Abd Add
 

اسرائیلی جرائم

قومی اہداف کیلئے فلسطینیوں کا سیاسی اشتراکِ عمل ضروری ہے

May 16, 2009 // 0 Comments

جنوری ۲۰۰۶ء میں پورے فلسطین میں عام انتخابات کا انعقاد ہوا تو حماس اکثریتی پارلیمانی جماعت کے طور پر سامنے آئی۔ حماس نے وزارتِ عظمیٰ کے لیے اسمٰعیل ھنیہ کو نامزد کیا۔ انہیں فلسطین کی منتخب قومی حکومت کی قیادت کرنے کا اعزاز ملا۔ لیکن فلسطینیوں کا اپنے معاملات چلانے کے لیے متحد ہو کر آگے بڑھنا اور تحریک مزاحمت جاری رکھنے کے لیے کوشاں رہنا پہلے اسرائیل اور اس کے سرپرستوں کو گوارا نہ تھا۔ بعد ازاں اسرائیل اور اس کے سرپرستوں کا یہ جادو صدر محمود عباس اور ان کی جماعت پر بھی چل گیا اور منتخب قومی فلسطینی حکومت کو توڑنے کی کوششیں شروع ہو گئیں۔ یہ کوششیں فلسطینی اتھارٹی نے اپنے تئیں آسانی سے کامیاب بنائیں البتہ غزہ میں آج بھی [مزید پڑھیے]