Abd Add
 

تعمیرِ معاشرہ میں حائل مشکلات اور حل

دنیا بھر میں مسلمان معاشرے کی صالح خطوط پر تعمیر کے لیے بہت سے مخلص افراد کوشش کررہے ہیں۔ ہمارے ملک میں بھی یہ کوششیں جاری ہیں۔ ہر جگہ تعمیرِ نو کے اس کام میں متعدد دشواریاں حائل ہیں۔ ہمارے ملک کے سیاق میں درپیش بعض دشواریوں کا ذکر ایک تحریر میں کیا گیا ہے، جو اِس موضوع پر ہمیں موصول ہوئی ہے۔ زیرِ نظر سطور میں ان دشواریوں کے سلسلے میں گفتگو کی جائے گی۔

مغربی کلچر کے اثرات کا مسئلہ

مذکورہ تحریر میں کہا گیا ہے:

’’مسلم نوجوان (خواہ لڑکیاں ہوں یا لڑکے) مغربی تہذیب وثقافت کے زیرِاثر آتے جارہے ہیں۔ ان کا تعلق دین سے کمزور ہوتا جارہا ہے۔ طلبہ کی اسلامی تنظیموں کی مساعی سے اس فساد کا ازالہ نہیں ہوپارہا ہے۔ کچھ متعین تدابیر سامنے آنی چاہئیں، جنہیں اپنایا جائے اور (فساد پر قابو پانے میں) کامیابی حاصل کی جائے‘‘۔

مندرجہ بالا اقتباس میں مسلمان نوجوانوں پر مغربی کلچر کے مضر اثرات کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ یہ واقعہ ہے کہ اس کلچر نے نوجوانوں کے دین سے تعلق کو کمزور کردیا ہے۔ البتہ مسئلے کو اس کے صحیح تناظر میں دیکھنے کے لیے ہمیں مغربی تہذیب کی غیر معمولی اثر آفرینی کے اسباب کو سمجھنا ہوگا۔ اس تہذیب کے تین پہلو اس سلسلے میں قابلِ ذکر ہیں:

الف) افکار و نظریات
ب) ٹیکنالوجی اور فوجی طاقت اور
ج) اخلاقی حدود و قیود سے بڑی حد تک آزاد تفریحی سرگرمیاں

یہ تینوں پہلو مل جل کر ایک نوجوان کو مرعوب بھی کرتے ہیں اور مسحور بھی۔ ایک طرف اْس کا ذہن مغرب کی عقلی برتری کا قائل ہوجاتا ہے اور دوسری جانب مغربی ٹیکنالوجی کے تیز رفتار اور محیرالعقول مظاہر اس کو اپنی طرف کھینچتے ہیں اور نت نئے تفریحی مشاغل کے حصار میں وہ بخوشی گرفتار ہوجاتا ہے۔ مغربی کلچر کے مذکورہ تینوں پہلو مصلحین کی توجہ کے متقاضی ہیں۔ ان کے سلسلے میں ’’تجزیہ و ادراک اور عملی رویے‘‘ دونوں کا درست ہونا ضروری ہے۔

عموماً یہ خیال کیا جاتا ہے کہ مغربی فکر و فلسفے کا طلسم اب ٹوٹ چکا ہے اور مسلمانوں کے ذہن مغرب کے فکری اثرات سے آزاد ہوچکے ہیں۔ چنانچہ اس سلسلے میں اب کسی کاوش کی ضرورت نہیں۔ یہ تاثر ایک حد تک صحیح ہے لیکن دو حقائق ایسے ہیں جو مزید توجہ کے طالب ہیں:

(الف) مغرب کے فکری زوال کے باوجود مغربی فکر کی متبادل کوئی فکر اب تک عالمی علمی دنیا کو متاثر نہیں کرسکی ہے۔ مغربی تہذیب پر مسلمان علما و مفکرین کی تنقید نے مسلمانوں کو بلاشبہ متاثر کیا ہے اور مسلمانوں کے ذہنوں کو آزادی بھی دلائی ہے۔ لیکن آج کا عام غیر مسلم انسان مسلمان مفکرین کی ان تنقیدی کاوشوں سے عموماً ناواقف ہے۔ چنانچہ اس نے ان تنقیدوں کا کوئی اثر بھی قبول نہیں کیا ہے۔ اس امرِ واقعہ کا ادراک ہوجانے کے بعد مسلمان اہلِ دانش کے لیے لازم ہوجاتا ہے کہ وہ مغرب پر مدلل تنقید کو مسلمانوں کے حلقے تک محدود نہ رکھیں بلکہ غیر مسلم دنیا کو بھی اپنی تنقید سے واقف کرائیں اور مغربی فکر کے بودے پن کو ثابت کریں۔ دوسری طرف ان کے لیے یہ ضروری ہے کہ اسلامی فکر کو منظم انداز میں پیش کریں، تاکہ مغرب کے فکری زوال سے جو خلا پیدا ہوا ہے، اْس کو پْر کیا جاسکے۔ غیرمسلم دنیا کے سامنے اسلام کو مغرب کے باطل افکار کے لیے ایک چیلنج کے طور پر سامنے آنا چاہیے۔ اس مظہر کے نمودار ہونے سے قبل مسلمانوں کے ذہنوں سے مرعوبیت کو دور کرنا بہت دشوار ہے۔

(ب) دوسری حقیقت جس کا نوٹس لینا ضروری ہے، وہ یہ ہے کہ خواندگی کے فروغ اور تعلیم کی ترقی کے باوجود نوجوانوں میں سنجیدہ مطالعے کا رجحان بڑھا نہیں، بلکہ گھٹا ہے۔ چنانچہ اب مسلمانوں کی نئی نسل میں ایسے افراد کم ہیں جو مغربی افکار پر مسلمان علما و مفکرین کی تنقیدی تحریروں سے واقف ہوں۔ مختلف عوامل کی بنا پر عام مسلمانوں کا ذہن اسلام کے بارے میں شکوک و شبہات سے تو پاک ہوگیا ہے، لیکن اکثر صورتوں میں فضا کی یہ تبدیلی سنجیدہ علمی مطالعے کے نتیجے میں نہیں بلکہ دینی تحریکات کی عوامی مقبولیت کے نتیجے میں واقع ہوئی ہے۔ چنانچہ یہ ضروری ہے کہ مغربی فکر کے کھوکھلے پن سے مسلمان نوجوانوں کو واقف کرایا جائے۔ اگر وہ افتادِ طبع اور مصروفیات کی بنا پر مطالعے کی جانب راغب نہ ہوں تو ایسے اجتماعی پروگراموں اور مباحثوں کا نظم کیا جانا چاہیے، جہاں مغرب کے اساسی افکار زیرِ بحث آسکیں اور اْن کی غلطیاں نیز کمزوریاں واضح کی جاسکیں۔ اس طرح توقع ہے کہ ذہنوں پر چھائے ہوئے مرعوبیت کے بادل چھٹ سکیں گے۔

ٹیکنالوجی

سادہ الفاظ میں ٹیکنالوجی کا مقصد ’’کائنات کے وسائل کا مفید اور کارگر استعمال‘‘ ہے۔ پچھلی چند صدیوں میں ٹیکنالوجی کا ارتقا زیادہ تر مغربی دنیا میں ہوا۔ چنانچہ ’’مفید اور کارگر‘‘ کے معنی وہی سمجھے گئے، جو مغربی دنیا سمجھتی ہے۔ آج سے نصف صدی قبل جب ماحولیاتی بحران پیدا نہیں ہوا تھا، مغرب میں وسائلِ ارضی کے کارگر استعمال کے معنی ایسی ایجادات کے سمجھے جاتے تھے جو انسانی محنت و مشقت (Drudgery) کو کم کرسکیں اور مطلوبہ کام کو تیز رفتاری سے انجام دے سکیں۔ جب ماحولیاتی بحران پیدا ہوا اور قدرتی وسائل کی کمی کا مسئلہ سامنے آگیا تو مغرب نے مفید و کارگر ٹیکنالوجی کی تعریف میں ایک تیسری خصوصیت کا بھی اضافہ کیا یعنی وہ ٹیکنالوجی، ماحولیاتی بحران میں اضافے کا باعث نہ بنے اور نظامِ فطرت کے توازن کو متاثر نہ کرے۔ (ٹیکنالوجی کی تعریف میں یہ اضافہ ابھی صرف اصولی حد تک کیا گیا ہے۔ عملاً اس کے تقاضوں کا لحاظ نہیں رکھا جارہا ہے اور جب تک ٹیکنالوجی کا فروغ، بے لگام سرمایہ دارانہ نظام کے تحت ہوتا رہے گا، اس تیسری خصوصیت کی رعایت کی توقع کی بھی نہیں جاسکتی)۔

اسلامی نقطہ نظر کے مطابق ٹیکنالوجی کے اندر مذکورہ بالا تینوں اوصاف مطلوب ہیں۔ یعنی ٹیکنالوجی ایسی ہونی چاہیے جو انسانی محنت و مشقت کو کم کرے، کام کو تیز رفتاری کے ساتھ انجام دے اور قدرتی ماحول کے توازن کو برقرار رکھے۔ لیکن یہ اوصاف کافی نہیں ہیں بلکہ دو مزید خصوصیات بھی درکار ہیں:

(الف) ٹیکنالوجی کے فراہم کرنے کے لیے جو طریقے اختیار کیے جائیں، وہ اخلاقی حدود کے پابند ہوں اور
(ب) ٹیکنالوجی کا جو استعمال کیا جائے وہ بھی اخلاقی حدود کا پابند ہو۔

ان دونوں شرطوں سے آج کی دنیا ناواقف ہے۔ لیکن اسلامی مزاج کے لیے ان شرطوں کی پابندی ناگزیر ہے۔

اب یہ مسلمانوں کا کام ہے کہ دنیا کے سامنے مندرجہ بالا اصولوں کو پیش کریں۔ اصول کو پیش کرنے کے ساتھ مسلمانوں کو ان اخلاقی حدود کی نشاندہی اور تفصیلی وضاحت بھی کرنی ہوگی، جو ٹیکنالوجی کی فراہمی اور اس کے استعمال کے سلسلے میں اسلامی ہدایات، عقلِ انسانی اور اب تک کے تجربات سے ہماری سمجھ میں آتی ہیں۔

مسلمانوں کے دینی حلقوں میں جو موضوعات عموماً زیرِ بحث آتے ہیں، اْن میں ’’ٹیکنالوجی اور اخلاقی حدود‘‘ کا موضوع شاذ و نادر ہی شامل ہوتا ہے۔ ضرورت ہے کہ تیاری کے ساتھ اس موضوع کو زیرِ بحث لایا جائے اور نوجوانوں کو اس مباحثے میں شامل کیا جائے۔ یہ موضوع اْن کے لیے علمی و عملی دونوں اعتبار سے اہمیت رکھتا ہے۔ آج کی دنیا میں مسلمان نوجوان کو ہر قدم پر جدید ٹیکنالوجی سے سابقہ پیش آتا ہے۔ ایسے مواقع پر اس کا رویہ ایک ایسے بالغ نظر (Mature) انسان کا رویہ ہونا چاہیے، جو ٹیکنالوجی کا غلام بننے کے بجائے اس کو آلہ خیر بنانے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

تفریحی سرگرمیاں

مغرب کے تصورِ انسان کے مطابق انسان کی زندگی صرف دو قسم کی سرگرمیوں سے عبارت ہے:

(الف) دنیا کے وسائل کا زیادہ سے زیادہ استعمال کرکے دولت میں اضافہ کرنا اور
(ب) سامانِ تعیش سے لطف اندوز ہونا۔

ان دو کاموں کے علاوہ اگر کسی اور کام کا مغربی انسان قائل ہے تو وہ بھی انہی دونوں سے متعلق ہے۔ مثلاً معلومات کا حصول اور صلاحیتوں میں اضافہ، تاکہ انسان وسائل کے استعمال کے لیے بہتر مہارت حاصل کرسکے یا صحت و تندرستی برقرار رکھنے کے لیے ورزش و ریاضت تاکہ جسم تفریحات کا متحمل ہوسکے۔

تفریحات کے موضوع کے سلسلے میں چند باتیں نوجوانوں کے سامنے آنی چاہئیں:

(الف) مسلمان نوجوانوں کے سامنے سب سے پہلے یہ بات آنی چاہیے کہ حدود کے اندر یہ دونوں کام (دولت کا حصول اور تفریح) بذاتِ خود جائز کام ہیں۔ بلکہ انسان کی ناگزیر مصروفیات میں سے ہیں، لیکن یہ انسان کا مقصدِ زندگی نہیں ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ انسان کی زندگی کا مقصد اپنی شخصیت کا تزکیہ ہے، جس کا نتیجہ فلاح ہے۔ شخصیت کے تزکیے کے لیے یہ لازم ہے کہ انسان اپنی ضروریات کی تکمیل کے ساتھ انسانی فرائض کی انجام دہی کی طرف بھی توجہ دے۔ انسانی فرائض بہت سے ہیں لیکن اْن سب کو دو بنیادی عنوانات کے تحت بیان کیا جاسکتا ہے:

i) اللہ کی لاشریک عبادت و بندگی اور
ii) مخلوقِ خدا کے حقوق کی ادائی اور اس کے ساتھ حسنِ سلوک
(ب) کہا جاسکتا ہے کہ ان روکھی پھیکی باتوں میں نوجوانوں کے لیے کوئی کشش نہیں ہے۔ بقول شخصے:
حاضر ہیں کلیسا میں کباب و مئے گل گوں
مسجد میں دھرا کیا ہے بجز موعظہ و پند

لیکن ہمیں جاننا چاہیے کہ فی الواقع اسلام کے اندر بڑی کشش موجود ہے۔ البتہ اسلام کے ان تصورات کو جو چیز پرکشش بناتی ہے وہ اسلام کا تصورِ انقلاب ہے۔ اسلام ایک ہمہ گیر تبدیلی کی دعوت دیتا ہے۔ جس کا آغاز اپنی ذات میں انقلاب سے ہوتا ہے۔ مگر جس کا دائرہ بڑھتے بڑھتے پوری انسانی زندگی تک وسیع ہوجاتا ہے۔ انقلاب کا یہ پیغام انسان کو ایک حیات آفریں سفر کی دعوت دیتا ہے۔ یہ سفر اندھیروں سے روشنی کی طرف ہے، غلامی سے آزادی کی طرف ہے، بے یقینی سے یقین کی طرف ہے، نا امیدی سے امید کی طرف ہے، ڈر سے بے خوفی کی طرف ہے، رنج و غم سے اطمینانِ قلب کی طرف ہے اور پریشان خیالی سے محکم فکر کی طرف ہے۔

’’ایمان لانے والوں کو اللہ ایک قولِ ثابت کی بنیاد پر دنیا اور آخرت دونوں میں، ثبات عطا کرتا ہے اور ظالموں کو اللہ بھٹکا دیتا ہے۔ اللہ کو اختیار ہے جو چاہے کرے‘‘۔ (ابراہیم: ۲۷)

’’اللہ ایمان لانے والوں کا حامی و مددگار ہے۔ وہ اْن کو تاریکیوں سے روشنی میں نکال لاتا ہے۔ اور جو لوگ کفر کی راہ اختیار کرتے ہیں، اْن کے حامی و مددگار طاغوت ہیں۔ اور وہ انہیں روشنی سے تاریکیوں کی طرف کھینچ لے جاتے ہیں۔ یہ آگ میں جانے والے لوگ ہیں، جہاں یہ ہمیشہ رہیں گے‘‘۔ (البقرۃ:۲۵۷)

واقعہ یہ ہے کہ اسلام کی دعوتِ انقلاب تمام سعید روحوں کے لیے اور خصوصاً نوجوانوں کے لیے بے پناہ کشش رکھتی ہے۔بشرطیکہ اس کے پیش کرنے والے ایسے لوگ ہوں جن کا عمل ان کے قول سے مطابقت رکھتا ہو اور جو باطل سے سمجھوتہ کرنے کے قائل نہ ہوں۔

(ج) تفریحی سرگرمیوں کے سلسلے میں نوجوانوں کے سامنے یہ بات بھی آنی چاہیے کہ اسلام آفاقی قدروں کا قائل ہے۔ ان قدروں میں حیا و پاک دامنی نیز عفت و پاکبازی کو بنیادی مقام حاصل ہے۔ سوئِ اتفاق سے مغربی کلچر کے نزدیک حیا و عصمت کی کوئی خاص قدروقیمت نہیں ہے۔ چنانچہ اس کلچر سے متاثر تفریحی سرگرمیوں میں سے بیش تر ایسی ہیں جو انسان کو بے حیائی میں مبتلا کرتی ہیں۔ مسلمان نوجوان کو جاننا چاہیے کہ وہ ایسی حدود نا آشنا سرگرمیوں میں حصہ نہیں لے سکتا، خواہ اس کو ’’دقیانوسی‘‘ یا ’’تاریک خیال‘‘ ہونے کے طعنے سننے پڑیں۔

(د) لیکن محض حدود کی رعایت کی تلقین کافی نہیں ہے۔ بلکہ مثبت طور پرمسلم معاشرے کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اخلاقی حدود کے اندر تفریح کے مواقع نوجوانوں کو فراہم کرے اور انسان کی اس اہم ضرورت کو نظر انداز نہ کرے۔ مسلمانوں میں اس وقت جو افراط و تفریط پائی جاتی ہے، اس کی اصلاح کی جانی چاہیے۔ کچھ لوگ جائز تفریحات سے بھی نوجوانوں کو روکنا چاہتے ہیں۔ اْن کو حقیقت پسند بننے کا مشورہ دیا جانا چاہیے۔ دوسری جانب ایسے لوگ بھی ہیں جو بلا کسی اخلاقی قید کے، ہر نوع کی تفریحات کی اجازت دینا چاہتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے شعور کو بے دار کرنے کی ضرورت ہے۔

مسلمانوں کا فکری انتشار

مذکورہ تحریر میں ایک اور دشواری کا تذکرہ کیا گیا ہے جو صحت مند معاشرے کی تعمیر میں حائل ہے:

’’مسلمان فکری انتشار اور اخلاقی بحران میں مبتلا ہیں۔ نہ تو انہیں اپنی زندگی کے نصب العین کا پتا ہے اور نہ ہی اپنی حیثیت کا شعور ہے۔ وہ دینِ اسلام سے (محض رسمی) نسبت ہی کو فلاح و نجات کا ذریعہ سمجھ کر مطمئن ہیں۔ کیا طرزِ عمل اپنایا جائے کہ اْن میں اپنے خیرِ امت ہونے کا شعور بیدار ہو۔‘‘

مسلمان اپنے اجتماعی وجود کے بارے میں کیا تصور رکھتے ہیں، اس کا بڑی حد تک انحصار اْن کی قیادت کے طرزِ فکر پر ہے۔ مسلمانوں کی قیادت کا جائزہ بتاتا ہے کہ وہ تین طرح کے عناصر پر مشتمل ہے:

(الف) ایک عنصر اْن افراد کا ہے جو دین سے منحرف ہیں اور سیکولر طرزِ فکر کو اجتماعی زندگی کی صحیح بنیاد سمجھتے ہیں۔ ہندوستانی مسلمانوں کی موجودہ قیادت میں یہ عنصر موجود ہے، لیکن اس کے اثرات محدود ہیں۔

(ب) دوسرا عنصر اْن لوگوں کا ہے، جو دین سے عقیدت رکھتے ہیں۔ لیکن اس تصور سے ناآشنا ہیں کہ اجتماعی زندگی بھی دین کے تابع ہونی چاہیے۔
(ج) تیسرا عنصر اْن باشعور افراد کا ہے، جو دیندار بھی ہیں اور دین کو اجتماعی زندگی کا رہنما بنانے کے بھی قائل ہیں۔

مسلمانوں کو خیرِ امت کا منصب یاد دلانے کی توقع فطری طور پر اْن کی قیادت کے مذکورہ بالا تیسرے عنصر سے ہی کی جاسکتی ہے۔ لیکن دِقّت یہ ہے کہ یہ افراد اصولی طور پر اجتماعی معاملات میں دین کی رہنمائی کے قائل ہونے کے باوجود اس اصول کے اطلاق کو محض بعض گوشوں تک محدود رکھتے ہیں۔ مثلاً غیرمسلم اقتدار کے تحت رہنے کی وجہ سے مسلمانوں کو جو مسائل پیش آتے ہیں، اْن کے حل کے لیے قیادت کا یہ باشعور عنصر کوئی ایسا لائحہ عمل بنانے سے قاصر رہتا ہے،جو مسلمانوں کی خیر امت ہونے کی حیثیت کے شایانِ شان ہو۔ اپنی تمام تر دینداری کے باوجود یہ افراد اس معاملے میں عموماً دوسرے عنصر کے ایجنڈے پر عمل کرتے ہیں بلکہ بسا اوقات پہلے عنصر کی سرپرستی قبول کرنے میں بھی انھیں تامل نہیں ہوتا۔ اس طرز پر مسلمانوں کے مسائل کے حل کی کوشش کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کے خیرِ امت ہونے کا تذکرہ بھی کیا جاتا رہتا ہے لیکن ظاہر ہے کہ محض یہ تذکرہ مسلمانوں کو عملاً خیرِ امت نہیں بناسکتا جب تک کہ اْن کی قیادت خیرِ اْمت ہونے کے تمام تقاضے پورے کرنے پر آمادہ نہ ہو۔

غیرمسلم اہلِ اقتدار ہوں یا عام غیرمسلم افراد، مسلمانوں سے اْن کی گفتگو تین قِسم کی ہوسکتی ہے:

(الف) گفتگو کی ایک قسم یہ ہے کہ مسلمان اسلام کا تعارف کرائیں، اس کی حقانیت ثابت کریں اور حق کی طرف انسانوں کو بلائیں۔
(ب) گفتگو کی دوسری قسم یہ ہے کہ مسلمان اپنے اْن مسائل پر گفتگو کریں جن کا تعلق دین اور دینی شعائر کے تحفظ سے ہے۔ مثلاً مسلم پرسنل لا کے تحفظ کا مسئلہ اس نوع کی گفتگو میں اسلامی طرزِ استدلال بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ یعنی اللہ کے شارع اور قانون ساز ہونے کا ذکر کیا جائے، پھر مسلم پرسنل لا پر عمل کی آزادی کو اللہ کی بندگی کی اس فطری آزادی کا تقاضا قرار دیا جائے جو اللہ کی زمین پر تمام انسانوں کو حاصل ہے اور جس کو غصب کرنا انسانوں پر ظلم ہے۔

پرسنل لا پر گفتگو کا یہ ایک طرز ہے، لیکن گفتگو کا دوسرا طرز بھی ممکن ہے۔ یہ سیکولر طرز ہے یعنی پرسنل لا کی آزادی کو اس مذہبی آزادی کا ایک جز قرار دیا جائے جو سیکولر آئین کے تحت مذہبی اقلیتوں کو حاصل ہوتی ہے۔ گفتگو کا یہ طرز، گفتگو کرنے والوں کو خود بخود اس بات پر مجبور کرتا ہے کہ وہ سیکولر طرزِ حکومت کو (اور بالآخر خود سیکولراِزم کے فلسفے کو) مناسب، معقول اور حق بجانب قرار دیں۔

(ج) گفتگو کی تیسری قسم یہ ہے کہ مسلمان ان مسائل پر گفتگو کریں جن کا تعلق نہ اْن کے دین سے ہے نہ نظریاتی وجود سے، بلکہ وہ عام روزی روٹی کے مسائل ہیں جن کے سلسلے میں ہر گروہ متفکر رہتا ہی ہے (خواہ وہ کوئی نسلی گروہ ہو یا کسی مشترکہ مفاد کی اساس پر بننے والا افراد کا مجموعہ ہو)۔

اب اگر صورتِ حال یہ ہو کہ غیرمسلم اہلِ اقتدار اور عام غیر مسلم افراد سے مسلمانوں کی گفتگو پر پہلی قِسم کے موضوعات چھائے رہیں (جو دعوتِ اسلامی سے متعلق ہیں) پھر ضمناً دوسری قِسم کے موضوعات کا تذکرہ ہو (جن کا تعلق دین پر عمل کی آزادی سے ہے) لیکن اس تذکرے میں دینی طرزِ استدلال استعمال کیا جائے اور تیسری قِسم کی گفتگو سے بچا جائے تو یہ طرزِ عمل مسلمانوں کے خیرِ امت ہونے کی حیثیت کا عکاس ہوگا۔ اگر ان کی قیادت شعوری طور پر اس طرزِ گفتگو کو اختیار کرے گی تو خیرِ امت ہونے کا شعور خود بخود مسلمانوں کے ذہنوں میں راسخ ہوتا چلا جائے گا۔ دوسری طرف غیرمسلم دنیا بھی مسلمانوں کی اس حیثیت کو بآسانی سمجھ لے گی کہ وہ ایک آفاقی دعوت کی علمبردار امت ہیں اور محض ایک گروہ نہیں ہیں۔

لیکن اگر صورتِ حال اس کے برعکس ہو، مسلمانوں کی گفتگو میں دعوتِ اسلامی کا تذکرہ شاذ و نادر ہی آئے اور ان کی گفتگو پر دوسری اور تیسری قِسم کے موضوعات چھائے رہیں پھراپنے موقف کے حق میں ان کا طرزِ استدلال بھی دینی نہ ہو بلکہ سیکولر ہو تو کوئی غیر مسلم کبھی یہ نہیں سمجھ سکے گا کہ مسلمانوں کے پاس کوئی آفاقی پیغام بھی ہے بلکہ وہ تو یہ بھی سمجھنے سے قاصر رہے گا کہ مسلمان کوئی نظریاتی گروہ ہیں (خیرِ امت ہونا تو دور کی بات ہے)۔ پھر اگر گفتگو کا یہ طرز، مسلسل جاری رہے تو مسلمان رفتہ رفتہ خود بھی خیرِ امت ہونے کا مفہوم بھول جائیں گے (خواہ بطور نعرے کے وہ اس اصطلاح کا ورد کرتے رہیں)۔

اس وقت یہی ہورہا ہے یعنی غیر مسلموں سے مسلمانوں کی گفتگو، اْن کی خیرِامت کی حیثیت کی آئینہ دار نہیں ہے۔ اب اگر مسلمانوں کے انتشار کو فی الواقع دور کرنا ہے اور ان کو فکر وعمل کے اعتبار سے واقعتا خیرِ امت بنانا ہے تو مسلمانوں کی قیادت کے دین دار اور باشعور عنصر کو اپنا منفعل (Passive) رویہ بدلنا ہوگا۔ دینی رہنمائی سے بے نیاز قیادت کے ایجنڈے اور طرزِ کلام کی پیروی کے بجائے اْسے پوری تیاری اور جرأت کے ساتھ ایک دوسرا طرزِ کلام اپنانا ہوگا۔ جو ایک آفاقی دعوت کے علمبردار گروہ کے شایانِ شان ہو۔ اگر دین دار عنصر اس اقدام کے لیے تیار ہوجائے تو مسلمانوں کے موجودہ فکری انتشار کے دور ہونے کی توقع کی جاسکتی ہے اور اپنی خیرِ امت ہونے کی حیثیت مسلمانوں پر ایک بار پھر واضح ہوسکتی ہے۔

[مضمون نگار ’’زندگیٔ نو‘‘ کے مدیر ہیں]

(بشکریہ: ماہنامہ ’’زندگی نو‘‘ دہلی۔ مارچ ۲۰۱۲ء)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*