ملکوں کے مابین معاہدانہ تعلقات اور عسکری اقدام

قیامِ پاکستان کے فوراً بعد جہادِ کشمیر کے حوالے سے ایک اہم سوال پیدا ہوا تھا۔ اس وقت ممتاز دینی اسکالر مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کا ایک خاص مؤقف تھا، جس پر بعض حلقوں نے خاصا شور مچایا۔ ان پر شدید تنقید کی گئی۔ مگر وہ اپنے علمی مؤقف پر اپنے دلائل کے ساتھ قائم رہے۔ اسی بحث کے تناظر میں ۱۷؍اگست ۱۹۴۸ء کو مولانا مودودی نے سہ روزہ ’’کوثر‘‘ کو ایک تفصیلی انٹرویو دیا، جس میں اس موقف کو پوری صراحت اور وضاحت سے بیان کیا۔ ہم اس تاریخی انٹرویو کو قارئین کے لیے دوبارہ پیش کر رہے ہیں۔ آج کل بھی ہمارے ہاں اِسی طرح کی بحث جاری ہے۔ اِن علمی نکات سے معاملے کی تفہیم میں مدد مل سکتی ہے۔

مولانا مودودی مرحوم کا ۶۵ سال پہلے دیا گیا یہ تاریخی انٹرویو ملاحظہ کیجیے۔ (ادارہ):


سوال :ایک ذمہ دار خطیب صاحب نے آپ پر الزام عائد کیا ہے کہ آپ نے کشمیر میں شہید ہونے والوں کی موت کو حرام قرار دیا ہے اور انہیں جہنمی کہا ہے، کیا واقعتاً ایسا ہے؟

جواب:یہ بات میں نے کبھی نہیں کہی، جو کچھ میں نے کہا ہے کہ صرف اس قدر ہے کہ جب تک حکومتِ پاکستان نے حکومت ہند کے ساتھ معاہدانہ تعلقات قائم کررکھے ہیں، پاکستانیوں کے لیے کشمیر میں ہندوستانی فوجوں سے لڑنا ازروئے قرآن جائز نہیں۔ میرے اس قول کو لے کر ایک منطقی ہیر پھیر کے ذریعے سے یہ نتیجہ نکال لیا گیا ہے کہ جب ایسا کرنا جائز نہیں ہے تو جو لوگ وہاں لڑ کر مارے جاتے ہیں وہ ضرور حرام موت مرتے ہیں اور جہنمی ہیں۔ پھر اپنے نکالے ہوئے اس نتیجہ کو زبردستی مجھ پر تھوپ دیا گیا کہ یہ میرا قول ہے۔ یہ دراصل تکفیر بازوں کا پرانا حربہ ہے کہ کسی شخص کی کہی ہوئی اصل بات پر اگر لوگوں کو اشتعال نہ دلایا جا سکے تو اس میں سے ایک دوسری بات خود نکال کر اس کی طرف منسوب کر دی جائے درآں حالے کہ اس نے وہ بات نہ کہی ہو۔ مثلاً ایک گروہ کے نزدیک ایک چیز سے وضو ٹوٹ جاتا ہے اور دوسرے کے نزدیک نہیں ٹوٹتا۔ اب بڑی آسانی سے اول الذکر گروہ پر الزام تھوپ دیا جا سکتا ہے کہ وہ موخر الذکر گروہ کے تمام لوگوں کی نمازوں کو باطل قرار دیتا ہے۔ اس طرح کی کھینچ تان سے کام لے کر بارہا مسلمانوں کو مسلمانوں سے لڑایا جا چکا ہے اور مجھے افسوس ہے کہ فتنہ پردازی کا یہ فن اب تک تازہ ہے۔ سیدھی بات یہ ہے کہ میں ایک معاملے میں اپنی رائے رکھتا ہوں اور دلائل کے ساتھ اسے ظاہر کردیتا ہوں۔ دوسرے علما کچھ اور رائے رکھتے ہیں اور وہ بھی اپنی رائے بیان کر دیتے ہیں۔ اب جسے میری رائے پر اطمینان ہو وہ اس پر عمل کرے اور جسے دوسرے علما کے فتویٰ پر بھروسا ہو وہ اس پر عمل کر لے۔ کسی کی عاقبت کے متعلق پیشگوئی کرنا اور کسی کو جنت اور کسی کو دوزخ بانٹنا نہ میرا کام ہے اور نہ کسی دوسرے عالم کا۔ یہ خدا کاکام ہے اور وہ اپنے جس بند ے کو چاہے جنت بھیجے اور جسے چاہے دوزخ میں جگہ دے۔ میں کسی مسئلے میں جس حد تک اظہار رائے کر سکتا ہوں، وہ صرف اس قدر ہے کہ ایسا کرنا شرعاً صحیح ہے یا نہیں اور اس رائے پر بھی مجھے اصرار نہیں ہوتا کہ ضرور اسی کو حق مانا جائے۔ اگر کوئی عالم دین دیانتداری کے ساتھ اس رائے سے اختلاف رکھتا ہو اور خود اس پر عمل کرے یا اس کے فتویٰ پر کوئی دوسرا شخص عمل کر لے تو شرعاً اس میں کوئی قباحت نہیں ہے۔ البتہ میں جس چیز کو صحیح سمجھتا ہوں، اس پر خود عمل کرتا ہوں اور دوسروں کو وہی رائے دے سکتا ہوں اور جب تک اس کے خلاف کوئی دلیل مجھے مطمئن نہ کر دے، اپنی رائے دیانتاً واپس نہیں لے سکتا۔ اجتہادی مسائل میں علما کا قدیم سے یہی طریقہ چلا آ رہا ہے اور کبھی کسی ذمہ دار عالم نے اپنی اجتہادی رائے کے متعلق ایسا اصرار نہیں کیا کہ جو لوگ کچھ دوسری رائے رکھتے ہیں، ان کے عمل کو باطل قرار دیں اور ان کے جہنمی یا جنتی ہونے کا پیشگی فیصلہ صادر کریں۔

سوال:آپ کے متعلق یہ بات کہی جاتی ہے کہ آپ جہاد کشمیر کو جہاد ہی نہیں مانتے، اگر ایسا ہے تو آپ کی رائے کی بنیاد کیا ہے؟

جواب: میں بارہا اس بات کو واضح کر چکا ہوں کہ کشمیر کے لوگوں کواپنی مدافعت کے لیے لڑنے کا پورا حق ہے اور ان کی لڑائی جہاد کے حکم میں ہے۔ اب جو لوگ کوئی غلط بات مجھ سے منسوب کرتے ہیں، وہ خود اس کے ذمہ دار ہیں۔

سوال :آپ کے متعلق اس بات کا بھی عام چرچا کیا جا رہا ہے کہ آپ کشمیری مجاہدین کو مدد دینے کے خلاف ہیں۔ چنانچہ اس طرح کی باتوں سے پاکستانیوں میں بھی اور آزاد قبائل میں بھی، بہت بددلی پھیلائی جا رہی ہے؟

جواب:آزاد قبائل کے جو لوگ پاکستان کے شہری نہیں ہیں، وہ قطعاً کسی ایسے معاہدے کے پابند نہیں ہیں جو ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ہو۔ وہ اگر کشمیری مجاہدین کی امداد کے لیے جائیں تو ان کو حق پہنچتا ہے اور ان کا اسلامی فرض ہے کہ وہ ان کی مدد کریں۔ البتہ انہیں یہ کام حسنِ نیت کے ساتھ کرنا چاہیے اور اسلامی حدود کو ملحوظ رکھنا چاہیے۔ رہا پاکستان کے لوگوں کی طرف سے امداد کا سوال تو اس معاملہ میں مَیں نے جو کچھ رائے ظاہر کی ہے، وہ جنگی امداد کے متعلق ہے۔ اور جنگی امداد میں صرف دو چیزیں آتی ہیں۔ ایک اسلحہ فراہم کرنا، دوسرا لڑنے کے لیے آدمی بھیجنا۔ یہ دو قسم کی مدد دینا میں اس وقت تک جائز نہیں سمجھتا، جب تک یہ ثابت نہ ہوجائے کہ دونوں حکومتوں کے درمیان کسی طرح کے معاہدانہ تعلقات نہیں تھے یا اب نہیں رہے۔ ان دو قسم کی اعانتوں کے سوا ہم آزاد کشمیر کے لوگوں اور اُن کی مدد کرنے والوں کو غلہ،کپڑا، دوائیں مرہم پٹی کا سامان طبی امداد کے لیے ڈاکٹر اور تیمار دار، سب کچھ بھیج سکتے ہیں۔ حتیٰ کہ اگر وہ پاکستان میں آکر اسلحہ خریدیں تو ان کے ہاتھ وہ بھی فروخت کر سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں خود جماعت اسلامی بھی خاموشی کے ساتھ کچھ نہ کچھ کر رہی ہے اور یہ چیز اصولاً معاہدانہ تعلقات کے خلاف نہیں ہے۔

سوال: کہا جا رہا ہے کہ آپ نے اور آپ کی جماعت نے جہاد کشمیر کو کمزور کرنے کے لیے ایک مستقل معرکہ شروع کررکھا ہے اور اس سے محاذ کشمیر کو مضبوط کرنے کی کوششوں میں خلل آ رہا ہے۔ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ شرعاً آپ کے لیے ایسی مہم جاری کرنا لازم ہے؟

جواب: یہ مہم جاری کرنے کا الزام قطعاً بے بنیاد ہے۔ میں نے تو ایک شخص کے اصرار پر، ایک پرائیویٹ صحبت میں، محض اپنی رائے ظاہر کر دی تھی۔ اس کے بعد اس رائے کو پھیلانے کی پوری مہم ان لوگوں نے خود اپنے ذمے لے لی، جنہیں کشمیر کو بچانے کی اتنی فکر نہیں، جتنی مجھے بدنام کرنے کی فکر ہے۔ ذاتی طور پر میری اور بحیثیت مجموعی جماعت اسلامی کی مستقل پالیسی یہ ہے کہ ہم اپنے اصل مقصد یعنی نظام اسلامی کے قیام کے سوا کسی اور مسئلے کو اپنی جدوجہد کا محور نہیں بناتے۔ دوسرے مسائل اگر پیش آتے ہیں تو ان پر زیادہ سے زیادہ بس اتنا ہی کیا جاتا ہے کہ ہم اپنے نزدیک جو کچھ حق سمجھتے ہیں، اس کو بیان کر دیتے ہیں۔ اس کے بعد اس کی تبلیغ اور اس کے لیے کوئی جدوجہد نہ میں خود کرتا ہوں نہ جماعت کے لوگ۔ میں نے پچھلے چند مہینوں میں متعدد تقریریں کی ہیں جنہیں ہزاروں آدمیوں نے سنا ہے اور کوئی سامع یہ شہادت نہیں دے سکتا کہ مسئلہ کشمیر کے متعلق میں نے کچھ بھی اظہار رائے کیا ہو۔ صرف لائل پور میں چند الفاظ مجبوراً اس لیے کہے تھے کہ مجمع عام میں مجھ سے سوال کیا گیا اور میں نے جب کہا کہ سائل صاحب نجی صحبت میں مجھ سے آ کر دریافت کر لیں، تو اصرار کیا گیا کہ مجمع عام ہی میں جواب دیا جائے۔ جماعت کے دوسرے لوگوں کے متعلق میں نے پوری طرح تحقیق کر لی ہے کہ انہوں نے بطور خود اس مسئلہ کو کسی کے سامنے چھیڑا ہے نہ کہیں اس کی تبلیغ کی ہے۔ لیکن اس کا کیا علاج کیا جائے جب ہم نظام اسلامی کی دعوت پیش کرنے کے لیے لوگوں کے سامنے جاتے ہیں تو فتنہ پسند لوگ جان بوجھ کر خود اس سوال کو چھیڑتے ہیں۔ معذرت کی جائے تو اصرار کرتے ہیں اور جب مجبوراً جواب دیا جائے تو الزام عائد کرتے ہیں کہ تم نے اس کے لیے مہم شروع کر رکھی ہے، حالانکہ مہم خود ان لوگوں نے شروع کر رکھی ہے جو اخبارات میں اور خطبوں اور تقریروں میں اس سوال کو چھیڑتے چلے جا رہے ہیں۔

سوال : یہ بات آپ کے علم میں آچکی ہو گی کہ تقریر و تحریر کے ذریعے عام طور پر کہا جا رہا ہے کہ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان کوئی معاہدانہ تعلقات نہیں ہیں اور اس بات کے کہنے والوں میں بعض پبلک اہمیت رکھنے والے حضرات بھی شامل ہیں۔ نیز یہ بھی کہا جاتا ہے کہ قرآن کی جس آیت سے آپ نے استدلال کیا ہے اس میں لفظ ’’میثاق‘‘ آیا ہے۔ وہ صرف عدم محاربہ (Non-Aggression) کے معاہدے یا حلیفانہ (Alliance) کے لیے استعمال ہوتا ہے نہ کہ چند اشیا کے تجارتی تبادلے کے سمجھوتوں کے لیے۔سوال یہ ہے کہ آخر آپ کس بنا پر دونوں کے درمیان معاہدانہ تعلقات ہونے کی رائے رکھتے ہیں؟

جواب: میں جس بنا پر یہ رائے رکھتا ہوں وہ یہ ہے کہ اولاً دونوں حکومتوں کی پیدائش ہی ایک معاہدے کے ذریعے سے ہوئی ہے جو برطانوی حکومت کی پیش کردہ تجویز کو قبول کر کے مسلمانوں اور ہندوئوں کے مسلم نمائندوں نے باہم طے کیا تھا۔ اس معاہدے میں یہ بات آپ سے آپ شامل تھی کہ دونوں مملکتیں ایک دوسرے کی دشمن اور ایک دوسرے کے خلاف برسر جنگ نہیں ہیں، بلکہ یہ پُرامن طریقے سے ملک کی تقسیم پر متفق ہو رہی ہیں۔ اس کے بعد دونوں حکومتوں کے درمیان فوراً سفارتی تعلقات قائم ہو گئے اور ہائی کمشنروں کا تبادلہ ہوا۔ سفارتی تعلقات ہمیشہ سے حالتِ جنگ (State of War) کے نہ ہونے کی دلیل سمجھے جاتے رہے ہیں اور آج بھی سمجھے جاتے ہیں۔ پھر دونوں حکومتوں کے درمیان مالی اور تجارتی معاملات اور مہاجرین کے مختلف مسائل،اغوا شدہ عورتوں کی بازیافت اور کرنسی کے معاملات کے متعلق مسلسل سمجھوتے ہوتے رہے ہیں اور یہ تمام سمجھوتے اس بات کی دلیل ہیں کہ ان کے درمیان حالت جنگ قائم نہیں ہیں۔ دنیا کی کوئی قوم بھی کسی دوسری قوم سے مالی اور تجارتی لین دین اس حالت میں نہیں کرتی جبکہ وہ اسے اپنے خلاف برسر جنگ سمجھتی ہو۔ اس کے بعد ابھی اپریل ۱۹۴۸ء میں دونوں حکومتوں کے درمیان کلکتے کا معاہدہ ہوا ہے، جس میں اور مسائل پر سمجھوتا کرنے کے ساتھ اس امر پر بھی سمجھوتا طے ہوا تھا کہ دونوں حکومتیں اپنے اپنے ملک کے اخبارات کو ہدایات کریں گی کہ وہ کوئی ایسی بات شائع نہ کریں جس سے یہ معنی نکلتے ہوں کہ ان دونوں کے درمیان جنگ ناگزیر ہے، یا اعلان جنگ ہونا چاہیے۔ اس کے صاف معنی یہ ہیں کہ دونوں حکومتیں باہم مصالحانہ تعلقات رکھتی ہیں اور انہیں جاری رکھنا چاہتی ہیں۔ ابھی حال ہی میں اس سمجھوتے کا حوالہ دیتے ہوئے پنڈت نہرو کی معاندانہ تقریروں کے خلاف حکومت پاکستان نے احتجاج کیا ہے کہ یہ تقریریں میثاق کلکتہ کی اسپرٹ کے خلاف ہیں۔اس شکایت کی بنیاد ہی یہ ہے کہ ریاستوں کے متعلق تقسیم کے معاہدے میں ابتداً جو بات طے ہوئی تھی، اس کی رو سے ریاست جونا گڑھ پاکستان میں شرکت کی دستاویز پر دستخط کرنے کے بعد پاکستان کا ایک حصہ ہو چکی ہے اور اس کی پروا نہ کرتے ہوئے انڈین یونین نے اس پر زبردستی قبضہ کیا ہے۔ آخر انڈین یونین کے اس فعل کو بدعہدی قرار دینے کی اس کے سوا اور کیا بنیاد تھی کہ دونوں کے درمیان کوئی معاہدانہ تعلق تھا، جس کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ یہ ساری باتیں بھی اگر کسی کے نزدیک معاہدے کی تعریف میں نہ آتی ہوں تو وہ اپنی رائے کا مختار ہے۔ میں اب تک یہی سمجھتا ہوں کہ دونوں حکومتوں کے درمیان ایسے معاہدانہ تعلقات ہیں جن کو قائم رکھتے ہوئے، ہم انڈین یونین کے خلاف شرعاً کوئی کارروائی نہیں کر سکتے۔ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ’’میثاق‘‘ کا اطلاق صرف اس معاہدے پر ہوتا ہے جس میں عدم محاربہ کی تصریح ہو یا جس میں باہم حلیفانہ تعلق کا عہد و پیمان ہو، وہ نہ قرآن سے کوئی دلیل پیش کر سکتے ہیں، نہ لغت عرب سے۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے اور انبیاء سے جو اقرار لیے تھے، ان کے لیے لفظ ’’میثاق‘‘ ہی کو استعمال کیا ہے، آخر ان دونوں میں سے کون سا مفہوم ان مواقع پر مراد ہے؟

سوال :خیر اگر دونوں حکومتوں کے درمیان کچھ معاہدانہ روابط کے واقع ہونے کو مانا بھی جائے، تو یہ واضح ہے کہ انڈین یونین کی طرف سے ان کی جو خلاف ورزیاں ہو چکی ہیں، ان کے بعد مملکت پاکستان کے باشندوں کو بھی ان کی خلاف ورزی کرنے کا حق پہنچتا ہے، جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب قریشِ مکہ کو صلح حدیبیہ کے بعد عہد شکنی کرتے ہوئے پایا تو معاہدانہ تعلقات کے موجود ہونے کے باوجود مکہ پر چڑھائی کر دی۔ اس مثال کو سامنے رکھنے کے بعد یہاں کے سمجھوتوں کو انڈین یونین کے خلاف جنگی کارروائی کرنے میں رکاوٹ کیسے مانا جا سکتا ہے؟

جواب:جب ایک فریق معاہدہ توڑ دے تو دوسرے فریق کو اخلاقاً و شرعاً یہ حق ضرور حاصل ہو جاتا ہے کہ وہ اس کے ساتھ معاہدانہ تعلقات کو ختم سمجھ کر اس کے خلاف جنگی کارروائی کرے لیکن یہ طریقہ صحیح نہیں ہے کہ اس خلاف ورزیٔ عہد کے بعد بھی اس کو برابر یہ یقین دلایا جاتا رہے کہ ہمارے اور تمہارے درمیان اس کے باوجود تعلقات بدستور قائم ہیں اور سطحی طور پر غیر محاربانہ معاملات جاری رکھتے ہوئے، اندر اندر جنگی کارروائیاں کی جائیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کی خلاف ورزیٔ عہد کے بعد ان کے ساتھ معاہدانہ تعلقات منقطع کر لیے تھے۔ ابو سفیان جب تجدید معاہدہ کے لیے آیا تو آپ نے اس کی درخواست قبول نہ فرمائی اور مکہ پر براہ راست خود چڑھائی کر دی۔ یہی طرزِ عمل اسلام نے ہم کو سکھایا ہے کہ لڑنا ہو تو کھل کر لڑیں اور صلح کے تعلقات رکھنے ہوں تو سیدھی طرح صلح کا تعلق رکھیں۔ ان دونوں کے درمیان یہ بیچ کی راہ اسلام نے ہم کو نہیں سکھائی کہ ظاہر میں معاہدۂ تعلقات کی برقراری کا یقین بھی دلایا جاتا رہے، سمجھوتے اور اقرار نامے بھی کیے جاتے ہیں اور بباطن جنگی کارروائی بھی کی جائے۔ اس طرز عمل کے لیے مجھے نہ قرآن و حدیث میں کوئی دلیل ملی ہے، نہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی سیرت سے کوئی شہادت۔ اگر کوئی صاحب ایسی کوئی شہادت رکھتے ہوں تو وہ اسے پیش فرمائیں۔ میں اپنی رائے واپس لینے کے لیے تیار ہوں۔ یہ بات بھی میں واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ معاہدے کرنا اور ان کو معدوم یا ختم شدہ قرار دینا، نہ تو اخبارات کا کام ہے نہ انفرادی طور پر لیڈروں کا اور نہ خطیبوں اور مقرروں کا۔ یہ کام صرف حکومتیں ہی کرتی ہیں اور وہی کر سکتی ہیں۔ اگر معاہدانہ تعلقات ختم ہو چکے ہیں یا سرے سے تھے ہی نہیں تو یہ حکومت پاکستان کا کام ہے کہ صاف صاف اس بات کو کہے۔ اگر آج حکومت پاکستان سرکاری طور پر اس چیز کا اعلان کر دے تو میں اعتراف کر لوں گا کہ اب شرعی پوزیشن وہ نہیں ہے جو میں نے بیان کی تھی اور ہم جنگی کارروائی کرنے کے لیے آزاد ہیں۔

سوال:معاہدات کو موجود اور برقرار سمجھتے ہوئے یہ بات قابل غور ہے کہ خاص سرزمین کشمیر کے متعلق تو ہمارا کوئی سمجھوتا نہیں ہے۔ لہٰذا اس کے معاملے میں تو پاکستان آزاد ہے کہ جو چاہے کرے؟

جواب:یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ کشمیر کے بارے میں کوئی سمجھوتا نہیں ہوا۔ تقسیم کے معاہدے میں ریاستوں کے متعلق یہ بات طے ہوئی تھی کہ ان کو حق ہو گا کہ دونوں مملکتوں میں سے جس کے ساتھ چاہیں شریک ہوں یا آزاد رہیں۔ اس بنیاد پر جونا گڑھ کی پاکستان میں شرکت کے بعد ہم یہ کہتے ہیں کہ وہ پاکستان کا ایک حصہ ہو چکا تھا اور انڈین یونین نے اس پر زبردستی قبضہ کیا۔ اسی بنیاد پر ہم آزادی کی حمایت کر رہے ہیں۔ اب کشمیر کے معاملے میں ہم یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ سرے سے کوئی معاہدہ ہی نہیں ہے۔ ہمیں یہ دعویٰ کرنے کا حق ضرور ہے کہ کشمیر کے باشندوں کی مرضی کے خلاف، والیٔ ریاست نے مستبدانہ طریق سے انڈین یونین میں شرکت کی ہے اور ہم ایسی شرکت کو تسلیم نہیں کرتے۔ لیکن اس دعویٰ کے معاملہ میں ہمارے لیے دو ہی طریقِ کار ہو سکتے ہیں۔ یا تو ہم مصالحانہ طریق سے باشندگان کشمیر کے اس حق کو تسلیم کرائیں یا کھلا کھلا اپنی فوجیں کشمیر میں اس طرح اتار دیں جس طرح انڈین یونین نے جونا گڑھ میں اتاری تھیں۔ ان دونوں سیدھی راہوں کے درمیان کوئی تیسری راہ دیانت اور سچائی کی راہ نہیں ہے، بلکہ مغربی طرز کی غیر اخلاقی راہ ہے۔ آپ اس راہ پر چلنا چاہیں تو چلیے، مگر اسلام کو اپنے ساتھ گھسیٹنے کی کوشش نہ فرمائیے۔

سوال: ایک اور بات بھی تو فیصلہ طلب ہے کہ پاکستان کی طرف سے جس حکومت نے انڈین یونین سے سمجھوتے کیے ہیں، وہ ایک غیر شرعی حکومت ہے اور مسلمان ایک غیر شرعی حکومت کے طے کیے ہوئے سمجھوتوں کے پابند ہی کب ہیں؟

جواب: پاکستان کی حکومت خواہ شرعی ہو یا غیر شرعی، بہرحال وہ سب مسلمانوں کے اپنے منتخب کیے ہوئے نمائندوں پر مشتمل ہے اور خصوصیت کے ساتھ اس کے گورنر جنرل کو کم از کم ۹۵ فیصدی مسلمانوں کا اعتماد حاصل ہے۔ ایسی حکومت جو بھی کام کرتی ہے وہ قوم کی طرف سے کرتی ہے اور اس کے اعمال کے لیے پوری قوم، خدا اور خلق دونوں کے سامنے ذمہ دار ہے۔ اسی بنا پر تو میں کہتا ہوں کہ اگر مسلمانوں کے اپنے منتخب کیے ہوئے نمائندوں کے ہاتھوں یہاں ایک غیر شرعی حکومت قائم ہو اور چلتی رہے تو پوری قوم خدا کے ہاں جوابدہ ہو گی اور اسی بنا پر میں یہ کہتا ہوں کہ دوسری قوموں کے ساتھ جو معاہدات پاکستان کی حکومت طے کرے، ان کی شرعی اور اخلاقی ذمہ داریوں سے پاکستان کے باشندے آزاد نہیں ہو سکتے۔ فرض کیجیے کہ یہ حکومت کسی دوسری قوم سے کوئی قرض لے یا کوئی ایسا تجارتی معاملہ طے کرے جس میں ہمارے ملک پر کوئی رقم واجب الادا ہوئی ہو تو کیا ہم یہ کہنے میں حق بجانب ہوں گے کہ یہ غیر شرعی حکومت ہے، لہٰذا ہم اس کے لیے ہوئے قرضے اور اس کے مالی مطالبات کو ادا کرنے کے ذمہ دار نہیں ہیں! یہ بات اگر ہم کہیں، تو پوچھنے والا ہم سے پوچھ سکتا ہے کہ پھر آپ نے ایسے لوگوں کو اپنا نمائندہ کیوں بنا رکھا ہے، جو آپ کے عقیدے کی رو سے غیر شرعی حکومت چلا رہے ہیں۔

سوال: اگر آپ کے نظریہ کو مان لیا جائے تو پھر آپ پر یہ ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے کہ آپ کشمیر کے قضیہ کے بارے میں قوم کو صاف صاف بتائیں کہ اس کو حل کرنے کے لیے ہونا کیا چاہیے؟

جواب: کشمیر کے معاملے میں جو الجھنیں واقع ہوئی ہیں۔ وہ سب ہمارے لیڈروں کی پیہم غلطیوں کے نتائج ہیں۔ انہوں نے ریاستوں کے متعلق ایک بالکل مبہم بات مان لی اور قطعی طور پر یہ طے نہیں کرایا کہ کسی مملکت میں کسی ریاست کی شرکت کا فیصلہ والیٔ ریاست نہیں کرے گا، بلکہ باشندگانِ ریاست کریں گے۔ بلکہ وہ ہمارے ہی لیڈر تھے جنہوں نے اس خیال کی مخالفت کی تھی۔ پھر انہوں نے سرحدوں کے تعین کا فیصلہ ریڈ کلف اور مونٹ بیٹن کے ہاتھ میں چھوڑ دیا اور پیشگی لکھ کر دے دیا کہ جو سرحدی خط وہ کھینچ دیں گے اس کو یہ بلاچوں چرا مان لیں گے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ گورداسپور کا ضلع انڈین یونین میں شامل کر دیا گیا اور کشمیر کے ہندو رئیس کو ہندوستان کے ساتھ شامل ہونے کا راستہ مل گیا۔ پھر انہوں نے ریاست کشمیر کے ساتھ بحالیٔ تعلقات کا معاہدہ کر لیا اور جموں اور پونچھ میں جب مسلمانوں پر ظلم و ستم ہو رہے تھے تو یہ خاموش بیٹھے دیکھتے رہے۔ پھر جب والئی کشمیر انڈین یونین میں شامل ہو گیا اور ہندوستان نے وہاں اپنی فوجیں اتار دیں تو چند بیانات دینے کے سوا انہوں نے کچھ نہ کیا۔ اب صورتحال یہ ہے کہ ایک طرف ہندوستان کی فوجیں کشمیر کے معاملہ کو بہ نوک شمشیر طے کرنے میں لگی ہوئی ہیں، دوسری طرف ریاست حیدر آباد کو محو کرنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں اور تیسری طرف پاکستان کی حکومت اقوامِ متحدہ میں مقدمہ لڑنے کے علاوہ اور جلے کٹے بیان دینے کے سوا کچھ نہیں کر رہی ہے۔ یہ سب ہمارے لیڈروں کی کمزوریوں کے نتائج ہیں۔ ان نتائج کے چکر سے نکلنے کی صورت یہ نہیں ہے کہ ہم غیر اسلامی چالوں سے کام لیں اور خود اپنے نمائندوں کی قبول کی ہوئی ذمہ داریوں سے آزاد ہو کر ایسی جنگی کارروائیاں کرنے لگیں جو کم از کم میرے علم کی حد تک تو شرعاً جائز نہیں ہیں۔ اس کے بجائے ہمیںاپنی حکومت سے یہ مطالبہ کرنا چاہیے کہ وہ ان معاہدانہ تعلقات کو ختم کر کے خدا کے بھروسے پر اُٹھے اور کشمیر کے مسئلے کو اسی طرح طے کرے جس طرح انڈین یونین اس کو طے کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ میں حالات کو جس طرح دیکھ رہا ہوں، مجھے یقین ہے کہ بالا ٓخر کرنا یہی پڑے گا، لیکن بعدازوقت کرنے سے کچھ حاصل نہ ہو گا۔ اگر وہ یہ نہیں کر سکتی تو کم از کم معاہدانہ تعلقات ختم کر دے تاکہ ہم ان کی اخلاقی ذمہ داریوں سے بری ہو جائیں اور اگر فی الواقع اس کے اور انڈین یونین کے درمیان کوئی ایسے معاہدانہ تعلقات نہیں ہیں جو جنگی کارروائی کرنے میں مانع ہوں تو اس بات کو وہ صاف صاف ظاہر کر دے۔

(بشکریہ: سہ روزہ ’’کوثر‘‘ ۱۷؍اگست ۱۹۴۸ء لاہور)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*