اسرائیل

اسرائیل میں ’’مذہبی طبقہ‘‘ معیشت پر بوجھ!

August 1, 2015 // 0 Comments

رات کے تین بج چکے ہیں، یہاں ایک ہزار نوجوان بابلی تلمود (Babylonian Talmud) کے اس باب پر غوروفکر میں مصروف ہیں جو شادی کے راہبانہ قوانین کے بارے میں ہے۔سفید بٹن والی قمیض اور سیاہ ٹائی لگائے سب ایک ہی لباس میں ہیں۔یہ سب حبرون یشیوا (Hebron Yeshiva) کے طلبہ ہیں،جو کہ ۱۸۷۷ ء میں لتھوانیا میں قائم کیا گیا تھا،اور اب شمالی یروشلم میں واقع ہے۔یہ سب طلبہ اس رات کی یاد میں یہاں جمع ہیں جب موسیٰؑ پر صنعا کی پہاڑی پر توریت نازل ہوئی تھی،اور یہ رات صدیوں سے منائی جا رہی ہے۔ یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں۔چھٹیوں کے مخصوص دنوں میں اسرائیل کی اشرافیہ کے لیے مخصوص مذہبی ادارے یشیوا (Yeshiva) کے دارلمطالعہ ان طلبہ سے بھرے ہوتے ہیں [مزید پڑھیے]

اسرائیل کو تنہائی کا خوف!

July 16, 2015 // 0 Comments

گزشتہ ایک ہفتہ میں اسرائیل کو دو قانونی محاذوں پر نقصان اٹھانا پڑا۔ پہلی دفعہ ۲۲ جون کو، جب اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل نے گزشتہ سال غزہ میں پچاس روز جاری رہنے والی جنگ کے بارے میں رپورٹ جاری کی۔ رپورٹ میں اسرائیل کی سخت سرزنش کی گئی ہے۔ اس کے تین دن بعد فلسطین نے عالمی فوجداری عدالت (International Criminal Court) کی رکنیت (جو اسے سال کے آغاز میں دی گئی) کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پہلی دفعہ باضابطہ طور پر عدالت میں درخواست جمع کروائی، جس میں اسرائیل پر عالمی قوانین توڑنے اور مغربی کنارے پر غیرقانونی تعمیرات کا الزام لگایا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اسرائیل پر غزہ میں جنگی جرائم کرنے پر بھی عدالت میں کیس دائر کیا [مزید پڑھیے]

ڈَچ باشندے نے اسرائیلی میڈل لوٹا دیا

August 16, 2014 // 0 Comments

دوسری جنگ عظیم میں ایک یہودی لڑکے کی جان بچانے پر اسرائیلی حکومت کی طرف سے دیا جانے والا ایک ایوارڈ ہالینڈ کے ایک باشندے نے اسرائیلی سفارت خانے کو لوٹا دیا ہے۔ ۹۱ سالہ ہنک زنولی کے چھ رشتہ دار غزہ پر اسرائیلی بمباری میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ہنک زنولی نے ’’رائٹیس اَمنگ دی نیشنز‘‘ میڈل اسرائیلی سفارت خانے کو لوٹانے کے ساتھ ہی ایک خط بھی دیا ہے جس میں لکھا ہے

اسرائیل کا ۶۰واں یوم ِپیدائش

June 1, 2008 // 0 Comments

اپنے وجود کے ۶۰ سالوں بعد اسرائیل بظاہر ختم تو نہیں ہو سکتا۔ اس کے شہریوں کے لیے سب سے عمدہ برتھ ڈے تحفہ واضح طور سے امن پیکیج ہی ہو گا۔ لیکن یہ آسمان سے ازخود تو نہیں ٹپکے گا اس کے لیے اسرائیل کو اپنے بازو پھیلانے ہوں گے اور اس کا پرتپاک استقبال کرنا ہو گا۔

1 2 3