Abd Add
 

میانمار میں کیا ہوا؟

۲۸ جنوری ۲۰۲۱ء کو میانمار (برما) کی وزیراعظم آنگ سانگ سوچی نے فوجی حکام سے مذاکرات کی ناکامی کے پیش نظر گرفتاری سے بچنے کی کوششوں کے دوران سامان پیک کرتے ہوئے اپنا سیل فون بھی تلف کردیا تھا۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ انہیں کم و بیش چار دن قبل ہی اندازہ ہوگیا تھا کہ فوج منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر دوبارہ اقتدار پر قبضہ کرنا چاہتی ہے۔ نومبر ۲۰۲۰ء کے عام انتخابات میں آنگ سانگ سوچی کی نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی کی شاندار کامیابی کے بعد سے فوج مختلف حوالوں سے انتخابی نتائج کا جائزہ لینے کا مطالبہ کر رہی تھی مگر آنگ سانگ سوچی نے اس بار نہ جھکنے کا فیصلہ کر رکھا تھا۔ میانمار میں جو کچھ ہوا اْس کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جاننے کے لیے رائٹرز نے سویلین حکومت اور فوج کے درمیان مذاکرات سے باخبر ۹؍افراد سے رابطہ کیا تاکہ اندازہ لگایا جاسکے کہ ہوا کیا ہے۔ انہوں نے شناخت خفیہ رکھے جانے کی شرط پر بعض ایسی باتیں بھی بتائیں جو اس سے قبل منظر عام پر نہیں آئی تھیں۔

۵ کروڑ ۳۰ لاکھ کی آبادی والے جنوب مشرقی ایشیا کے ملک میانمار (برما) میں فوج نے ۱۹۶۲ء سے ۲۰۱۵ء تک حکومت کی۔ ۲۰۱۵ء میں ملک کے پہلے آزادانہ و شفاف عام انتخابات منعقد ہوئے تو نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی نے کامیابی حاصل کی اور طویل مدت تک جمہوریت کے لیے جدوجہد کرنے کے صلے کے طور پر امن کا نوبیل انعام پانے والی آنگ سانگ سوچی نے وزیراعظم کا منصب سنبھالا۔ نصف صدی سے بھی زائد مدت کی فوجی حکمرانی کے دوران میانمار بدحال اور عالمی برادری میں الگ تھلگ رہا ہے۔

۲۸ جنوری ۲۰۲۱ء کو سویلین حکومت اور فوجی حکام کے درمیان کئی دنوں کی بات چیت کے بعد صاف دکھائی دینے لگا کہ اب مفاہمت ممکن نہیں۔ فوج کا مطالبہ تھا کہ ۸ نومبر ۲۰۲۰ء کے عام انتخابات کے حتمی نتائج کا جائزہ لینے کا موقع دیا جائے۔ آنگ سانگ سوچی نے اس کی اجازت دینے سے انکار کردیا۔ مذاکرات کے دوران فوجی حکام نے سویلین حکومت کے نمائندوں پر الزام عائد کیا کہ وہ بہت سخت گیر اور گستاخ ہیں۔ آنگ سانگ سوچی اور فوج کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات دارالحکومت نیپیٹا اور تجارتی دارالحکومت ینگون میں ہوئے۔ سوچی کے نمائندے کیا ٹنٹ سوئی ان مذاکرات کے اختتام پر خاصے مضمحل و شکست خوردہ دکھائی دیے۔ شاید انہیں جلد رونما ہونے والے واقعات کا اندازہ ہوچکا تھا۔ گفت و شنید سے آگاہ ذرائع نے بتایا کہ سویلین حکومت کے نمائندوں کا کہنا تھا کہ ان کے پاس طاقت نہیں کیونکہ وہ کوئی باضابطہ فورس نہیں رکھتے اس لیے وہ جمہوریت کی بساط کو الٹے جانے سے روکنے کی پوزیشن میں بھی نہیں۔

بات چیت ابھی جاری ہی تھی کہ نیپیٹا اور ینگون میں فوجی گاڑیاں سڑکوں پر دکھائی دینے لگی تھیں۔ سابق دارالحکومت ینگون میں بدھ مت کے بڑے معبد شویڈاگون پیگوڈا کے نزدیک فوج کے ہزاروں حامی جمع ہوئے۔ انہوں نے میڈیا کے ان نمائندوں کو بھی ڈرایا دھمکایا جنہوں نے ان سے انٹرویو کرنے کی کوشش کی۔

۳۰ جنوری کو فوج نے اس افواہ کی تردید کی کہ وہ اقتدار پر قبضہ کرنا چاہتی ہے۔ فوج کے نمائندے نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ہرحال میں آئین کا دفاع کیا جائے گا اور ہر کام آئین کے مطابق ہوگا۔ ۲۰۰۸ء کے آئین کے مطابق ملک کا نظام جمہوری ہے، تاہم ہنگامی حالت میں فوج کو اقتدار اپنے ہاتھ میں لینے کا اختیار بھی حاصل ہے۔ فوج نے آئین کے تحت اور بھی بہت کچھ اپنے ہاتھ میں رکھا ہے۔ دفاع و داخلہ سمیت کئی اہم وزارتیں فوج کے کھاتے میں ہیں اور پارلیمان میں اس نے اپنے لیے نشستوں کا کوٹا بھی رکھا ہے۔

۳۱ جنوری اور یکم فروری کی درمیانی شب وزرا، قانون سازوں، مصنفین، فلم سازوں اور سیاسی کارکنوں کی گرفتاری کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ اُسی صبح فوج نے اقتدار میں باضابطہ واپسی کا اعلان کردیا۔ آنگ سانگ سوچی کو گھر میں نظربند کردیا گیا اور ساتھ ہی ساتھ محض خانہ پُری کے طور پر واکی ٹاکیز کی غیرقانونی برآمد میں ملوث ہونے کا خاصا بھونڈا الزام عائد کیا گیا۔

۲ فروری کو فوج نے کہا کہ ۸ نومبر ۲۰۲۰ء کے عام انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کی گئی ہے اور آنگ سانگ سوچی نے مطالبے کے باوجود اس حوالے سے کوئی تسلی بخش جواب نہیں دیا۔ غیرجانبدار مبصرین کا کہنا ہے کہ عام انتخابات میں برائے نام دھاندلی ہوئی، یعنی نتائج کو متنازع قرار نہیں دیا جاسکتا۔ نومبر ۲۰۲۰ء کے عام انتخابات میں فوج کی حمایت یافتہ یونین سالیڈیرٹی اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی کو عبرت ناک شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ فوج کا دعویٰ ہے کہ ملک کے تین کروڑ ووٹوں میں ایک تہائی میں جعل سازی ہوئی ہے۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ اگر بے قاعدگیوں کی تحقیقات کرائی جائے تو بھی حتمی انتخابی نتائج پر کچھ خاص اثر نہیں پڑے گا۔ الیکشن کمیشن نے مطالبے کے باوجود ووٹروں کی حتمی فہرستیں فوج کے حوالے کرنے سے اب تک واضح طور پر گریز اور انکار کیا ہے۔

۲۶ جنوری کو فوجی ترجمان زا مِن تُن نے میڈیا سے گفتگو کے دوران سویلین حکومت کا تختہ الٹنے کے خدشے کو بے بنیاد قرار دینے سے گریز کیا تھا، جس سے عوام کو اندازہ ہوگیا تھا کہ کچھ نہ کچھ ایسا ویسا ہونے والا ہے۔ آرمی چیف جنرل مِن آنگ ہلینگ نے کہا کہ اگر آئین پر عمل نہ کیا جائے تو اُسے منسوخ بھی کیا جاسکتا ہے۔ واضح رہے کہ جنرل مِن آنگ ہلینگ اور آنگ سانگ سوچی کے درمیان تعلقات کشیدہ رہے ہیں اور انہوں نے کئی ماہ تک بات چیت بھی نہیں کی تھی۔ ویسے فوج اور آنگ سانگ سوچی کی نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی کے تعلقات ۱۹۸۰ء کے عشرے سے کشیدہ چلے آرہے ہیں۔

میانمار کی فوج کا مطالبہ تھا کہ ۸ نومبر ۲۰۲۰ء کے عام انتخابات کے نتیجے میں معرضِ وجود میں آنے والی پارلیمان کے افتتاح کی تاریخ (یکم فروری) تبدیل کی جائے۔ دوم یہ کہ الیکشن کمیشن تحلیل کیا جائے اور سوم یہ کہ فوج کو ۸ نومبر کی پولنگ کے پورے عمل کا جائزہ لینے کا موقع دیا جائے۔ ۲۹ جنوری کو آنگ سانگ سوچی کی ہدایت پر پارلیمنٹ کا افتتاح ایک دن کے لیے موخر کردیا گیا۔ اس سے قبل ہی فوج اور سویلین حکومت کے درمیان بات چیت مکمل طور پر ناکام ہوگئی۔

آنگ سانگ سوچی کو صدر کا تقرر بھی کرنا تھا۔ خیال کیا جارہا تھا کہ شاید وہ جمہوری سیٹ اپ کو بچانے کے لیے جنرل مِن آنگ ہلینگ کو (ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد) یا پھر فوج کی کسی اور پسندیدہ شخصیت کو صدر مقرر کریں گی۔ آئین کے تحت آنگ سانگ سوچی خود صدر نہیں بن سکتیں، کیونکہ ان کی اولاد غیرملکی شہریت کی حامل ہے۔

یکم فروری کی شب ملک بھر میں سیاست دانوں، نمایاں سیاسی کارکنوں، قانون سازوں اور فوج کے مخالف نمایاں بدھ راہبوں کے گھروں پر چھاپوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ ان میں سے بیشتر کو یا تو گرفتار کیا گیا یا پھر گھروں تک محدود رہنے کی ہدایت کی گئی۔ سابق سویلین حکومت سے وابستہ ایک شخصیت نے بتایا کہ اس رات ٹیلی کمیونی کیشن کمپنیوں کے دفاتر اور تنصیبات میں فوجی آئے اور تین بجے تک نصف سے زائد کمپنیوں کی انٹرنیٹ کنیکٹیوٹی ختم ہوچکی تھی۔ میانمار کی چار میں سے کسی بھی ٹیلی کمیونی کیشن کمپنی نے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

سویلین حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے میانمار کے اعداد کے اثرات پر غیرمعمولی اعتقاد رکھنے والے جرنیلوں نے وقت اور دن کا انتخاب سوچ سمجھ کر کیا ہوگا۔ میانمار میں
۹ کا ہندسہ نیگ شگون کے طور پر لیا جاتا ہے۔ یہ اقدام یکم فروری کو رات کے تین بجے کیا گیا۔ تاریخ تھی ۲۱۔۱۔۲ ؍اور وقت تھا ۳ بجے۔ ان ہندسوں کا مجموعہ ۹ بنتا ہے۔

“Suu Kyi destroyed phone after fraught talks”. (“straitstimes.com”. Feb.11, 2021)




Leave a comment

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.