سلامتی کی تنہا روش۔۔۔ پاکستان ہے اور بس۔۔۔

قائداعظم محمد علی جناح کا قیام پاکستان سے قبل ایک تاریخی انٹرویو

الائیڈ نیوز پیپرز کے مشہور نامہ نگار بیورلی نکولز نے ۱۹۴۴ء میں اپنے قیام ہندوستان کے تاثرات Verdict on India کے عنوان سے پیش کیے تھے، اس میں قائداعظم سے ایک تاریخی انٹرویو ہے، جس میں پاکستان کا کیس اس کے بہترین ایڈوکیٹ نے پیش کیا ہے، کتاب کے متعلقہ حصہ کا ترجمہ پیش جارہا ہے۔ ادارہ


نکولز: (مسٹر جناح سے) آپ پر معترضین کا سب سے عام اعتراض یہ ہے کہ آپ نے پاکستان کی کوئی واضح اور جامع و مانع تعریف نہیں کی…علاوہ ازیں دفاع، معاشیات اور اقلیتوں کے حقوق وغیرہ کی بہت سی ایسی تفصیلات ہیں جنہیں آپ نے عمداً مبہم چھوڑ دیا ہے۔ کیا آپ کے نزدیک یہ الزام بجا ہے؟

جناح: یہ نہ تو بجا ہے اور نہ فہم و فراست کی کوئی دلیل ہے۔ خصوصاً جب کسی انگریز کی جانب سے ہو۔ جسے اپنی تاریخ کی کچھ خبر نہ ہو۔ جب آئرلینڈ انگلستان سے جدا کیا گیا تو تقسیم کی شرائط کی دستاویز صرف دس سطروں پر مشتمل تھی، صرف دس مطبوعہ سطریں… ایک ایسے ناقابل فہم اور پیچیدہ مسئلہ کے حل کے لیے جس نے صدیوں تک برطانوی ریاست کو زہر آلود کر رکھا تھا۔ ساری تفصیلات مستقبل پر چھوڑ دی گئی تھیں… مستقبل اکثر بہتر ثابت ہوتا ہے۔

برخلاف اس کے میں نے تو دس سطروں سے کہیں زیادہ مواد پاکستان کے اصول اور عملی ہیئت کو ظاہر کرنے کے لیے دنیا کے سامنے پیش کیا ہے۔ یہ کسی آدمی کے بس کی بات نہیں کہ ساری جزئیات و تفصیلات کو بھی قطعی طور پر فیصلے کی صورت میں پیش کردے۔

علاوہ ازیں ہندوستان کی تاریخ بھی ثابت کرتی ہے کہ کوئی ایسی تفصیلی دستاویز غیر ضروری اور لاحاصل ہے۔ گول میز کانفرنس میں جب برما کی علیحدگی کا مسئلہ طے ہوا تو کیا کوئی دستاویز مرتب ہوئی تھی! ہے کوئی دستاویز جب سندھ بمبئی سے علیحدہ کیا گیا؟ جواب ظاہر ہے کہ قطعی نفی میں ہے۔ کیونکہ ایسی دستاویز کا کہیں وجود نہیں۔ نہ صرف یہ، بلکہ اس کی سرے سے ضرورت ہی نہیں۔

اصل تنقیح یہ تھی کہ علیحدگی کا اصول تسلیم کرلیا جائے۔ تفصیلات طبعاً ظہور میں آجائیں گی۔

نکولز: آپ پاکستان کے بنیادی اصول کی کس طرح تعبیر فرمائیں گے؟

جناح: صرف چار لفظوں میں۔ ’’مسلمان ایک قوم ہے!‘‘۔ اگر یہ آپ تسلیم کرلیں اور آپ صاحبِ دیانت ہوں، تو آپ پاکستان کے اصول کو مان لیں گے۔ اگر موانعات و مشکلات موجودہ صورت سے سو گنا بھی زیادہ ہوئے تب بھی آپ اس اصول کو ماننے پر مجبور تھے۔

ہاں اگر آپ ماننا ہی نہ چاہتے ہوں… انکار کی دل میں ٹھان لی ہو… تو یہ اور بات ہے… (شانوں کو حرکت دیتے ہوئے مسکرا دیے۔)

نکولز: آپ مسلمانوں کو ایک قوم کن وجوہ کی بناء پر کہتے ہیں، کیا آپ کے نزدیک مذہب کے اعتبار سے مسلمان ایک قوم ہے؟

جناح: ہاں! اس لیے بھی…… لیکن صرف مذہب ہی کی بنا پر نہیں۔ یاد رکھیے کہ اسلام صرف روحانی اور مذہبی اصول ہی نہیں، بلکہ ایک حقیقی عملی نظامِ حیات ہے۔ نہ صرف مذہب بلکہ میں تو زندگی پر ایک کُل کی حیثیت سے غور کرتا ہوں اور سارے نظامِ حیات کے اعتبار سے مسلمانوں کو ایک مستقل اور جداگانہ قوم سمجھتا ہوں۔ زندگی کے ہر اہم شعبہ اور عنصر کے لحاظ سے، ہماری تاریخ کے لحاظ سے، ہمارے مشاہیر و اکابر کے اعتبار سے، ہمارے آرٹ اور فن تعمیر کے لحاظ سے، ہماری موسیقی، ہمارے قوانین اور اصولِ قانون کے اعتبار سے غرض ہر اعتبار اور ہر لحاظ سے مسلمان ہندوؤں سے الگ ایک ممتاز اور علیحدہ قوم ہیں۔

نکولز: کرم ہوگا اگر آپ مجھے ان چیزوں کو لکھنے کا موقع عنایت فرمائیں۔

جناح: (کسی قدر وقفہ کے بعد) ان تمام امور میں ہمارا زاویہ نگاہ نہ صرف ہندوؤں سے مختلف ہے بلکہ اکثر شعبوں میں بالکل متضاد ہے۔ ہمارا وجود اور ہماری دنیا ہی مختلف ہے۔ زندگی میں ہمیں اس سے مربوط کرنے والی کوئی چیز نہیں دکھائی دیتی۔ ہمارے نام، ہماری غذا، ہمارا لباس یہ سب مختلف ہیں۔ ہماری معاشی زندگی ہمارے تعلیمی تصورات، عورتوں کے ساتھ ہماری روش، حیوانات کے ساتھ ہمارا طرزِ عمل ہر نقطہ میں ہر کام پر ہم دوسرے سے اختلاف رکھتے ہیں۔ دور کیوں جائیں… گائے کے ایک دائمی قضیہ ہی کو لیجیے… ہم گائے کو ذبح کرتے ہیں اور کھاتے ہیں اور ہندو اسے پوجتے ہیں۔ شاید اکثر انگریز خیال کرتے ہوں گے گئو پوجا صرف خوشنما رواج یا محض تاریخی یادگار ہے، حالانکہ حقیقتاً یہ چیز ایسی نہیں چند دن پہلے اسی شہر میں گائے کا معاملہ پولیس کے لیے ایک آفت بن گیا تھا۔ ہندو نہایت اشتعال میں تھے کہ گائیں منظر عام پر ذبح کی جارہی تھیں، لیکن گائے کا مسئلہ ان ہزاروں مابہ النزاع مسائل میں سے صرف ایک ہے… (ذرا دم لے کر) … اچھا تو آپ نے کیا لکھا ہے؟

نکولز: میں نے لکھا ہے کہ مسلمان ایک مستقل قوم ہیں۔

جناح: کیا آپ کو اس کا یقین ہے؟

نکولز: جی ہاں! مجھے اس کا یقین ہے۔

جناح: (تبسم آمیز لہجہ میں) آپ کے اور کیا سوال ہیں۔

نکولز: پہلا سوال معاشی ہے۔ کیا مسلمان پاکستان میں امیر تر ہوں گے یا غریب تر، کیا آپ ہندوستان کے دوسرے حصوں کے مقابل چنگی کے محاصل عائد کریں گے؟

جناح: میں ذرا تبدیلی کی خاطر ایک سوال کروں گا، فرض کیا جائے کہ کوئی آپ سے سوال کرے کہ آپ جرمنی کے تحت خوشحال انگلستان کو ترجیح دیں گے، یا غریب مگر آزاد انگلستان کو، تو آپ کا جواب کیا ہوگا؟

نکولز: اس میں جواب کی کیا بات ہے؟

جناح: ہاں، بے شک! یقیناً یہی بات ہے… پھر کیا آپ کا سوال بے جا نہیں معلوم ہوتا؟… یہ عظیم الشان نصب العین۔۔۔۔ شخصی آرام اور عارضی راحت کے سوالات سے کہیں زیادہ بلند و برتر ہے، مسلمان ذرا سخت جان قوم ہے اور سخت کوش بھی۔ اگر پاکستان کے یہ معنی ہیں کہ انہیں کسی قدر اور مصائب برداشت کرنی ہوگی، تو وہ اس کی پروا نہ کریں گے، انہیں اس کی کوئی شکایت نہ ہوگی، لیکن پاکستان غربت کے مترادف کیوں سمجھا جائے، وہ کون سا قابل قیاس سبب ہے جس کے باعث مستقل قومیت کا یہ تحفہ معاشی حد بندی اور محرومی کے ہم معنی قرار پائے… دس کروڑ کی ایک آزاد و خودمختار قوم… اگرچہ وہ فوراً ترقی نہ کرسکتی ہو یا صنعتی اعتبار سے کسی قدر پیچھے بھی ہو پھر بھی مشکل ہی سے بدترمعاشی موقف میں رہے گی۔ بمقابلہ اس کے کہ اس قوم کے افراد غیر منظم اور منتشر ہوں اور پچیس کروڑ ہندوؤں کے غلام رہیں۔ جن کا واحد مقصد ان کو اپنے ناجائز استحصال اور معاشی دستبرد کا شکار بنانا ہے۔ معاہدہ وارسا کے ہوتے ہوئے کسی یورپین کی کیا مجال ہے کہ پاکستان کو معاشی طور پر ناممکن حقیقت قرار دے۔ یہ میرے لیے ناقابل تصور ہے۔ وہ بڑے دماغ جنہوں نے یورپ کو غیر متجانس اور متخالف ومصنوعی حدود میں شامل کردیا وہ ہمارے معاملہ میں معاشیات کے عذرلنگ کا حق نہیں رکھتے۔ خصوصاً جبکہ ہمارا مسئلہ نہایت سیدھا سادا ہو، الجھنوں سے پاک۔

نکولز: کیا یہی اصول دفاع پر بھی صادق آتا ہے۔

جناح: بے شک اسی اصول کا دفاع پر بھی اطلاق ہوگا۔ میں یہاں پر پھر ایک سوال آپ سے کروں گا… افغانستان کس طرح دفاع کا انتظام کرتا ہے؟ ہاں دیکھیے جواب قطعاً پیچیدہ نہیں ہے۔ افغانی اس کے محافظ ہیں بالکل یہی جواب ہمارا بھی ہے۔ ہم ایک ہم آہنگ اور دلیر قوم ہیں جو نہ صرف محنت کے لیے تیار ہیں بلکہ ضرورت ہو تو جنگ پر بھی آمادہ ہیں۔ پھر آپ ہی بتایے کہ دفاع کا سوال کیا پیچیدگی پیدا کرتا ہے۔ ہمارا مسئلہ دوسری قوموں سے کس باب میں مختلف ہے؟ کھلی ہوئی بات ہے کہ ایک عبوری دور بھی ہوگا ہم برطانوی قوم سے رات کے رات ہندوستان چھوڑ دینے کا مطالبہ نہیں کررہے ہیں، اہل برطانیہ ہی نے یہ گرہ پیدا کی ہے اور ان ہی کو اس سیاسی عقدہ کشائی میں بھی مدد کرنا چاہیے، لیکن اس کو حل کرنے کے لیے انہیں کافی غور و فکر کی ضرورت ہوگی۔ ہاں مجھے خیال آیا کہ اس مسئلہ میں مجھے آپ کو کچھ دکھانا ہے۔

مسٹر جناح عذر خواہی کرتے ہوئے کمرے سے باہر چلے گئے اور میں سگریٹ سلگا کر محو انتظار رہا۔ یکایک مجھے احساس ہوا کہ شاید کوئی اہم واقعہ ظہور میں آنے والا ہے یا یہ کہ شاید کچھ واقعہ ہو۔ میں آپے سے باہر نہ تھا، جناح برطانوی پالیسی پر نہایت شدید اور تلخ تنقید فرما رہے تھے (اگرچہ میں نے اس مکالمہ میں ان نقاط تنقید کو نقل نہیں کیا ہے لیکن بہرحال ان کی جرح اور تنقیح نہایت واضح تھی اور ان کے اخلاق و ذہن کا پتا دیتی تھی، بلکہ یوں کہیے کہ ان کے ذہن رسا پر صریح دلالت کرتی تھی۔ وہ صرف تلخ کلمات کی ترکیب نہ تھی اورنہ محض نفرت اور اشتعال کا کوئی معجون مرکب تھا جیسے ہندو طرزِ تنقید میں پایا جاتا ہے۔ یہ تنقید ایک تشخیص تھی، مسٹر جناح کی تنقید اور کسی ہندو سیاست دان کی تنقید میں ایک سرجن اور جادوگر کا سا فرق پایا جاتا ہے۔ اگرچہ ان کا فیصلہ نشتر تھا لیکن ایک سرجن کا اہلِ برطانیہ کو اس کا احساس ہونا چاہیے کہ ان کا یہاں کوئی دوست نہیں ہے۔ یہ مسٹر جناح نے، مسئلہ پاکستان کے زیر بحث آنے سے پہلے فرمایا ’’قطعاً کوئی دوست نہیں‘‘۔ ایک ہندو مدبر ہوتا تو یہی بات گلا پھاڑ پھاڑ کر کہتا اور اور بڑی مسرت کا اظہار کرتا، جناح نے اسے نہایت خاموشی سے کہا اور کسی قدر افسوس کے ساتھ۔ ان کے ہاتھ میں اس وقت ایک کتاب تھی۔

جناح: شاید آپ کو یاد ہوگا کہ میں نے یہ کہا تھا کہ انگریزوں کو نہایت غور و فکر سے اس موقع پر کام لینا چاہیے، یہ ایک عادت ہے جو شاید ان کی اپنی طبیعت سے سازگار نہیں۔ وہ لاپروائی اور بے فکری کو ترجیح دیتے ہیں وہ صرف انتظار کرنا چاہتے ہیں… اس امید میں کہ آخر میں سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا، البتہ جب کبھی یہ تکلیف گوارا کرتے ہیں تو پھر خوب تدبر سے کام لیتے ہیں اتنا جتنا کہ کسی قوم کے لیے ممکن ہوسکتا ہے… ان میں ایک بہترین مفکر اور مدبر… کم ازکم ہندوستانی مسئلہ پر جہاں دیدہ جان برائٹ تھا، کیا آپ نے اس کی کوئی تقریر پڑھی ہے؟

نکولز: جب سے ترکِ مدرسہ کیا ہے میں نے اس کی کوئی تقریر نہیں پڑھی۔

جناح: اچھا ذرا اس پر ایک نظر کیجیے، حسن اتفاق سے اس پر کل ہی میری نظر پڑ گئی۔

انہوں نے کتاب میرے حوالے کی جو ایک پارینہ کتاب تھی ’’جان برائٹ کی تقاریر‘‘ جس صفحہ کو کھولا گیا تھا اس میں ایک تقریر تھی، ۴ جون ۱۸۵۸ء کی۔ اس میں سب سے بڑے فصیح البیان رکن دارالعوام کی تقریر کا اقتباس درج ذیل ہے۔

’’ہندوستان پر آخر کب تک انگلستان اپنی حکومت کی ٹھانے رہے گا؟ ہے کوئی جو اس سوال کا جواب دے؟ پچاس سال، سو سال یوں کہیے پانچ سو سال سہی، کوئی شخص جس میں سمجھ بوجھ کی کوئی جھلک پائی جاتی ہے۔ اس کا یقین کرسکتا ہے کہ اس قدر وسیع ملک اپنی بیس مختلف قوموں اور بیسیوں زبانوں کے ساتھ، مارے باندھے جبراً قہراً ایک سلطنت اور واحد مملکت کی صورت قائم رہے… میں تو اس کو قطعی ناممکن تصور کرتا ہوں‘‘۔

میں نے یہ دیکھنے کے بعد کتاب انہیں واپس کردی۔

جناح: مسٹر برائٹ نے جو کچھ اس وقت کہا تھا آج بھی ایک حقیقت ہے۔ بلکہ آج زیادہ حق بجانب ہے اگرچہ آج زور بیس قوموں پر اس قدر نہیں دیا جارہا ہے جس قدر دو قوموں پر، یعنی ہندو اور مسلم! کیوں وہ حقیقت آج زیادہ واضح اور وزنی تر ہے، کیونکہ انقلاباتِ زمانہ نے ہمیں متحد نہیں کیا… اس لیے کہ مسلمان بیدار ہوگئے ہیں… وہ صورتحال کو سمجھ گئے ہیں… تلخ تجربات کے بعد انہیں اس کا خوب اندازہ ہوگیا ہے کہ ایک متحدہ ہندوستان میں ہندو ان کے ساتھ کیا سلوک کر رہے ہیں۔

ایک وحدانی ہندوستان کے معنی ہندو غلبہ کے ہیں اس کے صرف یہی معنی ہیں اور بس۔ آپ کوئی مفہوم اسے پہنانا چاہیں تو وہ صرف ایک قوم ہوگا، اس سے زیادہ اور کچھ نہیں، وحدانی ہند ایک برطانوی کرشمہ ہے… محض ایک انتظامی وحدت ہے، جس پر ایک سامراجی تلوار کے زور سے مسلط ہے بس یہ ہے وحدت ہند کی حقیقت… اس کے علاوہ اس کا کسی اور واقعاتی صورت میں کوئی وجود نہیں۔

نکولز: عجیب! آپ کے حریف یہ کہتے ہیں کہ پاکستان خود ایک برطانوی کرشمہ ہے گویا یہ تقسیم کرو اور حکومت کرو کا ایک نیا اطلاق ہے جو برطانوی سیاست کاری پر دلالت کرتا ہے۔

جناح: (کسی قدر جوش کے ساتھ) جو شخص ایسا کہتا ہے وہ میری دیانتداری تو الگ رہی برطانوی ذہنیت کو بھی نہیں سمجھتا۔ برطانیہ کو ہندوستان میں جو چیز روکے ہوئے ہے وہ متحدہ ہندوستان کا یہی غلط تصور ہے جس کا گاندھی بھی پرچار کرتے ہیں۔ متحدہ ہندوستان ایک برطانوی کرشمہ ہے میں اس کو مکرر بیان کرتا ہوں کہ یہ ایک بے اصل افسانہ ہے، اور وہ بھی نہایت خطرناک جو نہ ختم ہونے والی جنگ و جدل کا دروازہ کھولتا ہے۔ جب تک یہ جنگ و جدل جاری ہے برطانیہ کو اپنے قیام کے لیے بہانہ ہاتھ آتا رہے گا۔

نکولز: آپ یہ چاہتے ہیں کہ وہ ’’تقسیم کریں اور چل دیں‘‘۔

جناح: آپ نے اس کو بڑی خوبی سے بیان کیا۔

نکولز: کیا یہ برطانوی رائے دہندوں کے لیے نہایت تلخی کا باعث نہ ہوگا۔

جناح: (سچائی ہمیشہ تلخ معلوم ہوتی ہے) لیکن خاص طور پر یہ حق اس قدر تلخ کیوں ہے؟

نکولز: کیونکہ عام طور پر شائستہ اور متوسط طبقہ کے کھلے دل والے لوگ رائے دیتے ہیں۔ جو چاہتے ہیں کہ برطانیہ اپنے معاہدات کی تکمیل کرے اور ہندوستان کو اقتدار بخشے۔ انہوں نے کانگریسی نقطہ نگاہ کے سوا کچھ نہ سنا مسلمانوں کا مغرب میں کوئی بھی ترجمان نہیں۔

جناح: (تلخ انداز میں) میں آپ کو اچھی طرح محسوس کرتا ہوں۔ ہندوؤں نے صحافت اور اشاعت کا بڑا زبردست انتظام کیا ہے کانگریس اور مہاسبھا کو بڑے بڑے سرمایہ داروں اور کاروباری اصحاب کی بڑی مالی امداد اور سرپرستی حاصل ہے اور ہم اس سے محروم ہیں۔

نکولز: اس کانتیجہ یہ ہے کہ باہر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ کانگریس ہندوستان کے ایک اور ناقابل تقسیم ہونے کے کردار سے کبھی پیچھے نہیں ہٹتی۔ ان کا خیال یہ ہو گیا ہے کہ ہندوستان کو تقسیم کرنے کی کوشش غیر ذمہ دارانہ اور ایک رجعت پسندانہ گناہ ہے۔ باہر کی دنیا میں سنجیدگی سے یہ خیال ذہن نشین ہوگیا ہے، میں جانتا ہوں کہ ہمارے ہم وطن فریب میں مبتلا ہیں لیکن ایسی عمومیت جیسی کہ ہماری ہے، ایسے پیچیدہ معجون مرکب تنقیحات کے باب میں مغالطہ ہی میں مبتلا ہوسکتی ہے۔ جو کچھ انہوں نے سیکھا ہے وہی ہے کہ وسیع القلبی اور انصاف پسندی کا تقاضا صرف یہ ہے کہ ہندوستان کو چھوڑ دیا جائے اور عنانِ حکومت حوالہ کردی جائے۔

جناح: آپ اتنا اضافہ اور فرما لیں کہ سلامتی کی تنہا روش… پاکستان ہے اور بس…‘‘

(ترجمہ: خورشید احمد)

(بشکریہ: ’’چراغِ راہ‘‘ کراچی۔ دسمبر ۱۹۶۰ء)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*