Abd Add
 

افغانستان سے انخلا

افغانستان: وعدے اور عالمی امداد

August 1, 2012 // 0 Comments

عالمی برادری نے افغانستان کے لیے مزید امداد کا اعلان کیا ہے۔ مگر کیا امداد سے افغانستان کے تمام مسائل عمدگی سے حل ہو جائیں گے؟ یقینا نہیں۔ ۸ جولائی کو ٹوکیو میں افغانستان پر کانفرنس منعقد ہوئی جس میں عالمی برادری نے عہد کیا کہ وہ جنگ سے تباہ حال اس ملک کو چار برسوں میں مزید ۱۶؍ ارب ڈالر دے گی۔ افغان فوج اور پولیس کو سیکورٹی کی ذمہ داری مکمل طور پر سنبھالنے کے قابل بنانے کے لیے جو کچھ دیا اور کیا جائے گا وہ اس کے علاوہ ہے۔ امریکا میں یہ صدارتی انتخاب کا سال ہے۔ چند ایک اعلانات خاصے مبہم ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ امریکا نے جو رقم دینے کا اعلان کیا ہے وہ ساری کی ساری نئی نہ [مزید پڑھیے]

افغانستان سے انخلا کے لیے نیٹو کا پُرخطر منصوبہ

June 1, 2012 // 0 Comments

افغانستان پر امریکا کی سربراہی میں لشکر کشی ہر مرحلے پر متنازع اور قابل تنقید رہی ہے۔ یورپ نے بہت جلد اندازہ لگالیا تھا کہ امریکا نے اسے اپنے ساتھ دلدل میں کھینچ لیا ہے۔ فرانس، برطانیہ، جرمنی اور دیگر یورپی ممالک نے افغانستان سے انخلا کے لیے دباؤ بڑھایا تو امریکا کو ڈیڈ لائن کا اعلان کرنا پڑا۔ مگر اب ایسا لگتا ہے کہ انخلا کے معاملے میں عجلت کا مظاہرہ کیا جارہا ہے اور جامع منصوبہ بندی سے اب تک گریز کیا جارہا ہے۔ کسی بھی سربراہ کانفرنس میں ایجنڈے پر کئی نکات ہوسکتے ہیں مگر کسی ایک نکتے ہی پر غیر معمولی توجہ کا ارتکاز ممکن ہے۔ حال ہی میں شکاگو میں منعقدہ نیٹو سربراہ کانفرنس کا ایک ہی ایجنڈا تھا کہ [مزید پڑھیے]

افغانستان سے انخلا میں امریکی عجلت!

February 16, 2012 // 0 Comments

امریکا نے دس سال سے بھی زائد مدت سے افغانستان میں مخالفین کے سر جھکانے کی بھرپور کوشش کی ہے مگر ایسا لگتا ہے کہ اب اس کی ہمت جواب دے گئی ہے اور وہ کسی نہ کسی طور افغان سرزمین سے پنڈ چھڑانا چاہتا ہے۔ یکم فروری کو بلجیم کے دارالحکومت برسلز میں نیٹو کے وزارتی اجلاس سے قبل امریکی وزیر دفاع لیون پنیٹا نے ایک ایسا بیان داغا جس نے بم ہی گرادیا۔ پنیٹا نے کہا کہ امریکا نے افغانستان سے انخلا کی جو حتمی تاریخ مقرر کی ہے اس میں ڈیڑھ سال کی کمی کی جارہی ہے یعنی اب امریکی افواج کو افغانستان سے ۲۰۱۴ء کے آخر کے بجائے ۲۰۱۳ء کے وسط تک نکال لیا جائے گا۔ سابق ڈیڈ لائن پرتگال کے [مزید پڑھیے]

کسی بھی قیمت پر!

October 16, 2011 // 0 Comments

پاک آرمی کی گیارہویں کور (پشاور) کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل آصف یاسین ملک سے ’’نیوز ویک‘‘ کے نذر الاسلام نے راولپنڈی میں انٹرویو کیا جو ہم آپ کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔ ٭ ریاست ہائے متحدہ امریکا کی سربراہی میں لڑی جانے والی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی فوج کا کیا کردار ہے؟ آصف یاسین ملک: پاکستانی فوج اور نیم فوجی ادارے دہشت گردی کے خلاف طویل مدت سے لڑ رہے ہیں۔ یہ لڑائی ۱۱ ستمبر ۲۰۱۱ء سے بھی پہلے سے جاری ہے۔ نائن الیون کے بعد تو ہمیں بس حالات کے مطابق خود کو بدلنا تھا۔ پہلے ہم جنگ کے روایتی طریقوں کو اپنائے ہوئے تھے۔ اب ہم کہیں بھی قانون نافذ کرنے سے متعلق کارروائی کی اہلیت رکھتے ہیں۔ [مزید پڑھیے]

پاکستان کو جرأت مندانہ فیصلے کرنے ہوں گے!

October 16, 2011 // 0 Comments

پاک امریکا تعلقات ایک بار پھر کشیدگی سے دوچار ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کا کردار امریکیوں کے نزدیک متنازع ہے۔ انہوں نے پاکستان پر حقانی گروپ کی بھرپور حمایت اور مدد کا الزام بھی عائد کیا ہے۔ دونوں ممالک ایک نازک موڑ پر کھڑے ہیں۔ پاکستان میں بدامنی اور بدحالی بنیادی مسائل ہیں۔ دوسری طرف امریکا کا کہنا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھرپور کردار ادا نہیں کر رہا۔ پاکستان پر شمالی وزیرستان میں حقانی گروپ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ بھی کیا جارہا ہے۔ واشنگٹن کی اٹلانٹک کونسل کے ساؤتھ ایشیا سینٹر کے ڈائریکٹر شجاع نواز نے اپنے مضمون میں پاک امریکا تعلقات کا جائزہ لیا ہے۔ جو قارئین کے لیے پیش کیا جارہا ہے۔ امریکا [مزید پڑھیے]

اتحادیوں کے بعد کا افغانستان۔۔۔

September 1, 2011 // 0 Comments

امریکی تھنک ٹینک پیس انسٹی ٹیوٹ اور پاکستان کے جناح انسٹی ٹیوٹ کی ایک مشترکہ سروے رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ پاکستان اور امریکا کے مابین کشیدگی ختم نہ ہوئی تو افغانستان میں خانہ جنگی شروع ہوسکتی ہے۔ اور اس خانہ جنگی کے اثرات سے پاکستان بھی محفوظ نہ رہ سکے گا۔ امریکا نے افغانستان کے مسئلے کے حل کے لیے پاکستان کے کردار کو محدود یا ختم کرنے کی کوشش کی تو یہ ایک سنگین غلطی ہوگی، جس کا ردعمل شدید ہوسکتا ہے۔ بھارت کو افغانستان میں اپنے آپ کو معاشی سرگرمیوں تک محدود رکھنا ہوگا۔ پروجیکٹ ڈائریکٹر معید یوسف کا کہنا ہے کہ افغانستان میں بھارت کی سرگرمیوں پر پاکستان کے تحفظات برقرار ہیں۔ بھارت نے مختلف شعبوں میں اربوں ڈالر [مزید پڑھیے]

1 2 3