Abd Add
 

علاقائی معیشت کے فروغ کا بڑھتا ہوا رجحان

ہم روز افزوں گلوبلائزیشن کے دور میں زندہ ہیں لیکن علاقائی تحریکیں بھی جاری ہیں جو علاقائی معاشی زون کی تعمیر کے لیے کوشاں ہیں۔ یہ علاقائی زون مختلف ممالک کے مابین دو قسم کے معاہدوں کے ذریعہ تشکیل پارہے ہیں۔ The Free Trade Agreement (FTA) اور Economic Partnership Agreement (EPA) کے ذریعہ۔ آزاد تجارتی معاہدوں کا مقصد دو ممالک کے درمیان تجارتی امور میں کرایوں اور دوسری رکاوٹوں کو ختم کرنا ہے جبکہ یہ آزاد تجارتی معاہدے دو ممالک کے مابین بھی ہو سکتے ہیں اور تین اور اس سے زائد ممالک کے مابین بھی ہو سکتے ہیں۔ جاپانی حکومت EPA یعنی معاشی شراکت کے معاہدہ کو FTA یعنی آزاد تجارتی معاہدہ سے ایک قدم آگے کا مرحلہ تصور کرتی ہے۔ EPA میں شریک ممالک اس پر متفق ہیں کہ تجارتی زونز میں افراد‘ سامان اور روپیوں کی آزادانہ حرکت ہونی چاہیے۔ FTAs اور EPAs اس طرح مختلف ممالک اور خطوں کو ایک بازارِ واحد میں تبدیل کر دیتے ہیں‘ جہاں مسابقت کو جِلا ملتی ہے اور معیشت فروغ پاتی ہے۔

FTAs اور EPAs معیشت کے علاقائی معاشی اتحاد کا نیوکلیس تشکیل دیتے ہیں۔ WTO کی نوٹی فکیشن پر مبنی وزارتِ معیشت‘ تجارت اور صنعت کے مطابق پوری دنیا میں سال ۲۰۰۳ء میں ۱۸۹ FTAs طے پائے۔ جبکہ ۱۹۹۰ FTAs کی تعداد صرف ۳۱ تھی اور ۱۹۷۰ء میں ان کی تعداد صرف ۴ تھی۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ گذشتہ دس برسوں میں FTAs کے ذریعہ علاقائی معاشی زونز کے قیام میں FTAs کے استعمال میں بہت ہی مثبت اور غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے۔ اس علاقائی اتحاد کی سب سے بہترین مثال یورپی یونین ہے۔ یورپی یونین کا پیش خیمہ یورپی یونین اکانومک کمیونٹی (EEC) تھی‘ جس کا قیام ۱۹۵۸ء میں عمل میں آیا تھا تاکہ یورپ میں تجارتی فری زون کو فروغ دیا جائے اور تمام بیرونی شراکت دار ممالک کے لیے یکساں ٹرین کا حساب ہو۔ یورپی یونین مشرق کی جانب مزید پھیلی جب ۱۹۸۹ء میں سرد جنگ کا اختتام ہوا۔ اس طرح یہ یونین ایک طاقتور علاقائی معاشی زون میں بدل گئی جو ۲۵ ممالک پر مشتمل ہے اور جس کی کل آبادی ۴۵۵
ملین ہے۔
شمالی امریکا میں یہ ہوا کہ امریکا‘ کینیڈا اور میکسیکو نے مل کر نارتھ امریکا فری ٹریڈ اگریمنٹ (NAFTA) نامی معاہدہ کیا جس پر ۱۹۹۲ء میں ارکان نے دستخط کر دیے۔ نافٹا ایک دوسرا علاقائی معاشی زون ہے جس کی آبادی ۴۴۱ ملین اور جی ڈی پی ۵ء۱۱ ٹریلین بتائی جاتی ہے۔ جنوبی امریکا نے بھی اپنے اتحاد کو ۱۹۹۱ء سائوتھرن کامن مارکیٹ (MERCOSUR) نامی تنظیم کے ذریعہ منظم کیا اور اپنی معیشت کو فروغ دیا۔ اس تنظیم میں ارجنٹائنا‘ برازیل‘ پیراگوئے اور یوروگے وغیرہ شامل ہیں۔ اس وقت ایک قدرے وسیع تر فری ٹریڈ زون کے لیے جنوبی و شمالی اور کریبین کے ۳۴ ممالک کے مابین بات چیت چل رہی ہے (صرف کیوبا کے استثنا کے ساتھ)۔

Free Trade Area of the Americas (FTAA) کے نام سے ایک معاشی اتحاد دسمبر ۲۰۰۵ء میں فعال و متحرک ہونے والا ہے۔ آج کی عالمی معیشت میں ایشیا ایک تیسرے اہم معاشی زون کی حیثیت رکھتا ہے اگرچہ ایشیا میں معاشی یکجہتی کا آغاز ذرا دھیما ہے۔ اس سست رفتاری کی بڑی وجہ جاپان ہے۔ جاپان علاقے میں سب سے بڑی معیشت کا حامل ہونے کی وجہ سے اور سب سے ترقی یافتہ ہونے کی وجہ سے FTAs اور EPAs جیسے معاہدوں میں شامل ہونے کے حوالے سے عموماً کوتاہ واقع ہوا ہے۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد جاپان نے اعلیٰ کوالٹی اور سستی قمیت کی چیزیں تیار کر کے اور پھر انہیں باہر کے ملکوں میں برآمد کر کے اپنی معیشت کی تعمیر کی۔ اس تجارتی پالیسی کی کامیابی کے لیے ضروری تھا کہ بیرونی مارکیٹیں جاپانی مصنوعات کے لیے کھلی رہیں۔ جنگ کے بعد کی جاپانی حکومتوں نے اس طرح اپنی تجارتی پالیسی کی بنیاد General Agreement on Tariffs and Trade (GATT) کی برقراری اور استحکام پر رکھی۔ یقینا اس پالیسی میں کوئی خامی نہیں تھی۔ جنگ کے بعد کی دنیا میں جاپان نے آزاد تجارتی نظام سے بے حد فائدہ اٹھایا اور نتیجتاً اپنی معیشت کو خوب ترقی دی۔ بہرحال اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ جاپان علاقائی معاشی تعاون کی نئی تحریک جو نوے کی دہائی میں شروع ہوئی ہے‘ کے حوالے سے زیادہ پرجوش نہیں دکھائی دیتا ہے۔ ۸۰ کی دہائی کے وسط میں جاپان کی مینوفیکچرنگ اور دیگر کمپنیوں نے پروڈکشن سہولیات کو مشرقی ایشیا کے دوسرے ممالک میں منتقل کرنا شروع کر دیا تھا۔ اب تقریباً ۲۰ سال بعد برآمد کیے جانے والے ممالک میں جاپانی کارپوریشنوں اور مقامی کمپنیوں کے مابین ایک آزاد اور انتہائی جدید بین الاقوامی پیداوار اور تقسیم کا نیٹ ورک بن چکا ہے۔ بہرحال اس تعامل کے لیے FTAs کے ذریعہ ایک منظم تعاون کا ابھی بھی فقدان ہے۔ ایشیا کے درج ذیل ممالک میں اوسط کسٹم ٹیرف یہ ہیں:

فلپائن %۶ء۲۵
تھائی لینڈ %۸ء۲۵
انڈونیشیا %۱ء۳۷

جبکہ یہ امریکا کے %۶ء۳ یا یورپی یونین کے %۱ء۴ کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہیں۔ اسی لیے ایشیائی ممالک میں ٹیرف کی یہ اونچی شرح ان کمپنیوں کے لیے رکاوٹ ہیں جو علاقے میں باہمی کاروبار کے لیے کوشاں ہیں۔

(بشکریہ: ’’ایشیا پیفیسک‘‘۔ جاپان۔ نومبر ۲۰۰۴ء)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*