Abd Add
 

سوشل نیٹ ورکنگ نے اربوں ڈالر چُرالیے!

دنیا بھر میں سوشل نیٹ ورکنگ کو بُرائیوں اور خرابیوں کی جڑ مانا جارہا ہے۔ یہ لوگوں کو لائیو کمیونی کیشن سے دور کرتی ہے، انہیں انٹرنیٹ کا زیادہ اور خطرناک حد تک عادی بناتی ہے اور چند ایک شدید نوعیت کے نفسیاتی عوارض بھی پیدا کرتی ہے۔ یہ بات بھی پورے وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ سوشل نیٹ ورکنگ سے معیشت کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے اور ہر سال معیشتوں سے اربوں ڈالر نکل جاتے ہیں۔

روس میں آڈیٹنگ فرم ایف بی کے نے رائے عامہ کے مختلف جائزوں سے اندازہ لگایا ہے کہ روسیوں میں سوشل نیٹ ورکنگ پر انحصار بڑھتا جارہا ہے۔ ایک محتاط ترین اندازے کے مطابق روس میں سوشل نیٹ ورکنگ پر خرچ کیا جانے والا انفرادی وقت ۲۵ منٹ یومیہ سے زیادہ ہے۔ بہت سے لوگ دفاتر یا فیکٹری میں بھی سوشل نیٹ ورکنگ سے جُڑے رہتے ہیں۔ اگر یہ لوگ ایسا نہ کریں تو اپنے کام پر زیادہ توجہ دیں اور کمپنی کو بہتر نتائج سے ہمکنار کریں۔ یوٹیوب، وی کونٹیکٹ، فیس بک اور ٹوئٹر جیسی ویب سائٹس پر زیادہ وقت گزارنے اور معیشت کو کم وقت دینے کے نتیجے میں روسی معیشت کو گزشتہ برس کم و بیش ۳۱۱؍ ارب روبل کا نقصان اٹھانا پڑا۔ ہر اس روسی نے جس کا کسی بھی سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس پر اکاؤنٹ ہے گزشتہ برس انٹرنیٹ پر کم بیش ۵۳ گھنٹے ضائع کیے۔ ریئل اسٹیٹ اور فائنانس کے شعبوں میں کام کرنے والے روسیوں نے گزشتہ برس سوشل نیٹ ورکنگ میں غیر معمولی دلچسپی کے ہاتھوں قومی معیشت کو کم و بیش ۶۸؍ ارب روبل کا نقصان پہنچایا۔ اس کے بعد تعلیمی شعبے کا نمبر آتا ہے جس کے ہاتھوں معیشت کو پہنچنے والا نقصان ۴۰؍ ارب روبل کا نقصان پہنچایا۔ سرکاری ملازمین، ملٹری سیکیورٹی اور انشورنس ورکروں کے ہاتھوں پہنچنے والا نقصان بھی ۶ء۳۶؍ارب روبل سے کم نہ تھا۔ وزارتِ زراعت اور جنگلات کے شعبے سے وابستگی رکھنے والے افراد کے ہاتھوں قومی معیشت کو، سوشل نیٹ ورکنگ کے ذریعے، پہنچنے والا نقصان سب سے کم تھا۔

یہ تو ہوئی روس کی بات۔ امریکا میں ماہرین کا اندازہ ہے کہ سوشل نیٹ ورکنگ امریکی معیشت سے ہر سال ۶۵۰؍ ارب ڈالر چُرالیتی ہے۔ امریکا اور یورپ میں سوشل نیٹ ورکنگ پر انحصار بڑھتا جارہا ہے۔ اور اِس روش کے نتیجے میں رُونما ہونے والا نقصان بھی بڑھ رہا ہے۔ دی انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اینالسس ایف بی کے کے ڈائریکٹر آئگور نکولائیف کہتے ہیں کہ روسی بہت جلد سوشل نیٹ ورکنگ کی لَت کے معاملے میں امریکیوں کی برابری کرنے لگیں گے یعنی دونوں کا نقصان ایک سا ہوجائے گا۔ اس وقت سوشل نیٹ ورکنگ کے عادی افراد کی تعداد کے لحاظ سے امریکا، چین، برازیل اور بھارت نمایاں ترین ہیں۔ روس پانچویں نمبر پر ہے۔ برازیل کے باشندوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ سوشل نیٹ ورکنگ کے معاملے میں جنونی واقع ہوئے ہیں۔

(“thetotalcollapse.com”… June 29, 2013)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.