چین میں مذہب کا بڑھتا رجحان

چین کا مغربی شہر ونگزو بہت تیزی سے بیت المقدس کی سی حیثیت اختیار کرتا جارہا ہے۔ دارالحکومت بیجنگ سے خاصا دور اور پہاڑیوں سے گِھرا ہوا یہ شہر عیسائیت کے مرکز میں تبدیل ہو رہا ہے۔ حکام اس شہر میں عیسائیت کے بڑھتے ہوئے فروغ کو شک کی نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ شہر کی آبادی کم و بیش ۹۰ لاکھ ہے اور اِس میں گِرجوں کی عمارتیں ۹ سے زیادہ نہیں مگر اب یہاں لوگ مذہبیت کی طرف تیزی سے مائل ہو رہے ہیں۔ کرسمس کے موقع پر گِرجوں کی عمارتوں پر درجنوں صلیبیں دکھائی دیتی ہیں۔

رواں سال کم و بیش ۲۳۰ عمارتوں کو غیر قانونی قرار دے کر گرایا جاچکا ہے۔ ایسی وڈیو بھی دستیاب ہیں جن میں سیکڑوں افراد کو غیرقانونی قرار دی جانے والی عمارتوں کے گرد ڈھال بناتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ان لوگوں کو کہنا ہے کہ عبادت کے لیے قائم کی جانے والی عمارتوں کو گرایا جارہا ہے۔ انہوں نے بڑی صلیبیں بھی دکھائیں۔ اپریل میں ونگزو کا ایک بڑا گِرجا گھر مسمار کردیا گیا۔ ونگزو میں بھی سرمایہ دارانہ نظام تیزی سے دراندازی کررہا ہے۔ لوگ نجی ملکیت کی طرف لَوٹ رہے ہیں۔ ان کی خواہش ہے کہ معاشی میدان میں زیادہ سے زیادہ ترقی کریں۔ اشتراکیت کمزور پڑتی جارہی ہے۔ حکام کو سرمایہ داری اور اشتراکیت کے تصادم سے کچھ غرض نہیں۔ مگر ہاں، وہ ملک میں مذہب کا فروغ نہیں چاہتے۔ یہی سبب ہے کہ وہ عیسائیت کے فروغ پر پریشان ہیں اور چاہتے ہیں کہ لوگ مذہب کی طرف جانے سے گریز کریں۔ الحاد کو چینی معاشرے میں بہت حد تک اب بھی سرکاری سرپرستی حاصل ہے۔

چین میں عیسائیوں کو نشانہ بنائے جانے کا ہر دور میں دعویٰ کیا جاتا رہا ہے۔ ماؤزے تنگ کے زمانے میں نئے آئین کے تحت مذہبی آزادی کی ضمانت دی گئی تھی۔ اس کا مقصد بظاہر مغرب میں مسلمانوں اور تبتی بُدھسٹوں کو مذہبی آزادی فراہم کرنا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ اُس دور میں لاکھوں عیسائیوں کو صفحۂ ہستی سے مٹایا گیا اور ہزاروں کو لیبر کیمپس میں بھیج دیا گیا۔ ماؤزے تنگ کے انتقال کے بعد چین کی مرکزی کمیونسٹ پارٹی نے مذہبی آزادی کے حوالے سے حوصلہ افزا اقدامات کیے۔ تب سے اب تک مختلف مذاہب فروغ پاتے رہے ہیں۔ عیسائیت بھی فروغ پاتی رہی ہے۔ ملک بھر میں اب سرکاری سرپرستی میں کام کرنے والے ہزاروں گرجا گھر ہیں۔ بیشتر گرجا گھر اپنی مدد آپ کے اُصول کی بنیاد پر چلائے جاتے رہے ہیں۔ ان گرجا گھروں پر بیرونی اثرات برائے نام ہیں۔ ان گرجا گھروں میں سب سے زیادہ اس بات کی کوشش کی جاتی ہے کہ حب الوطنی پروان چڑھے۔ ونگزو اور دیگر بڑے شہروں کے عیسائی ایسے سرکاری گرجا گھروں کو زیادہ پسندیدگی کی نظر سے نہیں دیکھتے۔

چین میں عیسائیت کا فروغ اس قدر تیز ہے کہ حکومت اسے کنٹرول کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔ کل تک عیسائی خوفزدہ تھے مگر اب نہیں۔ اب وہ اپنی مذہبی وابستگی کا کھل کر اظہار کرتے ہیں۔ سرکاری گرجا گھروں کے مقابلے میں گھروں میں قائم گرجا گھروں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔ عیسائی اب معاشرے میں اپنی شناخت کھل کر ظاہر کرتے ہیں اور زیادہ فعال کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ چین میں عیسائیت کا معاملہ اب اتنا بڑھ گیا ہے کہ مرکزی کمیونسٹ پارٹی کی صفیں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔ عیسائی اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ ویت نام اور کیوبا کی طرح چینی کمیونسٹ پارٹی بھی عیسائیت کو دباؤ میں رکھنے کی پالیسی ترک کرتے ہوئے لوگوں کو مذہبی وابستگی کی کھلی اجازت دے۔

اگر چینی کمیونسٹ پارٹی نے مذہب کے حوالے سے اپنی سوچ تبدیل کرلی تو معاشرے میں بہت کچھ بدل جائے گا۔ اس وقت حکومت مذہب سے تعلق رکھنے والی ہر چیز کو شک کی نظر سے دیکھتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بعض معاملات میں شکوک و شبہات کو کچھ زیادہ ہی اپنایا گیا ہے۔ جو غیرسرکاری تنظیمیں بہبودِ عامہ کے کام کرتی ہیں، اُنہیں بھی شک کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔

چینی کمیونسٹ پارٹی کے لیے زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ چین میں سب سے بڑے نسلی گروہ ہان میں بھی مذہب تیزی سے فروغ پارہا ہے۔ ہان چینی آبادی میں ۹۰ فیصد ہیں۔ اگر ان میں عیسائیت، اسلام، بدھ ازم اور دیگر ادیان و مذاہب کا فروغ جاری رہا تو معاشرے کی ساخت تبدیل ہوجائے گی۔

چین میں ترقی کی رفتار غیرمعمولی ہے۔ بلٹ ٹرینیں بھی عام ہوتی جارہی ہیں۔ ملک بھر میں لوگ تیزی سے متحرک ہو رہے ہیں۔ ٹرین مختلف شہروں سے گزرتی ہے تو گرجا گھر، مساجد اور دیگر معبد دکھائی دیتے ہیں۔ چین میں بدھ ازم کو بہت پہلے گرین سگنل دے دیا گیا تھا۔ بدھسٹوں کی تعداد بھی بڑھتی جارہی ہے۔ یہی حال عیسائیت کا ہے۔ کارل مارکس نے مذہب کو عوام کے لیے افیون قرار دیا تھا۔ اب سچ یہ ہے کہ لوگ مذہب میں نجات تلاش کرنے لگے ہیں۔ حکومت یہ سمجھتی ہے کہ مذہبی رجحانات لوگوں کو پارٹی، ملک اور حکومت سے دور لے جائیں گے۔ ۱۹۴۹ء میں جب کمیونسٹ پارٹی نے اقتدار سنبھالا تھا تب چین میں ۳۰ لاکھ کیتھولک عیسائی اور ۱۰؍لاکھ پروٹسٹنٹ عیسائی تھے۔ حکام بتاتے ہیں کہ آج چین میں کم و بیش ۲ کروڑ ۳۰ لاکھ کیتھولک اور ۴ کروڑ پروٹسٹنٹ ہیں۔ امریکا کے پیو ریسرچ گروپ نے بتایا تھا کہ ۲۰۱۰ء میں چین میں ۵ کروڑ ۳۰ لاکھ پروٹسٹنٹ اور ۹۰ لاکھ کیتھولک تھے۔ چین اور بیرونی دنیا کے بہت سے ماہرین اب اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ چین کی مرکزی کمیونسٹ پارٹی کے ۸ کروڑ ۷۰ لاکھ ارکان سے زیادہ تو اب چین میں عیسائی ہیں!

انڈونیشیا کی پرڈیو یونیورسٹی کے یینگ فینگ گینگ کا کہنا ہے کہ ۱۹۸۰ء کے بعد سے چین میں عیسائیت ۱۰؍فیصد سالانہ کی شرح سے فروغ پارہی ہے۔ اگر یہی رجحان برقرار رہا تو ۲۰۳۰ء تک چین میں کم و بیش ۲۵ کروڑ عیسائی ہوں گے۔ یہ ویسی ہی کیفیت ہے جو چوتھی صدی عیسوی میں رومن سلطنت میں پیدا ہوئی تھی۔ کانسٹنٹائن کے عیسائیت قبول کرنے سے کچھ قبل پورے خطے میں عیسائیت قبول کرنے کی رفتار بہت تیز تھی۔

چین میں عیسائیت کو زیادہ فروغ دیہی علاقوں میں ملا ہے۔ ۱۹۸۰ء کے عشرے میں صحت کا مقامی نظام کمزور پڑنے سے لوگوں کو حکومتی مشینری پر اعتماد اٹھ گیا اور اُنہوں نے یہ سوچنا شروع کیا کہ اُن کے زخموں کا مرہم عیسائیت کے پاس ہے۔ اب بڑے شہروں میں بھی عیسائیت تیزی سے پنپ رہی ہے۔ پڑھے لکھے لوگ بھی عیسائیت کی طرف تیزی سے متوجہ ہو رہے ہیں۔ یونیورسٹی آف ویسٹ منسٹر سے وابستہ پروفیسر جرڈا ویلینڈر نے اپنی کتاب ’’کرسچین ویلیوز اِن چائنا‘‘ میں لکھا ہے کہ چین میں لوگ عیسائیت کی طرف تیزی سے اِس لیے متوجہ ہو رہے ہیں کہ ایک طرف تو مارکس ازم پر ان کا اعتقاد کمزور پڑچکا ہے اور دوسری طرف اُنہیں اس بات پر بھی یقین ہے کہ عیسائیت کے پاس اخلاقی بُحران کا حل موجود ہے اور یہ کہ عیسائیت غیرانسانی یا ربّانی پیغام ہے جو الہام کے ذریعے وارد ہوا ہے۔

چین میں اس وقت ۲ ہزار سے زائد عیسائی اسکول کام کر رہے ہیں۔ یہ غیرقانونی ہیں۔ چین کے عیسائی چاہتے ہیں کہ اُنہیں مقامی تناظر میں دیکھا جائے۔ بیرونی اور بالخصوص مغربی اثرات اُنہوں نے زیادہ قبول نہیں کیے۔ وہ اپنی جڑیں اپنی زمین میں تلاش کرتے ہیں۔ بیشتر غیرسرکاری تنظیمیں عیسائی اور بدھسٹ چلا رہے ہیں۔ اِن سے وابستہ چینی ڈاکٹر اور نرسوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔ چین میں انسانی حقوق کے پچاس سینئر ترین وکلا میں سے نصف عیسائی ہیں۔ یہ لوگ انسانی حقوق کے مقدمات لڑنے میں غیر معمولی دلچسپی لیتے ہیں۔ شہروں میں خطیر رقوم پر مشتمل فیس وصول کرنے والے وکلا نے مل کر ایسوسی ایشن فار دی ہیومن رائٹس آف چائنیز کرسچینز قائم کی ہے۔ اب چین سے مشنریز بیرون ملک اور بالخصوص ترقی پذیر دنیا میں بھی جانے لگے ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ چین کی مرکزی کمیونسٹ پارٹی مذہب کی طرف جھکتے ہوئے لوگوں سے کس طور نمٹے؟ مذہب کے حوالے سے ریاستی حکمت عملی کو بیشتر واقعات میں مقامی انتظامیہ کے حوالے کردیا گیا ہے۔ مقامی کمیونسٹ پارٹی کے حکام کریک ڈاؤن کو بہترین آپشن کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ وہ طاقت کا بے دریغ استعمال کرکے مرکزی کمیونسٹ پارٹی کی نظر میں اپنی وقعت بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ونگزو میں کریک ڈاؤن کی غایت یہ بیان کی جاتی ہے کہ ایک مقامی لیڈر صدر شی جنگ پنگ کی نظر میں بلند ہونا چاہتا ہے۔

امریکی چرچ گروپ چائنا ایڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ برس چین میں ۷۴۰۰ سے زائد عیسائیوں کو ایذا رسانی کے مرحلے سے گزرنا پڑا۔ بہت سے معاملات میں امتیازی سلوک معمول بن گیا ہے۔ ہانگ کانگ کے ایک کرسچین گروپ چائنا سورس کے برینٹ فلٹن کاکہنا ہے کہ ۷۴۰۰ چین میں عیسائیوں کی مجموعی تعداد کے ایک فیصد سے بھی کم ہے۔ اگر مبالغے سے کام لیا جائے تب بھی یہ نہیں کہا جاسکتا کہ چین میں عیسائیوں سے امتیازی سلوک کی حد ہوگئی ہے یا اُنہیں بہت زیادہ اذیت دی جارہی ہے۔ بات یہ ہے کہ چین میں بہت سے متمول افراد عیسائیت کے فروغ میں اپنی بہبود دیکھتے ہیں۔ ونگزو میں بہت سی کاروباری شخصیات نے عیسائیت قبول کی ہے۔ اب وہ باس کرسچین کہلاتے ہیں۔ اُنہوں نے خطیر رقوم خرچ کرکے گرجا گھر بنوائے ہیں جہاں شام کو مرد و زن جمع ہوتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ دولت کمانے اور زندگی کو زیادہ سے زیادہ خوش حال بنانے سے متعلق بائبل کی تعلیمات پر تبادلۂ خیال کرتے ہیں۔ عیسائیت کے زیر جتنے بھی بزنس گروپ ہیں، وہ لوگوں کو ایمان داری اپنانے، ٹیکس ادا کرنے اور غریبوں کی بروقت اور خاطر خواہ مدد کرنے کی تحریک دیتے ہیں۔ اِس کے نتیجے میں سرمایہ کاری کو فروغ ملتا ہے، لوگ ایمان داری سے کام کرتے ہیں اور ریاست سے بہت حد تک وفاداری کا حق بھی ادا کرتے ہیں۔ چین میں کوئی بھی ایسا اعلیٰ افسر خال خال ہی ملے گا جو اپنے علاقے میں زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری نہ چاہتا ہو۔

حکومت کو اس بات پر کیوں کوئی اعتراض ہو کہ اُن کے علاقے میں لوگ اچھی زندگی بسر کر رہے ہیں؟ بہت سے مقامی رہنما اور سرکاری حکام عیسائیت کے فروغ سے زیادہ پریشان اِس لیے نہیں کہ عام طور پر عیسائی اچھے شہری ثابت ہوتے ہیں۔ وہ بہت سے معاملات میں نظم و ضبط کے پابند ہوتے ہیں، ایمانداری کو زندگی کا حصہ بنائے رہتے ہیں اور بہبودِ عامہ سے متعلق منصوبوں میں بھرپور دلچسپی لیتے ہیں۔ بیشتر معاملات میں خود ریاست بھی گرجا گھر تعمیر کرنے میں دلچسپی لیتی ہے۔ کوشش یہ ہے کہ لوگ مذہبی رجحانات اپنانے کے ساتھ ساتھ ریاست سے بھی مکمل وفادار رہیں یعنی مذہب کا فروغ ریاست کے لیے کسی خطرے میں تبدیل نہ ہو۔ ایک زمانہ تھا جب ریاستی تعاون سے قائم کیے جانے والے گرجا گھروں میں بیشتر ارکان حکومت کے نامزد کردہ ہوا کرتے تھے۔ اب ایسا نہیں ہے۔ نجی طور پر گرجا گھر قائم کرنے والوں کو بھی تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ ریاستی تعاون سے قائم کیے جانے والے گرجا گھروں میں حکومت کی مداخلت برائے نام ہے۔ بہت سے اعلیٰ سرکاری افسران بھی عیسائیت کی تعلیمات کے پھیلتے ہوئے اثرات کا اعتراف بھی کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب طبقے اور ریاست کا تصور مٹ جائے گا تب بھی مذہب موجود ہوگا۔

چین میں حکومتی مشینری کو مذہب کے فروغ سے چند ایک معاملات میں غیرمعمولی فوائد بھی حاصل ہوئے ہیں۔ بہبودِ عامہ کے کاموں میں مذہب سے وابستہ افراد کی خدمات غیرمعمولی رہی ہیں۔ ریاستی مشینری نے بہت سے مقامات پر بہبودِ عامہ کے منصوبوں کے لیے عیسائی اور بدھسٹ گروپوں سے مدد لی ہے۔ ہانگ کانگ میں بھی مذہب سے تعلق رکھنے والی این جی اوز کو آگے آنے اور سرکاری فنڈ کے ذریعے کام کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔ چین میں بھی کرپشن تو ہے اور سرکاری مشینری کے بہت سے پُرزے اِس سے جڑے ہوئے ہیں۔ ایسے میں اگر مخلص گروپ کھڑے ہوں اور فنڈ کو پوری ایمانداری سے بروئے کار لاتے ہوئے زیادہ سے زیادہ لوگوں کی بہبود یقینی بنائیں تو حکومت کو بھلا کیا اعتراض ہوسکتا ہے؟ اُس کا تو کام آسان ہو جاتا ہے۔ ریاستی مشینری چاہتی ہے کہ چین کے عیسائی چین کو اپنی بنیاد، مرکز اور محور بنائیں۔

چین میں اس سال عیسائیت کا فروغ ۱۰؍فیصد کی حد تک تو ممکن دکھائی نہیں دیتا مگر حکومت اس معاملے پر غیر معمولی توجہ دے رہی ہے۔ جن علاقوں میں عیسائیت تیزی سے فروغ پارہی ہے، وہاں سرکاری حکام کا رویہ تیزی سے بہتر ہوتا جارہا ہے۔ لوگوں کو جن معاملات میں شکایت ہے، اُنہیں درست کرنے کی بھرپور کوشش کی جارہی ہے۔ حکام ہر معاملے میں غیرمعمولی بڑبولے پن کا مظاہرہ کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔ مقصود یہ ہے کہ لوگوں کو چین کی مرکزی کمیونسٹ پارٹی سے جو بھی شکوہ ہے، اُس کا خاتمہ ہو اور وہ عیسائیت کی طرف جانے سے گریز کریں۔

جن علاقوں میں مسلمان اور تبتی بدھسٹ اکثریت میں ہیں، وہاں حکومت کا رویہ سخت ہے۔ وہ بیشتر معاملات میں اوغور مسلمانوں اور تبتی بدھسٹوں پر بھروسا کرنے کو تیار نہیں۔ اُن کے ذہنوں میں یہ خیال بھی راسخ ہوچکا ہے کہ اوغور مسلمانوں میں انتہا پسندی جنم لے چکی ہے۔ ان کے خلاف کئی بار کارروائی بھی کی گئی ہے۔

۲۰۰۱ء میں جب لوگوں کو نجی ملکیت کا وسیع تر حق دیا گیا اور بہت سوں کو آجر کی حیثیت سے کام کرنے کی اجازت دی گئی، تب یہ مطالبہ بھی سامنے آیا کہ مذہبی لوگوں کو بھی آجر کی حیثیت سے کام کرنے کا موقع دیا جائے۔ اصلاحات کی حمایت کرنے والوں نے ویت نام اور دیگر کمیونسٹ ممالک کا حوالہ دیا جہاں لوگوں کو ریاست کے نظریے یعنی اشتراکیت کے ساتھ ساتھ مذہبی عقیدہ رکھنے کی بھی اجازت دی گئی ہے۔ اس معاملے میں سب سے توانا آواز اصلاحات کے حامی پین یوئی کی تھی۔ ویت نام میں مذہبی آزادی نے معاشرے کو مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

۲۰۰۴ء میں ایک سرکاری اخبار میں شائع ہونے والے مضمون میں بتایا گیا کہ چین بھر میں کمیونسٹ پارٹی کے جو ارکان عیسائیت قبول کرچکے ہیں اُن کی تعداد ۳۰ سے ۴۰ لاکھ ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ اُنہوں نے باضابطہ اعلان کرنے سے گریز کیا ہے۔

عیسائیت کے خلاف کریک ڈاؤن کی پالیسی زیادہ کارگر ثابت نہیں ہوئی۔ اب تک بیجنگ اور دیگر بڑے شہروں میں عیسائیت پر یقین رکھنے والوں کی تعداد بڑھتی ہی جارہی ہے۔ بیجنگ میں ہر اتوار کو عبادت کے لیے جگہ کرائے پر دینے والی عمارات کی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔ لوگ پہلے چُھپ چُھپا کر عبادت کرتے تھے، اب کھل کر کرتے ہیں۔ ویب سائٹس سے تقریریں ڈاؤن لوڈ کی جاسکتی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ اب بہت سے اعلیٰ افسران کو یہ صورت حال بظاہر زیادہ خطرناک محسوس نہیں ہو رہی۔ کئی نجی گرجا گھروں نے رجسٹریشن کرائی ہے۔ بعض نجی گرجا گھروں کو رجسٹریشن نہیں دی گئی کیونکہ اُنہوں نے اپنے معاملات میں سرکاری عمل دخل کی اجازت دینے سے انکار کردیا تھا۔

کئی مقامات پر غیرقانونی طور پر قائم گرجا گھروں کے خلاف کارروائی بھی کی گئی ہے۔ مگر اس کے باوجود لوگ اتوار کی عبادت کے لیے عمارتیں کرائے پر حاصل کرتے رہے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ عبادت کرنا چونکہ اُن کا بنیادی حق ہے، اِس لیے وہ اِس حق سے دست بردار نہیں ہوسکتے۔ بیجنگ میں آج بھی بہت سی عمارتوں میں اتوار کی عبادت ہوتی ہے۔ یہ عمارتیں باضابطہ گرجا گھر نہیں بلکہ اِنہیں کرائے پر حاصل کیا جاتا ہے۔ ایک شاپنگ مال میں پورا فلور کرائے پر لے کر اتوار کو اجتماع کیا جاتا ہے۔ یہ زائن چرچ کہلاتا ہے۔ بیجنگ کے دو بڑے گرجا گھروں کے پیسٹر جنوبی کوریا سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے خیال میں جنوبی کوریا میں عیسائیت جس طور پروان چڑھی ہے، وہ چین کے لیے ایک اچھا نمونہ ہے جس پر عمدگی سے عمل کیا جاسکتا ہے۔ ان دونوں گرجا گھروں کے پیسٹرز نے تناننمن اسکوائر کے مظاہروں میں حصہ لیا تھا اور وہاں جو کچھ ہوا، اُس سے اُن کے دلوں میں کمیونسٹ پارٹی کے لیے شدید تنفر پیدا ہوا۔

چین میں ایک بڑے گرجا گھر شوانگ کے خلاف حکومت کی مخاصمت نمایاں ہے۔ بعض حکام کا کہنا ہے کہ مرکزی کمیونسٹ پارٹی اور شوانگ کے درمیان نہیں بن سکتی۔ چائینز اکیڈمی آف سوشل سائنسز کے لیو پینگ کا کہنا ہے کہ مفاہمت ممکن ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ سابق صدر ہو جن تاؤ کے دور میں شوانگ کے خلاف کریک ڈاؤن خاصا نرم رہا تھا اور یہ سب کچھ اُنہی کی مشاورت سے ہوا تھا۔

لیو پینگ، جو عیسائی ہیں، آج کل ایک دستاویز پر کام کر رہے ہیں جو ملک میں مذہب کے حوالے سے پہلے قانون کا مسودہ بن سکتی ہے۔ اب تک مذہب کا معاملہ انتظامی سطح پر چند ضابطوں کی حدود میں ہے۔ کوئی باضابطہ قانون موجود نہیں جس کے باعث بہت سی مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔ قانون نافذ کر دیے جانے پر حکام کے لیے کسی بھی معبد کے خلاف کارروائی خاصی مشکل ہوجائے گی۔ لیو پینگ کہتے ہیں کہ مرکزی کمیونسٹ پارٹی کو چاہیے کہ اپنے ارکان کو مذہب کی آزادی دے تاکہ وہ بہتر انداز سے زندگی بسر کرسکیں اور معاشرے کے لیے ان کا کردار زیادہ فعال اور مثبت ہو۔

مذہب سے متعلق کوئی باضابطہ قانون موجود نہ ہونے اور حکام کی طرف سے سختی برتے جانے کے باعث چینی معاشرے میں بے چینی بڑھتی جارہی ہے۔ لوگ مذہب سے وابستگی چاہتے ہیں۔ عیسائیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باعث اب یہ لازم سا ہوگیا ہے کہ حکومت مذہب کی آزادی باضابطہ طور پر دے۔ ایسا کرنے کی صورت میں معاشرے کا انتشار کم ہوسکتا ہے۔ ریاست کی طرف سے سخت پابندی کے باوجود مذہب قبول کرنے اور اس کا اعلان کرنے والوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔ کمیونسٹ پارٹی کی ایک اعلیٰ افسر کو حال ہی میں وارننگ دی گئی کہ وہ عیسائیت ترک کردے کیونکہ عیسائیت کے دائرے میں رہتے ہوئے وہ کمیونسٹ پارٹی کی رکنیت کی اہل قرار نہیں پاسکتی۔ اس پر خاتون نے کہا کہ وہ پارٹی کی رکنیت ترک نہیں کریں گی کیونکہ چین کا آئین اُنہیں کسی بھی مذہب پر کاربند رہنے کی اجازت دیتا ہے۔ خاتون کو ملازمت سے برطرف نہیں کیا گیا اور نہ ہی ان کی کمیونسٹ پارٹی کی رکنیت ختم کی گئی۔ اُنہیں ایک ریمیڈیل اسکول میں تربیت کورس کے لیے ضرور بھیجا گیا۔ اب وہ دوبارہ ملازمت پر آچکی ہیں۔ بہت سے لوگ اُن سے مذہبی معلومات حاصل کرنے آتے رہتے ہیں۔

چینی معاشرے میں عیسائیوں کی معاشرتی اور سیاسی سرگرمیاں بڑھتی جارہی ہیں۔ وہ اپنی شناخت نمایاں کرنا چاہتے ہیں۔ بہبودِ عامہ کے بہت سے منصوبوں میں عیسائیوں کی شرکت عام بات ہے۔ وانگ یی سابق پروفیسر ہیں اور اب متحرک بلاگر کی حیثیت سے مقبول ہیں۔ انہوں نے ۲۰۰۵ء میں عیسائیت قبول کی۔ ۲۰۰۶ء میں اُنہوں نے وائٹ ہاؤس میں اُس وقت کے امریکی صدر جارج واکر بش سے ملاقات کی۔ اب وہ چینگ ڈو میں ایک گھریلو گرجا گھر ارلی رین کے پیسٹر ہیں۔ وانگ یی اور ان کے ساتھیوں نے ملک میں فی گھرانہ ایک بچہ کی پالیسی کی مخالفت کی ہے اور وہ اِس سلسلے میں جبری اسقاطِ حمل کے بھی خلاف ہیں۔

اگر چین کی مرکزی کمیونسٹ پارٹی مذہبی آزادی کا قانون منظور کرلے تو عیسائیت کو فائدہ پہنچے گا یا نقصان؟ اس سوال پر بھی گرما گرم بحث ہو رہی ہے۔ عمومی تصور یہ ہے کہ مذہبی آزادی ملنے پر چین میں عیسائیت کمزور پڑ جائے گی کیونکہ کھل کر کام کرنے کی صورت میں گرجا گھر زیادہ مالدار ہوجائیں گے اور یوں ان میں کرپشن بڑھے گی۔ اس وقت بھی بعض متمول گرجا گھروں میں کرپشن پائی جاتی ہے۔ پابندیوں نے چینی عیسائیوں کو مضبوط کیا ہے۔ آزادی ملنے پر وہ سست اور کمزور پڑ جائیں گے۔ چین میں چند بڑے عیسائی مبلغین کا کہنا ہے کہ مغربی یورپ کی طرح چین میں بھی عیسائیت ختم ہوجائے گی، اگر اُسے پنپنے کی مکمل آزادی ملی۔

“Religion in China: Cracks in the atheist edifice”. (“The Economist”. Nov. 1, 2014)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*