بھارت: شُدھی (تبدیلیٔ مذہب) کا پروگرام جاری ہے!

تبدیلیٔ مذہب کے سبب خواہ مرکز کی بی جے پی حکومت کو اپوزیشن کے حملے جھیلنے پڑے ہوں اور شرمندگی اٹھانی پڑی ہو، لیکن اس سے سنگھ پریوار کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اسی کے سبب سنگھ گجرات کے قبائلی اکثریتی علاقے دھرم پورہ تعلقہ کے پپردو گاؤں میں ۵۰۰ لوگوں کو عیسائی سے ہندو بنانے جارہا ہے۔ تبدیلی مذہب پروگرام کرسمس کے موقع پر منعقد کیا جائے گا۔ آر ایس ایس، وشواہندو پریشد اور دلساڈ ضلع دھرم جاگرن منچ ایک ساتھ مل کر بھگت سملین کے نام سے گاؤں کے مندر میں یہ پروگرام منعقد کریں گے۔ وشواہندو پریشد کے رہنماؤں کے مطابق ’’گھر واپسی پروگرام‘‘ کوئی نئی بات نہیں ہے اور جنوبی گجرات کے قبائلی علاقے میں گزشتہ ایک سال سے ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم اپنا کام کرتے رہیں گے اور قبائلی لوگوں کو ان کی جڑوں کی طرف لوٹنے میں مدد کرتے رہیں گے۔ ایسے پروگراموں کو سیاست سے جوڑنا بے بنیاد ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگلے چار ماہ میں اسی طریقے کے چار اور پروگرام بھی منعقد ہوں گے جن میں ایک ہزار عیسائیوں کو ہندو بنایا جائے گا۔ قابل ذکر ہے کہ وشواہندو پریشد کے کارکنوں نے ۱۹۹۰ء کے دوران ڈنگ علاقے میں قبائلی عیسائیوں پر حملہ کیا تھا جس میں گھر، چرچ اور تعلیمی اداروں کو توڑ دیا گیا تھا۔ مانا جاتا ہے کہ اس طرح کے واقعات سے بی جے پی کو یہاں پیر جمانے میں کامیابی ملی، اس سے پہلے یہ کانگریس کا گڑھ تھا۔

دوسری طرف ملک میں تبدیلی مذہب کے معاملے پرجاری تنازع تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ وشواہندو پریشد ایودھیا میں اگلے ماہ ’’گھر واپسی‘‘ کا بڑا پروگرام منعقد کرنے جارہی ہے جس میں چار ہزار مسلمانوں کو ہندو بنانے کا منصوبہ ہے۔ پروگرام بی جے پی کے سابق ایم پی رام ولاس ویدانتی کرا رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے ان مسلم خاندانوں کے نام بتانے سے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا کہ ایسا کرنے سے انتظامیہ ان لوگوں کی ’’گھر واپسی‘‘ کو روکنے کی کوشش کرے گی۔ انہوں نے صرف اتنا کہاکہ ’’گھر واپسی‘‘ کرنے والے زیادہ تر خاندان فیض آباد، امبیڈ کرنگر، گونڈہ، بہرائچ اور سلطان پور سے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ تمام مسلم خاندان رضاکارانہ طور پر ’’گھر واپسی‘‘ کر رہے ہیں۔ دوسری طرف وشواہندوپریشد کی ’’گھر واپسی‘‘ مہم کو لے کر انتظامیہ کا رخ سخت ہو گیا ہے۔ فیض آباد کے ڈی آئی جی سنجے ککڑ نے کہا کہ پروگرام کا مقصد صرف فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کرنا ہے اور ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔ مسلم لیگ کے مقامی رہنما نجم الحسن نے اس معاملے میں رام ولاس ویدانتی کی گرفتاری کی مانگ کی ہے۔ وہیں بجرنگ دل کے کنوینر بلراج ڈونگر نے کہاکہ ہندوستان میں رہنے والے بنگلا دیشیوں کو یا تو ملک چھوڑ کر چلے جانا چاہیے کیونکہ وہ ہمارے وسائل کا استعمال کر رہے ہیں یا ہندو مذہب اختیار کرلینا چاہیے۔ اگر وہ یہاں رہنا بھی چاہتے ہیں تو انہیں ہندو مذہب اور ہماری طرزِ زندگی اپنا لینی چاہیے۔ گھر واپسی کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے کہا کہ جب یو پی اے کی حکومت تھی تب بھی ہم گھر واپسی کراتے تھے۔ ڈونگر نے کہاکہ گھر واپسی ایک مسلسل چلنے والا عمل ہے۔ ڈونگر نے کہاکہ بنگلا دیشیوں نے ہندوستان میں پناہ لی اور بنگلا دیش جنگ کے ۴۳ سالوں بعد بھی یہیں رہ رہے ہیں۔ اب انہیں واپس چلے جانا چاہیے۔ جب ڈونگر سے سوال کیا گیا کہ اگر بنگلا دیشی ہندو بن بھی جاتے ہیں تو بھی ان کا ہندوستان میں رہنا غیر قانونی ہی رہے گا، اس پر انہوں نے کہاکہ ہندو بن کر کم سے کم وہ ہماری تعداد اور طاقت میں اضافہ کریں گے۔ اگرچہ وی ایچ پی کی تنظیم کے سیکرٹری سدرشن چکرا نے کہاکہ وہ ڈونگر کے خیالات سے اتفاق نہیں رکھتے۔ چکرا نے کہاکہ ہمارا ایجنڈا بنگلا دیشیوں کو ہندوستان میں رہنے دینے کا نہیں ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں تقریباً تین کروڑ بنگلا دیشی ہیں۔ ان سب کو ہندوستان چھوڑ کر چلے جانا چاہیے۔ ان کے ہندو مذہب اپنانے کا سوال ہی نہیں اٹھتا۔ ان کی وجہ سے بے روزگاری اور جرائم بڑھ گئے ہیں۔ وہ قوم مخالف سرگرمیوں میں مصروف رہتے ہیں۔ ان سب کے باوجود پچھلی حکومتیں انہیں تمام سہولیات دیتی رہی ہیں۔ ان کے پاس راشن کارڈ اور شناختی کارڈ ہے لیکن چاہے کچھ بھی ہو جائے ان کا ملک میں رہنا غیر قانونی ہی ہوگا۔ انہیں بنگلا دیش واپس جانا ہی ہوگا۔ اگرچہ بھارت میں رہنے والے بنگلا دیشیوں کی تعداد کو لے کر الگ الگ اندازے لگائے جاتے ہیں۔ ۲۰۰۱ء کی مردم شماری کے مطابق بھارت میں ۳۰ لاکھ بنگلا دیشی ہیں۔

(بشکریہ: سہ روزہ ’’دعوت‘‘ دہلی۔ ۲۸دسمبر ۲۰۱۴ء)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*