Abd Add
 

تیونس: النہضہ الاسلامی کی کامیابی

۲۳؍اکتوبر ۲۰۱۱ء کو تیونس کے پہلے آزادانہ، جمہوری شفاف انتخابات کا انعقاد ہوا۔ اسلامی جماعت نہضت پارٹی نے ۵۲ فیصد ووٹ لے کر واضح کامیابی حاصل کی۔ غیرسرکاری طور پر اس نے ۲۱۷ میں سے ۱۱۷ ؍نشستیں حاصل کی ہیں۔مدمقابل سیکولر جماعت پی ڈی پی نے شکست تسلیم کرتے ہوئے اپوزیشن میں بیٹھنے کا فیصلہ کیا ہے۔انتخابات میں ڈالے جانے والے ووٹوں کی شرح ۹۰ فیصد رہی۔ عالمی مبصرین نے انتخابات کے لیے کیے جانے والے انتظامات کو بہترین قرار دیا۔ سابق صدر زین العابدین کے اقتدار کے خاتمے کے بعد تیونس کے عوام نے پہلی بار اپنا حق رائے دہی آزادانہ استعمال کرتے ہوئے جوش و خروش کا مظاہرہ کیا۔ ایک کروڑ چار لاکھ کی آبادی میں سے ۵۶ لاکھ رائے دہندگان نے ۱۱۰؍پارٹیوں کے گیارہ ہزار امیدواروں میں سے اپنی پسند کے نمائندوں کو ووٹ دیے۔ نئی اسمبلی منتخب ہونے کے بعد عبوری انتظامیہ قائم کرے گی، آئین بنائے گی اورایک بار پھر عام انتخابات کا اعلان کرے گی۔واضح رہے کہ تیونس میں نو ماہ پہلے ایک تعلیم یافتہ بے روز گار نوجوان کی خود کشی کے بعد عوامی احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا تھا جس نے صدر زین العابدین بن علی کے ۲۳ سالہ اقتدار کا خاتمہ کر دیا تھا۔ عوامی احتجاج کی یہ لہر عرب دنیا میں پھیل گئی جس سے مصر اور لیبیا میں شخصی حکومتوں کا خاتمہ ہوا۔ اس تبدیلی کے بعد تیونس پہلا ملک ہے جہاں عام انتخابات ہوئے ہیں۔ امریکا اور یورپی اتحاد نے تیونس میں انتخاب کے پرامن انعقاد کی تعریف کی ہے۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان سید منورحسن نے تیونس کے انتخابات میں نہضت پارٹی کی شاندار کامیابی پر دلی مسرت کا اظہار کرتے ہوئے پارٹی کے صدر شیخ راشد الغنوشی کو مبارکباد دی۔ سید منور حسن نے راشد الغنوشی سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عالم عرب میں آمر سے نجات کا آغاز بھی تیونس نے کیا تھا اور آج شاندار انتخابی نتائج کے ذریعے عالم اسلام میں حقیقی تبدیلیوں کا آغاز بھی تیونس نے کیاہے۔ انہوں نے تیونس کے عوام کو مبارکباد دیتے ہوئے آئندہ تمام مراحل میں بھی کامیابیوں کی امید ظاہر کی۔ سابق امیر جماعت اسلامی پاکستان قاضی حسین احمد نے بھی فون پر شیخ راشد الغنوشی کو مبارکباد دی اور اس امید کا اظہار کیا کہ نہضت پارٹی کی کامیابی سے تیونس میں حقیقی جمہوریت اور اسلامی اقدار کو فروغ ملے گا اور لوگ صحیح معنوں میں آزادی سے بہرہ ور ہوں گے۔ راشدالغنوشی نے قاضی حسین احمد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انہیں تیونس آنے کی دعوت دی ہے۔

☼☼☼

Leave a comment

Your email address will not be published.


*