Abd Add
 

کامیاب کیریئر کے مراحل۔۔۔

کیریئر کا انتخاب انتہائی اہم مرحلہ ہوتا ہے، اِس لیے پوری طرح متوجہ رہنا پڑتا ہے۔ ہر نوجوان کو اس مرحلے میں متعلقین سے مدد لینے میں کسی بھی سطح پر کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرنی چاہیے۔ ہر شعبے میں کامیاب افراد کی کمی ہے نہ ماہرین کی۔ کامیاب افراد سے معلومات حاصل کرنے میں اور ماہرین سے مشاورت میں بہت فرق ہے۔ دونوں کی آراء فائدہ پہنچاتی ہیں مگر پھر بھی اِن آراء کے فرق کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ بات کچھ یوں ہے کہ ماہرین کے مشوروں میں عملی پہلو زیادہ نمایاں نہیں ہوتا۔ وہ بہت کچھ پڑھ کر آتے ہیں اور مختلف حوالوں سے تحقیق کی روشنی میں بول رہے ہوتے ہیں مگر چونکہ عمل کی دنیا سے اُن کا کچھ خاص تعلق نہیں ہوتا اِس لیے اُن کی آراء مختلف نوعیت کی ہوتی ہیں۔ دوسری طرف کسی بھی شعبے کے کامیاب ترین افراد سے بات کرنے کی صورت میں آپ کو اندازہ ہوگا کہ عملی زندگی میں آپ کو کس نوع کی مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔ کامیاب افراد اپنے تجربے کی روشنی میں بتاتے ہیں کہ کسی بھی بحران سے کس طور نمٹا جاسکتا ہے، کوئی بھی پیچیدگی کس طور دور کی جاسکتی ہے۔ یہی سبب ہے کہ عملی تجربہ رکھنے والوں کی باتیں زیادہ توجہ سے سُنی جاتی ہیں۔

دِل کی آواز بھی سُن۔۔۔

کیریئر کا انتخاب مکمل ہوجانے پر نئی نسل کو آگے بڑھنے کی تیاری کرنا پڑتی ہے۔ یہ تیاری سہل نہیں ہوتی۔ ہم مسابقت کی دنیا میں جی رہے ہیں۔ قدم قدم پر ایسی بھرپور مسابقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ اعصاب شکست و ریخت کی منزل تک پہنچتے معلوم ہوتے ہیں۔ نئی نسل کو زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ اُسے زیادہ کچھ معلوم ہی نہیں ہوتا۔ عملی زندگی سے نیا نیا سامنا ہونے پر مشکلات کا محسوس ہونا فطری امر ہے۔ اس مرحلے میں نئی نسل کو غیر معمولی راہ نمائی درکار ہوتی ہے تاکہ وہ غلط راہ پر نہ پڑے۔

نئی نسل کو کریئر کی حقیقی تیاری کے لیے بہت سے امور کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔ مطالعہ بھی کرنا ہوتا ہے اور مشاورت بھی کرنا پڑتی ہے۔ متعلقہ شعبے کے معاملات اور حالات کو بھی ذہن نشین رکھنا پڑتا ہے۔ فی زمانہ ہر شعبہ بہت تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ بہت کوشش کرنے پر بھی معاملات آسانی سے درستی کی راہ پر گامزن نہیں ہوتے۔ جو لوگ کسی بھی شعبے میں ایک زمانے سے ہوں اُنہیں بھی وقت کے ساتھ چلنے کے لیے ہر وقت کچھ نہ کچھ سیکھنا اور نیا کرنا پڑتا ہے۔

آج کی دنیا میں ہر انسان کو غیر معمولی حد تک محنت کرنا ہے۔ اِس کلیے سے کوئی بھی ایسا انسان مستثنیٰ نہیں جس نے کسی بلند مقام تک پہنچنے کی ٹھان رکھی ہو، اور اس حوالے سے تیاری بھی کی ہو۔ جو لوگ کچھ بننا اور کرنا چاہتے ہیں، اُنہیں محنت کرنا ہی پڑتی ہے۔ ایسا کیے بغیر چارہ نہیں۔ نئی نسل کے حصے میں زیادہ کام آتا ہے کیونکہ شعبے میں نئے ہونے کے باعث اُسے زیادہ دیکھنا اور سوچنا پڑتا ہے۔

کسی بھی انسان کے لیے کامیابی کی راہ حقیقی معنوں میں اُسی وقت ہموار ہوتی ہے، جب وہ اپنے وجود کی گہرائی میں اترے، اپنی خوبیوں اور خامیوں کا جائزہ لے، خوبیوں کو پروان چڑھانے اور خامیوں سے چھٹکارا پانے کی تیاری کرے اور پھر اِس حوالے سے فعال بھی ہو۔ اس مرحلے سے ہر اُس شخص کو گزرنا پڑتا ہے جو کچھ کرنا چاہتا ہے، اپنی زندگی کو دوسروں کے لیے مثال بنانے کا خواہش مند ہے۔

بھرپور کامیابی کے خواہش مند ہر انسان کو بھرپور تیاری بھی کرنا پڑتی ہے۔ تیاری کے بغیر کوئی بھی کام ڈھنگ سے نہیں کیا جاسکتا۔ تیاری کا معیار دیکھ کر ہی طے ہوتا ہے کہ کارکردگی کس معیار کی ہوگی اور کامیابی کا گراف کس حد تک بلند ہوسکے گا۔ حقیقی کامیابی کے لیے بھرپور تیاری کرنے والے ہر انسان کو اپنے وجود کی گہرائی میں اتر کر اپنا جامع جائزہ لینا ہی پڑتا ہے۔ ہر انسان کو یہ معلوم ہونا ہی چاہیے کہ وہ کس حد تک اور کیسا کام کرسکتا ہے۔ صلاحیت اور سکّت دونوں کا بھرپور جائزہ لینے کی صورت میں انسان زیادہ لگن اور ولولے کے ساتھ میدان میں اترتا ہے۔

اگر آپ اپنے ماحول کا بغور جائزہ لیں تو اندازہ ہوگا کہ کیریئر کو آگے بڑھانا اُنہی کے لیے ممکن ہو پاتا ہے، جو اپنے وجود کا جائزہ لیتے رہتے ہیں تاکہ اندازہ لگاسکیں کہ وہ کیا کیا اور کس طرح کرسکتے ہیں۔ اپنے من میں ڈوب کر انسان بہت کچھ جان سکتا ہے۔ خامیوں کا علم ہونے پر انسان مزید سیکھنے کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ خوبیوں کا درست اندازہ ہونے پر اُنہیں پروان چڑھانے کی فکر لاحق ہوتی ہے۔ یہ زندگی بھر کا معاملہ ہے۔ اپنے آپ کو اپ ڈیٹیڈ اور اپ گریڈ رکھنے کے لیے انسان کو بہت کچھ سوچنا اور کرنا پڑتا ہے۔ یہ جتنا گُڑ اُتنا میٹھا والا معاملہ ہے۔

ترتیب و تدوین: محمد ابراہیم خان

Leave a comment

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.