Abd Add
 

مختصر مختصر

دلچسپ اور مختصر معلومات

بھارتی نوجوان مَرد

December 16, 2006 // 0 Comments

بھارتی انگریزی جریدہ ’’انڈیا ٹوڈے‘‘ کے ذریعہ کیے گئے ایک سروے میں بھارتی نوجوان مَردوں کی ۴۹ فیصد تعداد نے بتایاکہ وہ طوائف کے ساتھ ہم خواب ہوتے ہیں

بھارت میں مسلمانوں کی حالتِ زار

December 16, 2006 // 0 Comments

ایک رپورٹ کے مطابق مہاراشٹر میں مسلمانوں کی آبادی ۶ء۱۰ فیصد جبکہ جیلوں میں اُن کی تعداد ۴ء۳۲ فیصد ہے۔ گجرات میں آبادی ۰۶ء۹ فیصد اور جیلوں میں اُن کی تعداد ۲۵ فیصد ہے۔ آسام میں مسلمانوں کی آبادی ۹ء۳۰ فیصد اور جیلوں میں اُن کی تعداد ۱ء۲۸ فیصد ہے۔

جمہوریہ نورو

November 1, 2006 // 0 Comments

ایک جائزہ کے مطابق دنیا کی سب سے چھوٹی جمہوریہ‘ ریپبلک آف نورو فی کس آمدنی کے لحاظ سی دنیا کا امیر ترین ملک ہے۔ اس کی فی کس آمدنی امریکا‘ جاپان‘ کویت‘ متحدہ عرب امارات اور قطر سے بھی زیادہ ہے۔ ’’نورو‘‘ مغربی بحر الکاہل میں ۸ مربع میل کا ملک ہے۔ اس کی آبادی تقریباً ۱۰ ہزار افرادپر مشتمل ہے۔ جزیرے کی دولت کا راز فاسفورس کی کانیں ہیں۔

اَسی کروڑ اور ایک ارب

September 16, 2006 // 0 Comments

جبکہ تقریباً ارب لوگ وزن کی زیادتی کے مرض میں مبتلا ہیں۔ اس کی وجہ وہ طرزِ زندگی ہے جس میں بیٹھے رہنے کے اوقات غالب ہوتے ہیں

بیت المقدس کا معاہدہ

October 16, 2005 // 0 Comments

(جو خود حضرت عمرفاروقؓ کی موجودگی میں اور ان کے الفاظ میں لکھا گیا‘ ترجمہ حسب ذیل ہے) ’’یہ وہ امان ہے جو خدا کے غلام امیرالمومنین عمر نے ایلیا کے لوگوں کو دی۔ یہ امان ان کی جان‘ مال‘ گرجا‘ صلیب‘ تندرست‘ بیما ر اور ان کے تمام مذہب والوں کے لئے ہے۔ اس طرح پر کہ ان کے گرجائو میںنہ سکونت کی جائے گی‘ نہ وہ ڈھائے جائیں گے‘ نہ ان کو اور نہ ان کے احاطہ کو کچھ نقصان پہنچایا جائے گا‘ نہ ان کی صلیبوں اور ان کے مال میں کچھ کمی کی جائے گی۔ مذہب کے بارے میں اُن پر جبر نہ کیا جائے گا۔ نہ ان میں سے کسی کو نقصان پہنچایا جائے گا۔ ایلیاء میں ان کے ساتھ [مزید پڑھیے]

فرانس: شرح پیدائش

October 16, 2005 // 0 Comments

فرانس میں اوسطاً ایک خاتون پر بچوں کی تعداد ۹ء۱ ہے۔ جبکہ تیزی سے کم ہوتی ہوئی آبادی پر قابو پانے کے لیے ضروری ہے کہ

امریکا میں غربت کی ایک جھلک

October 1, 2005 // 0 Comments

قطرینہ بحری طوفان نے امریکا میں امیر و غریب کے مابین پائے جانے والے زبردست فاصلے کو بے نقاب کیا ہے۔ حالیہ اقتصادی ترقی کے باوجود یہاں غربت کی شرح میں مسلسل چار سالوں سے اضافہ ہورہا ہے ۔ ۳ کروڑ ۷ لاکھ سے زائد امریکی غربت میں مبتلا ہیں۔ غریب انہیں تصور کیا جاتا ہے‘ جو ۶۵ سال سے کم عمر ہوں اور صرف ۹۸۰۰ ڈالر سالانہ کماتے ہوں۔ ۲۰۰۲ء تا ۲۰۰۴ء کے عرصے میں غربت میں مبتلا لوگوں کی اوسط تعداد سفید فام ایک کروڑ ۶۱ لاکھ سیاہ فام ۸۸ لاکھ ہسپانوی نژاد ۸۹ لاکھ دیگر ۱۹ لاکھ ۲۰۰۲ تا ۲۰۰۴ء کے درمیان غربت میں مبتلا افراد کی اوسط فیصد سفید فام ۸ فیصد سیاہ فام ۲۴ فیصد امریکی انڈین/ الاسکا کے شہری [مزید پڑھیے]

قطرینہ بحری طوفان کے اثرات

October 1, 2005 // 0 Comments

کانگریس اراکین کے ذریعہ قطرینہ طوفان ریلیف کے لئے دس ارب (Billion) ڈالر کی منظوری دیئے جانے کے تقریباً ایک ہفتہ بعد ساری رقوم خرچ ہوگئیں چنانچہ مزید ۵۲ ارب ڈالر کی منظوری کے لئے وائٹ ہائوس نے کانگریس کو قدرے کوتاہ پایا۔ جو لوگ خرچ پر نگاہ رکھے ہوئے ہیں ان کے سامنے یہ سوال ہے کہ قطرینہ طوفان کتنا مہنگا ثابت ہوگا؟ راحت کاری کے لئے ابتک ۶۲ ارب ڈالر مختصر کئے جاچکے ہیں جو کہ توقع ہے کہ اکتوبر کے شروع تک چلے گا۔ وفاقی حکومت جو کہ متاثرہ علاقوں میں دو ارب ڈالر سے زائد رقم یومیہ خرچ کررہی ہے تو اراکین کانگریس کا اندازہ ہے کہ یہ ۲۰۰ ارب ڈالر تک جاسکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم اسے پورا [مزید پڑھیے]

سری لنکا اور آنے والا صدارتی انتخاب

October 1, 2005 // 0 Comments

۱۷ نومبر ۲۰۰۵ ء کو سری لنکا میں صدارتی انتخاب ہونے جارہے ہیں ‘پانچ سال کے اندر ملک میں یہ چوتھا سیاسی انتخاب ہے ۔اگرچہ حکومت اور علیحدگی پسند تامل ٹائیگرز میں جنگ بندی کا معاہدہ جو فروری ۲۰۰۲ء میں طے ہوا تھاکو اب تقریباً ساڑھے تین سال ہوچکے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ دونوں کے مابین بات چیت کا سلسلہ اپریل ۲۰۰۳ء میں ہی رک گیا تھا۔ حکومت تامل ٹائیگرز کے مابین تعلقات اس وقت غیریقینی کیفیت سے دوچار ہوگئے جب یوپی ایف اے کی حکومت نے ۲۰۰۴ء میں اقتدار کی باگ دوڑ سنبھالی۔ لبریشن ٹائیگرز (LTTE) نے حکومت پر نکتہ چینی کی تھی کہ وہ ان کی تحریک میں شگاف ڈالنے کے لئے کوشاں ہیںاور امت پر نکتہ چینی کی تھی کہ [مزید پڑھیے]

1 3 4 5 6 7