Abd Add
 

سوڈان: نقد، امداد اور سفارت کاری

کیا سوڈانیوں، اور بالخصوصی دارفر کے رہنے والوں، کو ایک نیا امن معاہدہ مل سکے گا؟

ملک میں آزادی کے ماحول کو تقویت پہنچانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے سوڈان کے صدر عمر البشیر نے یکم اپریل کو اعلان کیا کہ تمام سیاسی قیدی رہا کر دیے جائیں گے۔ سات سرکردہ سیاسی کارکن فوری طور پر رہا کر بھی دیے گئے۔ عمر البشیر کی کابینہ کے ارکان نے قطر میں منعقدہ کانفرنس میں شرکت کی جس میں دارفر کی ترقی اور استحکام کے لیے امداد کا اعلان کیا گیا ہے۔ دارفر میں بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن اور قتل عام سے صدر عمر البشیر کے لیے مشکلات بڑھی ہیں۔ انٹر نیشنل کرمنل کورٹ نے ان پر فردِ جرم عائد کرتے ہوئے گرفتاری کے وارنٹ بھی جای کیے۔ عمر البشیر کی طرف سے طاقت استعمال کرنے کی پالیسی کے نتیجے میں جنوبی سوڈان نے دو سال قبل علیحدہ ہوکر الگ ملک کا درجہ حاصل کیا۔ اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ صدر عمر البشیر اور جنوبی سوڈان کی قیادت نے امن معاہدہ کرلیا ہے جس کے نتیجے میں امن اور استحکام کی راہ ہموار ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔

عمر البشیر کا کہنا ہے کہ وہ ۲۰۱۵ء میں سبک دوش ہو جائیں گے۔ ان کا اقتدار ۲۶ برسوں پر محیط رہے گا۔ اب وہ زیادہ سے زیادہ اصلاحات پر کمر بستہ دکھائی دیتے ہیں۔ ملک میں کم ہی لوگوں کو ان کی باتوں پر بھروسا ہے۔ اگر وہ دارفر کے رہنے والوں کو پرسکون زندگی کا تحفہ دینے میں کامیاب ہوئے تو بڑی بات ہوگی۔ اس سے ملک میں بڑی تبدیلیوں کی راہ ہموار ہوگی۔

دارفر میں امن اور استحکام لانے کے لیے غیر ملکی امدادی اداروں نے چند برسوں میں اربوں ڈالر صرف کیے ہیں۔ ۲۰۰۳ء اور ۲۰۰۴ء میں دارفر کے باغیوں اور حکومت کی سرپرستی میں لڑنے والی ملیشیاؤں کے درمیان لڑائی سے جان بچاکر بیس لاکھ افراد نقل مکانی کرگئے۔ ان میں سے دس لاکھ اب بھی کیمپوں میں پڑے کسمپرسی کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ان کی خوراک اور صحت پر سالانہ ایک ارب ڈالر درکار ہیں۔ اقوام متحدہ اور افریقی یونین کی تنظیم کی چھتری تلے تعینات بیس ہزار امن فوجیوں کا سالانہ بجٹ ڈیڑھ ارب ڈالر ہے۔

دارفر میں حقیقی امن کے قیام کی کوششیں اب تک ناکامی سے دوچار رہی ہیں۔ چند علاقوں میں استحکام ہے مگر باغی گروہ اب بھی حکومتی ملیشیا سے نبرد آزما رہتے ہیں۔ نئے تنازعات سر اٹھاتے رہتے ہیں۔ سال رواں کے دوران دو عرب قبیلے سونے کے ذخائر دریافت ہونے پر لڑ پڑے۔ اس لڑائی سے بچنے کے لیے ایک لاکھ افراد نے علاقے سے نکل مکانی کی۔ دارفر کے طول و عرض میں اب بھی لاقانونیت کا راج ہے۔ امداد کی مد میں آنے والے ڈالر اور بڑی بڑی شاندار گاڑیوں نے معاملات کو مزید الجھا دیا ہے۔ لوٹ مار اور اغوا برائے تاوان کی وارداتیں بڑھتی جا رہی ہیں۔

اس خراب صورتحال کو بہتر بنانے والوں کے حوصلے ماند نہیں پڑے۔ قطر کی حکومت بھی پر امید ہے۔ ۲۰۱۱ء کے آخر میں قطری حکومت کی سرپرستی ہی میں اس کے دارالحکومت دوحہ میں ایک وسیع البنیاد معاہدے پر دستخط کیے گئے۔ ابتدا میں حکومت اور ایک باغی گروپ نے معاہدے پر دستخط کیے۔ بعد میں ایک اور گروپ بھی ان کا ہم نوا ہوگیا۔ امن فوج اور بیرونی حکومت مل کر اس معاہدے کا اطلاق چاہتی ہیں۔ قطر کی حکومت دارفر میں حالات بہتر بنانے سے کہیں بڑھ کر پورے ملک کو زیادہ سے زیادہ استحکام دینے کے لیے سات ارب ڈالر کا پیکیج تیار کر رہی ہے۔ کیمپوں میں پڑے ہوئے لاکھوں افراد کو ان کے گھروں میں دوبارہ بسانا اور بہت معاشی امکانات پیدا کرنا بھی قطر کی ترجیحات میں نمایاں ہے۔

مغربی حکومتوں اور امدادی اداروں کے لیے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر دی جانے والی امداد سے ترقیاتی امداد کی طرف جانا آسان نہ ہوگا۔ اس کے لیے طویل المیعاد عزم اور حوصلے کی ضرورت ہے۔ اور پھر یہ بات بھی ہے کہ صدر عمر البشیر پر فرد جرم عائد کیے جانے کے باوجود مغربی حکومتوں کو عمر البشیر انتظامیہ کے ساتھ مل کر کام کرنا پڑے گا۔

چند امریکی تنظیمیں بھی عمر البشیر کے ساتھ کام کرنے کے حق میں نہیں۔ قطر میں کانفرنس سے قبل ان تنظیموں نے قطر کے امیر کے نام خط میں کہا تھا کہ سوڈانی حکومت کو دی جانے والی امداد دہشت گردی میں معاونت کے لیے استعمال ہونے ولے فنڈ میں شمار ہوگی۔ اقوام متحدہ میں امریکی سفیر سوزین رائس نے بھی ایسی ہی رائے کا اظہار کیا ہے۔ سوڈان کے دارالحکومت خرطوم میں مغربی سفارت کاروں نے بھی خدشات کا اظہار کیا ہے۔

سوڈانی حکومت نے دارفر کی ترقی کے لیے دو اعشاریہ چھ ارب ڈالر خرچ کرنے کی بات ضرور کی ہے مگر وہ اس کمٹمنٹ پر عمل کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ جنوبی سوڈان کے الگ ہو جانے کے بعد سوڈانی حکومت کی آمدنی گھٹ گئی ہے۔ سوڈان کے ایک اپوزیشن رہنما کا کہنا ہے کہ دارفر کے حوالے سے سوڈانی حکومت میں سیاسی عزم کی کمی ہے اور یہ کمی دور نہیں ہوگی۔

عمر البشیر جانتے ہیں کہ دارفر کا مسئلہ حل کرنا ان کے اور ان کی حکومت کے مفاد میں ہے۔ اس صورت میں وہ امریکا پر سخت اقتصادی پابندیاں اٹھانے کے لیے دباؤ ڈال سکتے ہیں۔ مگر ساتھ ہی ساتھ ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ وہ برسوں جبر سے کچلے جانے والے علاقے کو کس طور تیزی سے ترقی دے سکیں گے۔

(“Sudan: Cash, Aid and Diplomacy”…
“The Economist”. April 6th, 2013)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.