Abd Add
 

افغانستان سے انخلا

افغان باشندے ملک کے مستقبل سے نا اُمید

December 16, 2010 // 0 Comments

افغانستان کے باشندوں میں وطن کے مستقبل کے حوالے سے مایوسی کا گراف بلند ہوتا جارہا ہے۔ دو سال کے دوران بیرونِ ملک سیاسی پناہ حاصل کرنے کے خواہش مند افراد کی تعداد میں تیزی سے نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ تعلیم یافتہ اور بظاہر خوش حال زندگی بسر کرنے والے افغان بھی بیرونِ ملک قیام کو ترجیح دے رہے ہیں۔ افغانستان میں تعینات امریکی فوجیوں کی تعداد میں اضافے کے ساتھ بیرونِ ملک تعلیم اور روزگار کے مواقع تلاش کرنے والے افغانوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔ دنیا بھر میں سیاسی پناہ کے خواہش مند افراد میں سب سے زیادہ تعداد افغانوں کی ہے۔ صومالیہ اور عراق جیسے تباہ حال ممالک کے لوگ بھی اپنے ملک سے اس حد تک مایوس نہیں جس قدر افغان [مزید پڑھیے]

امریکا ’’کرزئی طالبان مذاکرات‘‘ کی کامیابی کے لیے کوشاں

November 1, 2010 // 0 Comments

امریکا نے افغانستان میں اتحادی فوجیوں کی ہلاکت کا دائرہ وسیع ہوتا ہوا دیکھ کر ایک بار پھر افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کی کامیابی کے لیے اقدامات شروع کردیے ہیں۔ برسلز میں نیٹو حکام نے بتایا کہ طالبان رہنماؤں کو مذاکرات میں شرکت کے لیے نقل و حرکت کی مکمل آزادی دی جارہی ہے۔ افغانستان میں بعض طالبان رہنماؤں کے لیے یہ ممکن ہی نہیں کہ نیٹو کی بھرپور معاونت کے بغیر کابل تک پہنچ سکیں۔ نیٹو حکام کا کہنا ہے کہ افغانستان میں سیکورٹی اسسٹنس فورس کے تعاون کے بغیر مذاکرات کی کامیابی ممکن نہیں۔ نیٹو کے حکام نے جو کچھ بتایا ہے اس کی روشنی میں یہ واضح ہو جاتا ہے کہ امریکا اب افغان جنگ کو جلد از جلد [مزید پڑھیے]

باب وڈ ورڈ کے انکشافات

October 16, 2010 // 0 Comments

معروف امریکی صحافی باب وڈ ورڈ نے افغانستان میں امریکی صدر بارک اوباما کی حکمت عملی سے متعلق اپنی نئی کتاب ’’اوباماز وار‘‘ میں کئی چونکادینے والی باتیں بیان کی ہیں۔ زیر نظر مضمون اس کتاب کے اقتباسات پر مشتمل ہے۔ امریکا میں اب کسی کو بھی افغانستان میں جاری جنگ میں فتح کا یقین نہیں۔ سیاسی اور عسکری حلقوں میں مایوسی بڑھتی جارہی ہے۔ پاکستانی فوج کو بھارت سے توجہ ہٹاکر افغانستان پر توجہ دینے پر مجبور نہ کیا جاسکا۔ امریکی صدر بھی اب افغان حکمت عملی کے حوالے سے مایوسی کا اظہار کر رہے ہیں۔ سی آئی اے کے ڈائریکٹر لیون پینے ٹا اور قومی سلامتی کے امور میں امریکی صدر کے مشیر جیمز جونز نے گزشتہ سال پاکستان کے دورے میں صدر [مزید پڑھیے]

نائن الیون، القاعدہ اور امریکی پروپیگنڈا مشینری

September 1, 2010 // 0 Comments

نیو یارک میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر جس مقام پر تعمیر کیا گیا تھا اس کے نزدیک مسجد تعمیر کرنے کے منصوبے کی مخالفت امریکا بھر میں تجزیاتی فیشن کا درجہ اختیار کرگیا ہے۔ جو لوگ اظہار رائے کی آزادی کو بہت اہمیت دیتے ہیں اور ہر وقت اس کی وکالت میں رطب اللسان رہتے ہیں وہ بھی گراؤنڈ زیرو مسجد کے خلاف میدان میں نکل آئے ہیں۔ مرکزی میڈیا میں اس قدر پروپیگنڈا کیا جارہا ہے کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی۔ ساتھ ہی ساتھ یہ ڈھول بھی پیٹا جارہا ہے کہ القاعدہ ایک بار پھر منظم ہوچکی ہے اور نائن الیون جیسا ایک اور واقعہ کسی بھی وقت رونما ہوسکتا ہے۔ جارج واکر بش، ڈک چینی اور ان کے رفقا نے نو [مزید پڑھیے]

1 2 3