شہید عبدالقادر مُلّا کی اہلِ خانہ کو وصیت

شہیدِ وطن عبدالقادر مُلاّ کے اہلِ خانہ جب آخری دفعہ جیل میں اُن سے ملے تو انہوں نے وصیت کی:

’’میری شہادت کے بعد تحریکِ اسلامی کے سارے لوگوں کو چاہیے کہ وہ حتی الامکان صبر و استقامت کے ساتھ میرے خون کو اقامتِ دین کے کام پر لگائیں۔ کسی طرح کے بگاڑ یا فساد میں ہمارے وسائل ضائع نہیں ہونے چاہئیں۔ جن لوگوں نے میرے لیے احتجاج کرتے ہوئے جان دی ہے، اُن لوگوں کی قبولیتِ شہادت کے لیے اللہ سے دعا کرتا ہوں اور ان کے خاندانوں کے ساتھ یک جہتی و ہمدردی کا اظہار کرتا ہوں۔ اللہ سب کو آخرت میں کامیاب کرے۔ میں پہلے ہی کہہ چکا ہوں کہ مکمل غیرقانونی انداز میں یہ حکومت مجھے قتل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ میں مظلوم ہوں، میرا قصور صرف یہ ہے کہ میں نے تحریکِ اسلامی کی قیادت کی۔ صرف اس وجہ سے مجھے حکومت قتل کررہی ہے۔ میں اللہ، اس کے رسولؐ اور قرآن و سنت پر ایمان رکھتا ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ میری یہ موت شہادت کی موت ہے اور شہیدوں کی جگہ جنت کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ اللہ اگر مجھے شہادت کی موت دے دے تو یہ میری زندگی کا سب سے بڑا تحفہ ہوگا۔ اس کو میں اپنے لیے افتخار سمجھتا ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ زندگی اور موت کا مالک اللہ ہے۔ حکومت ۱۶؍دسمبر کو مجھے قتل کرنا چاہ رہی تھی لیکن اللہ نے میری موت کا فیصلہ اُس وقت نہیں کیا تھا۔ جب اللہ کا فیصلہ ہوگا، تب ہی موت آئے گی۔ شہادت کی موت سے بڑا اعزاز اور کیا ہوسکتا ہے؟ ہمیشہ میں اللہ سے یہی دعا کرتا ہوں اور آج بھی کر رہا ہوں کہ سعادت کی زندگی اور شہادت کی موت عطا فرمائے۔

میری درخواست ہے کہ میری شہادت کے بعد تحریکِ اسلامی کے کارکن استقامت کا ثبوت دیں۔ ان کو کوئی غیرقانونی طریقہ اختیار نہیں کرنا چاہیے۔ تحریک کے کارکنوں کے لیے میرا پیغام ہے کہ شہادت کے خونیں راستے کے ذریعے سے فتح ضرور آنے والی ہے۔ اللہ جس کی مدد کرتا ہے، کوئی اس کو روک نہیں سکتا۔ عبدالقادر مُلاّ کو قتل کر کے ظالم حکمران اسلام کا راستہ روکنا چاہتے ہیں مگر میں یقین رکھتا ہوں کہ میری شہادت کے ہر قطرۂ خون سے تحریک اسلامی اور بھی آگے بڑھے گی اور یہ ظالم حکومت کی تباہی کا باعث ہوگی۔‘‘

وہ اپنی اہلیہ کو کہتے ہیں کہ ’’میں خاندان کا ذمہ دار اور کفیل تھا، میرے بعد میرا اللہ خود اس کا ذمہ دار اور محافظ ہے۔ تمہارا کام صرف دیکھ بھال کرنا ہے۔ میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ اس ذمہ داری کے بعد اللہ تمہیں میرے پاس لے آئے‘‘۔

عبدالقادر مُلاّ نے کہا کہ ’’میں نے احتجاجی تحریک کے دوران دیکھا کہ دس سال کے معصوم بچوں تک کو بھی قتل کیا گیا ہے۔ تحریک اسلامی کے کارکنوں کے خون سے پورا ملک خون آلود ہے۔ اس کا پورا بدلہ اللہ ضرور دے گا۔ میں جس مشکل صورتِ حال سے دوچار ہوں، اُس میں سارے مسلمانوں سے دعا کی درخواست کرتا ہوں۔ میری یہ تمنا ہے کہ اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ میری زندگی کے بدلے میں تحریکِ اسلامی اور ملک کی آزادی کو قائم و دائم رکھے‘‘۔

(بحوالہ: روزنامہ ’’جسارت‘‘ کراچی۔ ۱۵؍دسمبر ۲۰۱۳ء)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*