شام میں ’’آگ‘‘ نزدیک آ رہی ہے

چند دنوں کی سست روی کے بعد شام میں منحرفین ایک بار پھر بشارالاسد انتظامیہ کے خلاف کامیابیاں حاصل کرتے جارہے ہیں۔ انہوں نے مزاحمت کا دائرہ وسیع کردیا ہے اور کئی علاقے فتح کرلیے ہیں، جن میں دارالحکومت دمشق کا مضافاتی علاقہ بھی شامل ہے۔ سیرین نیشنل کونسل کی جگہ امریکا کی نظر میں غیر معمولی حیثیت حاصل کرنے والی سیرین نیشنل کولیشن قطر میں جلد ہی باضابطہ حیثیت حاصل کرلے گی۔ اسے سفارتی سطح پر بھی قبولیت دی جارہی ہے۔ کولیشن سے وابستہ رہنما حکومت کے خلاف لڑنے والے تمام گروپوں کو کنٹرول نہ بھی کرسکیں تو ان پر اپنے اثرات ضرور مرتب کرنا چاہتے ہیں۔ بشارالاسد انتظامیہ جو کچھ کر رہی ہے اس سے بدحواسی نمایاں ہے۔ دمشق کے نواح میں فلسطینیوں کی بستی پر بمباری اور اسکڈ میزائل برسانا یہ بتاتا ہے کہ اب بشارالاسد انتظامیہ کو اپنے جانے کا یقین ہو چلا ہے۔ حلب شام کا دوسرا بڑا شہر ہے۔ اس کا نصف منحرفین کے کنٹرول میں ہے۔ اس شہر کے رہنے والوں پر کئی بار قیامت توڑی گئی ہے۔ حال ہی میں حلب یونیورسٹی پر خودکش بم حملوں میں ۸۵؍ افراد جاں بحق ہوئے۔

مغرب کی حمایت اب تک صرف سفارتی اور اخلاقی نوعیت کی رہی ہے۔ فنڈنگ بھی زیادہ نہیں ہوئی۔ دوسری طرف سعودی عرب، قطر اور ترکی نے شام کے منحرفین کی بھرپور مدد کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔ انہیں اسلحہ بھی فراہم کیا جا رہا ہے۔ ان تینوں ممالک نے مل کر اب ایک سپریم ملٹری کونسل قائم کردی ہے تاکہ بشارالاسد حکومت کے مخالفین کو اسلحہ زیادہ آسانی اور روانی سے فراہم کیا جاتا رہے۔ اس تیس رکنی کونسل میں چند اہم ترین کمانڈر بھی شامل ہیں جن میں سقور الشام کے ابو عیسٰی، حلب کے لوٰی، التوحید کے عبدالقادر صالح اور حمص کے کمانڈر فاروق الشمل شامل ہیں۔ خیال کیا جارہا ہے کہ سیرین نیشنل کولیشن کے تحت جو عبوری حکومت قائم کی جائے گی اس کے لیے وزارت دفاع کا کردار یہ کونسل ادا کرے گی۔

اپوزیشن کی حمایت کرنے والوں کو یقین ہے کہ سیاسی تنظیم اور فوجی کونسل کے درمیان بہتر رابطے ہوں گے تاکہ بشارالاسد انتظامیہ کے گرنے کی صورت میں ملک کا نظام بہتر طور پر چلایا جاسکے۔ اگر حکومت مکمل طور پر ناکام ہوکر ختم ہوگئی تو ملک میں شدید انتشار رونما ہوگا جس کے بعد خرابیاں بڑھ جائیں گی۔ اپوزیشن کو بہتر اور منظم رکھنا ملک کی سلامتی اور سالمیت دونوں کے لیے ناگزیر ہے۔

مذاکرات کی کوششیں اب تک ناکام رہی ہیں۔ شام کی حکومت جھکنے کو تیار نہیں۔ منحرفین کی پوزیشن بھی اتنی مستحکم ہے کہ وہ بھی جھکنے پر آمادہ نہیں۔ ایسے میں امریکا اور روس بھی اب تک کسی بھی نکتے پر متفق دکھائی نہیں دیئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ایلچی لخدر ابراہیمی بھی بہت کوشش کرچکے ہیں مگر وہ دونوں طاقتوں کو شام کے معاملے پر ایک نکتے تک لاکر اتفاق رائے کی منزل تک نہیں پہنچا سکے ہیں۔ ایک روسی افسر نے یہ کہہ کر ہلچل مچائی کہ بشار الاسد مستعفی ہونے کو ہیں، مگر اگلے ہی دن ایک اور روسی افسر نے اس بیان کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ کریملن اپنے ساتھی کو کبھی تنہا نہیں چھوڑے گا۔

یورپ کے بیشتر ممالک اب تک طے نہیں کر پائے کہ انہیں شام کے معاملے میں کیا کرنا ہے۔ فرانس اب تک شام کے منحرفین کی حمایت اور مدد کرتا آیا ہے، مگر امریکا کا تذبذب اب اسے بھی دور رہنے پر مجبور کر رہا ہے۔ فرانس چاہتا ہے کہ شام کے منحرفین کی بھرپور مدد کی جائے اور انہیں اسلحہ بھی فراہم کیا جائے مگر وہ اپنے پڑوسی ممالک اور امریکا کا طرزعمل بھی دیکھ رہا ہے تاکہ معاملات غیر متوازن نہ ہو جائیں۔ فری سیرین آرمی اب اپنی نمائندہ اور مزاحم حیثیت سے محروم ہوتی جارہی ہے۔ علاقائی فوجی کونسلیں جو شام کے چودہ صوبوں میں لوگوں کومنظم کرنے کی ذمہ دار تھیں اب اپنے کام میں دشواری محسوس کر رہی ہیں۔ مغربی حکومتیں جب تک منحرفین کو بھرپور حمایت سے نہیں نوازیں گی تب تک کوئی بڑی اور فیصلہ کن تبدیلی رونما نہیں ہوگی۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ منحرفین شام کے نواحی علاقوں پر قابض ہیں مگر انہیں شہر کے مرکز تک پہنچنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے، کیونکہ حکومت کی طرف سے شدید مزاحمت ہوتی ہے جس کے نتیجے میں بشارالاسد کے مخالفین کو بھاری جانی نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔ بہتر اسلحے کے بغیر وہ کچھ بھی حاصل نہیں کر پائیں گے۔

اگر مغربی حکومتیں یونہی تماشا دیکھتی رہیں تو منحرفین میں انتہا پسند مستحکم ہوتے جائیں گے اور وہ اقلیتوں کے خلاف سخت کارروائی کے حق میں ہوتے جائیں گے۔ ایسے میں حکومت کی مخالفت رفتہ رفتہ فرقہ وارانہ تشدد میں تبدیل ہوتی جائے گی۔ سیرین نیشنل کولیشن کے سربراہ معز الخطیب کہتے ہیں کہ امریکا اب بھی تذبذب کا مظاہرہ کر رہا ہے جو کوئی اچھی بات نہیں۔ انہوں نے ایک انتہا پسند گروپ جبہۃ النصرۃ کو دہشت گرد قرار دینے کے امریکی فیصلے کو بھی ناپسندیدہ قرار دیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بشار الاسد کی حکومت کو ختم ہونا ہے مگر اس کے بعد سویلین اتھارٹی کا قیام بہت مشکل ہوگا۔ اب تک اس حوالے سے تیاریاں برائے نام ہیں۔

(Syria Crisis: “The Fire is Getting Closer” “Economist” Dec 22nd 2012)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*