Abd Add
 

راشد الغنوشی۔۔۔ ایک تعارف

حال ہی میں تیونس کے عام انتخابات میں غیرمعمولی کامیابی حاصل کرنے والی جماعت النہضہ کے سربراہ راشد الغنوشی تیونس کے صوبے قبیس کے شہر الحمہ میں ۱۹۴۱ء میں پیدا ہوئے۔ تیونس کی زیتونہ یونیورسٹی کے علاوہ قاہرہ یونیورسٹی اور دمشق یونیورسٹی سے بھی تعلیم حاصل کی۔ ۱۹۶۲ء میں زیتونہ یونیورسٹی سے گریجویشن کے مساوی ڈگری حاصل کی۔ ۱۹۶۴ء میں قاہرہ یونیورسٹی کے اسکول آف ایگریکلچر میں داخلہ لیا۔ جب مصر کے حکمران جمال عبدالناصر اور تیونس کے لیڈر حبیب بورَقیِبہ کے درمیان اختلافات کے باعث مصر سے تیونس کے باشندوں کو نکالا گیا تو راشد الغنوشی کو بھی مصر چھوڑنا پڑا، آپ شام چلے گئے جہاں آپ نے دمشق یونیورسٹی سے ۱۹۶۸ء میں فلسفے میں گریجویشن کیا۔ دمشق ہی میں سیاسی کیریئر کی ابتدا میں آپ نے یورپین سوشلسٹ پارٹی میں شمولیت اختیار کی مگر بہت جلد وہ اسلامی نظریات کی طرف مائل ہوگئے۔ راشد الغنوشی نے فرانس کی سوربورن یونیورسٹی میں ایک سال گزارا اور تیونس واپس آئے اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر ایک ایسی تنظیم کی بنیاد ڈالی جو معاشرے کی اصلاح اسلامی تعلیمات کے ذریعے کرنا چاہتی تھی۔

۱۹۸۱ء میں جب حبیب بورقیبہ نے سیاسی سرگرمیوں کی اجازت دی تو راشد الغنوشی نے ’’الاتجاہ الاسلامی‘‘ (اسلامی رجحانات کی تحریک) کی بنیاد رکھی۔ تحریک نے اپنے منشور میں بیان کیا کہ وہ اسلامی اصولوں کی بنیاد پر قائم ہے، معاشی عدم مساوات کا خاتمہ چاہتی ہے، معاشرے کی اصلاح کی خواہش مند ہے، ملک میں کثیر الجماعتی سیاسی نظام دیکھنے کی آرزو مند ہے اور یہ بھی کہ جمہوریت کے بنیادی اصول اپنائے جائیں اور سب کو اظہار رائے کا موقع دیا جائے۔ اِسی سال جولائی تک راشد الغنوشی اور ان کے قریبی ساتھیوں کو گرفتار کرلیا گیا۔ انہیں بزرتے جیل میں رکھ کر شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ کئی سیکولر سیاسی جماعتوں کے کارکنان سمیت مذہبی اور سیکولر کمیونٹی نے ان کے حق میں مظاہرے کیے۔ راشد الغنوشی کو ۱۹۸۴ء میں رہا کردیا تھا۔ ۱۹۸۷ء میں انہیں عمر قید کی سزا سناکر پھر جیل میں ڈالا گیا تاہم ایک سال بعد پھر رہا کردیا گیا۔ راشد الغنوشی نے یورپ میں سیاسی پناہ لی اور ۱۹۹۰ء کے عشرے کے اوائل تک وہیں رہے۔

اسلامی کمیٹی برائے فلسطین نے امریکی شہر شکاگو میں ۲۲ تا ۲۵ دسمبر ۱۹۸۹ء کو ایک کانفرنس منعقد کی جس میں راشد الغنوشی کو مقرر کے طور پر مدعو کیا گیا۔ یہ کانفرنس ’’فلسطینی انتفاضہ اور اسلامی احیاء کی تحاریک‘‘ کے موضوع پر منعقد کی گئی تھی۔ مقررین میں اسلامی جہاد کے روحانی پیشوا عبدالعزیز العودہ اور حزب التحریر کے محمد عمر بھی شامل تھے۔

جلا وطنی کے دوران راشد الغنوشی نے تیونس کے مطلق العنان صدر زین العابدین بن علی پر تنقید جاری رکھی۔ سال رواں کے اوائل میں جب تیونس میں عوامی بیداری کی لہر نے زین العابدین بن علی کے اقتدار کو ختم کیا تو راشد الغنوشی بیس سالہ جلا وطنی ختم کرکے ۳۰ جنوری ۲۰۱۱ء کو وطن واپس آئے۔

راشد الغنوشی کے سیاسی نظریات

راشد الغنوشی کاکہنا ہے کہ وہ اصلاحات کے حوالے سے اسلامی اصولوں پر عمل کی اہمیت پر زور دیتے ہیں اور یہ کہ معاشرتی انصاف یقینی بنانے کے لیے نئے طریقے اختیار کیے جانے چاہئیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ تیونس کے لیے کوئی سیاسی نظام اپناتے وقت اس کے حالات اور مقامی کلچر کو لازمی طور پر ذہن نشین رکھا جائے۔ وہ بظاہر سید قطب شہیدؒ کے نظریات کو من و عن اپنانے کے حق میں نہیں۔ راشد الغنوشی نے اب تک مزدور انجمنوں اور خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کا کھل کر ساتھ دیا ہے۔

راشد الغنوشی کا کہنا ہے کہ خواتین ملت اسلامیہ کا نصف ہیں اس لیے انہیں بھی تعلیم کے یکساں اور مساوی مواقع دیے جانے چاہئیں۔ وہ اسلامی ثقافت میں پائی جانے والی بعض سختیوں کو خواتین میں مغربی ثقافت کے پنپنے کا بنیادی سبب قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اسلامی اصولوں کی بنیاد پر اپنائی جانے والی اصلاحات میں خواتین کے حقوق، بالخصوص تعلیم اور معاشرتی کردار پر خاص توجہ دی جانی چاہیے۔

اسلامی تحریک کی آمد سے قبل تیونس کی خواتین کے پاس اپنے حقوق کے لیے اسلامی تعلیمات کے خلاف اٹھ کھڑی ہونے اور مغربی ثقافت کی بھونڈی نقالی کے سوا بظاہر کوئی راستہ نہ تھا۔ اسلامی تحریک کے فعال ہونے سے قبل تک تیونسی خواتین کے نزدیک ’’آزادی‘‘ کا تصور عریانی، گھر سے باہر نکلنے، ہوس ناک جذبات کو پروان چڑھانے اور مرد و زن کے اختلاط تک محدود تھا۔ اسلامی تحریک نے ان تمام نفسی پیچیدگیوں کے خلاف بغاوت اور اسلامی بنیادوں کی طرف پلٹنے کا اعلان کیا۔ مگر یہ کام آسان نہ تھا۔ خواتین کے اذہان میں بہت سے شبہات تھے۔ انہیں خوف تھا کہ رجعت پسند معاشرہ ان کی آزادی پر قدغن لگائے گا، وہ تعلیم کے بہتر مواقع حاصل کرنے میں ناکام رہیں گی اور یہ کہ عائلی معاملات میں بھی ان کا کردار محض غلامانہ ہوکر رہ جائے گا۔

راشد الغنوشی چاہتے ہیں کہ اسلامی معاشرہ سب کو قبول کرنے والا ہو، رواداری مثالی ہو اور غیرمسلموں کو اہم عہدوں پر فائز ہونے سے روکا نہ جائے۔ ان تمام امور کو وہ اسلامی قرار دیتے ہیں۔

۲۲ جنوری ۲۰۱۱ء کو قطر کے الجزیرہ ٹی وی سے ایک انٹرویو میں راشد الغنوشی نے کہا تھا کہ وہ حزب التحریر کے نظریات کے مطابق اسلامی خلافت کے احیاء کے حق میں نہیں اور جمہوریت چاہتے ہیں۔ انہوں نے حزب التحریر پر اسلامی تعلیمات کی غلط تعبیر کا الزام بھی عائد کیا تھا۔ جدید نظریات کی تبلیغ کرنے کی پاداش میں سعودی عرب اور ایران میں راشد الغنوشی کے داخل ہونے پر پابندی ہے۔

مئی ۲۰۱۱ء میں ایک انٹرویو کے دوران راشد الغنوشی نے کہا تھا کہ فلسطین کا بحران اسلامی اُمہ کے دل میں کانٹے کی طرح ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل کا وجود جلد مٹ جائے گا۔

۲۰۱۱ء کے انتخابات میں راشد الغنوشی نے تیونس میں آباد یہودیوں سے رابطہ کیا، ان سے ملاقات کے لیے وفود اور ان کے نرسنگ ہومز کے لیے تحائف بھیجے۔

راشد الغنوشی کی تصانیف:

٭ اسلامی ریاست میں عوامی آزادی
٭ ہم اور مغرب (مشترکہ کاوش)
٭ تیونس کی اسلامی تحریک کے تجربات
٭ جب امام ابن تیمیہ نے …
٭ سیکولر اور سول سوسائٹی میں ہم آہنگی کا احیاء
٭ اسلامی تحریک اور تبدیلی کا چیلنج
٭ مسئلہ فلسطین دوراہے پر
٭ خواتین قرآنی تعلیمات اور اسلامی دنیا کی حقیقت کے درمیان
٭ اسلامی ریاست میں شہریت کے حقوق
٭ حقوق و فرائض کا فرق اور قومی یکجہتی

نوٹ: جناب راشد الغنوشی کا ایک مفصل انٹرویو ’’معارف فیچر‘‘ کے شمارہ نمبر ۱۹، مورخہ یکم تا ۱۵؍اکتوبر ۲۰۱۱ء میں شائع کر چکے ہیں۔ تیونس کی النہضہ پارٹی کی پالیسیوں کو سمجھنے کے لیے اس انٹرویو کو دوبارہ دیکھنا مفید ہوگا۔ (ادارہ)

☼☼☼

Leave a comment

Your email address will not be published.


*