Abd Add
 

اسرائیل

اسلام پسندوں کا اقتدار، مغرب اور عرب حلقے

May 1, 2013 // 0 Comments

عرب ممالک میں استبداد، کرپشن اور نظام حکومت کے سقوط کے بعد جو کچھ ہو رہا ہے وہ عجیب و غریب اور مشکوک و مشتبہ ہے۔ دو برس قبل ’’عرب بَہار‘‘ نے تیونس سے لے کر مصر، لیبیا، یمن اور شام کو اپنی لپیٹ میں لیا، ان میں سے بیشتر ممالک نے جمہوری راستے کے واضح شعارات (پارلیمانی و صدارتی انتخابات سے لے کر دستوری ترمیمات کے استصواب تک) کو اپنایا، لیکن اس کا اثر نہ سیاسی استحکام پر دکھائی دیا، نہ اقتصادی خوشحالی پر۔ اگر ہم شام کو چھوڑ دیں جہاں پُرامن عوامی انقلاب گھمسان کی جنگ میں بدل چکا ہے، تو باقی ممالک تیونس سے لے کر مصر، لیبیا اور یمن تک میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ کیوں ہو رہا ہے؟ [مزید پڑھیے]

حضرت عیسیٰؑ کے زمانے کی زبان کے احیا کی کوشش

June 16, 2012 // 0 Comments

اسرائیل میں دو چھوٹے دیہات کے رہنے والے عیسائی آرمائک (Aramaic) زبان کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ در اصل ان زبانوں کے احیا کی خواہش کو عملی شکل دینے کی کوشش ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام بولا کرتے تھے۔ ان زبانوں کو مشرقِ وسطیٰ سے مِٹے ہوئے بھی صدیاں بیت چکی ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی نے صدیوں پہلے اپنا اثر کھو دینے والی زبانوں کے احیا کے مشن کو زندگی بخشی ہے۔ سوئیڈن میں آرمائک زبان کا ایک چینل کام کر رہا ہے۔ یہ چینل اور چند ویب سائٹس ان لوگوں کو ایک دوسرے سے جوڑے ہوئے ہیں جو آرمائک زبان بولنے میں اس قدر دلچسپی لیتے ہیں کہ انہوں نے اب بھی اس قدیم زبان کو زندہ رکھا ہوا [مزید پڑھیے]

اسرائیلی سرحدوںمیں تبدیلی کی خواہش

January 16, 2011 // 0 Comments

اسرائیل کے وزیر خارجہ اَیوِگ دَور لِی بَرمَین اس وقت ملک کے مقبول ترین سیاست دان ہیں۔ انہوں نے ملک کی سرحدوں میں تبدیلی کی خواہش ظاہر کی ہے کہ تاکہ ملک کی عرب آبادی میں سے نصف سے گلوخلاصی ممکن ہو۔ زیر نظر انٹرویو سے اندازہ ہوگا کہ لی بَرمَین کیا سوچ رہے ہیں۔ ڈین ایفرون: آپ ’’زمین کے بدلے امن‘‘ کے فلسفے پر زیادہ یقین نہیں رکھتے۔ اَیوِگ دَور لی بَرمَین: ہم نے ۱۹۹۳ء میں اوسلو مذاکرات کے ذریعے امن عمل شروع کیا تھا۔ اور اب تک تعطل برقرار ہے ہم اس کی زَد میں ہیں۔ زمین کے بدلے امن کا نظریہ درست نہیں۔ بہتر ہے کہ علاقوں اور آبادیوں کا تبادلہ کیا جائے۔ ڈین ایفرون: کیا آپ کے تصورات کو وزیر اعظم [مزید پڑھیے]

1 2 3 4 5 6