Abd Add
 

اسرائیل کے ستّر سال

اسرائیل میں حالیہ دنوں میں خوشیوں کے شادیانے بجائے جارہے ہیں اسرائیل کے قیام کے ستر سال مکمل ہورہے ہیں، وہ اپنی برقرار رہنے والی معاشی ترقی، جدید ٹیکنالوجی کی برآمدات میں اضافہ کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے تحقیق کاروں کی اسرائیلی سرزمین پر تحقیق کرنے کی خواہش پر بھی خوشیاں منا رہے ہیں،ایک غیر مستحکم خطے میں جہاں خانہ جنگی عروج پر ہے وہاں اسرائیل میں راوی چین ہی چین لکھتا ہے۔

اسرائیل کے ارد گرد موجود مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک افرا تفری اور طاقت کے کھیل میں مصروف ہیں۔ سعودی عرب اور مصر نے ایران اورداعش کے خلاف ایک اتحاد تشکیل دیا ہے، دنیا بھر کے چوٹی کے رہنما اسرائیل کا دورہ کررہے ہیں اور نیتن یاہو انہیں اسرائیل کے دارالحکومت میں خوش آمدید کہہ رہے ہیں، اسرائیل کے سفارتی تعلقات پہلے کبھی اتنے اچھے نہیں رہے جتنے اب ہیں اور اس دفعہ اسرائیل کے دارلحکومت میں امریکی سفارت خانہ کی منتقلی نے اسرائیل کو نئی توانائی دی ہے۔ ’’یورو وژن‘‘ گانے کے مقابلے میں بھی اسرائیل نے جیت اپنے نام کی ہے البتہ اس دفعہ اس کا انعقاد یورپ میں نہیں ہواہے۔

بہت ساری چیزوں نے اسرائیل کی ترقی میں کردار ادا کیا ہے، جن میں ۱۹۸۵ء سے لے کر اب تک مرکزی معیشت کی افراطِ زر تک منتقلی، معاشرتی ترقی جس میں صحت اور تعلیم کامفت بہترین نظام،،بہترین صلاحیت کے افراد کار، نوجوان تربیت یافتہ اسرائیلی سپاہی، روس سے آئے ہوئے ایک لاکھ مہاجروں کا تحفظ اور جدید ٹیکنالوجی کی تجارت میں ترقی شامل ہیں۔

فلسطینی زمین پر بحیرہ روم سے اردن تک زبردستی قبضہ کے مسئلے کا بین الاقوامی دباؤ برداشت کرنا اب اسرائیل کے لیے ذرا بھی مشکل نہیں ہے، عرب کے حکمران اب فلسطین کے مسئلے پر لب کشائی سے زیادہ کچھ کرنے کو تیار نہیں ہیں جبکہ دوسری طرف وہ اسرائیل کی تجارتی سرگرمیوں میں حصے داری کے خواہاں نظر آتے ہیں اور صدر ٹرمپ اپنے قول و فعل سے اسرائیل کے مکمل طرف دار ہیں۔

لیکن ان سب کے باوجود اسرائیل کی ریاست کوکچھ مسائل درپیش ہیں جو اس ستر سالہ جشن کی تقریب کے رنگ کو پھیکا کرتے نظر آتے ہیں۔عرب اسرائیلی غربت کی زندگی گزار رہے ہیں اور اسرائیل کے ساتھ ملنے کی جدو جہد کر رہے ہیں،اکثر قدامت پسند یہودی بے روزگار ہیں اور ان کی تعداد بڑھ رہی ہے اور یہ دو نوں گروپ اسرائیلی آبادی کا ۳۰ فیصد ہیں اور اسرائیلی فلاحی مملکت کے لیے ایک بوجھ ہیں۔ جدید تکنیکی ترقی پرانے لوگوں کے لیے جو کہ ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ گئے ہیں استحصال کا باعث ہیں، بنیادی ڈھانچا ٹوٹ پھوٹ کا شکا ر ہے پبلک ٹرانسپورٹ کی حالت خراب ہے، دنیا بھر کے غیر یہودیوں کے ذہن میں یہود ی قوم کاتصور بہت خراب ہے اور اس کے ساتھ ساتھ افریقا سے آنے والے پناہ گزینوں کی تعداد میں بھی مستقل اضافہ ہورہا ہے۔

اس طرح کے مسائل یورپ کے ممالک میں بھی موجود ہیں، لیکن اسرائیل کو کچھ نئے مسائل کا بھی سامنا ہے، اسرائیل میں سیاسی اتفاق رائے کے ذریعے جمہوریت کا استحکام جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔اسرائیلی حکومت اور یہودی عبادت گاہوں کے متضاد مسائل قدامت پسند یہودی ربیوں کو شادی اور طلاق کے معاملات پر اپنی من مانی کی کھلی چھوٹ مہیا کرتے ہیں اسرائیل کو یہودیوں کے لیے جنت قرار دینے کا نظریہ بھی اب فرسودہ قرار پایا ہے اور ان سب مسائل کے ساتھ فلسطین کا مسئلہ اپنی جگہ پوری حقیقتوں کے ساتھ موجود ہے۔ہوسکتا ہے اسرائیل فلسطین کے مسئلے پر بین الاقوامی دباؤ کو کسی حد تک نظر انداز کرنے میں کامیاب ہوجائے، لیکن ۵ء ۴ا؍ملین فلسطینی آج بھی غزہ اور مغربی کنارے میں بستے ہیں اور یہ اسرائیل کے لیے ایک کربناک حقیقت ہے۔

اچھی خبر یہ ہے کہ اگر اسرائیل ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ جانے والوں کو اپنے ساتھ شامل کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو وہ معاشی ترقی میں ایک آئیڈیل صورتحال پر کھڑا ہے اور بری خبر یہ ہے کہ وہ نیتن یاہو جن کی انتخابی مہم ’’عربوں کا خوف‘‘ اور ’’قسیم کی سیاست‘‘ پر مشتمل تھی وہ اب اس ساری صورتحال میں فلسطین کے ساتھ دیرپا اور پائیدارامن کے خواہاں نظر آتے ہیں۔

(ترجمہ: سمیہ اختر)

“Promised land: Israel at 70”.(“Economist”. May 17, 2018)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*