Abd Add
 

ایران کی طرف سے خطرے کا جائزہ

بیس سوالات جن کے جوابات ہمیں معلوم ہونے چاہییں

ایران کے گزشتہ سال کے اقدامات نے نہ صرف ساری دنیا کو متذبذب کر دیا بلکہ اس بھر پور بحث کو بھی جنم دیا کہ اقوام عالم کو ایران کے مسئلہ سے نبرد آزما ہونے کے لیے بہترین طریقہ کیا ہونا چاہے؟ اس بحث کے پیچھے ایران کے حقیقی عزائم اور سرگرمیوں سے متعلق متعدد اور متنوع مفروضے، اندازے اور ممکنہ منطقی نتائج کار فرما ہیں۔

اس بحث کو قابل فہم بنانے اور اس میں منطقی استدلال کی قوت شامل کرنے کے لیے سینٹر فار اسٹراٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز (سی ایس آئی ایس) نے ممکنہ موضوعات سے متعلق سوالات کی فہرست تیار کی ہے۔ یہ بیس سوالات ہیں جن کے ذریعے اس معاملے میں ہونے والی تبدیلی یا پیش رفت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے البتہ ان سوالات کے تمام ممکنہ جوابات سے کم ہی لوگ متفق ہوں گے۔ اس عدم اتفاق کی ایک وجہ حقائق ہو سکتے ہیں اور دوسرا ایسے لوگوں کی صلاحیتِ فہم، مگر یہ طے ہے کہ انہی جوابات پر ایران کے حقیقی خطرے اور ان سے متعلق عالمی اجتماعی ردِ عمل کے ادراک کا دارومدار ہے۔

اس موضوع پر ایک صحت مند بحث کے لیے میدان ہموار کرنے کی غرض سے سی ایس آئی ایس نے نہ صرف ان سوالات کو ترتیب دیا ہے بلکہ اسے مزید قوت فراہم کرنے کے لیے مثبت اور منفی جوابات بھی فراہم کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ صورتحال تمام امکانات کے ساتھ واضح ہو سکے۔


س ۱: کیا ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ ایران واقعتًا جوہری ہتھیار بنانا چاہتا ہے؟

٭…نہیں:

اگرچہ مستقبل کے حوالے سے ایران نے اس سلسلے میں اپنی جستجو کے دروازے مکمل طور پر بند نہیں کیے ہیں، اور نہ ہی اسے بین الاقوامی برادری کے سامنے توہین آمیز رویے کا نشانہ بننے کا کوئی شوق ہے مگر اس امر کی علامات نہ ہونے کے برابر ہیں کہ وہ مستقبل قریب میں جوہری ہتھیاروں کی تیاری کی منصوبہ بندی کرنے والا ہے۔ ایرانی حکومت کی تمام تر دھمکیوں کے پیچھے دراصل اسی نوعیت کا ایک بہت پرانا پروگرام ہے جس کا آغاز شہنشاہ ایران کے دورہی میں ہو گیا تھا البتہ اس میں قابل ذکر کامیابیوں کا تناسب کچھ زیادہ نہیں۔ ایران کا خود کفالت کا جنون اور عظمت فارس کا خبط ایسے دو عوامل ہیں جو اس پروگرام کو خفیہ رکھنے کے لیے بنیاد فراہم کرتے ہیں اور یہی دو عوامل پچھلی صدی میں ایران کے بیرونی دنیا کے ساتھ تعلقات کی میراث بھی سمجھے جاتے ہیں۔ ایک طویل عرصے تک جاری رہنے والی سخت بین الاقوامی نگرانی کے نتیجے میں اب تک ایران کو کسی ضابطے سے انحراف کی جرات نہیں ہوئی تھی۔

اس مقبول عام یقین کے بر خلاف (کہ ایران جو ہری توانائی کو ہتھیاروں میں استعمال کرنا چاہتا ہے ) یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ اپنی توانائی کی جائز ضرورتیں پوری کرنے کے لیے ایران کو جوہری توانائی کی ضرورت ہے اگرچہ ایران کے پاس معدنی تیل اور قدرنی گیس کے دنیا میں تسلیم شدہ ذخائر موجود ہیںمگر خام پیٹرول کو صاف کرنے کی ایرانی صلاحیت اس کی ضرورت کے لحاظ سے بہت کم ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ اس کمزوری کے باوجود اندورنِ ملک متبادل وسائل توانائی کے استعمال اور تیل کو بیرونی منڈیوں میں فروخت کرنے کے نتیجے میں ایران معاشی طور پر خوشحال ملک ہے ۔

٭…ہاں:

اگرچہ ایران کے ارادوں اور خواہشات کے ثبوت کے لیے کوئی ٹھوس عملی مثال موجود نہیں ہے مگر ایسی واقعاتی شہادتیں کثرت سے دستیاب ہیں جن کی مدد سے ایرانی ارادوں پر روشنی پڑتی ہے ۔ ایسی شہادتوں میں پاکستان کے جوہری پروگرام کے ایک طویل مدت تک نگران رہنے والے معروف ڈاکٹر اے عبدالقدیر کا بار بار ایران کا دورہ کرنا بھی شامل ہے ۔ ایران کے جوہری پروگرام کے بڑے حصے پر ایک عجیب سی سِرّیت کا پردہ پڑا ہے اور بڑی حد تک اس کی نگرانی ایرانی فوجیوں کے ہاتھ میں ہے۔ پرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے بارے پر تشویش نظر آتے ہیں ۔ ایران کے قدرتی گیس کے کم ہوتے ذخائر بھی شہری استعمال کے لیے پیدا کی جانے والی جوہری توانائی کے حصول کو عجیب و غریب بناتے ہیں اس پر متزاد یہ کہ ایران کے جوہری شعبے میں ساری کی ساری پیش رفت دراصل عالمی ادارہ جوہری توانائی (آئی اے ای اے) اور جوہری میدان میں عدم پیش رفت کے معاہدے (این پی ٹی) کے ساتھ کیے گئے تحریری وعدوں کی خلاف ورزی ہے جو گزشتہ دو دہائیوں سے جاری ہے ۔ جب اس صورتحال کو ایران کی اسرائیل کو صفحہ ہستی سے مٹا دینے کی خواہش اور اس کی بے لگام جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت کے خلاف واویلا مچانے کا مشاہدہ کیا جائے تو صورت حال مزید واضح ہو جاتی ہے۔

اگر چہ ایران دعویٰ کرتا ہے کہ (اس کا جوہری پروگرام ) پر امن مقاصد کے لیے ہے اس کے باوجود یہ بیرونی دنیا سے پروگراموں کی پیشکش کو بلا دریغ ٹھکرانے کا رویہ ظاہر کرتا ہے تو اس سے یہی اندازہ ہوتا ہے کہ بظاہر توانائی کے حصول کے پروگرام کے پیچھے دراصل عسکری مقاصد کار فرما ہیں۔

س ۲: کیا یہ جاننا ممکن ہے کہ ایران جوہری ہتھیاروں کی تباہی کے حوالے سے اس مرحلے پر پہنچ گیا ہے جہاں سے واپسی ممکن نہیں؟

٭… ہاں:

ایران آئی اے ای اے کے ساتھ تعاون کر رہا ہے جس کے معائنہ کاروں کو تمام اعلان کردہ جوہری تنصیبات کا معائنہ کرنے کی سہولت حاصل ہے ۔ اگر معائنے کی اس سہولت کو عالمی ادارے کے ماہرین کی اس صلاحیت کے ساتھ ملا کر دیکھیں، جس کے مطابق وہ ایرانی پروگرام میں حائل فنی و دیگر رکاوٹوں کا بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں، تو صاف طور پر عیاں ہے کہ ایران چوری چھپے جوہری ہتھیاروں کی تیاری پر قادر نہیں ہو سکتا۔

اگر چہ اضافی نگرانی اس معاملے کو پر اعتمادی سے نمٹنے میں مدد گار ثابت ہو سکتی ہے ۔ تاہم اس نگرانی کے موجود نہ ہونے پر بھی یہ کہنا درست نہیں کہ ہم قطعی طور پر اندھیرے میں ہیں۔ ہمیں تو ایرانی معمے کے بہت سے حصوں کا علم ہے مگر ایران کو قطعی اندازہ نہیں کہ ہم کتنا کچھ جانتے ہیں اسی لیے پورے اعتماد سے کہا جا سکتا ہے کہ ایران کے لیے عالمی نگران اداروں کو دھوکا دینا آسان نہیں ہے۔ جزوی اور معمولی درجے کے شواہد کی بنیاد پر کسی بڑے خطرے کا تصور کرنے کی غلطی کر کے امریکہ پہلے ہی عراق میں پھنس چکا ہے اب ایران کے معاملے میں ہمیں وہی غلطی دہرانے سے گریز کرنا چاہیے۔ تاہم نگرانی اب بھی ضروری ہے خواہ انتہائی درجے کی نہ بھی ہو۔ تاہم اگر ہم سمجھتے ہیں کہ نگرانی کا عمل بالکل ہی بے کار ہے تو یہ خود کو جان بوجھ کر اندھیرے میں رکھنا ہے ۔

٭…نہیں:

ہمیں مسئلے سے متعلق اپنی معلومات کو نا قابل تر دید قرار دینے کی حماقت نہیں کرنی چاہیے۔ ایران عالمی ادارے کے مرکزی افراد کو انتہائی حساس اور مبینہ طور پر ہتھیار بنانے والے مقامات تک پہنچنے سے باز رکھنے میں ابھی تک کامیاب ہے جس کے باعث اس کی فنی صلاحیتوں کا مکمل ادراک بیرونی دنیا کے لیے مشکل ہے علاوہ ازیں ماہرین کی رائے بھی یہی ہے کہ ایران اس مقام تک پہنچ چکا ہے جہاں وہ کسی بھی وقت یورینیم کی افزودگی کی راہ میں حائل فنی رکاوٹوں کو دور کر سکتا ہے۔

ایران اپنے جوہری پروگرام کو منظر عام پر لانے سے مسلسل انکار کر رہا ہے ۔ اسی سے اس کے ارادے مشکوک ہو جاتے ہیں۔ ایران کو چاہیے تھا کہ ان شکوک کو رفا کرنے کے لیے وہ نہ صرف عالمی معائنہ کاروں کو اپنی اعلان کردہ جوہری تنصیبات کے مکمل معائنے کی اجازت دیتا بلکہ انھیں پورے ملک میں پھیلے کئی دوسرے مشکوک مقامات تک رسائی بھی فراہم کرتا۔ جب تک ایسا نہیں ہوتا یہی سمجھا جائے گا کہ ایران پوری دنیا کو تاریکی میں رکھتے ہوئے نہایت چالاکی سے ہتھیاروں کی تیاری میں مصروف رہے گا اور ان کی تکمیل پر انھیں دنیا کے سامنے لائے گا۔

س ۳: کیا جوہری ہتھیاروں سے مسلح ایران علاقائی سلامتی کے لیے کوئی بڑا دھچکا ہو سکتا ہے؟

٭… نہیں:

اپنی تمام تر دھمکیوں کے باوجود ایران اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات میں ہمیشہ محتاط رہا ہے اگرچہ ایران بہت سے ممالک کی حکومت مخالف تنظیموں اور عسکری گروہوں کی حمایت کرتا ہے مگر یہ سب کچھ وہ خاموشی سے ہمسایہ ممالک سے چھپا کر اور کوئی ممکنہ ثبوت چھوڑے بغیر کر رہا ہے۔

اس میں تو شک نہیں کہ جوہری صلاحیت حاصل ہو جانے کے بعد ایران کی آواز کم از کم علاقے (مشرق وسطیٰ) میں زیادہ سنی جائے گی مگر اس کا امکان نہیں ہے کہ وہ عسکری تشدد کی راہ اپنائے۔ اگرچہ اس کے بیانات اکثر معاندانہ ہوتے ہیں مگر ایران نے نہ کبھی ہمسایہ ممالک کی سرحدوں کی خلاف ورزی کی ہے اور نہ ہی ایسے گروہوں تک جدید اسلحہ پہنچنے دیا ہے جن پر اسے مکمل قابو نہ ہو چہ جائے کہ انھیں جوہری ہتھیار مہیا کرے ۔ تاہم اس کے ہمسایہ خطوں کی حکومتوں میں مقبول ہونے کی خواہش اور ان حکومتوں کے خلاف معاندانہ رحجانات کو خلط ملط نہیں کرنا چاہیے۔ فی الحقیقت ایران دفاع و سلامتی نہ ہونے کا خواست گار ہے، اپنی ریاست میں توسیع کا نہیں۔ علاوہ ازیں ایران یہ جانتے ہوئے کہ اسرائیل کے پاس نہ صرف بہتر ہتھیار موجود ہیں بلکہ ان کا ڈیلیوری نظام بھی بہترین ہے، اس پر حملہ آور ہو کر اپنی تباہی کو دعوت نہیں دے گا۔

٭… ہاں:

ایران کی جوہری ہتھیاروں کی صلاحیت سے مشرق وسطیٰ میں دو طرح کا بھونچال آنے کا امکان ہے اول یہ کہ اس کامیابی سے تقویت پا کر ایران اپنے ہمسایوں کے لیے خطرناک ہو جائے گا۔ دوسرے یہ کہ اس خطرے کے پیش نظر اس کے ہمسایہ ممالک بھی جوہری صلاحیت کے جنون میں مبتلا ہو جائیں گے۔ چنانچہ اسلحے کی اس دوڑ کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ جو پہلے ہی عدم استحکام کا شکار ہے اور بھی غیر مستحکم ہو جائے گا۔

اس کا اندازہ اس سے لگائیے کہ جوہری صلاحیت کے بغیر بھی ایران سفارت کاری کو کچھ خاص اہمیت نہیں دیتا۔ موجودہ حکومت نے نہ صرف سابق صدر محمد خاتمی کی ہمسایہ ممالک کے ساتھ گرم جوشی کی حکمت عملی کو ترک کر دیاہے بلکہ اس کی جگہ اسرائیل پر تلوار لہرانے اور اسے مرعوب کرنے کی حکمت عملی اپنالی ہے ۔ اس کے علاوہ ایران نے نہ صرف شیعہ عربوں میں غم و غصے کی آگ بھڑکا دی ہے بلکہ ایسے تشدد کو ہوا دی ہے جس نے خطے کے اتحاد کو اندر ہی اندر شگافتہ کر دیا ہے ۔ ہاں البتہ اگر ایران کے خطے کے بارے میں ارادے اعتدال پسندانہ ہوں اور وہ پر امن طریقے اختیار کرے تو شاید مشرق وسطیٰ ایران کو اس کی جوہری صلاحیت کے ساتھ بھی برداشت کر لے ۔ تاہم موجودہ حالات میں نیوکلئیر ہتھیاروں سے لیس ایران خطے کے لیے کسی تباہی سے کم نہیں۔

س ۴: کیا ایرانی حکومت کا تختہ الٹنے والا ہے؟ اگر ہاں تو کن حالات میں ؟

٭ نہیں:

مغرب کے لوگ مدتوں سے ایران کی اسلامی ری پبلک حکومت کے عدم استحکام کے دعوے کرتے آرہے ہیں۔ شاہ کے وقت کی حکومت کے یورپ اور امریکہ سے قریبی تعلقات تھے مگر اسلامی انقلاب کے بعد ایران پر ان کی گرفت نہیں رہی ۔ سچ تو یہ ہے کہ ایران کی اسلامی حکومت کی جڑیں عوام میں انتہائی گہری ہیں اور اس کی وجہ اعلیٰ درجے کا معاشرتی انصاف ہے آج نہ صرف ہر ایرانی کو روزمرہ کے استعمال کی اشیاء پر حکومت کی طرف سے برابر رعایت ملتی ہے بلکہ ان گروہوں کو بھی صحت اور تعلیم کی سہولت بلا امتیاز فراہم کی گئی ہے جو شاہ کے دور میں ان سے محروم رکھے جاتے تھے ۔ آج ہرکوئی اپنی گاڑی رکھ سکتا ہے (شاہ کے دور میں یہ اجازت خاص طبقے تک محدود تھی) اگرچہ اب لوگوں کو یہ گلہ ہے کہ سڑکوں پر ٹریفک کا ہجوم رہنے لگا ہے تاہم اس سہولت سے ایرانی زندگی کے دیگر شعبوں کے لوگ بھی مستفید ہو رہے ہیں۔

ایرانی حکومت ، عوام کو کم سے کم طاقت استعمال کر کے احتجاج سے دور رکھنے کا اہتمام و انصرام کرنے میں کامیاب ہی ہے ۔ ایران کے اسلامی انقلاب کو چوتھائی صدی گزر چکی ہے ۔ مگر اب تک نہ ہی اس حکومت کا کوئی متبادل سامنے آیا ہے اورنہ ہی کوئی طاقت ور تحریک چل سکی ہے ۔ اگر چہ اسلامی حکومت کا فی حد تک آمرانہ ہے مگر اسے ڈکٹیٹر شپ نہیں کہا جاسکتا کیونکہ اس میں مشاورت کا اعلیٰ نظام موجود ہے بلکہ اس قدر لچک موجود رکھی جاتی ہے کہ یہ ٹوٹنے نہ پائے ۔

٭…ہاں:

تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث ایرانی حکومت اندازوں سے کہیں زیادہ عرصے تک باقی رہ گئی ہے ۔ ملک میں اس وقت واضح اکثریت (۳۵ فی صد) نوجوانوں کی ہے جن کی عمریں ۱۵ سے ۳۰ سال تک ہیں۔ آبادی کے اس بڑے حصے کو سخت معاشرتی پابندیوں ، بے روزگاری اور نشے کے بڑھتے ہوئے استعمال سے نمٹنا پڑے گا۔ اس وقت ایران کا اقتصادی ڈھانچہ متزلزل ہے اور سرکاری اداروں میں ضرورت سے زیادہ لوگوں کی بھر مار ہے خرابی کی سب سے بڑی وجہ ۳۰ فی صد ملکی معاملات پر ایسے طبقے کا کنٹرول ہے جن کی سر پرستی آیت اللہ (دینی علماء) کرتے ہیں۔ یہ معاشی پاور ہائوس نہ تو ٹیکس دیتے ہیں نہ کسی کے آگے جواب دہ ہیں۔

موجود ہ حکومت نے اب تک معاملات کو لوگوں کو ماتم دری میں مصروف رکھ کر اور انھیں گیسلوین سمیت روزمرہ اشیاء پر سبسڈی دے کر قابو میں رکھا ہوا ہے ۔ یہ دونوں صورتیں ایک ایسی سودا بازی کی کیفیت پید کرتی ہیں جن میں ایک خاص طرح کی مناقشت کا عنصرکسی حد تک موجود رہتا ہے مگر سچ یہ ہے کہ اسلامی انقلاب کے قصیدے جو ایک مدت تک کامیاب رہے اب نا کام ہو چکے ہیں اب عوام ملائوں کے کنٹرول سے تنگ آچکے ہیں خصوصاً جب تیل کی قیمتیں کم ہونے سے حکومت کو حاصل ہونے والا منافع یعنی مالی وسائل کم ہوں گے تو عوام کو حکومت کی مہم جوئی اور مبارزت طلبی کی حقیقی قیمت کا اندازہ ہو گا اسے ان کی خالی جیبوں کا دکھ اور بڑھے گا اور وہ اٹھ کھڑے ہوں گے اور تبدیلی کے جدو جہد کریں گے۔

س ۵: کیا تیل کی قیمتوں میں بے تحاشا کمی سے ایرانی حکومت کے استحکام کو خطرہ لا حق ہو گا؟

٭ نہیں:

طویل عرصے تک تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث ایرانی حکومت کا خزانہ کافی بھر گیا ہے ۔اور اس کے فارن ایکسچینج ذخائر بھی معقول مقدار میں ہیں۔ ہمسایہ خلیجی ریاستوں نے جس طرح سرعت سے اپنا تیل نکالا اور اسے بیچ کر اللے تللوں میں صرف کیا ہے ۔ ایران نے اس سے ہمیشہ اجتناب کیا ہے اس نے ہر سال ’’آئل سٹیبلائزیشن فنڈ‘‘ کے نام سے اربوں ڈالر بچائے ہیں اور اس بچت کا مقصد ایسے ہی مشکل وقت سے نمٹنا تھا۔

اس کے علاوہ حکومت ایران کا مقامی میڈیا پر مکمل کنٹرول ہے جس کے باعث ملک میں مخالف گروہوں کی تحاریک کا اسے قبل از وقت علم ہو جاتا ہے۔ اس کام کو باصلاحیت مگر سفاک انٹیلی جنس (نظام جاسوسی) نے بھی آسان بنایا ہے اگرچہ ایرانی عوام یہ شکوہ کر سکتے ہیں کہ قومی آمدنی کا بڑا حصہ حکومت اپنے مخصوص مقاصد کے حصول کے لیے صرف کرتی ہے مگر ایسی رائے رکھنے والے کبھی بھی حکومت کے خلاف خیالات کو تحریک میں نہیں بدل سکتے۔ اگرچہ تیل کی قیمتوں میں کمی ایرانی حکومت کی سر گرمیوں کو محدود ضرور کرے گی مگر عام تاثر یہی ہے کہ حکومت کے اس کے باعث ممکنہ متبادلات میں کمی آنے کے باوجود کوئی بحران پیدا نہیں ہو سکتا۔

٭…ہاں:

بہت کم لوگ ایرانی حکومت کو جائز حکمران سمجھتے ہیں اور عوام حکومت کی طرف سے دی گئی سبسڈی کے باعث ہی اسے برداشت کرتے ہیں ایران پہلے ہی بڑھتی ہوئی بیروزگاری،مہنگائی اور کمزور پڑتے ہوئے صنعتی و معاشی ڈھانچے کے باعث کافی کمزور ہے حکومت کے مالی وسائل کا نوے فیصد تیل کی فروخت سے حاصل ہوتا ہے۔ مگر آئل سٹیبلائزیشن فنڈ میںبھی ضرورت کے مطابق سرمایہ موجود نہیں ہوگا کیونکہ حکومت وقتاً فوقتاً بجٹ کا خسارہ پورا کرنے کے لیے بھی اس میں سے رقم نکالتی رہتی ہے تیل کی قیمتوں میں کمی حکومت کو بہت سی مدوں میں دی جانے والی سبسڈی واپس لینے پر مجبور کر دے گی۔ اور اس طرح دیگر ضروریات زندگی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ایرانی عوام کو موجودہ حکومت سے حاصل ہونے والے واحد فائدے سے بھی محروم کر دیں گی اور اس کا شدید اور سریع رد عمل ہوگا۔

حکومت ایران کے خلاف آخری طاقتور تحریک ۱۹۹۰ کی دہائی میں شروع ہوئی اس وقت تیل کی قیمتیں گر رہی تھیں۔ اس وقت کی حکومت کو عوامی بے چینی سے نمٹنے کے لیے فوری کارروائی کرنا پڑی۔ صدر خاتمی کا اصلاحات کا ایجنڈا بھی بڑی حد تک اسی کارروائی کا حصہ تھا۔ تب سے اب تک تیل کی قیمتیں اوپر ہی گئی ہیں۔ اس لیے ایرانی حکومت کی لچک میں بھی معتدبہ کمی ہوئی ہے آج کے سخت رویہ رکھنے والے حکمران صدر خاتمی کے مقابلے میں مطالبات کی منظوری کے لیے راغب نظر نہیں آتے جب کہ متبادل کی تلاش میں عوام کی رغبت نہ ہونے کے برابر ہے اس لیے اب ہمیں کسی دھماکے کا منتظر رہنا چاہیے۔

س ۶: کیا ایران کی زیادہ معتدل قوتیں صدر احمدی نژاد کو قابو میں لا سکیں گی؟

٭ ہاں:

صدر محمد احمد نژاد کا ہڑبولا پن دراصل لوگوں کے اس واضح احساس کا نتیجہ ہے کہ صدر خاتمی اپنے پتے چھپا کر رکھنے کے ضرورت سے زیادہ قائل تھے لہذا انہوں نے مغرب کو مرعوب کرنے میں کامیابی حاصل نہیں کی ۔ لہذا عام تاثر یہ ہے کہ اگر کل کلاں تیل کی قیمت گرنے یا رسد کی فراہمی میںکمی کی صورت میں ایران کو سزا دینے کی کوشش کی جائے تو ایک غرانے والا صدر ان کے لیے بہتر فوائد حاصل کرپائے گا۔

البتہ ایران کی خارجہ پالیسی کی تشکیل وتدوین کی ایجنسی میں حقیقت پسند اور اصلاح پسند عناصر اب بھی موجود ہیں ۔ وہ تھنک ٹینکس اور بالائے حکومت اداروں میں باہم تعاون کے جذبے سے موجود رہتے ہیں اور حکومت میں شامل ہو کر دوبارہ طاقت حاصل کرنے کے لیے بھی کوششیں جاری رکھتے ہیں آج بھی ایران میں مختلف سیاسی سوچ رکھنے والے شعبوں کے مابین ایک مشکوک سا توازن موجود ہے جو بدلتے حالات کے ساتھ ساتھ وفاداریاں بدلنے کو تیار ہیں۔ جب ایسی صورت حال ہوئی کہ ایرانی عوام کی سرگرمیاں ایرانی حکومت کے لیے نا قابل برداشت ہو گئیں تو ایرانی قیادت احمدی نژاد پر دبائو ڈالے گی کہ وہ یا تو بین الاقوامی دبائو کو برداشت کرے یا پھر صدارت سے دست بردار ہو جائے۔ ایرانی خارجہ پالیسی غیر منطقی ہر گز نہیں ہے البتہ اس میں ایرانی قوم کے مفادات کا سودا کرنے کی گنجائش کہیں موجود نہیں۔

٭ نہیں:

صدر احمدی نژاد کی حیثیت جادو کی چھڑی کی سی ہے مگر وہ اب ایک ایسی پالیسی ڈائریکشن کے شکنجے میں پھنس چکے ہیں جس سے وہ اوران کا ملک کہیں نکل نہیں سکیں گے۔ جب وہ تہران کے میئر تھے تو ان کے خواب و خیال میں بھی نہ تھا کہ وہ قومی انتخابات جیت کر ایک بین الاقوامی شخصیت بن جائیں گے۔ اپنے شخصی کرشمے کے علاوہ مغربی انداز خطابت اور صیہونی دشمنی کے باعث ان کا حلقہ اثر محدود دلچسپیوں والے گروہوں سے کہیں آگے بڑھ چکا ہے اور یہی ان کی مقبولیت کا راز ہے اگرچہ شعلہ بار بیانات سے اسی وقت بری الذمہ ہو سکتے ہیں یا انھیں ترک کر سکتے ہیں جب وہ عہدہ صدارت سے دستبردار یا اپنی سیاسی بنیاد سے محروم ہو جائیں۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ خواہ وہ مغرب کے ساتھ اپنی مناقشت ترک بھی کر دیں تب بھی بین الاقوامی مطالبات کے سامنے مکمل طور پر سپر ڈالنا ان کے لیے ممکن نہیں رہا۔ وہ لڑتے ہوئے شہید ہو نے کو ترجیح دیں گے۔

ان کی صدارت کے ابتدائی دور کی بالائی قیادت انھیں محدود کرنے میں کامیاب ہو سکتی تھی ۔ مگر اب جب کہ صدر کی مقبولیت کا گراف (کم از کم اسلامی دنیا میں) کافی بڑھ چکا ہے اب ان قائدین کے لیے بھی اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ انھیں عہدہ صدارت پر بحال رکھا جائے۔

س ۷: کیا ایران میں اصلاح پسند تحریک دوبارہ شروع ہو سکتی ہے؟

٭ ہاں:

ایرانی اصلاح پسند تحریک ہی دراصل ایرانی عوام کی حقیقی سوچ کی آئینہ دار تھی ۔ یہ تحریک حقیقت پسند تھی جس کا مقصد عوام کا معیار زندگی بہتر کرنے کی جدو جہد کو مہمیز دینا تھا۔ یہ تحریک بین الممالک مہم جوئی اور ایران کے ہم خیال گروہوں کے معاملات میں مداخلت کے حق میں نہ تھی۔ اگرچہ اس تحریک کی پڑھی لکھی قیادت اقتدار کی جنگ ہار گئی ہے اور ان کی جگہ قدامت پسند اقتدار میں ہیں تاہم وہ قیادت نہ صرف ابھی تک موجود ہے بلکہ ایران کی بیرون ملک مداخلت اور تنازعات کھڑے کرنے کے رویے سے نالاں بھی ہے۔

اگرچہ مغرب میں ان کے معاملات کا کھاتہ بند کیا جا چکا ہے مگر یہ عنصر ایران میں پوری طرح معدوم نہیں ہوا۔ بلکہ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس تحریک کے کارکنان نے اپنی شکست سے مایوس ہونے کی بجائے اس سے سبق سیکھا ہے اور نتیجتاً انہوں نے اسے دوبارہ مجتمع ہونے ، غور وفکر کرنے کی حکمت عملی وضع کرنے اور سیاست میں لوٹنے کے لیے باقاعدہ زمین ہموار کرنے کا ایک موقع قرار دیا ہے ایران کی موجودہ قیادت جس طرح ظاہر کرتی ہے، اتنی مقبول اور طاقتور ہرگز نہیں۔ اس لیے ان کی بیرونی دنیا سے مناقشت کی پالیسی اور شاہ خرچی انھیں زیادہ دیر اقتدار میں رہنے نہیں دے گی۔ یہی وہ مرحلہ ہو گا جب اصلاح پسند ابھریں گے اور ایران کو اس سیاسی روش کی طرف لوٹائیں گے جو ایران کے قومی مفاد میں ہوگی۔

٭نہیں!

ایرانی قدامت پسندوں نے ۱۹۹۰ء کی دہائی میں ہی اصلاح پسندوں سے نمٹنے کے لیے کافی گر سیکھ لیے تھے۔ جب اصلاح پسندوں نے ۱۹۹۷ء میں انتخابات جیت کر ۲۰۰۰ء میں مجلس (پارلیمنٹ) کا کنٹرول سنبھالا تو انتہا پسندوں نے باقاعدہ منصوبہ کی اور پورے انہماک سے اصلاح پسندوں کے منصوبوں میں رکاوٹ ڈالنے اور بالآخر انھیں ناکام بنانے کی کوشش میں کامیابی کے باعث اگلی مرتبہ انھیں شکست دے سکے بلکہ انہوں نے ثابت کیا کہ وہ قانون سازی اخبارات پر کنٹرول اور فعال اصلاح پسندوں کو گرفتار کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ اسی طرح انہوں نے کئی اصلاح پسند امیدواروں کو کسی نہ کسی بہانے نا اہل قرار دے کر اتخابات سے الگ کیا اور ا سکے نتائج اپنے حق میں کر لیے۔ اس دہائی کے آغاز میں ہی صدر خاتمی اور قدامت پسندوں کے درمیان چپقلش کے نتیجے میں خاتمی حیرت ہی میں رہے اور اپنے آخری سال کے دوران تو کوئی خاص کام ہی نہ کر سکے کیونکہ قدامت پسندان کی توہین اور ان کے ساتھیوں کو خوفزدہ کرنے انھیں قید کرنے اور اس سے بھی بدتر حالات سے دو چار کرنے میں کامیاب رہے تھے ۔ یہ تصور کہ مذہبی جذبات ایران میں حکومتوں کی تقدیر کا فیصلہ کرتے ہیں، ایک مضحکہ خیز فریب نظر کے سوا کچھ نہیں۔ اگرچہ ایران میں انتخابات باقاعدگی سے (اور بظاہر شفاف) ہوتے ہیں مگر اس پورے عمل کے دوران سارے معاملات قدامت پرستوں کے اس قدر گرفت میں رہتے ہیں کہ ان کی مرضی اور پسند کے خلاف ان کے نتائج بر آمد ہی نہیں ہو سکتے۔

س ۸: عراق میں ہونے والے واقعات ایران کی حکومت کے لیے نقصان دہ ہو سکتے ہیں؟

٭ ہاں:

اگر عراق کے واقعات سے ایرانی مفادات زیادہ سے زیادہ منسلک ہونے لگتے ہیں تو قدرتی بات ہے کہ ان واقعات کے منفی اثرات سے بھی ایرانی حکومت متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتی۔ مثلاً اگر مبصرین کی نظر میں ایران عراق میں فرقہ واریت کو ہوا دے رہا تو خود ایران میں بھی فارسی نہ بولنے والی کئی اقلیتیں مثلاً آذر بائی جانی یا کُرد اور عرب موجود ہیں لہذا عراق میں ہونے والی فرقہ واریت سے خود ایران کی یکجہتی کوخطرہ لاحق ہو سکتاہے ۔ کیونکہ جب ان ایرانی عربوں کے عزیز اور بھائی بند عراق میں مرتے ہیں یا انھیں ہجرت پر مجبور ہونا پڑتاہے تو علاقائی گروہوں کے مابین یہ تنائو خود ایرانی عوام کی زندگی کو بھی مسموم بنا سکتا ہے ۔ علاوہ ازیں عراق میں شیعہ مذہبی قیادت اپنے ایرانی ہم خیال قائدین سے قطعی مختلف کردار عراق کی عوامی اور سیاسی زندگی میں ادا کر رہی ہے۔ اس سے ایرانی مذہبی قیادت پر بھی ویسا ہی کردار ادا کرنے کا دبائو بڑھ سکتا ہے۔ عراق میں علماء سیاست دانوں کو صرف علمی راہنمائی فراہم کرتے ہیں خود سیاست میں ملوث نہیں ہوتے۔ اس طرح سے یہ سوچ ایرانی نظام پر مذہبی راہنمائوں کی گرفت کے لیے ایک چیلنج ثابت ہو سکتی ہے۔

عراق کے حالات نے ایران اور ریاست ہائے متحدہ امریکا کے تعلقات کو مزید کشیدہ کیا حالانکہ افغانستان میں طالبان کے زوال کے بعد ایران اور امریکا باہمی دفاعی معاملات پر مشاورت کر سکتے تھے۔ اس کشیدگی کا ایک خطرناک نتیجہ یہ بھی نکلا ہے کہ نہ صرف اب ایران اور امریکہ عراقی معاملات پر مشاورت اورمعاونت نہیں کر سکتے بلکہ امریکا خود ایران کی سر زمین پر کارروائیوں کی منصوبہ بندی میں مصروف ہے ۔

٭نہیں:

جہاں تک عام ایرانی شہریوں کا تعلق ہے انھیں عراق حالات سے اس وقت تک دلچسپی نہیں ہو سکتی جب تک عراق سے براہ راست ایرانی شہروں پر میزائل نہ داغے جانے لگیں۔ ایرانی تو عراق کے شیعہ مقدس مقامات کی زیارت میں دلچسپی لے سکتے ہیں جو سالہا سال تک مہلک ہتھیاروں سے برسر پیکار رہنے کے بعد انھیں گلے لگانے کی پوزیشن میں نہیں۔ گویا اس طرح ایرانی وسائل صرف کیے بغیر ایرانی مقاصد کی تکمیل ہوئی ہے ۔ جہاں تک علاقائی یا لسانی اختلافات کے مسائل کا تعلق ہے وہ ایران کے لیے کوئی نئے نہیں، بلکہ ایران سالہا سال سے احتجاج اور جلوسوں کی سیاست سے پوری قوت سے موثر انداز میں نمٹتا آرہا ہے ایران کو نہ صرف اپنی مذہبی قیادت کی معاونت حاصل ہے بلکہ دونوں ممالک کے دینی علماء کے نیٹ ورک سے بھی ایران کو بالواسطہ فائدہ پہنچتا ہے خصوصاً عراق کی مذہبی قیادت سے تو اس کے قریبی تعلقات ہیں آیت اللہ علی سیستانی کے بقول عراق کا سماجی اور معاشرتی ڈھانچہ اس قدر بکھر چکاہے کہ کسی ایرانی کو خواہ وہ کوئی مذہبی راہنما ہو یا عام انسان اس کی ضرورت نہیں ہے کہ وہ کس بھی قسم کی تبدیلی کے لیے کوئی تحریک چلائیں مگر یہ بیان ایک طاقتور انتباہ ہے کہ اگر کوئی ملک کا سیاسی ڈھانچہ بنیاد پرستی کی طرف مائل ہو جائے تو کس قدر مزید بد نظمی پیدا ہو جائے گی ۔

س ۹: اگر ایران عالمی منڈی سے تیل نکال لے یا فروخت روک دے اور اس میں کمی کر دے یا ہمسایہ ملکوں کی تیل کی شپمنٹ میں رکاوٹ ڈالے تو صورتحال کس قدر پریشان کن ہو سکتی ہے؟

٭ زیادہ نہیں۔

اگر ایران اپنے تیل کا سٹاک محدود کر لے تو دنیا اس دھچکے سے جلد ہی باہر آ جائے گی۔ بین الاقوامی ایجنسی برائے توانائی سے منسلک ممالک میں۱۲ ارب بیرل خام تیل کا ذخیرہ موجود ہے جو انھیں ایرانی تیل کی در آمد سے دو سال تک بے نیاز رکھ سکتاہے پھر جب اس صورت حال کے نتیجے میں قیمتیں بڑھ جائیں گی تو تیل پیدا کرنے والے دیگر ممالک زیادہ منافع کمانے کے لیے اس پیداوار میں خود بخود اضافہ کردیں گے اور اس سے قیمتیںجلد ہی نیچے آ جائیں گی۔

اگر چہ ایران کے ایسے اقدام سے دنیا تو شاید برائے نام متاثر ہو گی مگر خود ایران کو اس کی بھاری قیمت چکا نا پڑے گی۔ بالخصوص جب صاف شدہ تیل کی ایران آمد میں رکاوٹ پڑے گی تو ایران کے لیے مسئلہ ہو گا کیونکہ اس سے اس کی ۲۵ فی صد ضرورتیں پوری ہوتی ہیں علاوہ اس کے اس کا اثر چین پر بھی شدید ہوگا جو ایران کا اسٹراٹیجک پارٹنر بھی اور اس کی معیشت کا دارومدار بڑی حد تک ایرانی تیل کی برآمد اور عالمی آبی گزر گاہوں سے تیل کی بے روک ٹوک ترسیل پر ہے ۔ پھر ایران مزید تیل کی پیداوار بھی روکنے پر مجبور ہو جائے گا کیونکہ اس کے پہلے محفوظ ذخائر بھی خطرے میں ہوں گے۔

٭ بہت زیادہ:

جس طرح اور جس مقدار میں معدنی تیل دنیا میں استعمال ہوتا ہے ایرانی پابندیوں سے عالمی معاملات میں سخت خلل پڑے گا کیونکہ اس وقت ایران دس لاکھ بیرل تیل روزانہ مہیا کر رہا ہے۔ اگرچہ ایسی صورت حال کے نتیجے میں قیمتوں میں اضافے کا صحیح اندازہ لگانا تو ممکن نہیں، مگر ماہرین کی رائے ہے کہ ایسی صورت میں تیل کی قیمت میں اضافہ ۲۰ ڈالر فی بیرل سے ۶۰ ڈالر فی بیرل تک ہو سکتا ہے بلکہ جنگ کی صورت میں جو غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گی اس سے تو قیمتیں اور بھی زیادہ متاثر ہو گی۔ کیونکہ ایسی صورت میں نہ صرف ایرانی بر آمد رکے گی بلکہ شاید وینزویلا جو ایران کا قریبی حامی ہے وہ بھی بر آمد روک دے۔

اس کے علاوہ ایران آبنائے ہر مز کی بندش کا اہتمام بھی کر سکتاہے جہاں سے پوری دنیا کی ضرورتوں کا ساٹھ فی صد تیل روزانہ گزرتا ہے ایران کے پاس بحری بارودی سرنگیں بچھانے والا تیز رفتار فلیٹ موجود ہے جو راتوں رات اس کی ناکہ بندی کو ممکن بنا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ اگر ایرانی میزائیلوں نے تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنا نا شروع کر دیا، یا اس کے حمایتی تخریب کار گروہوں نے علاقے میں تباہی مچائی تو صورت حال کئی مہینوں کے لیے قابو سے باہر ہو جائے گی۔ اگر چہ یہ ممکن ہے کہ نیٹو کی سرنگیں ہٹانے والی بحری قوت اورامریکی بحریہ کی نگرانی رکاوٹ دور کر کے کچھ عرصے بعد تیل کی ٹریفک بحال کر لیں مگر مختصر مدت کی اس رکاوٹ کے اثرات بھی انتہائی دور رس ہوں گے۔

س ۱۰: کیا ایران کی روایتی افواج ہمسایہ ریاستوں کے لیے خطرہ ثابت ہو سکتی ہیں؟

٭ نہیں :

ایرانی فوج عددی کمی کے ساتھ ساتھ حربی صلاحیت اور اسلحہ کے اعتبار سے بھی کچھ زیادہ با صلاحیت نہیں اور عراق کے ساتھ جنگ کی دو دہائیوں کے بعد بھی ابھی اس کی چال میں لڑکھڑاہٹ موجود ہے ایران کے پاس زیادہ تر ہتھیار ایسے ہیں جنہیں نہ استعما ل کیا جا سکتا ہے اور نہ مرمت اور نہ ہی ایرانی انھیں نئے ہتھیاروں سے بدلنے پر قادر ہیں علاوہ ازیں ایرانی فوجی حکمت عملی بر طانوی امریکی اور روسی فوجی حکمت عملیوں کا ایک ملغوبہ سا ہے جس کے نتیجے میں کچھ حد تک مفید مشقیں کرنا بھی ممکن نہیں چہ جائے کہ وہ مکمل جنگ لڑ سکیں۔ تاہم ان کی عسکری قوت کو دیگر ہمسایہ ممالک پر کچھ فوقیت ضرور حاصل ہے کیونکہ ان کی دفاعی ذمہ داری تو زیادہ تر مغربی ملکوں کے کندھے پر ہے ۔ البتہ یہ درست ہے کہ ایرانی فوجی ڈھانچہ در حقیقت عراقی خطرے کے پیش نظر تشکیل دیا گیا تھا جب کہ وہ خطرہ اب موجود نہیں۔ خصوصاً جب ان کے چاروں طرف کی ریاستیں مغربی ممالک کی اتحادی ہیں لہٰذا ایرانی افواج کسی بڑے خطرے سے نمٹنے کی اہل نہیں قرار دی جا سکتیں۔ انھیں نہ صرف خلیجی ریاستوں کے شیخوں کی فوج سے بہتر صلاحیت کا حامل ہونے کی ضرورت ہے بلکہ انھیں امریکہ برطانیہ اور ایسے دوسرے تمام ممالک سے مقابلے کے قابل ہونا ہے جو ہر قیمت پر خلیج سے تیل کی ترسیل کو بلا روک ٹوک جاری رکھنے کے خواہش مند بلکہ اس کے لیے مستعد ہیں۔

٭ہاں

ایران کے پاس کوئی پانچ لاکھ کے قریب با قاعدہ سپاہی اور ہمسایہ ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ موثر میزائل نظام موجود ہے اس کے علاوہ ڈیڑھ لاکھ افراد پر مشتمل ایرانی انقلابی گارڈ کے دستے(IRGC) ہیں جو انتہائی طور پر پُرجوش اعلیٰ درجے کی تربیت اور صلاحیت حرب کے حامل فوج ہیں جن کے پاس معقول معیار کا اسلحہ بھی موجود ہے اس نظریاتی فوجی تنظیم کے قبضے میں ایران کے اسکڈ میزائل کے علاوہ کیمیائی اور حیاتیائی ہتھیاروں کا ذخیرہ بھی ہے اور یہی میزائلوں کی تیاری کی ذمہ داری بھی ہے اس کے علاوہ ایران کے پاس قدس فورسز کے تحت ۵۰۰۰ فوجی ہیں جنہیں خصوصی طور پر غیر روایتی جنگ اور بیرون ملک جنگی کاروائیوں کے لیے تیار کیا گیا ہے ۔ یہ خصوصی دستے بھی آئی آر جی سی ہی کے زیر انتظام ہیں۔ اس فورس کی شاخیں پوری دنیا میں ہیں اور ان کے ایرانی جاسوسی اداروں سے رابطے خاصے خفیہ ہیں۔ ایرانی بحریہ کے پاس اپنی نفری ۱۸۰۰۰ کے قریب ہے جب کہ آئی آر جی سی کے ۲۰۰۰۰ جوان بھی بحری کارروائیوں میں حصہ لے سکتے ہیں۔

اگرچہ ایرانی افواج امریکی یا یورپی افواج کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں تاہم یہ اپنے تمام ہمسایوں کے لیے تباہ کن ہو سکتی ہیں۔ ماضی میں اس کی مثالیں ملتی ہیں۔ ایران بڑی آسانی سے دھمکیوں، زور دار بیانات اور چھوٹے ہمسایوں کے خلاف چھوٹی موٹی جنگی کارروائیوں کے ذریعے علاقے میں اپنی چودھراہٹ کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔۔۔ جاری ہے!

(تحریر: سینٹر فار اسٹراٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز، واشنگٹن۔۔۔ ترجمہ: پروفیسر اے۔ ڈی۔ میکن)
(بشکریہ: ششماہی ’’مغرب اور اسلام‘‘ اسلام آباد۔ شمارہ: جنوری۔جون ۲۰۰۷)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.