قطر کی نئی حکومت

قطر کے نئے امیر چاہتے ہیں کہ اندرونی سطح پر نظم و ضبط برقرار رہے اور بیرون ملک خطرناک اقدامات سے گریز کیا جائے۔

شیخ حماد بن خلیفہ الثانی کی جانب سے اقتدار اپنے بیٹے تمیم کے سپرد کیے ہوئے ابھی دو ماہ ہی گزرے ہیں کہ دوہا میں موڈ تیزی سے بدلتا دکھائی دے رہا ہے۔ غور سے دیکھا جائے تو نئے امیر کی سربراہی میں بھی قطر کی حکومت معاملات کو جوں کا توں رکھنے ہی پر توجہ دے گی۔ تاہم سیاسی زبان میں، نئے سرے سے توازن پیدا کرنے، نظم کو برقرار رکھنے اور ارتکاز کی ضرورت پائی جاتی ہے، جیسے الفاظ نمایاں ہیں۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ نئے امیر اندرون اور بیرون ملک کس نوعیت کی تبدیلی چاہتے ہیں اور کن معاملات کو جوں کا توں رکھنا چاہتے ہیں۔

محض ۶۱ برس کی عمر میں اقتدار سے کنارا کش ہونے والے امیر کی کامیابیاں بھی غیر معمولی رہی ہیں۔ جب انہوں نے ۱۹۹۲ء میں اپنے والد کو اقتدار سے باہر کیا تو قطر خلیج کی ایک چھوٹی سی ریاست تھی، جس کی آبادی محض ۵۰ ہزار نفوس پر مشتمل تھی۔ شیخ حماد بن خلیفہ الثانی نے اس چھوٹی سی ریاست کو سفارت کاری کے مرکز میں تبدیل کردیا۔ انہوں نے حقیقی مفہوم میں انقلاب برپا کردیا۔ شیخ حماد بن خلیفہ الثانی کے دور میں قطر کی فی کس آمدنی ۸۰ ہزار ڈالر سالانہ تک جاپہنچی، جو دنیا میں بلند ترین شرح ہے۔ شیخ حماد بن خلیفہ الثانی بجا طور پر ایک صدی کے دوران مضبوط ترین عرب سربراہِ مملکت ہونے کا دعویٰ کرسکتے ہیں۔

چند ماہ کے دوران خلیجی سفارتی حلقوں میں Overreach کا لفظ غیر معمولی طور پر سنائی دیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تمام ہی عرب سربراہانِ مملکت و حکومت چاہتے تھے کہ قطر کے امیر کچھ ایسا کریں کہ ان کی پوزیشن کمزور ہوجائے اور سفارت کاری کے حوالے سے اس چھوٹی سی ریاست کو خطے میں مرکزی حیثیت حاصل نہ رہے۔ نئے امیر شیخ تمیم کی عمر ۳۳ سال ہے اور ظاہر ہے کہ اس چھوٹی سی عمر میں اُن پر خاصی بڑی ذمہ داری کا دباؤ ہے۔ انہیں اپنے ملک کو علاقائی سفارت کاری کے حوالے سے سب سے آگے رکھنا ہے۔

تمیم کے اقتدار میں آنے کے بعد سے رونما ہونے والی سب سے بڑی تبدیلی یہ ہے کہ انہوں نے اپنے طاقتور کزن حماد بن جاسم الثانی کو ہٹادیا ہے۔ وہ ۱۹۹۲ء سے وزیر خارجہ اور ۲۰۰۷ء سے وزیر اعظم بھی چلے آرہے تھے۔ وہ امیر کے بعد حکومت کی مضبوط ترین شخصیت میں تبدیل ہوچکے تھے۔ ان کے کاروباری مفادات بھی غیر معمولی ہوچکے ہیں۔ انہوں نے خارجہ پالیسی کو اس انداز سے چلایا کہ بعض معاملات میں قومی مفادات پیچھے رہ گئے۔

صحت، تعلیم، ثقافت اور کھیل کے شعبوں میں ایجنسیوں، اداروں اور کمیٹیوں کو ابھرنے کا موقع ملا ہے مگر ساتھ ہی ساتھ ان شعبوں کی وزارتوں کو کنٹرول کرنے کے اقدامات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ تمیم نے کہا ہے کہ ان وزارتوں کو زیادہ اختیارات دیے جائیں گے اور کام کرنے کی زیادہ گنجائش پیدا کی جائے گی۔ سابق امیر کی اہلیہ شیخہ موضہ (Moza) کی نگرانی میں کام کرنے والی طاقتور قطر فاؤنڈیشن اور موجودہ امیر کی بہن شیخہ مایاسا (Mayassa) کی نگرانی میں کام کرنے والی قطر میوزیم اتھارٹی کو بھی کچھ مصالحت کرنا پڑے گی۔ ایک سفارت کار کا کہنا ہے کہ اب حکومت کو کسی حد تک ’’ریگولرائز‘‘ کیا جارہا ہے۔

نئے وزیر اعظم عبداللہ بن ناصر الثانی کا تعلق فوج سے ہے، اور وہ اپنے پیشرو کے مقابلے میں کم مہم جو طبیعت کے مالک ہیں۔ انہیں وزارتِ داخلہ سے ترقی دی گئی ہے۔ وزیراعظم کے منصب کے ساتھ ساتھ وہ وزیر داخلہ کا منصب بھی سنبھالے رہیں گے۔

خارجہ پالیسی کے میدان میں تمیم کو بہت سنبھل کر چلنا پڑے گا۔ سابق خلیفہ کے دور میں قطر اس بات کا خواہش مند تھا کہ شام میں بشارالاسد کی حکومت کا تختہ الٹ دیا جائے۔ اس معاملے میں وہ مرکزی کردار کا حامل تھا مگر شیخ حماد بن خلیفہ الثانی کے سبک دوش ہونے سے قبل ہی سعودی عرب نے یہ کردار سنبھال لیا تھا۔ قطر کا حکمراں خاندان اس بات سے بظاہر مضطرب ہے کہ امریکا نے دو ماہ قبل کے کیمیائی حملوں کے باوجود بشارالاسد انتظامیہ کے خلاف کارروائی سے ہاتھ کھینچ لیا ہے۔ قطر کے عوام اور خواص میں یہ تاثر عام

ہے کہ امریکا نے شام کے خلاف کارروائی سے اجتناب اسرائیلی دباؤ پر برتا ہے، جو چاہتا ہے کہ شام کو غیر معینہ مدت تک خانہ جنگی میں مبتلا رہنے دیا جائے تاکہ اس کا خون بہتا رہے اور وہ زیادہ سے زیادہ ناکارہ ہوجائے۔

قطر نے مصر میں عرب بہار کی آمد کے بعد اخوان المسلمون کے اقتدار میں آنے کا خیر مقدم کیا تھا اور امدادی پیکیج کا اعلان بھی کیا تھا، مگر فوج کے ہاتھوں صدر محمد مرسی کی حکومت کا تختہ الٹے جانے کے بعد قطر نے پالیسی تبدیل کی اور اب وہ مصر میں کسی پارٹی کے بجائے عوام کی حمایت کی بات کر رہا ہے۔ محمد مرسی کے دور میں قطر نے جس امداد کا وعدہ کیا تھا، وہ مصر کو دی جارہی ہے۔ مگر اب قطر میں کوئی بھی نہیں چاہتا کہ مصر پر دوبارہ جرنیل قابض رہیں۔

قطر نے خطے میں سفارت کاری کے حوالے سے غیر معمولی طور پر قائدانہ کردار ادا کیا ہے۔ چاڈ، اری ٹیریا، دارفر، فلسطین اور قبرص کے معاملات میں اس کا ثالث نما کردار خارجہ پالیسی کی شاندار کامیابی سمجھا جاتا رہا ہے، مگر ایسا لگتا ہے کہ اب یہ کردار ڈانواڈول ہے۔ قطر کے مشہورِ زمانہ سیٹلائٹ چینل ’’الجزیرہ‘‘ کو عرب بہار کے فروغ کے حوالے سے غیر معمولی اہمیت حاصل رہی ہے۔ مگر اب ہوسکتا ہے کہ ’’الجزیرہ‘‘ کو تھوڑا پیچھے رہنے اور خاموشی اختیار کرنے کی ہدایت کردی جائے۔

قوم سے پہلے خطاب میں تمیم نے بہت سے اندرونی مسائل کا ذکر کیا۔ حد یہ ہے کہ انہوں نے عوام سے نکاسیٔ آب کے نظام کو بہتر بنانے کا بھی وعدہ کیا مگر خارجہ پالیسی اور شام کا ذکر بھلا بیٹھے۔ اس وقت قطر کے لیے سب سے بڑا مسئلہ ۲۰۲۲ء کے فٹ بال ورلڈ کپ کا انعقاد ہے۔ موسم گرما میں قطر بھٹی کی طرح تپتا ہے۔ بیرون ملک آواز بلند ہو رہی ہے کہ فٹ بال ورلڈ کپ موسمِ سرما میں منعقد کیا جائے۔ اگر شیڈول تبدیل کرنا پڑا تو یورپ کی فٹ بال لیگز کو غیر معمولی خسارے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ خیال یہ ہے کہ قطری، جو غیر معمولی سخاوت کے لیے مشہور ہیں، یورپی لیگز کو ہرجانہ بھی ادا کرنے سے نہیں چُوکیں گے۔ ویسے تو خیر بیشتر قطری اس بات پر غیر معمولی فخر محسوس کرتے ہیں کہ ان کی سرزمین پر فٹ بال ورلڈ کپ کا انعقاد ہونے والا ہے مگر اب اِسے قطری ایونٹ کے بجائے عرب ایونٹ کے طور پر بھی دیکھا اور پیش کیا جارہا ہے۔ پورا خطہ فٹ بال ورلڈ کپ کے انعقاد کو اپنے لیے اعزاز سمجھ رہا ہے۔

اس وقت قطر میں جس موضوع پر کوئی بھی شخص بات نہیں کرتا، وہ جمہوریت ہے۔ ایک غیر موثر سی اسمبلی کے انتخابات کا وعدہ کیا گیا تھا مگر وہ منصوبہ بھی اب بظاہر بالائے طاق رکھ دیا گیا ہے۔ قطر کے لوگ جمہوریت کی ناکامی کی بات کرتے وقت کویت کا حوالہ دیتے ہیں، جہاں پارلیمان قائم کرنے کا تجربہ ناکام رہا۔ ان کے خیال میں پارلیمانی سیاست سے معاملات الجھتے ہیں اور بہت سے امور میں غیر ضروری طور پر تعطل اور تذبذب پیدا ہوتا ہے۔

قطر میں حکمرانی اب تک شاہی خاندان میں رہی ہے۔ الثانی خاندان بہت بڑا اور طاقتور ہے۔ چند خاندانوں اور قبائل تک اقتدار کو محدود رکھنا انتہائی دشوار کام ہے کیونکہ حکومت کا تختہ الٹنے کے منصوبے بھی بنائے جاتے رہتے ہیں۔ نئے امیر کے لیے بھی اقتدار برقرار رکھنا ایک مشکل مرحلہ ہوگا اور اس معاملے میں انہیں غیر معمولی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

نئے امیر کے لیے ایک بنیادی مسئلہ نئی نسل کو آگے بڑھانا بھی ہے۔ قطر میں آج بھی افرادی قوت کا بڑا حصہ غیر ملکیوں پر مشتمل ہے۔ ترکی، مصر، لبنان اور فلسطین کے ورکرز بڑی تعداد میں ہیں۔ یورپ کے لوگ بھی قطر میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ایسے میں قطر کی نئی نسل کو ذمہ داری کا احساس دلانا ہی ہوگا۔ نچلی سطح کے کام ایشیائی ممالک بالخصوص بھارت کے لوگ کرتے ہیں۔ قطر کی ۲۰ لاکھ کی آبادی میں قطری باشندے صرف تین لاکھ ہیں۔

قطر کے کسی بھی باشندے سے کوئی ٹیکس نہیں لیا جاتا۔ جب تک حکومت کی فیاضیاں جاری رہیں گی، تب تک حکمراں خاندان کے لیے کوئی خطرہ پیدا نہیں ہوگا۔ مگر خیر، کسی سے کوئی ٹیکس وصول نہ کرنا قومی سطح پر کوئی فخر کی بات نہیں۔

(“Qatar: No more own goals”… “Economist”. Sept. 28, 2013)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*