اور اب سوڈان تقسیم کی راہ پر

ایک رپورٹ کے مطابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ سوڈان کے دارفور علاقہ میں جو بڑے پیمانے پر بدامنی پھیلی ہوئی ہے اور وہاں کے باشندوں پر سوڈانی حکومت جس طرح مظالم ڈھارہی ہے اسے روکنے کے لیے اسے موثر قدم اٹھانا چاہیے‘ انہو ں نے وہاں امن فوج تعینات کرنے پر بھی زور دیا ہے‘ ان کے مطابق یہ خطہ شورش زدہ علاقہ ہے ‘ جہاں کی آبادی کو وہ آزادیاں حاصل نہیں ہیں جو انہیں حاصل ہونی چاہئیں۔ سوڈانی حکومت نے انہیں ان آزادیوں سے محروم کر رکھا ہے‘ یہ بات صدر جارج ڈبلیو بش نے وہائٹ ہائوس میں منعقدہ (۱۵ ستمبر) ایک پریس کانفرنس میں کہی‘ انہیں اس بات کا قلق ہے کہ سوڈان میں انسانوں کا ناحق خون بہایا جارہا ہے اور یہ سنگین جرم کوئی اور نہیں بلکہ سوڈان کی حکومت کررہی ہے‘ امریکی صدر سے حکومت کے مخالفین کا یہ حال دیکھانہیں جارہا ہے‘ ان کی نسل کشی برداشت نہیں ہورہی ہے اس لیے وہ جلد از جلد اس کی روک تھام چاہتے ہیں‘ مگر اقوام متحدہ اس سلسلہ میں کچھ کر نہیں رہی ہے‘ اس کی وجہ سے ان کی الجھنیں بڑھ رہی ہیں او رپریشانیوں میں اضافہ ہورہا ہے۔

صدر جارج ڈبلیو بش نے اقوام متحدہ کو اس سلسلہ میں حرکت میں لانے کی بہت کوششوں کی لیکن افسوس کہ اب تک اس نے ٹھوس اور موثر قدم نہیں اٹھایا ۔ٹھوس اور مؤثر قدم سے ان کی مراد وہاں امن فوج بھیجنا اور پورے علاقے کو اپنے کنٹرول میں کرلینا ہے‘ انہوں نے کہا کہ اس بحران کا حل یہ ہے کہ جہاں سیاسی سطح پر کوششیں کی جائیں وہیں سیکورٹی کے نقطہ نظر سے بھی جو کارروائی ضروری ہو اس سلسلہ میں بھی قدم اٹھائے جائیں‘ اس سلسلہ میں ناٹو کی خدمات بھی حاصل کی جاسکتی ہیں‘ انہوں نے کہا کہ مجھے اس بات کی بے حد خوشی ہے کہ امریکا نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر دارفور کے مظلومین کی بھرپور مدد کی ہے۔

واضح رہے کہ سوڈان کے اس شورش زدہ علاقے میں اقوام متحدہ کی امن فوج کی تعیناتی ایک متنازعہ مسئلہ بنا ہوا ہے کیونکہ سوڈان اس کے لیے بالکل تیار نہیں ہے وہ اسے داخلی مسائل میں بے جا مداخلت تصور کرتا ہے‘ کیونکہ دارفور میں جو کچھ ہورہا ہے وہ اس کا خالص داخلی مسئلہ ہے اور سوڈان کی حکومت یہ سمجھتی ہے کہ وہ اس پر قابو پانے کی اہل ہے‘ اسے باہر سے کسی کی مدد لینے کی چنداں ضرورت نہیں ہے وہ اس مسئلے میں غیر ملکی دلچسپی کو ملکی سا لمیت کے خلاف ایک سازش تصور کرتی ہے اس کا خیال ہے کہ جس طرح جنوبی سوڈان کے معاملہ میں غیرملکی طاقتوں نے غیر معمولی دلچسپی کا مظاہرہ کیا تھا اب وہی تجربہ دارفور کے معاملہ میں بھی دہرانے کی کوشش کی جارہی ہے جس طرح جنوبی سوڈان کا مسئلہ سوڈان کا داخلی مسئلہ تھا اور اگر غیرملکی طاقتیں اس میں ملوث نہ ہوتیں تو اسے نہایت آسانی کے ساتھ اور بہت پہلے حل کرلیا گیا ہوتا مگر غیرملکی طاقتوں نے نہ صرف اس میں دلچسپی لی بلکہ اس کو نہایت پیچیدہ مسئلہ بنادیا‘ پہلے تو اس کے بارے میں کہا گیا کہ حکومت نسلی پالیسی پر عمل کررہی ہے اور مخالفین کا نسلی بنیاد پر صفایا کردینا چاہتی ہے یاد رہے کہ جنوبی سوڈان کے باغی یہ دعویٰ کررہے تھے کہ و ہ عیسائی ہیں حالانکہ ان کی بڑی اکثریت قبائلیوں پر مشتمل تھی ‘ پھر ان باغیوں کو حریت پسند قرار دے کر ان کی اخلاقی و مادی حمایت کی گئی‘ انہیں ہتھیار فراہم کیے گئے۔

یہاں تک کہ انہیں سوڈان سے آزاد ہونے کی ترغیب دی گئی اور یوں سوڈان کی تقسیم کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کی گئی لیکن جب اس محاذ پر خاطر خواہ کامیابی نہیں مل سکی تو اب دارفور کا مسئلہ بنالیا گیا اور اس معاملہ میں بھی ٹھیک اسی پالیسی پر عمل کیا جارہا ہے جس کو جنوبی سوڈان کے معاملہ میں آزمایا جاچکا ہے لیکن سوڈان کی حکومت اس کے لیے کسی طرح آمادہ نہیں ہورہی ہی‘ اس کا کہنا ہے کہ یہ اس کا داخلی مسئلہ ہے اس لیے اقوام متحدہ کو اس میں کود پڑنے کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔ لیکن بیرونی طاقتیں اور خاص طور پر امریکا کو اس پر اصرار ہے کہ یہ سوڈان کے بس کی بات نہیں ہے لہٰذا اقوام متحدہ کو اس معاملہ میں ہاتھ ڈالنا چاہیے۔

صدر جارج ڈبلیو بش کے بعد اب امریکا کی وزیر خارجہ کونڈو لیزارائس نے اقوام متحدہ کی ۶۱ ویں جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر وزرائے خارجہ کی ایک میٹنگ میں یہ مسئلہ دوبارہ اٹھایا‘ بتایا جاتا ہے کہ ا س میٹنگ میں امریکی وزیر خارجہ کونڈو لیزارائس نے امریکا کے حلیف ملکوں کے وزراء خارجہ کے ساتھ اس نکتہ پرصلاح و مشورہ کیا ہے کہ سوڈان میں انسانی ہمدردی کے مشن کو کس طرح آگے بڑھایا جائے اور اس حوالے سے اقوام متحدہ کی امن فورس کی تعیناتی کو کس طرح ممکن بنایا جائے ۔

بتایا جاتاہے کہ اب اس پر غور کیا جارہا ہے کہ سوڈان کی حکومت کی مرضی کے بغیر وہاں امن فوج کو کس طرح بھیجا جاسکتا ہے‘ کہا یہ جارہا ہے کہ اس کے لیے لائحہ عمل تیار کیا جارہا ہے اور اب یہ نکتہ اٹھایا گیا ہے کہ سوڈان کے اس شورش زدہ علاقے میں امن فوج کی تعیناتی کے لیے سوڈان کی حکومت سے اجازت لینے اور اس سے منظوری حاصل کرنے کی چنداں ضرورت نہیں ہے‘ یہ کام اس کے بغیر بھی کیا جاسکتا ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر ۱۷۰۶ عالمی ادارہ کو اس کا اختیار دیتی ہے کہ وہ جہاں ضروری خیال کرے امن فوج بھیج سکتی ہے‘ اب اس کے لیے فضا تیاری کی جارہی ہے اور اس تجویز کے حامی پیدا کیے جارہے ہیں‘ ظاہر ہے ایسی صور ت میں جو بھی امن فوج وہاں بھیجی جائے گی وہ سوڈان کی حکومت کو بے دخل کرے گی اور وہاں اپنا تسلط قائم کرے گی نیز اس وقت تک وہاں جمی رہے گی جب تک اس کے خیال میں وہاں حالات معمول پر نہیں آجاتے اور حالات اس وقت معمول پر آئیں گے جب یہ علاقہ یا تو بالکل آزاد ہوجائے یا برائے نام حکومت سوڈان کے کنٹرول میں رہ جائے‘ گویا یہ سوڈان کو تقسیم کرنے کی تیاری کا ایک مرحلہ ہے۔

(بشکریہ:سہ روزہ ’’دعوت‘‘ نئی دہلی۔ شمارہ:۲۵؍ستمبر ۲۰۰۶ء)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*