Abd Add
 

اہرامِ مصر: انسانی تاریخ کا سات ہزار سالہ معمّہ

اہرام دنیاے قدیم کی اعلیٰ سائنسی ترقی کے ٹھوس اور جیتے جاگتے ثبوت ہیں۔ اہرام کا عملِ پیمائش گویا پتھروں کی زبان میں الہام بیانی ہے۔ اہرام کی ساخت و تعمیر سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس کام میں کسی اور ہی دنیا کی مخلوق کا تعاون حاصل رہا ہے۔ اہرام کے سربستہ رازوں کا انکشاف جدید سائنس کا شیرازہ بکھیر سکتا ہے۔

یہ ہیں وہ چند در چند نظریات جو اہرامِ مصر کے معانی‘ اصلیت اور تاریخ کے بارے میں پیش کیے جاتے ہیں۔ ان عظیم مقبروں کی اہمیت پچھلے ایک ہزار برسوں سے دنیا بھر کے سائنسدانوں‘ علما‘ صوفیا اور عام لوگوں کے درمیان موضوعِ بحث رہی ہے۔ ان کے مباحثے کا زیادہ تر محور و مرکز مصر کا سب سے بڑا اہرام ’’شی اوپس یا چیوپس کا عظیم اہرام‘‘۔ The great Pyramid of Cheops رہا ہے۔ یہ تراشیدہ سنگی چٹانوں کا وہ چیستانی انبار ہے جو ہزاروں برسوں سے انسانی ادراک و اذہان کے لیے ایک لاینحل معمہ اور ناقابلِ تسخیر چیلنج کی حیثیت سے سینۂ گیتی پر بڑی شان اور دبدبے سے ایستادہ ہے۔ آج بھی جب کہ انسان نے خلا کی وسعتوں اور سمندر کی گہرائیوں تک کو کھنگال ڈالا ہے شی اوپس کا یہ عظیم اہرام پہلے ہی کی طرح کھڑا جدید سائنس اور سائنس دانوں کو منہ چڑا رہا ہے۔

نئی دریافتیں‘ نئے انکشافات‘ نئی معلومات‘ وسیع تحقیقات و مطالعات نے اس اہرام کے بارے میں کئی پختہ نظریات و افکار کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔ ’’یورپین اوکلٹ ریسرچ سوسائٹی‘‘ (European Occult Research Society) کے بانی اور سابق صدر گنتھر روزن برگ (Gunther Rosenburg) نے اپنی رپورٹ میں بتایا ’’سائنس دانوں نے حال ہی میں ’’شی اوپس‘‘ کا کمپیوٹری مطالعہ کیا تو بیشتر ماہرین حیرت و استعجاب سے آنکھیں پھاڑے‘ بے یقینی سے سر جھٹکتے ہوئے چلے گئے۔ فی الحال ہم اس بارے میں قطعی تاریکی میں ہیں کہ یہ اہرام کن لوگوں نے بنائے تھے‘ کیوں بنائے تھے اور آخر ان کے وجود کا سبب کیا ہے‘‘۔ بہرحال تازہ ترین معلومات (Data) نے یہ بات ثابت کر دی ہے کہ یہ اہرام قدیم اور انتہائی ترقی یافتہ سائنسی تخلیقات کا مظہر ہیں اور یہ انتہائی ترقی یافتہ سائنس‘ حضرت عیسیٰؑ کی پیدائش سے ہزاروں سال قبل پوری دنیا پر غالب تھی۔ اہراموں کے معمار کائنات کے بیشتر سربستہ رازوں سے واقف تھے۔ وہ اعلیٰ ترین ریاضی (Advanced Mathematics) کا ادراک رکھتے تھے۔ دنیا کے جغرافیہ کے بارے میں ان کا علم حیرت انگیز تھا۔ تعمیرِ اہرام کے مطالعہ اور تحقیقات سے حاصل شدہ حقائق میں سے چند ایک کو خلائی سائنس دان ثابت کرنے میں کامیاب بھی ہو چکے ہیں۔ اس کے نتیجے میں خدشہ ہے کہ ہمیں نصابی کتب اور انسانی تاریخ کو دوبارہ مرتب کرنا پڑے گا۔

’’حال ہی میں عروس البلاد قاہرہ سے چند میل جنوب میں واقع غزہ گیزا (Giza) کا میدان ہے۔ یہ علاقہ جو امریکا کے کسی بھی اوسط درجے کے فارم سے زیادہ وسیع نہیں ہے بلاشبہ دنیا کی وسیع اور پراسرار ترین جاگیر ہے۔ حیرت انگیز ابوالہول اور دیگر اہرام اس بے آب و گیاہ میدان میں صدیوں سے ایک لاینحل چیستان کی طرح ایستادہ ہیں۔ اسی ویرانے میں عظمت رفتہ کی انمٹ دلیل بنا سر تانے ممتاز کھڑا وہ ’’شی اوپس کا اہرام‘‘ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس اہرام کو فرعون شی اوپس کے مقبرے کے طور پر تعمیر کیا گیا تھا۔ شی اوپس حضرت عیسیٰؑ کی پیدائش سے تین ہزار سال قبل بڑے کروفر سے حکمرانی کرتا تھا۔ اہرام شی اوپس کی محض جسامت ہی کسی سیاح کے لیے انتہائی حیرت و استعجاب کا باعث ہو سکتی ہے۔

’’بنیادی طور پر اس اہرام کی بلندی ۴۸۵ فٹ ہے‘‘ مصری پروفیسر نے بتایا ’’اور اساس تیرہ ایکڑ رقبے پر محیط ہے جو شکاگو یا لندن زیریں (Down Town) کے تقریباً آٹھ مربع بلاکوں کے مساوی ہے۔ ہم نے اندازہ لگایا ہے کہ اس اہرام کی تعمیر میں پتھروں کی پچیس لاکھ سلیں (Blocks) استعمال کی گئی ہیں۔ ان میں سے ہر سل کا وزن تین ٹن سے نوے ٹن تک ہے۔ چند ایک بلاکوں کا وزن چھ سو ٹن تک بھی ہے۔ جب نپولین مصر میں تھا تو اس نے تخمینہ لگایا کہ صرف اس ایک اہرام میں اس قدر پتھر استعمال ہوئے ہیں کہ ان سے پورے فرانس کے گرد دس فٹ اونچی اور ایک فٹ موٹی دیوار تعمیر کی جاسکتی ہے‘‘۔

’’اور اگر ان پتھر کی سلوں کو ایک فٹ کی سلوں میں کاٹ لیں تو؟‘‘

’’تو پھر یہ چھوٹے بلاک پوری دنیا کے گرد ایک زنجیر بنانے کے لیے کافی ہوں گے‘‘۔

جہاں تک انسانی توانائی اور تعمیراتی سامان کا تعلق ہے تو اس اہرام کو اس صدی کی تیسری دہائی میں امریکا میں دریاے کولیریڈو پر ہُوور ڈیم کی تعمیر سے پہلے دنیا کی تمام تعمیرات پر برتری حاصل تھی۔ ’’درحقیقت آج کے اس ترقی یافتہ دور میں ایک بھی تعمیراتی کمپنی ایسی نہیں ہے جو اہرام بنا سکے۔ پروفیسر نے کہا ’’یاد رکھیں! اہرام شی اوپس کے اندر اتنی وسعت ہے کہ اس میں روم‘ میلان اور فلورنس کے تمام گرجا سما سکتے ہیں اور پھر بھی اتنی گنجائش باقی رہتی ہے کہ نیویارک کی ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ‘ ویسٹ منسٹرایبے‘ سینٹ پال کیتھا ڈرل اور انگلش ہائوس آف پارلیمنٹ کی عمارات بھی اس میں آسکتی ہیں۔ اس اہرام میں استعمال شدہ تعمیراتی سامان حضرت عیسیٰؑ کی پیدائش سے لے کر آج تک انگلینڈ میں تعمیر کیے گئے تمام گرجا گھروں کے برابر ہے۔ دنیا بھر کی مشینیں (Loco-motives) مل کر بھی اس اہرام کو اپنی جگہ سے نہیں ہلا سکتیں کیونکہ یہ ناقابلِ یقین حد تک بھاری یعنی ساڑھے چھ ملین ٹن (پینسٹھ لاکھ ٹن) وزنی ہے۔ راہداریوں‘ تدفینی ہالوں اور نادریافت شدہ مکانوں‘ پوشیدہ کمروں کے علاوہ یہ اہرام مکمل طور پر ٹھوس پتھروں کا بنا ہوا ہے۔

بیرونی سطح کی سلیں جنہیں غارت گر تہذیب ونڈال (جرمنی کے قدیم باشندوں) نے تباہ کر دیا تھا ایک دوسرے کے ساتھ اس قدر مہارت سے منسلک ہیں کہ ایک عام بزنس کارڈ بھی اس میں نہیں جاسکتا‘ سو سو ٹن وزنی پتھر ایسی نفاست سے جڑے ہوئے ہیں کہ ان کے درمیان جوڑ کی لائن تلاش کرنا محال ہے۔ ایک عرب تاریخ دان ’ابو زید بلخی‘ کا بیان ہے کہ بیرونی پتھروں پر کسی قدیم زبان کے حروف کندہ تھے جن سے پتا چلتا ہے کہ ان اہراموں کی تعمیر کا زمانہ وہ ہے جب لائر سرطان کے جھرمٹ میں تھا۔

اس حساب سے یہ (۷۳۰۰۰) سال پہلے کی بات ہے۔ اکثر سائنسدان اس بات پر متفق ہیں کہ یہ اہرام فرعون شی اوپس کے زمانے میں ہی تعمیر کیا گیا تھا۔ ’’ان کا دعویٰ ہے کہ شی اوپس نے اپنی تمام رعایا کو مشقتی (Labour Gang) کے طور پر غلام بنا رکھا تھا‘‘۔ ایک مصری ماہر اہرامیات نے بتایا ’’ان کا کہنا ہے کہ میرے قدیم آبائو اجداد نے دستی اوزاروں کی مدد سے پتھر کی کانوں میں سے ان جناتی سلوں کو تراشا اور انہیں وسیع صحرا میں گھسیٹتے ہوئے یہاں تک لائے یا دریاے نیل سے تیراتے ہوئے غزہ تک پہنچایا پھر انہیں ریگستان میں کھینچتے ہوئے اس اہرام کی تعمیر میں استعمال کیا۔ مگر ایسا ہر گز ممکن نہیں ہے۔ قدیم زمانے کے لوگ اس قدر ناقابلِ یقین حد تک درستی کے ساتھ یہ عمارت تعمیر نہیں کر سکتے تھے‘‘۔

تاریخی تخمینے کے مطابق فرعون شی اوپس کے دورِ حکومت میں مصر کی آبادی دو کروڑ تھی۔ ’’ذرا اس اہرام کی تعمیر کے سلسلے میں فن حمل و نقلِ انسانی کے بارے میں سوچیے۔ ان تعمیراتی مسائل پر قابو پانے کے لیے دس لاکھ سے زیادہ افراد کی ضرورت تھی۔ انہیں پتھر کی کانوں اور پھر اس مقام تک لے جانا تھا جہاں اہرام تعمیر ہونا تھا۔ انہیں سپاہیوں اور نگرانوں کی ضرورت تھی۔ ان کے پاس کھانے پینے کا کیا بندوبست تھا؟ وہ لوگ رات کو کہاں سوتے تھے؟ یہ تو ممکن ہی نہیں تھا کہ وہ رات بھر صحرا ہی میں گزارتے ہوں۔ پھر وہاں ہزاروں فورمینوں‘ سپروائزروں‘ مستریوں‘ ان کے نائبوں کے علاوہ ایسے افراد کے ایک عظیم گروپ کی بھی ضرورت تھی جو اس پورے پروجیکٹ کی نگرانی کر سکے‘‘۔ پروفیسر نے چند اور ایسے مسائل کی بھی نشان دہی کی جن کا اہراموں کی تعمیرات کے وقت سامنا کرنا پڑتا ہو گا۔

(بشکریہ: ماہنامہ ’’دی ایجوکیشن ٹائمز‘‘۔ کراچی)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*