Abd Add
 

اسرائیل

صرف اقدامات ہی موثر ہیں!

June 16, 2005 // 0 Comments

اسرائیلی وزیراعظم ایریل شیرون کی ٹائم کے یروشلم بیورو چیف Matt Rees اور ورلڈ ایڈیٹر Romesh Ratnesar سے ملاقات ہوئی۔ اسرائیلی پارلیمنٹ میں انخلاء کے منصوبے کی منظوری کے بعد شیرون کا کسی میگزین کے ساتھ پہلا انٹرویو ہے‘ جس کا اقتباس درج ذیل ہے: ٹائم: یہ بہت ہی خوبصورت گھر ہے۔ شیرون: میری رہائش کا یہاں پانچواں سال ہے۔ ٹائم: ابھی کتنے سال اور آپ یہاں رہیں گے؟ شیرون: مجھے جلدی نہیں ہے۔ میں اس جگہ کو چھوڑنے کا ارادہ نہیں کر رہا ہوں۔ ٹائم: اگر آپ ماضی کے اس مقام پر جا کر سوچیں جبکہ آپ ایک نوجوان فوجی افسر تھے تو ۲۰۰۵ء کا اسرائیل آپ کے خیال میں کس طرح کا ہونا چاہیے؟ شیرون: میں نے اس وقت یہی سوچا تھا کہ [مزید پڑھیے]

منافقت یا جمہوریت

March 16, 2005 // 0 Comments

کم ہی سلطنتیں ایسی رہی ہیں جنہوں نے محکوم عوام کو غلام بنانے اور ان کا استحصال کرنے کی خاطر اس طرح کی اصطلاحات کا سہارا لیا ہے۔ رومی سلطنت نے امن و قانون کے الفاظ کا سہارا لے کر اپنی استعماریت کے لیے جواز پیدا کیا۔ برطانیہ نے لبرلزم اور ترقی کا سہارا لیا۔ روس نے کمیونزم اور سوشلزم کو بہانہ بنایا اور اب امریکی جمہوریت اور آزادی کا نام استعمال کر رہے ہیں۔ حقیقت یقینا مختلف ہے۔ لاطینی امریکا‘ مشرقِ وسطیٰ اور دوسرے علاقوں میں فروغِ جمہوریت کے امریکی دعوئوں سے لوگ بخوبی آگاہ ہیں۔ ستمبر ۲۰۰۱ء کے بعد سے جمہوریت پر امریکا کی تازہ تاکید امریکی نصیحت کا وہ پہلو ہے جس پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ اگرچہ امریکی تجزیہ نگاروں [مزید پڑھیے]

ایران کے پاس جوہری فنی مہارت موجود ہے!

March 16, 2005 // 0 Comments

واشنگٹن پوسٹ کے حوالے سے خبر ہے کہ ’’نیوز ویک‘‘ کے نامہ نگار لالی ویموت (Lally Weymouth) نے البرادی سے مصاحبہ (Interview) کیا جس کے سوال و جواب کی تفصیل درج ذیل ہے: س: کیا آپ ایجنسی کی سربراہی کے تیسرے دور کی سربراہی کے لیے بھی امیدوار ہوں گے؟ ج: میں اکیلا کینڈیڈیٹ ہوں۔ س: امریکا آپ سے کیوں نجات چاہتا ہے؟ ج: ان کا خیال ہے کہ میں دو بار انٹرنیشنل اٹامک انرجی کمیشن کا سربراہ رہا ہوں اس لیے مجھے نہیں رہنا چاہیے۔ جبکہ بہت سارے ممالک مجھ سے درخواست کرتے ہیں کہ اس منصب پر باقی رہوں۔ اس لیے ہمارے درمیان تنازعہ ہے اور بہت سارے اہم مسائل ہیں‘ ایران بھی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے‘ اسی طرح شمالی کوریا۔ چنانچہ [مزید پڑھیے]

لبنان کے سابق وزیراعظم رفیق الحریری کا قتل

March 1, 2005 // 0 Comments

گذشتہ پیر کو رفیق الحریری کے قتل کا واقعہ پُراسراریت کے نرغے میں ہے۔ اسرائیل نے فوراً ہی اس قتل کا الزام شام پر عائد کیا جبکہ دمشق اور تہران نے تل ابیب پر انگشت نمائی کی ہے۔ تہران کا ردِعمل بالکل واضح تھا۔ اس نے سابق وزیراعظم کے قتل کو صیہونی دہشت گردی کا واقعہ قرار دیا۔ الحریری کے قتل میں جو بم استعمال ہوا ہے‘ وہ انتہائی جدید ٹیکنالوجی کا حامل تھا جس نے کار کے چارجنگ ڈیوائس کو ناکارہ بنا دیا تھا۔ ایران کے مطابق صرف صیہونی حکومت جیسا کوئی منظم گروہ ہی اتنے جدید ترین آپریشن کا اہل ہو سکتا ہے۔ اس کا مقصد لبنان کو عدم استحکام سے دوچار کرنا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایک عیرمعروف گروہ نے اس [مزید پڑھیے]

دنیا میں اس وقت ۱۲۰۰۰ جوہری ہتھیار موجود ہیں!

March 1, 2005 // 0 Comments

اسلحوں سے متعلق ایک امریکی تحقیقی ادارہ کے مطابق دنیا میں اس وقت ۱۲۰۰۰ سے زائد جوہری اسلحے ہیں۔ ان میں سے ۳۰۰۰ اسلحوں کے علاوہ یہ تمام اسلحے تسلیم شدہ جوہری قوتوں کے پاس ہیں۔ واشنگٹن کے آرمز کنٹرول ایسوسی ایشن کے اندازہ کے مطابق ۶۰۰۰ امریکا کے پاس‘ ۵۰۰۰ روس کے پاس‘ ۳۵۰ فرانس کے پاس‘ ۳۰۰ چین کے پاس اور ۲۲۰ سے کچھ کم برطانیہ کے پاس ہیں۔ یہ پانچوں ممالک ۱۹۶۸ء میں جوہری عدم توسیع کے معاہدے (NPT) کے تحت جوہری قوت تسلیم کیے گئے تھے۔ امریکا نے ۱۹۴۵ء میں ہی جوہری صلاحیت حاصل کر لی تھی جبکہ روس نے ۱۹۴۹ء میں‘ برطانیہ نے ۱۹۵۰ء میں‘ فرانس نے ۱۹۶۰ میں اور چین نے ۱۹۶۴ء میں حاصل کی تھی۔ امریکا کے بارے [مزید پڑھیے]

اہلِ فلسطین کے ساتھ اسرائیل کی فریب کاریاں

December 1, 2004 // 0 Comments

فلسطین پر اسرائیلی دعویٰ: اسرائیل فلسطین میں اپنی ریاست کے قیام کی بنیاد جن تین بڑے ماخذوں پر تعمیر کرتا ہے وہ ہیں اول انجیل میں عہدنامہ قدیم کی میراث‘ دوم ۱۹۱۷ء میں حکومت برطانیہ کا اعلان بالفور اور سوم ۱۹۴۷ء میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی سفارش جس میں فلسطین کو عربوں اور یہودیوں میں تقسیم کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔ فریب: ہم اپنے قدرتی تاریخی حق کی بنیاد پر۔۔۔ (ہم) یہاں ارض اسرائیل میں ایک یہودی ریاست کے قیام کا اعلان کرتے ہیں یعنی ریاست اسرائیل۔ (۱۹۴۸ء میں اسرائیل کا اعلانِ آزادی) حقیقت: تاریخی لحاظ سے یہودی فلسطین کے قدیم ترین باشندے نہیں ہیں اور نہ ہی انہوں نے وہاں اتنا عرصہ حکومت کی جتنی کہ کئی دوسری اقوام نے۔ جدید [مزید پڑھیے]

نئے یہودیوں کو اسرائیل میں بسانے کا منصوبہ

November 16, 2004 // 0 Comments

کیمپ ڈیوڈ اور اوسلو کے نام نہاد ’’امن معاہدوں‘‘ پر بغلیں بجانے والے اور اسے ’’آزاد فلسطینی ریاست‘‘ کے قیام کا پہلا زینہ قرار دینے والے بھلے ہی اپنی زبان سے اعتراف نہ کریں لیکن قیامِ انصاف کے بغیر قیامِ امن کی نام نہاد کوششوں کے ڈرامے کا حشر وہ بھی بچشمِ سر دیکھ رہے ہیں۔ چشمِ بصیرت سے تو وہ محروم ہیں ورنہ کیمپ ڈیوڈ کے وقت ہی انہیں وہ سب نظر آجاتا جو آج ربع صدی بعد نظر آرہا ہے۔ یروشلیم اعلانیہ اکتوبر ۲۰۰۳ء نے ثابت کر دیا ہے کہ آزاد فلسطینی ریاست کبھی اسرائیل کے ایجنڈے پر تھی ہی نہیں۔ صیہونیت نے اتنے پاپڑ اس لیے تھوڑی بیلے تھے کہ دو ہزار سال کی دربدری کے بعد جس زمین پر انہیں بالجبر [مزید پڑھیے]

۱۰۵ فلسطینی جاں بحق

November 1, 2004 // 0 Comments

اسلحہ واپس لینے کی مہم ☼ اسلحہ واپس لینے کی امریکی فوج اور عراقی حکومت کی ۵ روزہ مشترکہ مہم کے دوران ایک مارٹر گولے کے عوض عراقیوں کو گیارہ امریکی ڈالر ادا کیے گئے۔ ☼ خودکشی کے دو معاہدے جن کے تحت جاپان میں گذشتہ ہفتے ۹ اشخاص نے اپنے آپ کو ہلاک کر لیا وہ انٹرنیٹ کے ذریعہ طے پائے تھے۔ ☼ سنگاپور کے ۴۰ ہزار ٹیکسی ڈرائیوروں کو پولیس نے دہشت گردوں پر نظر رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ ☼ سنگاپور میں ۲۰۰۲ء سے اب تک ۴۰ ایسے جنگجو گرفتار کیے جاچکے ہیں جن کا مبینہ تعلق القاعدہ سے ہے۔ ☼ ایک تازہ سرکاری رپورٹ کے مطابق چین میں سال ۲۰۰۲ء میں ۶ کروڑ بالغ افراد موٹاپے کے مرض میں مبتلا ہیں۔ [مزید پڑھیے]

1 3 4 5 6