوار کے وطن نے سلامتی کونسل میں ایک غیرمستقل نشست کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ سامراج سچ سے خوفزدہ ہے‘ وہ آزاد آوازوں سے ڈرتا ہے‘ وہ ہمیں انتہا پسند کہتا ہے حالانکہ وہ خود انتہا پسند ہے۔ میں ان تمام ممالک کا شکر گزار ہوں جنہوں نے ازرہ لطف وینزویلا کی حمایت کا اعلان کیا ہے حالانکہ جب سے سامراج کھلم کھلا حملہ آور ہوا ہے‘ اس نے کئی ممالک کے حوصلے بلند کر دیے ہیں اور ایسی اقوام کی حمایت ہمیں بھی مضبوط بنا رہی ہے۔ مرکوسر (Mercosur) بلاک کے بھائیوں نے ہماری حمایت کی ہے۔ وینزویلا دیگر ممالک برازیل‘ ارجنٹائن‘ پیراگوئے اور یوراگوئے کی طرح مرکوسر بلاک کا مکمل رکن ہے۔ اس کے علاوہ لاطینی امریکا کے متعدد دیگر ممالک اور بولیویا نے وینزویلا کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔ پوری عرب لیگ نے بھی ہماری حمایت میں آواز اٹھائی ہے۔ میں عرب دنیا‘ اپنے عرب بھائیوں اور افریقی یونین کا تہہ دل سے شکرگزار ہوں۔ تقریباً پورے افریقہ اور روس و چین جیسے ممالک نے وینزویلا کی حمایت کی ہے۔ میں وینزویلا‘ اپنے عوام اور سچ کی طرف سے آپ سب کا پورے جوش و جذبے سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ سچ کی طرف سے اس لیے کہ وینزویلا کو سلامتی کونسل میں نشست ملنے سے وہ نہ صرف اپنے ملک بلکہ دنیا بھر کے لوگوں کی آواز بن جائے گا اور صداقت و وقار کا دفاع کرے گا۔ مادام صدر! ان تمام چیزوں سے بالاتر ہو کر میرا خیال ہے کہ پُرامید ہونے کی کچھ اور وجوہات بھی ہیں۔ ایک شاعر اسے ’’مجبور اُمید‘‘ کا نام دے گا کیونکہ جنگوں‘ بموں کی برسات‘ جارحانہ اور پیشگی حملوں اور تمام لوگوں کی تباہی و بربادی میں اسے ایک نئے عہد کی صبح کے آثار نظر آتے ہیں۔ سلووراڈرگز کا کہنا ہے کہ یہ عہد ایک دل کو جنم دے رہا ہے۔ سوچ کی متبادل راہیں نکل رہی ہیں۔ نوجوانوں کی سوچ یکسر مختلف ہے۔ ان رویوں کا مشاہدہ فقط ایک عشرے سے بھی کم مدت کے دوران پہلے ہی کیا جاچکا ہے۔ یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ ’’اختتامِ تاریخ‘‘ کا مفروضہ بالکل غلط تھا اور پاکس امریکانا اور سرمایہ دارانہ نو آزاد دنیا (Capitalist neo-liberal world) کے قیام کے بارے میں بھی اصل حقیقت کا اظہار ہو چکا ہے۔ یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ یہ نظام غربت کو پروان چڑھاتا ہے۔ آج اس نظام کو کون تسلیم کرے گا؟ اب ہمیں دنیا کے مستقبل کا تعین کرنے کی ضرورت ہے۔ ہر طرف صبح اُمید کے طلوع کا چرچا ہے۔ آپ افریقہ‘ یورپ‘ لاطینی امریکا اور اوسینیا میں اس کا نظارہ کر سکتے ہیں۔ میں بھی اسی بااُمید وژن کی اہمیت اجاگر کرنا چاہتا ہوں۔ ہمیں اپنے آپ کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے‘ ہمیں اپنے شعور کو قوی اور سچ کے لیے لڑنے کا حوصلہ بلند کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں ایک نئی اور بہتر دنیا کی تعمیر کرنی ہے۔ وینزویلا اس جدوجہد میں شامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ امریکا پہلے ہی وینزویلا میں فوجی بغاوت کی منصوبہ بندی کر چکا ہے‘ اس نے اس مقصد کے لیے فنڈز فراہم کر دیے ہیں اور وہ مسلسل اس کی حمایت کر رہا ہے۔ وہ دیگر مقامات پر بھی یہی کھیل کھیلنا چاہتا ہے۔ صدر مچل بیچلٹ نے چند ہی لمحے قبل ہمیں سابق وزیرِ خارجہ اور لینڈو لیٹلیئر کے بھیانک قتل کے بارے میں بتایا۔ میں اس میں صرف ایک چیز کا اضافہ کروں گا کہ جن لوگوں نے اس جرم کا ارتکاب کیا وہ آزادی سے گھوم پھر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک اور واردات جس میں ایک امریکی شہری کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا‘ اس میں خود امریکی ملوث تھے۔ وہ سی آئی اے کے قاتل اور دہشت گرد تھے۔ آج اس ہال میں بیٹھ کر ہمیں چند روز بعد آنے والی ایک اور برسی کی یاد بھی تازہ کرنی چاہیے۔ تیس برس قبل کیوبا کی ایئرلائن کے ایک مسافر بردار طیارے کو بھیانک دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا جس میں ۷۳ بے گناہ شہری ہلاک ہو گئے۔ اس براعظم کا وہ سب سے بڑا دہشت گرد کہاں ہے جس نے طیارہ تباہ کرنے کی ذمہ داری قبول کی تھی؟ اس نے چند برس وینزویلا کی جیل میں گزارے۔ سی آئی اے اور اس وقت کی (امریکی) حکومت نے اس کے فرار ہونے میں مدد دی‘ آج وہ اسی ملک میں رہتا ہے اور حکومت نے اسے تحفظ دے رکھا ہے۔ اس پر مقدمہ چلایا گیا تھا اور اس نے اپنے جرم کا اعتراف بھی کر لیا تھا لیکن کیا کیا جائے کہ امریکی حکومت کے دہرے معیارات ہیں۔ جب وہ چاہتی ہے دہشت گردی کو بھی تحفظ فراہم کر دیتی ہے۔ میں زور دے کر کہوں گا کہ وینزویلا دہشت گردی اور تشدد کے خلاف جنگ کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ ہم وہ قوم ہیں جو امن کے لیے لڑ رہے ہیں۔ جس دہشت گرد کو یہاں (امریکا میں) تحفظ دیا گیا ہے‘ اس کا نام لوئی پوسا دا کیریلیز ہے۔ وینزویلا سے بھاگنے والے کئی اور انتہائی کرپٹ افراد کو بھی یہاں تحفظ حاصل ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے سفارتخانوں پر بمباری کی اور بغاوت کے دوران لوگوں کو قتل کیا۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے مجھے اغوا کیا اور وہ مجھے قتل کرنا چاہتے تھے کہ خدا میری مدد کو پہنچا‘ لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور فوج بھی آگئی اور آج میں یہاں کھڑا ہوں۔ لیکن وہ لوگ جنہوں نے اس بغاوت کی سرپرستی کی وہ آج اس میں موجود ہیں اور امریکی حکومت نے انہیں تحفظ فراہم کر رکھا ہے۔ میں امریکی حکومت کو دہشت گردوں کے تحفظ اور ایک جنونی راستہ اختیار کرنے کا ذمہ دار سمجھتا ہوں۔ ہم نے کیوبا کا ذکر کیا۔ ہم چند روز پہلے وہاں تھے‘ ہم وہیں سے مسرت آمیز جذبات کے ساتھ یہاں آئے ہیں۔ وہاں آپ ایک اور عہد کی شروعات کا مشاہدہ کر سکتے ہیں۔ وہاں ۱۵ ملکی سربراہی اجلاس نے‘ غیروابستہ تحریک کے لیڈروں نے ایک تاریخی قرارداد کی منظوری دی ہے۔ یہ انتہائی اہم دستاویز ہے۔ فکر نہ کریں‘ میں اسے پڑھوں گا نہیں! آپ کے پاس یہاں وہ تمام قراردادیں موجود ہیں جو ۵۰ سربراہانِ مملکت کی کھلی بحث اور شفاف طریقے سے منظور کی گئیں۔ ہوانا چند ہفتوں کے لیے جنوب کا دارالحکومت رہا اور اب ہم نے غیروابستہ گروپ کو ایک بار پھر نئے ولولے کے ساتھ آگے بڑھایا ہے۔ میں آپ سب رفقا‘ اپنے بھائیوں اور بہنوں سے اگر کوئی درخواست کروں گا تو وہ یہ کہ غیروابستہ تحریک کو اپنی نیک خواہشات سے نوازیے تاکہ وہ ایک نئے عہد کا آغاز کرنے اور تسلط اور سامراجیت کی پیشرفت کا سدِباب کرنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کر سکے اور جیسا کہ آپ جانتے ہیں‘ فیدل کاسترو آئندہ تین برسوں تک غیروابستہ تحریک کے صدر رہیں گی۔ ہم ان پر اعتماد کر سکتے ہیں کہ وہ یہ ذمہ داری بہت ہی اچھے طریقے سے نبھائیں گے۔ بدقسمتی سے وہ سوچإ رہے تھے کہ ’’فیدل کاسترو مرنے والا ہے‘‘ لیکن انہیں مایوسی ہوئی کیونکہ وہ نہیں مرے۔ وہ نہ صرف زندہ ہیں بلکہ انہوں نے اپنا سبز لباس دوبارہ زیب تن کر لیا ہے اور اب وہ غیروابستہ تحریک کے صدر ہیں۔ مادام صدر اور میرے عزیز رفقا! ایک نئی اور مضبوط تحریک پیدا ہو چکی ہے جو جنوب کی تحریک ہے اور ہم خواتین اور مرد جنوب سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس دستاویز اور ان خیالات اور اس تنقید کے ساتھ میں اپنی فائل بن کر رہا ہوں۔ میں یہ کتاب بھی اپنے ساتھ لے جارہا ہوں۔ میری یہ بات فراموش نہ کیجیے گا کہ میں انتہائی جوش اور عاجزی سے آپ سب کو اس کے مطالعے کی درخواست کر رہا ہوں۔ ہمیں ایسے خیالات درکار ہیں جو ہماری زمین کو محفوظ رکھ سکیں‘ جو اسے سامراجی خطرے سے بچا سکیں۔ مجھے کامل یقین ہے کہ اسی صدی کے دوران‘ بہت جلد ہم ایک نیا عہد دیکھیں گے۔ ہمارے بچے اور ہمارے بچوں کے بچے ایک ایسی دنیا دیکھیں گے جن میں اقوامِ متحدہ کے بنیادی اصولوں کا دور دورہ ہو گا لیکن وہ اقوامِ متحدہ بھی نئی ہو گی۔ ہو سکتا ہے کہ ہمیں اس کا مقام بھی تبدیل کرنا پڑے‘ ہو سکتا ہے ہمیں اقوامِ متحدہ کو کسی دوسری جگہ لے جانا پڑے‘ ہو سکتا ہے کہ وہ جنوب کا کوئی شہر ہو۔ ہم نے اس کے لیے وینزویلا کی تجویز دی ہے۔ آپ کو معلوم ہے کہ میرے ذاتی ڈاکٹر کو جہاز میں روک لیا گیا ہے۔ میرے چیف آف سکیورٹی کو بھی جہاز میں بند کر دیا گیا ہے۔ ان میں سے کسی کو یہاں آنے اور اقوامِ متحدہ کے اجلاس میں شرکت کی اجازت نہیں دی گئی۔ یہ ایک اور خلاف ورزی ہے‘ یہ شیطان کی طرف سے اختیارات کا ایک اور غلط استعمال ہے‘ مجھے یہاں سے گندھک کی بدبو آرہی ہے۔ لیکن خدا ہمارے ساتھ ہے اور میں آپ سب کو سلام کرتا ہوں۔

خدا ہم سب پر رحم فرمائے۔ خدا حافظ!

(ترجمہ: ملک فیض بخش۔ بشکریہ: روزنامہ ’’دی نیشن‘‘)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*