Abd Add
 

سری لنکا اور آنے والا صدارتی انتخاب

سری لنکا میں ۱۷ نومبر ۲۰۰۵ ء کو صدارتی انتخاب ہونے جارہے ہیں ‘پانچ سال کے اندر ملک میں یہ چوتھا سیاسی انتخاب ہے ۔اگرچہ حکومت اور علیحدگی پسند تامل ٹائیگرز میں جنگ بندی کا معاہدہ جو فروری ۲۰۰۲ء میں طے ہوا تھاکو اب تقریباً ساڑھے تین سال ہوچکے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ دونوں کے مابین بات چیت کا سلسلہ اپریل ۲۰۰۳ء میں ہی رک گیا تھا۔ حکومت تامل ٹائیگرز کے مابین تعلقات اس وقت غیریقینی کیفیت سے دوچار ہوگئے جب یوپی ایف اے کی حکومت نے ۲۰۰۴ء میں اقتدار کی باگ دوڑ سنبھالی۔

لبریشن ٹائیگرز (LTTE) نے حکومت پر نکتہ چینی کی تھی کہ وہ ان کی تحریک میں شگاف ڈالنے کے لئے کوشاں ہیںاور امت پر نکتہ چینی کی تھی کہ وہ ان کی تحریک میں شگاف ڈالنے کے لئے کوشاں ہیںاور ان کے منحرف لیڈر کرونا کو ورغلا رہی ہے۔ واضح رہے کہ تامل ٹائیگرز کے کئی اعلیٰ سطحی لیڈرز پارٹی کے اندرونی اختلافات کی وجہ سے مارے گئے۔

یو پی ایف اے کی حکومت بہرحال گزشتہ سال کے سونامی طوفان کے موقع پر بھی تامل ٹائیگرز سے تعلقات استوار کرنے میں ناکام رہی اگرچہ حکومتن کے منحرف لیڈر کرونا کو ورغلا رہی ہے۔ واضح رہے کہ تامل ٹائیگرز کے کئی اعلیٰ سطحی لیڈرز پارٹی کے اندرونی اختلافات کی وجہ سے مارے گئے۔

یو پی ایف اے کی حکومت بہرحال گزشتہ سال کے سونامی طوفان کے موقع پر بھی تامل ٹائیگرز سے تعلقات استوار کرنے میں ناکام رہی اگرچہ حکومت نے تامل علاقوں میں راحت کاری کا قابل ذکر کام انجام دیا۔ سری لنکا کی تقریباً دو کروڑ کی آبادی میں ۷۰ فیصد سنہالی جو بدھ مت کے ماننے والے ہیںجبکہ ۱۸ فیصد تامل ہیں جو کہ ہندو مذہب کے ماننے والے ہیں اور دیگر ساڑھے سات فیصد مسلمان ہیں۔ تامل اور سنہالیوں میں موجود عیسائیوں کی تعداد تقریباً ۸ فیصد ہے آئندہ آنے والے انتخاب سری لنکا کی عوام کے لئے اپنی بہتر تقدیر سازی کا ایک اور موقع فراہم کرتا ہے۔

(بشکریہ : انٹرپریس نیوز سروس)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.