شہید عبد القادر مُلّا کی مثالی زندگی

شہید عبد القادر مُلّا ۱۹۴۸ء میں جوری یا دونگی گاؤں میں پیدا ہوئے، یہ ضلع فریدپور کے تھانہ صدر پور کا حصہ ہے۔ اُن کا خاندان ممتاز مذہبی حیثیت کا حامل تھا ۔ شہید نے جوری یا دونگی پرائمری اسکول میں ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ اُن کا شمار انتہائی ذہین طلبہ میں ہوتا تھا۔ (مُلّا اُن کا خاندانی نام تھا)۔

☼ ۱۹۵۹ء میں پرائمری اسکول اور ۱۹۶۱ء میں سیکنڈری اسکول اسکالر شپ کے حقدار ٹھہرے۔ میٹرک کا امتحان اُنہوں نے امیر آباد فضل الحق انسٹی ٹیوٹ سے درجہ اول میں پاس کیا۔

☼ اُنہوں نے فرید پور کے راجندرا کالج میں ۱۹۶۶ء میں داخلہ لیا اور امتیازی نمبروں سے ایف ایس سی کا امتحان پاس کیا اور اسی کالج سے ۱۹۶۸ء میں بی ایس سی کی ڈگری لی۔

☼ ۱۹۶۶ء میں (نیشنل عوامی پارٹی کے زیرِ اثر) چھاترو یونین سے علیحدگی اختیار کرلی۔

☼ اُنہیں تفہیم القرآن کے ذریعے مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کے افکار تک رسائی حاصل ہوئی اور اُن کے گہرے عقیدت مند بن گئے۔ اگست ۱۹۶۶ء میں اسلامی چھاترو شنگھو میں شامل ہوئے۔ ۱۹۷۰ء میں اس کے رکن بنے۔

☼ ۱۹۷۰ء میں ڈھاکا یونیورسٹی کے فزکس ڈپارٹمنٹ میں داخلہ لیا۔ یونیورسٹی کے شاہد اللہ ہال کے ذمہ دار مقرر ہوئے۔

☼ بعد میں اسلامی چھاترو شنگھو ڈھاکا کے صدر بن گئے۔

☼ ۱۹۷۵ء میں ایجوکیشن ایگزامینیشن امتیازی نمبروں سے پاس کر کے ڈپلومہ حاصل کیا۔

☼ ۱۹۷۷ء میں ایم ایڈ کا امتحان پاس کیا۔ بعدازاں ادھیان ہائی اسکول اور پھر بنگلہ دیش رائفلز پبلک اسکول میں بطور استاد ملازمت کا آغاز کیا۔

☼ مئی ۱۹۷۷ء میں جماعت اسلامی بنگلہ دیش سے وابستگی اختیار کی اور نومبر ۱۹۷۸ء میں اس کے رکن بنے۔

☼ ۱۹۷۹ء تک مناریٹ انٹرنیشنل اسکولز اینڈ کالجز کے بانی سیکرٹری جنرل بنے۔

☼ ۱۹۸۱ء میں صحافتی زندگی کا آغاز کیا۔ روزنامہ ’’سنگرام‘‘ ڈھاکا کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر مقرر ہوئے۔

☼ سابق امیر جماعت اسلامی بنگلہ دیش پروفیسر غلام اعظم کے پرسنل سیکرٹری بھی رہے۔

☼ ۲۰۰۰ء میں جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے اسسٹنٹ جنرل سیکرٹری مقرر ہوئے۔

☼ ۱۹۶۹ء میں پہلی دفعہ ایوب خان کے خلاف تحریک کے دوران گرفتار ہوئے تھے۔ بنگلہ دیش میں جنرل حسین محمد ارشاد اور بیگم خالدہ ضیاء کی حکومت میں بھی جیل گئے۔

☼ بارشاہ فیصل انسٹیٹیوٹ، اسلامک ایجوکشن سوسائٹی، فریدپور مدرسہ و یتیم خانہ سمیت مختلف سماجی اور فلاحی اداروں کے ساتھ بھی منسلک رہے۔

☼ فروری ۲۰۱۳ء میں گرفتار کرلیے گئے۔ متنازعہ جنگی جرائم ٹریبونل نے عُمرقید کی سزا سنائی۔ سپریم کورٹ نے اس سزا کو پھانسی میں تبدیل کر دیا۔ ۱۲؍دسمبر ۲۰۱۳ء کو ڈھاکا جیل میں جام شہادت نوش کیا۔

☼ ۱۳؍دسمبر ۲۰۱۳ء قبل از فجر آبائی گاؤں میں تدفین ہوئی۔ دُنیا بھر کے ۴۵ ممالک میں غائبانہ نمازِ جنازہ ادا کی گئی۔

{}{}{}

Leave a comment

Your email address will not be published.


*