سعودی عرب نئی راہ پر!

اگر محلاتی سازشوں کی حالیہ تاریخ کو بھی ذہن میں رکھیں تو جو کچھ سعودی عرب میں حال ہی میں ہوا ہے، وہ ہوش و حواس گم کردینے والا تھا۔ ۴؍نومبر کو سعودی عرب میں اعلان کیا گیا کہ کرپشن کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن کے دوران درجنوں سرکردہ شخصیات کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ ان میں سب سے نمایاں شخصیت شہزادہ الولید بن طلال کی تھی جو سعودی ارب پتی ہیں۔ الولید بن طلال نے دنیا بھر میں سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ امریکا کے سٹی گروپ اور نیوز کارپوریشن میں بھی ان کے نمایاں شیئرز ہیں۔ تحویل میں لیے جانے والوں میں بہت سے شہزادوں کے ساتھ ساتھ متعدد موجودہ اور سابق وزرا، سعودی بن لادن گروپ کا چیئرمین اور مشرق وسطٰی میں سب سے بڑے سیٹلائٹ نیٹ ورک کے سربراہ بھی شامل ہیں۔ جنہیں تحویل میں لیا گیا، انہیں ریاض کے شاندار رٹز کارلٹن ہوٹل میں رکھا گیا۔ جو لوگ وہاں ٹھہرے ہوئے تھے انہیں نکل جانے کو کہا گیا اور نئی بکنگ روک دی گئیں۔

جن لوگوں کو برطرف کیا گیا، ان میں ایک نمایاں نام نیشنل گارڈ کے سربراہ شہزادہ متعب بن عبداللہ کا تھا۔ ان تمام اقدامات کا بنیادی مقصد ولی عہد محمد بن سلمان کو زیادہ سے زیادہ مضبوط کرنا تھا۔ یہ کہنا غلط ہوگا کہ جو کچھ سعودی عرب میں ہوا اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ حقیقت یہ ہے کہ سعودی شاہی خاندان میں کسی ایک گروپ کی طاقت برقرار رکھنے پر محنت کی جاتی رہی ہے۔ سعودی عرب کے بانی شاہ عبدالعزیز کے حصّہ بنت احمد السدیری کے بطن سے پیدا ہونے والے بیٹو ں میں اقتدار مرتکز رہا ہے۔ ’’السدیری سیون‘‘ کی اقتدار پر گرفت اس قدر مضبوط رہی ہے کہ شاہ عبدالعزیز کی دیگر اولاد ایک طرف رہی ہے۔

بھائیوں میں طاقت کا توازن بہت عمدگی سے برقرار رکھا گیا ہے۔ شہزادہ سلطان بن عبدالعزیز نے ۴۸ سال تک وزیر دفاع کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ شہزاد نائف اور بعد میں ان کے بیٹے محمد نے کم و بیش چار عشروں تک وزارت داخلہ سنبھالی۔ ۱۹۶۳ء سے نیشنل گارڈ کا چارج سابق شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز اور ان کے اہل خانہ میں رہا۔

وزارت دفاع، وزارت داخلہ اور نیشنل گارڈ … تینوں اب ولی عہد محمد بن سلمان کے کنٹرول میں ہیں۔ اندرونی حلقے میں وہ MBS کی عرفیت سے پہچانے جاتے ہیں۔ سلمان بن عبدالعزیز کے بادشاہ بنتے ہی چند گھنٹوں میں محمد بن سلمان نے وزارت دفاع سنبھال لی تھی۔ جون میں باپ اور بیٹے نے مل کر سابق ولی عہد محمد بن نائف کو وزیر داخلہ کے منصب سے معزول کرکے گھر میں نظربند کردیا۔ اور اس کے بعد شاہ عبداللہ مرحوم کے دوسرے بیٹے شہزادہ متعب کو معزول کردیا گیا۔ شہزادہ متعب کے بادشاہ بننے کا امکان خاصا قوی تھا۔

معاشی اور دفاعی اعتبار سے اہم گردانے جانے والے ہر منصب پر تبدیلی شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے نام پر کی گئی۔ حقیقت یہ ہے کہ ان تمام تبدیلیوں کی پشت پر ولی عہد محمد بن سلمان ہیں۔ ۳۲ سالہ محمد بن سلمان نے اپنی ذات میں غیر معمولی یا خطرناک حد تک طاقت مرتکز کرلی ہے اور اب سعودی عرب کو معاشی اور معاشرتی اعتبار سے تبدیل کرنے کے ایجنڈے پر عمل شروع کردیا ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ سعودی معیشت کا انحصار کاملاً تیل کی دولت پر نہ رہے۔

ستمبر میں سعودی پولیس نے کریک ڈاؤن کرتے ہوئے حکومت پر تنقید کے الزام میں انسانی حقوق کے متعدد کارکنوں اور درجنوں علمائے کرام کو گرفتار کیا تھا۔ اس کریک ڈاؤن کے فوراً بعد شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے خواتین کے گاڑی چلانے پر پابندی ختم کرنے کا اعلان کیا۔ اس کے چند ہی ہفتوں بعد محمد بن سلمان نے ایک عظیم الشان کانفرنس منعقد کی جس میں ’’اعتدال پسند اسلام‘‘ کا راگ الاپ کر قومی معیشت کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ۵۰۰؍ارب ڈالر کے ’’نیوم پروجیکٹ‘‘ کا اعلان کیا۔ اس جدید ترین منصوبے میں بیشتر اسٹاف روبوٹس پر مشتمل ہوگا۔ ملک میں تھیٹرز قائم کرنے کی اجازت سمیت محمد بن سلمان کے پاس بہت سے معاشرتی اور معاشی منصوبے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ ریاستی ملکیت کی آئل کمپنی آرامکو کی نجکاری بھی کی جانی ہے۔

سعودی عرب میں رونما ہونے والی تبدیلیاں ایک اہم مرحلے پر آئی ہیں۔ پڑوس میں یمن کا برا حال ہے۔ ۲۰۱۵ء میں حکومت کا تختہ الٹنے والے حوثی باغیوں کو ہرانے کے لیے سعودی عرب نے جو جنگ شروع کی، اس نے یمن کو شدید ابتری سے دوچار کر رکھا ہے۔ دارالحکومت صنعا اور شمالی یمن کا کچھ حصہ اب بھی حوثی باغیوں کے کنٹرول میں ہے۔ حوثی باغی سعودی علاقوں پر میزائل فائر کرتے رہے ہیں۔ سعودی عرب میں جدید ترین دفاعی مشینری کی مدد سے میزائل بروقت جھپٹ لیے جاتے ہیں۔ یمن کو کنٹرول کرنے کی سعودی کوششیں اسی طور ناکام رہی ہیں جس طور گیس کی دولت سے مالا مال قطر کو کنٹرول کرنے کے لیے پانچ ماہ قبل شروع کی جانے والی اس کی ناکہ بندی ناکامی سے دوچار ہوئی تھی۔ اس ناکہ بندی کا بنیادی مقصد صرف یہ تھا کہ قطر انقلاب پسند اسلامی گروپوں کی حمایت ترک کردے۔

دوسری طرف سعودی عرب کا علاقائی حریف ایران تیزی سے تقویت پا رہا ہے۔ جو کچھ سعودی عرب یا خطے میں ہو رہا ہے، اس کے نتیجے میں ایران کی طاقت بڑھ رہی ہے اور وہ بہتر تیاری کے ساتھ میدان میں آنے کی تیاری کر رہا ہے۔ لبنان میں ایران کا اثر و نفوذ اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ لبنانی وزیر اعظم سعد الحریری نے سعودی دارالحکومت ریاض پہنچ کر وزیراعظم کے منصب سے مستعفی ہونے کا اعلان کردیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جس طور ۲۰۰۵ء میں ایران نے ان کے والد کو قتل کرایا تھا بالکل اُسی طور انہیں بھی قتل کرادیا جائے گا۔

جو کچھ سعودی عرب میں ہو رہا ہے اس کے حوالے سے بیان کی جانے والی کہانیوں پر یقین کرنے والے کم ہیں۔ کرپشن کے خلاف کریک ڈاؤن کی بات پر یقین کرنے والے کم ہیں۔ سعودی عرب میں کرپشن کوئی بنیادی ایشو ہے ہی نہیں۔ ہاں، طاقت کو چند ہاتھوں میں مرتکز رکھنے کی بات پر سبھی یقین کرنے کو تیار ہیں۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ جو کچھ سعودی عرب میں ہو رہا ہے، وہ طاقت کو چند ہاتھوں میں مرتکز رکھنے کے مخالفین کو کنٹرول کرنے کے کھاتے میں ہے۔ ولی عہد محمد بن سلمان جو کچھ چاہتے ہیں اُس کی مخالفت کرنے والوں کی تعداد اچھی خاصی ہے۔ گرفتاریاں بھی بلاجواز معلوم ہوتی ہیں۔ شہزادہ متعب سے قطع نظر جن افسران کو بلیک لسٹ کیا گیا ہے، وہ بہت کمزور ہیں اور ریاست کے لیے کسی بھی طور خطرہ نہیں بن سکتے۔ شہزاد الولید بن طلال اگرچہ بہت مالدار ہیں اور دنیا بھر میں انہوں نے سرمایہ کاری کر رکھی ہے، مگر سعودی پالیسیوں کی تشکیل میں ان کا کوئی کردار نہیں۔ وہ ایوان ہائے اقتدار میں غیر معمولی اثر و نفوذ کے بھی حامل نہیں۔

محمد بن سلمان نے خود کو سعودی پالیسیوں کے واحد چہرے کی حیثیت سے دنیا کے سامنے پیش کیا ہے۔ ساری طاقت اپنی ذات میں مرتکز کرکے وہ صرف خرابیاں پیدا کر رہے ہیں اور جب خرابیاں بڑھ جائیں گی، تب ناقدین کو سوچنا نہیں پڑے گا کہ الزام کس پر دھرا جائے۔

(ترجمہ: محمد ابراہیم خان)

“Saudi Arabia’s unprecedented shake-up”.(The Economist”. Nov.5, 2017)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*