Abd Add
 

جنوب مشرقی ایشیامیں چین کا بڑھتا اثر و رسوخ

شمالی لاؤس کے ایک دور افتادہ حصے میں بانس کا جنگل کرینوں کو راہ دے رہا ہے۔ جنگل میں ایک شہر بسایا جارہا ہے۔ ریسٹورنٹس، مساج پارلر اور دوسری بہت سی تعمیرات کی جارہی ہیں۔ لاؤس، میانمار اور تھائی لینڈ کے سنگم پر واقع ہونے کی بنیاد پر اس علاقے کو گولڈن ٹرائنگل اسپیشل اکنامک زون کہا جارہا ہے۔ اس علاقے کو جدید ترین انداز کا دکھانے کے لیے یہاں شاندار ہوٹل بھی ہیں، بھرپور چمک دمک والے جوئے خانے بھی ہیں۔ اِسی بنیاد پر اِسے ’’لاؤس ویگاس‘‘ بھی کہا جارہا ہے، تاہم لاؤس کے عام شہریوں کا اس علاقے سے کوئی تعلق نہیں۔ جنگل میں آباد کیے جانے والے اس شہر میں چینی کرنسی یوآن چلتی ہے یا تھائی لینڈ کی بھات۔ لاؤس کی کرنسی یہاں قبول ہی نہیں کی جاتی۔ سڑکوں پر سائن بورڈ اور دکانوں پر بورڈ بھی چینی زبان میں ہیں یا پھر انگریزی میں۔ شہر کی گھڑیاں بھی چین کے معیاری وقت کے مطابق سیٹ کی گئی ہیں یعنی لاؤس کے مقامی وقت سے ایک گھنٹہ آگے ہیں۔
ایک عشرے کے دوران چین جنوب مشرقی ایشیا میں سرمایہ کاری کے حوالے سے سب سے آگے رہا ہے۔ ۲۰۱۸ء میں لاؤس میں کی جانے والی ۸۰ فیصد بیرونی سرمایہ کاری چین کی ہے۔ میانمار کے شہر منڈالے سے بھی اچھا خاصا سرمایہ آرہا ہے۔ اس شہر میں چینی بہت بڑی تعداد میں آباد ہیں اور معاشی طور پر بہت مضبوط ہیں۔ بیشتر بیرونی سرمایہ کاری اسپیشل اکنامک زون میں کی جارہی ہے تاکہ پرمٹ، ٹیکس، ڈیوٹی اور دیگر معاملات میں دی جانے والی غیر معمولی ترغیبات سے بھرپور استفادہ کیا جاسکے۔

ملک سے باہر سرمایہ کاری کے حوالے سے چین کے بڑے کاروباری اداروں کو مزید تحریک دینے کی فی الحال ضرورت نہیں۔ چینی حکومت نے کم و بیش ڈیڑھ عشرے کے دوران بڑے کاروباری اداروں کو ملک سے باہر بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی تحریک دی۔ اس کے نتیجے میں بہت سے علاقائی اور دور افتادہ ممالک میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی راہ ہموار ہوئی۔ متعدد خطوں کو بنیادی ڈھانچے کے حوالے سے جوڑنے کے منصوبے ’’بیلٹ اینڈ روڈ انشئیٹیو‘‘ کے شروع کیے جانے کے بعد چینیوں کی بیرون ملک سرمایہ کاری کا دائرہ مزید وسیع ہوگیا ہے۔ امریکی تھنک ٹینک اسٹمسن سینٹر کے ماہر برائن آئلر کہتے ہیں ’’ریلوے، ہائی وے اور پائپ لائنز کے ساتھ ساتھ اب چینی کاروباری طبقہ متعدد ممالک کے اسپیشل اکنامک زون میں بھی خطیر سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ یہ سب کچھ چین کی معاشی توسیع کے منصوبے کا حصہ ہے‘‘۔

معاملات پر نظر رکھنے والے ادارے ’’لینڈ واچ تھائی‘‘ نے بتایا ہے کہ بیلٹ اینڈ روڈ کے بینر تلے ۱۶۰ سے زائد چینی کاروباری اداروں نے لاؤس میں کم و بیش ڈیڑھ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔ ۲۰۱۶ء اور ۲۰۱۸ء کی درمیانی مدت میں چینی اداروں نے کمبوڈیا کی سرحد پر واقع شہر سنہانوک وِلے سے جڑے ہوئے اسپیشل اکنامک زون میں مجموعی طور پر ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی۔

چینی سرمایہ جہاں بھی جاتا ہے، چینی محنت کش بھی وہیں کا رخ کرتے ہیں۔ ۱۹۸۳ء میں میانمار کے شہر منڈالے میں چینی مقامی آبادی کا ایک فیصد تھے۔ آج یہ تناسب ۳۰ تا ۵۰ فیصد ہے۔ اسپیشل اکنامک زون کے نزدیک چینیوں کی تعداد میں زیادہ تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ ۲۰۱۹ء میں متعلقہ صوبے کے گورنر نے روزنامہ ’’اسٹریٹ ٹائمز‘‘ کو بتایا کہ صرف دو سال میں سنہانوک ولے میں چینی باشندے مقامی آبادی کے ایک تہائی کے مساوی ہوچکے ہیں۔ چینی باشندوں کی تعداد بڑھنے کے ساتھ ساتھ معاشی معاملات پر ان کی گرفت بھی بڑھتی چلی جاتی ہے۔ ۲۰۱۷ء کے ایک مارکیٹ سروے کے مطابق میانمار کے شہر منڈالے میں چینی نسل کے باشندے ۸۰ فیصد ہوٹلوں، ۷۰ فیصد سے زائد ریستوران اور ۴۵ فیصد سے زائد جیولری شاپس کے مالک ہیں۔

چینی تارکین وطن کی بڑھتی ہوئی تعداد نے خطے میں چین کے خلاف جذبات بھڑکانے میں بھی مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ جنوبی ایشیا کی بے بس حکومتیں صرف اس امید پر چینی سرمایہ کاری کا ہر حال میں خیر مقدم کرتی ہیں کہ ایسا کرنے سے اُن کی معیشت بحالی کی راہ پر گامزن ہوسکے گی۔ بعض معاملات میں چینی سرمایہ کاری خاصی بارآور بھی ثابت ہوئی ہے۔ لاؤس میں بیرونی سرمایہ کاری نے شرحِ نمو کو بلند کرکے خام قومی پیداوار بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ ایک عشرے کے دوران لاؤس میں شرحِ نمو ۷ء۷ فیصد رہی ہے۔

تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک میں قائم تھنک ٹینک ’’فوکس آن گلوبل ساؤتھ‘‘ نے ۲۰۱۷ء میں اسپیشل اکنامک زون سے متعلق ایک مطالعہ میں بتایا کہ کمبوڈیا اور میانمار میں قوانین اور طرزِ حکمرانی نے بیرونی سرمایہ کاروں کا ساتھ دیا ہے۔ مقامی باشندوں کی حق تلفی ہوئی ہے اور ماحول کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ ایشیائی ترقیاتی بینک کے الفریڈو پرڈیگوئیرو اس نکتے سے اتفاق کرتے ہیں کہ لاؤس، کمبوڈیا اور میانمار میں اسپیشل اکنامک زون سے پیدا ہونے والے غیرمعمولی فوائد پوری معیشت پر محیط نہیں رہے۔ اس کا ایک بڑا سبب یہ ہے کہ چینی کاروباری ادارے مقامی لوگوں کو بھرتی نہیں کرتے۔ ۲۰۱۸ء تک لاؤس کے شہری ملک کے ۱۱؍اسپیشل اکنامک زون میں صرف ۳۴ فیصد ملازمتیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوسکے تھے، جبکہ حکومت نے وعدہ کیا تھا کہ ان خصوصی علاقوں میں مقامی باشندوں کو ۹۰ فیصد تک ملازمتیں مل سکیں گی۔ چینی اداروں کا کہنا ہے کہ مقامی کاریگروں میں مطلوبہ مہارت نہیں پائی جاتی۔ میانمار میں سول سوسائٹی گروپس نے اس کے جواب میں چین کے تعاون سے قائم کیے جانے والے اسپیشل اکنامک زون اور بندر گاہ کیاکپیو (Kyaukpyu) کا حوالہ دیا ہے، جس کے نزدیک ٹیکنیکل کالج ہے مگر اس کالج سے سیکھ کر نکلنے والوں کو ملازمت نہیں دی جاتی۔

دوسرے بہت سے معاملات میں بھی مقامی لوگوں کو مشکلات اور محرومی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سنہانوک ولے میں قائم گارمنٹ فیکٹریاں کپڑا، بٹن اور دھاگا درآمد کرتی ہیں۔ جنوب مشرقی ایشیا کے اسپیشل اکنامک زون کا دورہ کرنے والے چینی باشندے اور ورکر چینیوں کی ملکیت والے ریسٹورنٹس اور دکانوں کی سرپرستی کرتے ہیں اور علی پے جیسی چینی ایپس کے ذریعے ادائیگی کرکے اشیا و خدمات پر سیلز ٹیکس بھی بچاتے ہیں۔ جنوب مشرقی ایشیا پر چین کے بڑھتے ہوئے معاشی اثر و رسوخ کے موضوع پر آنے والی کتاب کے مصنف سیبیسٹین اسٹرینگیو کہتے ہیں ’’حقیقت یہ ہے کہ َزر چین کی سرزمین چھوڑتا ہی نہیں‘‘۔ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ مقامی یا میزبان حکومتوں کے لیے فائدہ بہت کم ہے۔ ۲۰۱۷ء میں لاؤس کے قومی خزانے کو اسپیشل اکنامک زون سے صرف ۲ کروڑ ڈالر ملے، جو اس کی مجموعی آمدن کا صرف ایک فیصد ہے۔

جنوب مشرقی ایشیا کے غریب ممالک میں یہ بات عام ہے کہ اسپیشل اکنامک زون کے قیام کے حوالے سے مقامی باشندوں سے مشاورت کی زحمت گوارا نہیں کی جاتی۔ گولڈن ٹرائنگل اسپیشل اکنامک زون کے قیام کے وقت چاول کی کاشت سے وابستہ سو سے زائد گھرانوں کو، جن کا تعلق بان کوان نامی گاؤں سے تھا، ان کی مرضی کے خلاف منتقل ہونے کو کہا گیا۔ اسپیشل اکنامک زون میں قانون کے نفاذ کا معاملہ بھی ڈھیلا ڈھالا ہوتا ہے۔ اس کے نتیجے میں یہ خصوصی علاقے کاروباری افراد کے ساتھ ساتھ جرائم پیشہ افراد کے لیے بھی خاصے پرکشش ہوتے ہیں۔ ۲۰۱۸ء میں امریکی حکام نے بتایا کہ گولڈن ٹرائنگل اسپیشل اکنامک زون منشیات اور انسانی اسمگلنگ، منی لانڈرنگ، رشوت اور جنگلی حیات کی غیر قانونی تجارت کا گڑھ تھا۔ انہوں نے اس اسپیشل اکنامک زون کو چلانے والی کمپنی کو ’’ٹرانس نیشنل کرمنل آرگنائزیشن‘‘ کا نام دیا اور اس کے چیئرمین ژاؤ وائی (Zhao Wei) پر پابندیاں بھی عائد کیں۔ ژاؤ وائی نے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے پابندیوں کو یک طرفہ، نامعقول اور جابرانہ قرار دیا۔

(ترجمہ: محمد ابراہیم خان)

“South-East Asia is sprouting Chinese enclaves”. (“The Economist”. Jan. 30, 2020)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.