Abd Add
 

2 Comments on اراکان (برما) کے روہنگیا مسلمان

  1. مجتبی فاروق // October 3, 2017 at 3:13 pm // Reply
    برما کے اطراف چار میں سے تین مسلم اکثریتی ممالک ہیں
    کیا وہ کوئی حکمت عملی نہیں بنا سکتے ہیں؟
    پاکستانی اپنے برے وقت پر ان کی خدمت کا اعتراف کرتے ہوئے دستبردار نہیں ہو سکتے ہیں۔ انہیں اب امریکہ کے مقابلے چین کی خوشنودی کی خاطر اپنی غیرت و ذمہ داری سے بری نہیں کیا جا سکتا۔ اور آخری بات یہ کہ خود اراکان کی اتنی بڑی آبادی کیوں اتنی کمزور ہو گئی کہ ذلت کی انتہا پر ہے۔ کہاں گئے وہ اہل بصیرت جو خدا کے نور سے دیکھنے کے دعویدار تھے۔
  2. Dr Muhammad Anwar Qasmi // April 30, 2020 at 6:35 am // Reply
    جناب مجتبیٰ فاروقی صاحب
    اسلام علیکن ورحمتاللہ وبرکاتہ آپ نے روہنگیا مسلمانوں کے جو حالات و واقعات بین کئے ہیں آپ کی یہ سعی
    لائق تحسین ہے میں آپ کے مطالعہ کو داد دیتا ہوں اگر آپ کے پاس ان کے حوالہ جات ہیں تو مجھے عنائت فرما کر مشکور فرمائیں میں تاریخ برما پر کام کر رہا ہوں تو اآپ کی معاونت ہوجائے گی اللہ رب العزت آپ کو جائے خیر عطا فرامئے
    والسلام
    پی ایچ ڈی ریسرچ سکالر محمد انور قاسمی یونیورسٹی آف سرگودھا

Leave a comment

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.