Abd Add
 

دنیا کی ۸۲ فیصد دولت پر ایک فیصد لوگ قابض

سال ۲۰۱۷۔۔۔

سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیوس میں ہونے والے ورلڈ اکنامک فورم کے اجلاس کے موقع پر Oxfam نے اپنی رپوٹ پیش کی، جس کے تحت سال ۲۰۱۷ء میں دنیا میں پیدا ہونے والی کُل دولت کا ۸۲ فیصد دنیا کے ایک فیصد امیر ترین افراد کے ہاتھوں میں رہا۔ جبکہ ۷ء۳؍ارب غریب ترین لوگ جو کہ دنیا کی آبادی کا نصف ہیں اپنے مالی حالات میں کوئی بہتری نہیں دیکھ سکے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح عالمی معیشت دولت مند اشرافیہ کو دولت کے خزانے جمع کرنے میں مدد کرتی ہے جبکہ کروڑوں افراد غربت اورمفلسی میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

۱۔ سال ۲۰۱۰ ء سے ارب پتی افراد کی دولت میں سالانہ ۱۳فیصد کی اوسط سے اضافہ ہو رہاہے۔یہ ایک عام مزدور کی اجرت سے ۶فیصد زیادہ ہے،جو کہ سالانہ ۲فیصد کی اوسط سے بڑھتی ہے۔مارچ ۲۰۱۶ء سے مارچ ۲۰۱۷ء تک ارب پتی افراد کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ تقریباً ہر دوسرے دن ایک شخص ارب پتی افراد کی فہرست میں شامل ہوا۔

۲۔ دنیا کے ۵ بڑے فیشن برانڈ میں سے ایک کاسربراہ ۴ دن میں اتنا کما لیتا ہے، جتنا بنگلادیش کی کسی گارمنٹ فیکٹری میں کام کرنے والی ایک عورت اپنی پوری زندگی میں کماتی ہے۔

۳۔ ویتنام کی گارمنٹ فیکٹریوں میں کام کرنے والے ۲۵ لاکھ مزدوروں کی اجرت اس سطح پر لانے کے لیے جس سے وہ زندگی کی بنیادی ضروریات پوری کر سکیں تقریباً ۲ء۲؍ارب ڈالر درکار ہیں۔ جبکہ دنیا میں گارمنٹ کی ۵ بڑی کمپنیوں نے سا ل ۲۰۱۶ء میں اپنے حصص یافتگان کو اس رقم (۲ء۲؍ارب ڈالر) سے تین گنا زائد منافع کے طور پر دیا۔

Oxfam کی رپورٹ ان عوامل کا احاطہ کرتی ہے، جو کارپوریٹ افسران اور حصص یافتگان کے منافع میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔ ان عوامل میں مزدوروں کے حقوق کا خاتمہ، حکومتی پالیسی سازی پر بڑے کاروباری اداروں کے اثرات اور لاگت کم کرنے اور منافع بڑھانے کی کارپوریٹ مہمات شامل ہیں۔

Oxfam کی ڈائریکٹر Winnie Byanyima نے کہاــــــــــ ہے کہ ارب پتی افراد کی تعداد میں اضافہ، فروغ پاتی معیشت کی نشانی نہیں، بلکہ ناکام ہوتی معیشت کی علامت ہے۔ جو لوگ ہمارے کپڑے بناتے ہیں، ہمارے کھانے کی چیزیں اُگاتے ہیں، وہ اشیا کی فراہمی کو یقینی بنانے اور ارب پتی سرمایہ کاروں کا نفع بڑھانے کے لیے استحصال کا شکار ہوتے ہیں۔

اس صورتحال میں خواتین خود کو سب سے نچلے درجے پر پاتی ہیں۔ پوری دنیا میں خواتین مَردوں سے کم کماتی ہیں۔ اگر موازنہ کیا جائے تو ہر ۱۰؍ارب پتی افراد میں سے ۹ مرد ہیں۔ Byanyima نے بتایا کہـ ’’Oxfam نے دنیا بھرمیں ایسی خواتین سے بات کی جن کی زندگی عدم مساوات کی وجہ سے تباہ ہوئی۔ ویتنام کی گارمنٹ فیکٹریوں میں کام کرنے والی خواتین بہت ہی کم اُجرت کے عوض کئی مہینوں کے لیے اپنے بچوں اور گھروں سے دور رہتی ہیں‘‘۔

Oxfam حکومتوں سے مطالبہ کر رہا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ دنیا کی معیشتیں ایک مخصوص طبقے کی نہیں بلکہ تمام افراد کی بھلائی کے لیے کام کریں۔ حصص یافتگان اور اعلیٰ افسران کے منافعوں کو محدود کر کے تمام مزدوروں کے لیے اتنی اجرت یقینی بنائی جائے، جس سے وہ ایک معقول زندگی گزار سکیں۔ مثال کے طور پر نائیجیریا کے لوگوں کے لیے ایک معقول اور مہذب زندگی کو یقینی بنانے کے لیے کم ازکم اجرت کو تین گنا کرنے کی ضرورت ہے۔

خواتین اور مردوں کی تنخواہوں میں فرق ختم کیا جائے اور خواتین مزدوروں کے حقوق کا تحفظ کیا جائے۔ جس رفتار سے حالات بدل رہے ہیں خواتین اور مردوں کو روزگار کے یکساں مواقع اور تنخواہیں ملنے میں اب بھی مزید ۲۱۷ سال درکار ہیں۔

دولت مند افراد سے ٹیکس وصولی یقینی بنائی جائے اور اُس رقم کو صحت اور تعلیم جیسے عوامی فلاح کے منصوبوں پر خرچ کیا جائے۔ Oxfam کے اندازے کے مطابق ارب پتی افراد کی دولت پر ۵ء۱ فیصد کے عالمی ٹیکس سے دنیا کے ہر بچے کے تعلیمی اخراجات پورے کیے جا سکتے ہیں۔

اس عالمی سروے میں شامل ۱۰ ممالک کے ۷۰ ہزار افراد میں سے دو تہائی افراد کا نقطہ نظر تھا کہ امیر اور غریب کے درمیان فرق پر فوری توجہ دینی چاہیے۔ یہ نتائج عدم مساوات کے خلاف اقدامات کی حمایت میں اضافے کا مظہر ہیں۔

Byanyima کا کہنا تھا کہ ’’کسی ایسے شخص کو تلاش کرنا مشکل ہے جوکہے کہ وہ عدم مساوات کے حوالے سے پریشانی نہیں ہے، اس سے بھی زیادہ مشکل کسی ایسے شخص کا ملنا ہے جس نے اس بارے میں کوئی عملی کام کیا ہو۔ زیادہ تر لوگ ٹیکس کم کر کے اور مزدوروں کے حقوق کو ختم کر کے چیزوں کو بدسے بدتر بنا رہے ہیں‘‘۔

لوگ تبدیلی کے لیے تیار ہیں، وہ عملی اقدامات دیکھنا چاہتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ مزدوروں کو مناسب تنخواہیں ملیں، کاروباری ادارے اور دولت مند افراد زیادہ ٹیکس ادا کریں۔ وہ چاہتے ہیں کہ خواتین مزدوروں کو بھی مَردوں کے برابر حقوق ملیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ دولت اور طاقت کی کوئی حد ہو، تاکہ یہ چند لوگوں کے لیے مخصوص نہ ہو۔

(ترجمہ: عمید احمد)

“Richest 1 percent bagged 82 percent of wealth created last year – poorest half of humanity got nothing”. (“oxfam.org”. January 22, 2018)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*