Abd Add
 

ایران کی طرف سے خطرے کا جائزہ

بیس سوالات جن کے جوابات ہمیں معلوم ہونے چاہییں

گزشتہ سے پیوستہ

س۱۱: کیا فوجی حملے کی صورت میں ایرانی جوابی کارروائی میں کچھ جان ہو گی ؟

٭… ہاں!

ایران کے پاس متنوع اقسام کے ذخائر اور حکمت عملی کی صورتیں موجود ہیں جن کی مدد سے خواہ امریکا حملہ کرے یا اسرائیل، ایرانی جواب معمولی نہیں ہوگا اور ایسے حملے بلاجواز قرار دیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ ہمسایہ ریاستوں میں موجود امریکی اڈے ایرانی میزائیلوں کی زد میں ہوں گے بلکہ ایسا جواب خود اسرائیل پر حملے کی صورت میں بھی ہوسکتا ہے ایسے میزائل روایتی، کیمیائی، حیاتیاتی اور تابکاری ہتھیاروں سے لیس بھی ہو سکتے ہیں۔ بلکہ زیادہ ترامکان یہ ہے کہ ایران بیک وقت دنیا بھر میں امریکی اور اسرائیلی مفادات و تنصیبات کو نشانشہ بنانے کا ایک طویل سلسلہ شروع کر دے جس کے لیے وہ حزب اللہ یا اپنی فوج کے مخصوص روایتی دستوں کو استعمال کر سکتاہے اسی طرح وہ عراق میں زیادہ متشدد ہو سکتاہے جہاں نہ صرف امریکی معاونین نشانہ بنیں گے بلکہ ملک کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ ہو سکتاہے۔

جب اس ساری کارروائی میں ایران کی مشرق وسطیٰ میں بعض اضافی حربی سرگرمیاں بھی شامل ہو جائیں گی تو تیل کی مندی میں ایک بھونچال آجائے گا اس طرح تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں گی اور نتیجے کے طور پر زیادہ ڈالر اور پائونڈ سٹرلنگ یورپی اور امریکی جیب سے نکل کر ایرانی کھاتوں میں منتقل ہو نے لگیں گے۔

٭… نہیں!

ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے نتیجے میں ایرانی دعووں کا پول کھل جائے گا اور چونکہ ایرانی فوج کا امریکی یا اسرائیلی فوجوں سے کوئی مقابلہ ہی نہیں لہٰذا اس کا تمام تر بوجھ ایرانی عوام کو بھگتنا ہوگا۔ ایرانی حملے کی صورت میں مغربی قوتوںکا ردعمل سریع اور شدید ہو گا۔ ایرانی عوام اگرچہ غم و غصے کا اظہار کرتے ہیں مگر حکومت اچھی طرح جانتی ہے کہ ان کی طرف سے شروع کیے گے حملے کا انجام خیر نہیں ہوگا اور ملک کے خلاف کئی گنا شدید عسکری کارروائی ہو گی۔ خود حملہ کرنے کے بجائے ایران کی حکومت یقینا جوابی کارروائی کو ترجیح دے گی۔ اس طرح وہ قوم کو متحد کر کے اپنی سیاسی قوت کو اور مستحکم کر لے گی اور تمام تر زبانی دعوئوں کے باوجود ایرانی ردعمل کم اور علاقائی زیادہ ہو گا۔ ممکن ہے ابتداء میں حکومت بیرونی حملے کا نشانہ بننے والے عوام کی حمایت سمیٹ سکے مگر قوی تر عسکری طاقتوں کے ساتھ محاربت ایران زیادہ دیر تک برداشت نہیں کر سکے گا۔

س۱۲: کیا اسرائیل ایران پر حملہ کر دے گا؟

٭… نہیں!

اسرائیل ایران پر حملہ نہیں کرے گاورنہ اس کے مخصوص مفادات پر زد پڑے گی۔ ایک تو ایسا حملہ پیچیدہ معاملات سے نمٹنے کا تقاضا کرتا ہے دوسرے ایسی کارروائی سے صرف یہی ہو سکے گا کہ ایران کے وسیع رقبے میں پھیلی بعض نیوکلیئر تنصیبات آئندہ ایک دو سالوں کے لیے ناکارہ ہو جائیں اور اس کے لیے بھر پور اور مسلسل حملے کی ضرورت ہو گی مگر اس کے ساتھ ساتھ ایسی کارروائی ایرانی عوام کو حکومت سے متحد کر دے گی (اس کے نتیجے میں حکومت بدلنے کا منصوبہ ناکام ہو جائے گا) علاوہ ازیں ایرانی حکومت پر ان کے منصوبے کی افادیت اور اجاگر ہو گی اور وہ اس ضمن میں اپنی کوششیں تیز تر کر دیں گے۔ گویا ممکنہ اسرائیلی حملے کے نتیجے میں ایران کی حکومت کو ایرانی عوام کی متحد ہ حمایت حاصل ہو جائے گی اسی کے ساتھ ہی ایران ان گروپوں کی حمایت بڑھا دے گا جو حماس اور فلسطینی اسلامی جہاد کی صورت میں پہلے سے موجود ہیں۔ ایک تو یہ گروپ اسرائیل کو اپنی کارروائیوں کا نشانہ بنا سکتے ہیں۔ علاوہ ازیں اسرائیل عالمی تنقید کا نشانہ بنے گا۔ کیونکہ اس نے غیرعلانیہ جنگ مسلط کرنے کی حماقت کی ہوگی۔

اسرائیل کا اصل مقصد یہ ہے کہ اگرچہ ایران کے خلاف کرنے کو اس کے پاس بہت کچھ ہے مگر ایران جو کچھ کر رہا ہے اس کی ’’عدم افزودگی‘‘ کے معاہدے میں گنجائش بلکہ اجازت موجود ہے۔ اگرچہ اسرائیل لاکھ دلیل دے کہ ایسی کارروائی ان کی عسکری ضرورت ہے مگر باقی دنیا اسے بلا جھجک کھلی جارحیت قرار دے دے گی۔ ایسے حملے کی راہ میں یہ رکاوٹ نہیں ہے کہ اسرائیل، ایران تک پہنچ نہیں سکتا بلکہ اصل رکاوٹ یہ ہے کہ اسے بعد میں اس کی بھاری قیمت (عالمی رد عمل کے نتیجے میں ) چکانا پڑے گی۔

٭… ہاں:

اسرائیل کے عسکری نقطہ نظر سے ایران کا چوری چھپے اسلحہ تیار کرنا سالہاسال سے خطرے کی گھنٹی بجاتا رہا ہے جب کہ باقی مشرق و سطیٰ نے (بزدلوں کی طرح) جیو اور جینے دو کی خاموش پالیسی اپنائی ہوئی ہے۔ صرف ایران ہے جس نے اسرائیل کی مرضی کو تسلیم نہیں کیا۔ اس طرح گویا ایران اسرائیل کا خطرناک ترین دشمن ٹھہرا ہے بلکہ اپنے ملک سے باہر بھی حزب اللہ، حماس اور فلسطینی اسلامی جہاد نامی گروپوں کا مدد گار بھی ہے جن کی کارروائیوں نے ہر سال ان گنت اسرائیلیوں کی جان لی ہے۔ اسرائیلیوں کے لیے یہ امر بھی خطرناک ہے کہ نیوکلیر طاقت بننے کے بعد ایران نہ صرف خود اسرائیلی کارروائیوں کو (اپنے خلاف) مشکل بنا دے گا بلکہ دیگر ہمسایہ (مسلم ) ریاستوں کو ڈرا دھمکا کر اسرائیلی پالیسوں کی مخالفت پر آمادہ کر سکے گا۔

اسرائیلی ایران کو گفتگو پر مائل کرنے کی کوششوں کو ناکام سمجھتے ہیں اور اس کی وجہ بعض عالمی طاقتوں کی مجبوریوں کو قرار دیتے ہیں جن کے باعث وہ طاقت استعمال نہیں چاہتے اور انھیں ایران کی حکومت بھی خوب سمجھتی ہے۔ اسرائیل اس میں کوئی جھجک محسوس نہیں کرتا اور ماضی میں بھی اس کے دوسرے ملکوں پر pre-emptive حملے خاصے کامیاب رہے ہیں۔ ان میں اوسیراق میں عراقی نیو کلئر تنصیباب کی تباہی ایک اہم مثال ہے جس کی بدولت اسرائیل مخالفین کی تعداد کم ہوئی تھی۔ البتہ ایران چونکہ اسرائیل سے کافی دور ہے لہٰذا ہتھیاروں کا معیار اور صحیح صحیح ٹھاکوں پر نشانہ لگانے کو یقینی بنانا ہوگا۔ آج کل اسرائیل کے پاس یہ عسکری صلاحیت موجود ہے اور پہلے کی طرح اسرائیل آج بھی اپنی حفاظت کے معاملے میں کسی مدد گار پر بھروسہ کرنے کے لیے تیار نہیں۔

س۱۳: کیا فوجی حملے کی صورت میں ایران کی طرف سے نیوکلیئر خطرہ ٹل جائے گا؟

٭… نہیں!

ایران کی نیو کلیئر تنصیبات بہت سے مقامات پر بکھری ہوئی ہیں۔ ان میں سے کچھ تو دشمنوں کی نظر میں ہو سکتی ہیں مگر سب نہیں۔ مثلالاتن کنورشن سٹیشن مدتوں ہماری نظروں سے اوجھل رہا۔ کیا پتہ ایسی بہت سی جگہیں اب بھی پوشیدہ ہوں اور ایرانی نیو کلیئر انفراسٹر کچر کے بارے میں ہماری معلومات ناقص ہوں، پھر یہ بھی ہے کہ ایسے بہت سے مقامات شہری آبادیوں کے بہت قریب ہیں جس سے حملے کی صورت میں ان گنت اموات کا خطرہ ہے۔ لہٰذا کسی بھی ایسے مغربی حملے کے نتیجے میں دنیا چیخ اٹھے گی۔

بہت سی صورتوں میں صورت حال یہ ہے کہ مغربی جاسوس ادارے تنصیبات کے مقام سے آگاہ ہیں مگر اس میں اصل نشانوں سے واقف نہیں۔ بعض نشانوں کے لیے زمین میں گھس جانے والے نیو کلیائی ہتھیار استعمال کرنا پڑیںگے۔ مگر ایسی صورت میں جس قدر فوجی نوعیت کی کامیابی ہو گی اس سے زیادہ مصیبت عالمی رائے عامہ کی خفگی کی صورت میں سامنے آئے گی۔ علاوہ ازیں حال ہی میں ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے نیو کلئر ٹیکنالوجی کے حوالے سے مقامی طور پر بعض کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ایران کی بیروانی مدد کے بغیر نیو کلیئر میدان میں پیش رفت روز بروز بڑھ رہی ہے اور اگر حملے کے نتیجے میں اس کی تنصیبات تباہ بھی کر دی جائیں تو بھی انھیں دوبارہ بحال کرنے میں اسے ایک دہائی پہلے کی حالت کے مقابلے میں کہیں کم وقت لگے گا۔

٭… ہاں!

اگرچہ ایران نے اپنی ایٹمی تنصیبات پر سخت حفاظتی کورڈال رکھے ہیں تاہم یہ حفاظت ماہرانہ ہوائی حملوں کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ ایسے طیارے جو ریڈ ار پر نظر نہیں آتے ایران کے ہوائی حملوں کے خلاف دفاع میں بآسانی شگاف کر سکتے ہیں اسی طرح بی ایل یو۲۸ جیسے میزائل جنہیں سیٹلائٹ سے کنٹرول کیا جا تا ہے اور کنکریٹ کے بنکروں کو توڑنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں، ایران کی بظاہر محفوظ ترین تنصیبات کو تباہ کرنے کے اہل ہیں۔ اگرچہ یہ بھی واضح نہیں ہے کہ فی الحقیقت کتنے مقامات کو نشانہ بنانے کی ضرورت ہو گی تاکہ ایرانی نیوکلیئر صلاحیت کو مناسب حد تک ناکارہ بنایا جا سکے۔ جو مقامات ظاہر ہیں ان کی تعداد بھی ایک درجن سے لے کر کئی سو تک پہنچتی ہے۔ تاہم جن مقامات کی تباہی لازم ہے ان میں تاتنز کی یورینیم کنورشن سہولت اور اصفہان کا افزودگی سینٹر شامل ہیں۔

ایک کامیاب حملے کا واحد مقصد یہ نہیں ہوگا کہ وہ اشیاء تباہ کر دی جائیں جن سے ایران نیوکلیئر ہتھیار بنا سکتا ہے بلکہ اس صلاحیت کا خاتمہ بھی ضروری ہے جس کے باعث امکان ہے کہ جزوی تباہی کی صورت میں وہ گزشتہ دہائیوں میں حاصل کی گئی کامیابیوں کو مقابلتاً کئی گناہ کم وقت میں بحال کر لے گا۔ واضح رہے کہ یہ کامیابیاں ایران نے سخت عالمی حفاظتی انتظامات کے باوجود حاصل کی ہیں۔ ظاہر ہے بحالی کی کارروائی ایک تو مہنگی ہو گی دوسرے اس میں سابقہ ایرانی کوششوں جیسی غلطیاں بھی پائی جائیں گی۔ اس مرتبہ ایران کو سب کچھ نئے سرے سے اور سخت عالمی نگرانی میں شروع کرنا پڑے گی۔

س۱۴: کیا چین ایرانی مسئلے پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں کوئی مثبت کردار ادا کرسکتا ہے ؟

٭… ہاں!

چین خلیج سے تیل کی بلا روک ٹوک بر آمد کو اپنی صنعتی ترقی اور تیل کی بڑھتی ہوئی ضرورت قرار دینے کے پیش نظر خلیج میں امن کا زبردست حامی ہے اسے احساس ہے کہ خطے میں کسی بھی ٹکرائو کی صورت میں ایران تیل کی فراہمی اور ٹرانسپورٹ میں جو رکاوٹ ڈالے گا وہ چین کی ترقی کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ اس لیے چین کی خواہش ہو گی کہ ایران کے مسئلے پر کسی فوری اور شدید کارروائی کے بجائے اس سے طویل المیعاد ایڈ جسٹمنٹ ہو پہلے بھی چین نے ایرانی نیوکلیئر سرگرمیوں کو ختم یا محدود کرنے کے ہر عالمی معاہدے پر دستخط کیے ہیں اور آئندہ بھی کرتا رہے گا۔

علاوہ ازیں چین کو علاقے میں اپنے بڑھتے ہوئے معاشی اور سیاسی کردار کا ادراک بھی ہے اس لیے عالمی تعلقات اور ڈپلومیسی کے حوالے سے اسے دشمنوں سے زیادہ دوستوں اور شریک ہائے کار کی ضرورت ہے اس لیے وہ دنیا کے کسی بھی ملک کے ساتھ براہ راست مناقشت کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اور اگر ایرانی معاملہ طول پکڑتا ہے اور اس کی شدت میں اضافہ ہوتا ہے تو ایسی مناقشت کا امکان بڑھے گا۔ اس لیے اس کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے کہ چین سلامتی کونسل کی کسی قرار داد کو ویٹو کرے گا۔

٭… نہیں!

چین کو اپنے طویل المیعاد منصوبوں کی تکمیل کے لیے تیل درکار ہے جب کہ مغربی تیل کمپنیوں اور ان کی دوست حکومتوں نے تیل کے نظام ترسیل پر گرفت قائم کر رکھی ہے اس لیے دوسرے متبادل ذرائع کی تلاش چین کی ضرورت بن چکی ہے اس لیے چین کے ایران سے تعلقات بہت اہمیت اختیار کر گئے ہیں( جو یقینا گزشتہ صدیوں سے چلے آرہے ہیں۔)خصوصا ایسی صورت میں جب زیادہ تر عرب مماک اور خلیجی ریاستیں امریکا کی گود میں بیٹھی ہیں ایران کی امریکا سے دشمنی اور چین کی تیل کی طویل المیعاد ضرورت نے چین ایران تعلقات کو زیادہ اہمیت عطا کر دی ہے۔ اگرچہ ایران کے نیوکلیئر مسئلے پر شاید چین کھل کر مغرب کی مخالفت نہ کرے مگر وہ ایسی ہر کوشش بروئے کار لائیگاجسے ایران مخالف کارروائیوں کو زیادہ سے زیادہ غیرموثر بنا یا جاسکے۔ اسی دوران وہ ایران کے ساتھ اپنے طویل المیعاد تعلقات اور تیل کی یقینی ترسیل کے ذریعے اپنی صلاحیتوں میں بتدریج اضافہ کر کے ایسی قوت کی شکل میں ابھرنا چاہتا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں امریکی ظالمانہ سر گرمیوں کو لگا دینے کے قابل ہو جائے اور وہاں کے عوام کی امریکا مخالف کیفیت کو استعمال کرتے ہوئے ایسا مقامی نیٹ ورک قائم کر سکے جو اسے تیل کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنائے رکھے۔ یہ سوچنا غلط ہے کہ تعلیمی سوچ والے ممالک سے ٹکرائو کے ذریعے چین عالمی طاقت بننے کی کوشش کرے گا بلکہ زیادہ قرین امکان یہ ہے کہ وہ اول الذکر راستہ اختیار کرے گا۔

س۱۵: کیا روس ایران مغرب مناقشے میں بہتری لانے کی صلاحیت کے حامل ملک کے طور پر ابھر رہا ہے یا صورت حال اس کے برعکس ہے ؟

٭… بہتری لانے کی صلاحیت کا حامل!

جب بھی ایران کا سوال اٹھے تو معلوم ہوگا کہ اس کے امریکا کے ساتھ بعض اہم معاملات ہیں۔ اب بھی روس نے ایران کی جوہری صلاحیت کے حصول کے لیے اپنی ناپسندیدگی ظاہر کر رکھی ہے۔ بعض مغربی ممالک کی یہ تجویز کہ ایران کو اس شرط پر ایٹمی توانائی کے حصول کے لیے یورینیم کی افزودگی کی اجازت مشروط پر ہونی چاہیے یہ روس کے حق میں بھی ہے کیونکہ اس طرح وہ جلد عالمی توانائی مندی اور سپر پاور بننے کے اپنے خواب کو شرمندہ تعبیر کر سکے گا۔ روس کے خیال میں ایران کے موقف میں شدت دراصل اپنے دفاعی مسائل کی بدولت ہے کسی اور مقصد کے لیے نہیں۔ سو روس کے اپنے عزائم اور مغربی طاقتوں کی تجویز مل کرروس کو فریقین کے مابین گفتگو پر راضی کرنے کیے لیے اپنی خدمات پیش کرنے پر مائل کریںگی۔

روس خود بھی مغربی قوتوں اور ایران کی باہمی اور براہ راست چپقلش کے حق میں نہیں کیونکہ ایسی صورت میں تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں گی تو دنیا توانائی کے متبادل ذرائع کی تلاش میں جان لڑا دے گی اور اردگرد کے ممالک جب ایسے ذرائع پالیں گے تو روس کے تیل کے ذرائع کو کون پوچھے گا۔ علاوہ ازیں ایران پر جنگ مسلط کیے جانے کی صورت میں عراق اور وسطی ایشیا کے دیگر حصوں میں روسی مفادات پر یقینا زد پڑے گی۔

٭… بگاڑنے کا سبب!

ایران اور روس کے تعلقات دونوں ملکوں کے مابین دسمبر ۲۰۰۵ میں ہونے والے اسلحے کی خرید وفروخت کے معاہدے سے کہیں پہلے کی ایک تاریخ رکھتے ہیں اور جنوبی ایران کے مقام بو شہر پر ایک ہلکا نیوکلیئر ری ایکٹر اس کی مدد سے تیار کے جانے سے بھی مدتوں پہلے سے ان تعلقات کے سراغ ملتے ہیں ان سب باتوں سے ہٹ کر روس اورایران کے مابین کچھ مشترک احساسات بھی ہیں مثلاً دونوں مغرب کی نا انصافیوں کا شکار ہوئے ہیں اور اب بھی ان کی زیادتیوں کی زد پر ہیں اس طرح اگر روس ایرانی نیوکلیئر تعلقات پر وان چڑھیں چاہے ان کے نتیجے میں ایران بجلی کے ساتھ ساتھ ایٹمی ہتھیار ہی کیوں نہ بنانے لگے اس سے روس اور ایران دونوں کو مغربی استعمار کے خلاف فائدہ ہی حاصل ہوگا۔ بظاہر روس کا فائدہ اس میںہے کہ وہ کسی بھی فریق کا ساتھ دینے کی بجائے غیر جانبداررہے۔ اس طرح وہ ایران کی تحقیق و جستجو کو محدود رکھ کر مغربی طاقتوں کی حمایت کرے گا تو دوسری طرف انھیں حملے سے باز رکھتے ہوئے ایرانی ہمدردیاں حاصل کر پائے گا۔ چنانچہ روس چاہے گا کہ معاملے کے فوری حل کے لیے کوئی کردار ادا کرنے کی بجائے ایسی کوششیں جاری رکھے کہ اس معاملے کو طویل عرصے تک لٹکائے رکھا جاسکے۔ چنانچہ روس کا اصل مقصد کسی طرح کے معاہدے کو کھٹائی میں ڈالنا ہے اس کے لیے معاہدے کو منسوخ کر دینا اسے مناسب محسوس نہیں ہوتا۔

س۱۶: کیا امریکا اور یورپ کا تعاون جاری رہ سکے گا؟ اگر ہاں تو کیا اس سے ایران کو قابو میں رکھنا ممکن ہوگا؟

٭… ہاں!

ایران یورپی قوتوں کے لیے ایک سخت قسم کا ٹیسٹ کیس ہے انھیں یہ کہنا مشکل ہو رہا ہے کہ پہلے خود امریکا ہی نے بین الاقوامی اداروں کو پس پشت ڈالا اور عراق پر جنگ مسلط کر دی۔ ایران سے متعلق یورپی اقوام کا موقف کسی عملی اقدام کے لیے آسان نہیں۔ ایرانیوں کو واضح طرز عمل اختیار کرنے پر مجبور کرنے میں خود یورپیوں کی عزت نفس دائو پر لگی ہے۔ انھیں اس امر کا بھی احساس ہے کہ ایران کو حدود میں رکھنے کے لیے امریکا کا ساتھ دینا ان کی مجبوری ہے اس لیے امریکا کا ساتھ دیے بغیر کوئی چاہ کار نہیں۔ اس ضمن میں یورپ کی بڑی عالمی طاقتیں مثلاً برطانیہ عظمیٰ وغیرہ بھی مستثنیٰ نہیں۔ کیونکہ انھیں بھی اپنے بعض عالمی مسائل کے حل میں امریکا کی ضرورت ہے۔

یورپی طاقتوں کی طرف سے جومدد فراہم کی جاتی ہے وہ امریکا کو براہ راست ایرانی وسائل محدود کرنے میں کام آتی ہے اور یورپ اور امریکا مل جائیں تو ایک خوفناک معاشی اور عسکری قوت وجود میں آ جائے گی۔اگرچہ ایران کی کوشش ہو گی کہ وہ خالصتاً مغرب کے علاوہ دیگر ممالک کے ساتھ تعاون کے ذریعے باقی رہ سکے مگر امریکی یورپی اتحاد اس کی اس خواہش اور کوشش کو بھی نا کام بنا دے گا۔

٭… نہیں!

بہت سے یورپی ممالک ایران پر براہ راست حملے کے خلاف ہیں مگر امریکا اس کی شدید خواہش رکھتا ہے اور وہ یہ سب کچھ یورپی و عرب اتحادیوں کے ذریعے کرنا چاہتا ہے یورپی طاقتیں ہمیشہ اسی خوش فہمی میں مبتلا رہیں گی کہ ایران کے ساتھ مصالحت کے لیے مذاکرات کا ایک اور دور ہو مگر سچ یہ ہے کہ ایرانیوں کو مذاکرات یا مسئلے کے حل سے کوئی دلچسپی نہیں۔ چنانچہ امکان ہے کہ امریکا اور اسرائیل جس قدر اتحادی بھی اکھٹے کر سکے ان کے ساتھ خود ہی ایران پر چڑھ دوڑیں گے۔

بعض یورپی ریاستیں ممکن ہے احتجاج کے لیے خاصہ شور مچائیں مگر کئی یورپی ممالک ایسے بھی ہیں جو یہ خیال رکھتے ہیں کہ امریکی مخالفین سے ہمدردی کے ذریعے طاقت کا توازن پیدا کرنے کی کوشش کے مقابلے میں امریکا کا براہ راست ساتھ دینے میں ہی عافیت ہے اور وہ یہی سمجھے رہنا چاہتے ہیں کہ براہ راست ایرانیوں کی نیت کو بش انتظامیہ خوب سمجھتی ہے یورپ نہ تو مشرق وسطیٰ سے متعلق امریکی پالیسی کو کوئی تقویت پہنچا سکتا ہے اور نہ ہی اس میں تبدیلی کے لیے موثر کا رروائی کی صلاحیت رکھتا ہے۔

س۱۷: کیا نیو کلیئر مسئلے پر عالمی دبائو کے رد عمل کے طور پر ایران اپنا ممکنہ اثر و رسوخ عراق میں استعمال کرے گا؟

٭… نہیں!

ایران مغرب سے جنگ ہر گز نہیں چاہتا۔ اس کی خواہش یہ ہے کہ اسے اس کے حال پر چھوڑ دیا جائے۔ صدر احمدی نژاد کی خواہش ہو گی کہ وہ صدر بش سے جس کی پالیسی اور سابقہ ریکارڈ عراق کے مسئلے کے حوالے سے اظر من الشمس ہے براہ راست دشمنی مول لیے بغیر اپنا مقصد حاصل کر لیں۔ اس طرح ایران کا عراق میں براہ راست ملوث ہونے کا مطلب یہ ہوگا کہ امریکا کو ایران پر چڑھ دوڑنے کا بہانہ مل جائے گا جس کی اسے بڑی بے چینی سے تلاش ہے۔ ایسی بہت سی ریاستیں (حکومتیں) ہیں جو عراق میں تباہ کن ہتھیاروں کی موجودگی کا دعویٰ غلط ثابت ہونے کے بعد، ایران سے متعلق ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کے الزام کو بھی شک کی نظر سے دیکھتی ہیں مگر ایسے میں اگر ایران کے بارے میں یہ صورت حال منظر عام پر آئی کہ وہ عراق میں موت کے کھیل کو ہوا دے رہا ہے تو ایسی ساری حکومتیں بھی ایران کی مخالف ہو کر اسے سزا دینے پر زور دینے لگیں گی۔ اس کے علاوہ ایسے ایرانی رویے سے عراق میں موجود بر سر پیکار سارے گروہوں میں مزید ابتری پھیلے گی اور اس طرح وہاں موجود خود ایران کے حامی بھی اسی ابتری کا شکار ہو جائیں گے جنہیں اپنی قوت مجتمع کرنے کے لیے کسی قدر امن اور سکون کی ضرورت ہے ایران کو ایک کمزور مگر شیعہ عراق چاہیے۔ اس لیے وہ اسے مکمل طور پر غیر فعال دیکھنا ہرگز پسند نہیں کرے گا۔

٭… ہاں!

ایران بعض خطوں سے غیر حاضر رہتے ہوئے اپنے مفاد کے حصول کے لیے مقامی گروہوں کو استعمال کرنے کی حکمت عملی (Proxy war) کے لیے ہمیشہ سے بد نام ہے اور صدام کے زوال کے بعد ایران نے ایسے ہی حامیوں کا مضبوط گروہ عراق میں بھی پیدا کر لیا ہے ایسا گروہ شیعہ اکثریتی علاقوں مثلاً بصرہ اور جنوبی عراق کی شیعہ گرفت کے علاقوں میں خاصہ زور پکڑ رہا ہے بغداد میں دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے والے اور دیگر علاقوں کی سنی آبادی کو دہشت میں مبتلا کرنے والے شیعہ گروہوں کے بھی ایران سے روابط ہیں۔

٭… نہیں!

عراق میں کوئی ایک گروہ ایران کے زیر اثر نہیں بلکہ بہت سے ہیں جن کے ذریعے عراق میں بد امنی پھیلانے کی ایرانی صلاحیت اچھی خاصی قوی ہے۔

ایران نے کافی عرصہ پہلے سے اندازہ کر لیا تھا کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات میں بہتر پوزیشن حاصل کرنے کے لیے عراق میں مداخلت ضروری ہے۔ اگر ایران کی نیوکلیائی سر گرمیوں کے حوالے سے اس پر دبائو اور فریقین کے مابین تنائو میں اضافہ ہوتا ہے تو ایران عراق کی صورت حال کو اپنے حق میں کرنے کے بعد ہی نیو کلیائی مسئلے پر کسی قسم کی سپراندازی کی بات کرے گا بلکہ اگروہ عراق میں اپنی پسند کا ماحول قائم کرنے میں کامیاب ہو گیا تو نیو کلیائی مسئلے کے حوالے سے اس پر دبائو خود بخود کم ہو جائے گا۔ ایران کو درحقیقت معاونین کی ضروت نہیںبلکہ عالمی برادری میں ایک با وقار مقام چاہیے اور وہ مقام حاصل کرنے کے لیے عراق میں اپنی اہمیت ثابت کرنا ایران کے لیے ضروری ہے۔

س۱۸: ایران پر حملے صورت میں اس کی جہادی گروپوں کی حمایت میں اضافہ ہو گا یا کمی ؟

٭… اضافہ!

ایران کی تاریخ گواہ ہے کہ ’’حزب اللہ‘‘ اور فلسطینی اسلامی جہاد‘‘ جیسے گروپوں کے ذریعے دہشت پھیلا کر سیاسی مقاصد حاصل کرنا اس کی خارجہ پالیسی کا اہم جزو رہا ہے۔ اس امر کے واضح شواہد موجود ہیں کہ دنیا بھر میں امریکی مواد کے بارے میں ایران اپنی معلومات تازہ رکھتا ہے اور جب کبھی اسے کسی دبائو یا ایمرجنسی کا سامنا ہو ایرانی افسران خود یا اپنے ایجنٹوں کے ذریعے امریکی افراد کے قتل تک کی کارروائی کر گزرتے ہیں اور یہ ان کی سفارتی سر گرمیوں کا ایک واضح حصہ ہیں۔

ایک طرف تو ایران امریکا اور یورپی ملکوں کو باور کراتا رہتا ہے کہ ان کی پالیسیوں کی انھیں کیا قیمت چکانا پڑ سکتی ہے تو دوسری طرف وہ تیسری دنیا کے ممالک کی ہمدردیاں بٹورنے میں مصروف رہتا ہے جو ان مغربی ممالک کی دھاندلیوں کے حوالے سے اس کے ہم خیال (یا شریک عذاب) ہیں۔ اس حوالے سے عرب اسرائیل قضیے میں ملوث ممالک زیادہ اہم ہیں جہاں کے عوام کی ہمدردیاں اکثر ایران کے ساتھ محض اس وجہ سے رہتی ہیں کہ ایران اسرائیل کا سب سے بڑا مخالف ہے (کیونکہ اسرائیل مسلم عربوںکا استحصال کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا ) یہ صورت حال پچھلے ایک سال سے واضح ہے ایران کی حکمت عملی یہ ہے کہ اس کی سر گرمیوں کا مغربی ممالک کی طرف سے محدود متشددانہ رد عمل ہو، تاکہ ایران عالم اسلام اور تیسری دنیا کی ہمدردی سمیٹ کر اس سے کہیں زیادہ فائدہ حاصل کر لے جتنا اسے حملے کی صورت میں نقصان اٹھانا پڑیگا۔

٭… کمی!

ایران کے لیے یہ امر سخت باعث تشویش ہے کہ دنیا نے اسے نگاہوں میں رکھا ہوا ہے، خصوصاً ایسے عالم میں کہ امریکی حکومت جو اسے صفحہ ہستی سے مٹانا چاہتی ہے اس کی سخت نگرانی کر رہی ہے ایران کافی بہتر پوزیشن میں ہے، کیونکہ اس کے حمایتی گروہ عراق اور لبنان میں کامیابی سے کارروائیاں کر رہے ہیں اور اس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ایران کے فائدے میں ہے۔ ایسے میں واضح کارروائیاں کر کے ایران مغربی ممالک کو اپنا مزید مخالف نہیں بنانا چاہے گا جو پہلے ہی اسے اچھی نظر سے نہیں دیکھتے۔ ایسا کرنا تو خود اپنے پائوں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف ہو گا۔

ایران بلاشبہ حزب اللہ اور حماس وغیرہ کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر نہ صرف مسلسل امدا فراہم کرتا ہے بلکہ اسے جائزہ بھی قرار دیتا ہے سو وہ یقینا ایسی مدد جاری رکھے گا۔ ایسے عالم میں اگر اس پر حزب اللہ کو ہتھیار فراہم کرنے کا الزام بھی عائد ہوا تو اس سے ایران کی یہ خواہش قوی تر ہو گی کہ وہ ان مسلح گروپوںکو اور مضبوط بنائے تاکہ مغرب کی طرف سے ممکنہ حملے یا پوری دنیا کی طرف سے لگائی گئی پابندیوں کے نتیجے میں ایران کی پہلے سے پابندیوں میں جکڑی فوج مزید پابندیوں کی زد میں آنے کی صورت حال سے نمنٹنے کے متبادل راستے موجود ہیں۔

س۱۹: کیا بین الاقوامی برادری ایران پر پابندیاں عاید کر دے گی ؟

٭… ہاں!

یہ وسیع تر بین الاقوامی رائے ہے کہ نیو کلیئر ایران خلیج میں طاقت کے توازن کو تہہ و بالا کر دیگا۔ اور اس پربھی عموماً اتفاق ہے کہ جنگ کے مقابلے میں پابندیاں بہر حال بہتر متبادل ہیں۔ا گر چہ اکثر ممالک پابندیوں کے سراسر خلاف بھی ہیں۔ یہ ایسے ممالک ہیں جن کی تیل کی ضروریات زیادہ تر ایران سے پوری ہوتی ہیں، مگر وہ ممالک بھی اسے کم تر خرابی کے طور پر قبول کر لیں گے اور یہ علاقے میں بحران کے خاتمے کا واحد ذریعہ ہے جو بآسانی دستیاب ہے۔ ان پابندیوں کا اصل مقصد تو ایران کو ہتھیاروں کی فراہمی روکنا ہوگا مگر مغربی ممالک یہ بھی چاہیں گے کہ ایرانی تیل میں سر مایہ کاری کی راہ بھی روکی جائے تاکہ ایران پر باقی دنیا سے مناقشت مول لینے سے باز رکھنے کے لیے دبائو بڑھایا جا سکے۔ البتہ جو ممالک ایرانی تیل استعمال کرتے ہیں ایران کو اس حد تک بھی ناراض کرنا پسند نہیں کریں گے کہ وہ تیل کی فراہمی ہی سرے سے بند کر دے۔ مگر وہ اپنی ہمدردیاں چھپائے رکھنے پر مجبور ہوں گے تاکہ ایران کے خلاف ’’مشترکہ‘‘ کارروائی کا امکان باقی رہے۔ ایسا نہ ہو کہ امریکا اکیلا ہی سب کچھ کر ڈالنے کا فیصلہ کر لے۔

٭… نہیں!

زیادہ تر ممالک کی خواہش ہوگی کہ (کوئی کارروائی نہ ہو اور ) ایران سے ان کی طرف تیل کی فراہمی جاری رہ سکے مگر امریکا اور چند قریبی حلیف البتہ ایران کی حربی قوت کی کمی میںسنجیدہ رہیں گے۔ اقوام متحدہ اس موضوع پر اجلاس پراجلاس بلاتی رہے گی اور آئی اے ای اے کے ارباب اختیار بار بار ایران کو انتباہ کرتے رہیںگے اور خطرناک نتائج کی دھمکیوں کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔ تاہم بحران کا شکارتیل کی منڈی کا اہم ترین کردار ہونے کے باعث ایران ہر دفعہ پابندیوں کے چنگل سے بچ نکلنے سے کامیاب رہے گا۔ ایران ان معاملات سے متعلق بین الاقوامی اتفاق رائے قائم نہ ہونے کے امکانات پر زور دیتے ہوئے اپنے تیل اور دولت کو استعمال کرے گا اور اس ضمن میں اس کا نشانہ ’’عالمی پابندیاں‘‘ سب سے پہلے بنیں گی۔ ہو سکتا ہے امریکا اور چند ہم خیال ممالک خود اپنی طرف سے بھی (یعنی اقوام متحدہ کی عائد کر دہ پابندیوں کے علاوہ) کچھ پابندیاں عائد کر دیں مگر ان کی حیثیت اور اثر ایک جائز بین الاقوامی تحریک کے طور پر کبھی بھی عوامی قبولیت حاصل نہیں کر سکے گا۔

س۲۰: کیا ایران کوئی ایسی بڑی سودے بازی کر سکے گا جس کی امریکا بھی عملاً تائید کرے؟

٭… ہاں!

ایران کی خارجہ پالیسی کا سب سے بڑا مخرج اس کی دفاعی ضرورت ہے چونکہ ہمسایوں میں سے اس کا کوئی خاص حمایتی نہیں۔ اس کے آس پاس کے خطے غیر یقینی صورت حال سے دو چار ہیں اور امریکا سے اس کی دہائیوں پر انی دشمنی کا تقاضا یہ ہے کہ اس کے ہاتھ میں بہتر سودے بازی کے لیے کوئی ہتھیار موجود ہو۔ در حقیقت ایران کے پاس باقی دنیاکے ساتھ تعلقات کی بحالی کے علاوہ اور کوئی متبادل ہی موجود نہیں اور یہ اسی صورت ممکن ہے جب وہ امریکا کے سامنے سپر انداز ہو جائے۔ دنیا کی اکیلی سپر پاور کے ساتھ مفید اور با مقصد مذاکرات کے لیے انتہائی حساس اور سوجھ بوجھ پر مبنی طرز عمل چاہیے۔ مگر ہمیں ایران کی احتیاط کو اس کی عدم دلچسپی کے ساتھ مخلوط نہیں کرنا چاہیے۔ اصل میں ہمیں ایسی عظیم سودے بازی کا تجربہ ہے جیسی ہم نے (تباہی کا خوف دلا کر ) ۲۰۰۴ء میں لیبیا کے ساتھ کامیاب مذاکرات کے ذریعے حاصل کی تھی محدود اور اعتماد بحال کرنے والے مذاکرات ایران کی سٹریٹیجک اورئینٹیشن کے لیے میدان ہموار کر سکتے ہیں مگر اس کے لیے لازم ہے کہ امریکی مذاکرات کارڈ نڈے اور تو برے کے امتزاج پر مشتمل مواد تیار رکھیں۔ اگرچہ امریکا کے اندر ایسا کرنا آسان نہ ہو گا تاہم اگراس کوشش کے نتیجے میں حکمت عملی کے اعتبار سے ایران کو راہ راست پر لایا جا سکے تو یہ سودا مہنگا نہیں پڑے گا۔

٭… نہیں!

ایرانی قیادت امریکی حکومت کے ساتھ کسی قسم کا معاہدہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی کیونکہ اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ آخر کار ایرانی حکومت اپنی اسلامی نظریاتی بیساکھی سے بھی محروم ہو جائے گی اور پھر اسے اپنی اوقات کے مطابق دنیا میں رہنے پر مجبور ہونا پڑے گا۔ ایرانی حکومت چاہتی ہے کہ ایسے ماحول میں مذاکرات کرے اور ایسی شرائط پر معاہدہ کرے کہ وہ عالمی برادری کو بتا سکے کہ اس کا موقف صحیح تھا اور یہ بھی کہ معاہدے کی کامیابی کے لیے تمام تر سہولیات امریکا ہی کو مہیا کرنا چاہیئں اور یہی تنائو کم کرنے کی واحد صورت ہے۔

حقیقت میں کوئی بڑا معاہدہ کئی وجوہات سے نا قابل عمل ہے۔ اول یہ کہ ایران کا رویہ بے شمار میدان ہائے عمل میں اس قدر درشت ہے کہ کوئی بھی امریکی سفارت کار اسے برداشت نہیں کر سکتا۔ کیونکہ دنیاکے کئی محاذوں پر جن میں نیوکلیئر پرولیفریشن سے لے کر دہشت گردی تک شامل ہیں، ایران ان گنت زندگیوں سے کھیل رہاہے دوم یہ کہ ایرانی مبہم نظام سیاست میں ذمہ داری اور جواب دہی کسی فرد کی نہیں ہوتی جب کہ موجودہ مسئلہ ایساہے کہ ایرانی افسران کی معمول کی ابہام پیدا کرنے والی عادت حل میں آڑے آئے گی۔ ہمیں لیبیا کو راہ پر لانے میں ایک دہائی لگی ہے مگر لیبیا کے رویے میں مسلسل اور مثبت تبدیلی نظر آتی رہی تھی۔ ایران کے حوالے سے اس کا معمولی سا اشارہ بھی نہیں ملتا۔

(بشکریہ: ششماہی ’’مغرب اور اسلام‘‘ اسلام آباد۔ شمارہ: جنوری۔جون ۲۰۰۷)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.